۞قُلۡ تَعَالَوۡاْ أَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡۖ أَلَّا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗاۖ وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُم مِّنۡ إِمۡلَٰقٖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَإِيَّاهُمۡۖ وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَۖ وَلَا تَقۡتُلُواْ ٱلنَّفۡسَ ٱلَّتِي حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
Say, ‘Come, I will recount what your Lord has forbidden you. That you shall not ascribe any partners to Him, and you shall be good to the parents, you shall not kill your children due to penury—We will provide for you and for them—you shall not approach indecencies, the outward among them and the inward ones, and you shall not kill a soul [whose life] Allah has made inviolable, except with due cause. This is what He has enjoined upon you so that you may exercise your reason.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:151
[Pooya/Ali Commentary 6:151] Instead of following pagan superstitions, and being in constant terror of imaginary taboos, we should study, understand and follow the laws made by Allah. He is the one and only Lord - cherisher. The mention of goodness to parents immediately after "belief in one Allah" suggests that Allah's love of us and care for us - in a higher sense - must be understood by reference to the parental love, which is purely unselfish; therefore, our first duty among our fellow creatures is to our father and mother, whose love leads us to the conception of divine love. Arising from our goodness to parents is our duty and love to our children. As said in verse 142 of this surah, the bounties of the Lord are in abundance, so, for fear of poverty, it is ungodly to slay our children. Then comes the moral prohibitions against the lewdness and all unseemly acts, relating to sex or otherwise, open or secret; and the prohibition of killing and fighting. All these injunctions are in our own interest, if we understand the divine plan.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
گرسنگی کی وجہ سے اولاد کا قتل
۵۔ گرسنگی کی وجہ سے اولاد کا قتل :۔اس آیت سے مفہوم یہ نکلتا ہے کہ عرب زمانہٴ جاہلیت میں بیجا تعصّب وغیرت کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے، بلکہ لڑکوں کو (جو اس دور میں بزرگی وشرف کا سرمایہ سمجھے جاتے تھے ) بھی فقر وتنگدستی کے خوف سے قتل کردیتے تھے، اس آیت میں الله تعالیٰ نے اپنے وسیع خوان نعمت، کہ جس سے ضعیف ترین موجودات بھی بہرہ ور ہوتے ہیں، کی طرف توجہ دلاکر اس بُرے کام سے روکا ہے۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ”زمانہ جاہلیت کا عمل “ہمارے زمانہ میں بھی پایا جاتا ہے اور ایک دوسرے انداز سے اس کی تکرار کی جاتی ہے کیونکہ بعض افراد غذا کی کمی کے خوف سے بے گناہ بچوں کو حالتِ جنین میں ”ضانع“ کرکے رحمِ مادر ہی میں قتل کردیتے ہیں۔ اگر چہ آج کل اسقاطِ حمل کے جواز پر کچھ دیگز بے اساس دلیلیں بھی بیان کی جاتی ہیں لیکن فقر اور خوراک کی کمی ان دلیلوں میں نمایاں تر ہے۔ یہ بات اور دیگر امور جو اس سے مشابہت رکھتے ہیں اس بات کے مظہر ہیں کہ عصر جاہلیت کی ہمارے زمانہ میں بھی تکرار ہوتی رہتی ہے بلکہ ”’بیسویں صدی کی جاہلیت“ قبل از اسلام کی جاہلیت سے بھی زیادہ وحشتناک اور وسیع تر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
دس نصیحتیں
اجازت دی گئی ہو (مثلاً کوئی شخص قاتل ہو) (وَلَاتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ )۔ ان پانچ قسم کی حرمتوں کو بیان کرنے کے بعد مزید تاکید کے لئے ارشا ہوتا ہے: یہ وہ امور ہیں جن کی الله نے تاکید کی ہے، تاکہ تم اسے خوب اچھی طرح سمجھ لو اور ان کے ارتکاب سے اجتناب کرو (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُون)۔ ۶۔ کبھی بھی بغیر ارادہٴ اصلاح کے یتیم کے مال کے پاس نہ جانا حتّیٰ کہ وہ سن تمیز کو پہنچ جایں (وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی ھِیَ اٴَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّہُ)۔ ۷۔ کم فروشی نہ کرنا اور پیمانہ وترازو کے حق کو عدالت کے ساتھ ادا نہ کرنا (وَاٴَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ)۔ چونکہ ترازواور پیمانہ کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ باوجود احتیاط کرنے کے پھر بھی کچھ فرق باقی رہ جائے جیسا کہ ایسا ہوتا ہے کہ توجہ کے باوجود تھوڑا فرق پھر بھی رہ باقی رہ جاتا ہے جس کی شناخت عام ترازووٴں اور پیمانوں سے ممکن نہیں اس لئے مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی فرمایا: ہم کسی شخص پر اس کی قدرت واستطاعت سے زیادہ ذمہ داری عائد نہیں کرتے (لَانُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَھَا)۔ ۸۔ فیصلہ کرتے وقت یا گواہی دینے کے موقع پر یا جب بھی کوئی بات کہو تو حق وعدالت کو پیش نظر رکھو اور حق کی راہ سے باہر نہ جاؤ چاہے وہ تمھارے عزیزوں کے بارے میں ہو اور حق کہنے سے انھیں نقصان پہنچ جائے (وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبیٰ)۔ ۹۔ الله سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو اور اسے مت توڑو (وَبِعَھْدِ اللهِ اٴَوْفُوا)۔ عہد الٰہی سے کیا مراد ہے، اس بارے میں مفسّرین تے متعدد احتمالات بیان کئے ہیں لیکن آیت کا مفہوم عام ہے جو تمام الٰہی عہدوں پر محیط ہے چاہے وہ تکوینی ہوں یا تشریعی نیز تکالیف الٰہی اور ہر قسم کا عہد ، نذر اور قسم بھی اس میں شامل ہے۔ مزید تاکید کے لئے ان چار قسموں کے آخر میں فرماتا ہے: یہ وہ امور ہیں جن کی خدا تھمیں تاکید کرتا ہے تاکہ تمھیں یاد رہے (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ)۔ ۱۰۔ یہ میرا سیدھا راستہ، توحید کا راستہ ہے، حق وعدالت کا راستہ، پاکیزگی اور تقویٰ کا راستہ ہے، اس کی پیروی کرو اور ٹیڑھے راستے اور افتراق کے راستوں پر ہر گز نہ جاؤ کیونکہ یہ تمھیں خدا کے راستے سے ہٹادیں گے اور تمھارے درمیان نفاق اور اختلاف کے بیج بودیں گے (وَاٴَنَّ ھٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَاتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِہِ)۔ اس سب کے آخر میں تیسری تاکید فرماتا ہے کہ یہ وہ امور ہیں جن کی خدا تمھیں تاکید فماتا ہے تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ (ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
۱۰۔ ان چند آیتوں نے کِس طرح مدینہ کی حالت بدل دی
۱۰۔ ان چند آیتوں نے کِس طرح مدینہ کی حالت بدل دی : ۔کتاب ”بحار الانوار“ اور اسی طرح کتاب ”اعلام الوریٰ“ میں ایک دلچسپ داستان اس سلسلہ میں ملتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات مذکورہ بالا لوگوں کے دلوں میں کس قدر اثر انداز ہوئی تھیں! ہم بھی اس واقعہ کو خلاصہ کے طور پر علی بن ابراہیم کی روایت سے بحار الانوار میں موجود ہے، نقل کرتے ہیں:۔ قبیلہ خزرج کے دو آدمی اسعد بن زرارہ اور ذکو ان بن عبد القیس ایک دفعہ مکہ میں آئے جبکہ اوس اور خزرج کے درمیان ایسی طولانی جنگ چھڑی ہوئی تھی کہ شب و روز میں کسی وقت بھی وہ لوگ اپنے ہتھیار کمر سے نہیں کھولتے تھے، ان کا آخری معرکہ ”یوم بعاث“ کے نام سے ہوا تھا۔ اس میں سے قبیلہ اوس کے خلاف ایک معاہدہ کریں۔ جس وقت یہ دونوں عتبہ بن رہبہ کے گھر پہنچے اور اس سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو عتبہ نے ان کے جواب میں کہا:۔ ہمارا شہر تمہارے شہر( مدینہ) سے کافی دور واقع ہے اس لیے تمہارے مدد کرنا ہمارے لیے مشکل ہے، خصوصاً ہمارے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے جس نے ہمیں بُری طرح اپنی طرف متوجہّ کرلیا ہے۔ اسعد نے پوچھا: وہ کونسا مسئلہ؟ تم تو حرم کعبہ میں زندگی بسر کرتے ہو جو ایک جائے امن و امان ہے! عتبہ نے جواب دیا: ایک انسان ہم میں ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے: میں خدا کا فرستادہ ہوں وہ ہماری عقلوں کو ناچیز سمجھتا ہے اور ہمارے خداؤں کو بُرا کہتا ہے اس نے ہمارے جوانوں کو بگاڑ دیا ہے اور ہمارے اتحاد کو پراگندہ کردیا ہے۔ اسعد نے دریافت کیا: اس شخص کی تم سے کیا نسبت ہے؟ اس نے کہا: یہ عبداللہ بن عبدالمطلب کا فرزند ہے اور ہمارے شریف خاندانوں کا ایک ممتاز فرد ہے۔ یہ سن کر اسعد اور ذکوان کچھ سوچ میں پڑگئے اور انھیں یاد آیا کہ وہ مدینہ کے یہودیوں سے سنتے آئے ہیں کہ عنقریب ایک نبی مکہ سے ظہور کرنے والا ہے اور وہ مدینہ کی طرف ہجرت کرے گا۔ اسعد نے اپنے دل میں کہا کہ ایسا نہ ہوکہ یہ وہی نبی ہو جس کی پیشین گوئی یہودیوں نے کی تھی۔ اس کے بعد اس نے پوچھا: وہ ہے کہاں؟ عتبہ نے کہا: وہ اس وقت خانہ خدا کے پاس حجرِ اسماعیل میں بیٹھا ہے۔ آج کل اس کی جماعت کے لوگ پہاڑ کے ایک درّہ میں محصور ہیں۔ انھیں صرف ماہِ رجب میں جو حج و عمرہ کا زمانہ ہے آزادی دی گئی ہے تاکہ عمرہ بجالا سکیں اور لوگوں کے درمیان آسکیں لیکن میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں اس کی باتوں میں نہ آجانا اور اس سے بالکل بات نہ کرنا کیونکہ وہ ایک عجیب جادوگر بھی ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ مشرکینِ مکہّ نے مسلمانوں کو شعبِ ابوطالب میں بند کرکے گھیراؤ ڈال دیا تھا اور انھیں باہر نہیں نکلنے دیتے تھے۔ اسعد نے عتبہ سے کہا: اب میں کیا کروں کیونکہ میں نے تو خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لیے احرام باندھ لیا ہے لہٰذا طواف کرنا ضروری ہے اور تم یہ کہتے ہوکہ اس کے نزدیک بھی نہ جانا؟ عتبہ نے جواب دیا: تھوڑی سی روئی سے اپنے کانوں کو بند کرلو تاکہ اس شخص کی کوئی بات نہ سن سکو۔ اسعد مسجد الحرام میں پہنچا۔ اس نے روئی سے اپنے کانوں کو بند کر رکھا تھا۔ اس حالت میں اس نے طواف خانہ کعبہ کرنا شروع کیا۔ اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بنی ہاشم کے لوگوں کے درمیان حجرِ اسماعیل میں خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسعد نے ایک نگاہِ غلط انداز پیغمبر پر ڈالی اور ان کے پاس سے جلدی سے گذر گیا۔ جب طواف کے دوسرے دور میں پہنچا تو اس نے اپنے آپ سے کہا : مجھ سے بھی زیادہ کوئی احمق نہ ہوگا کیا یہ ممکن ہے کہ مکہ میں اتنا بڑا واقعہ رونما ہوجائے جو اہلِ مکہ کے زباں زد ہو اور میں اس سے بے خبر رہوں اور جب مدینہ واپس جاؤں تو اپنی قوم کو اس کے متعلق کچھ بھی نہ بتا سکوں۔ یہ خیال آتے ہی اس نے روئی اپنے کان سے نکال کر دور پھینک دی اور جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر اس نے پوچھا: آپ ہمیں کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ آنحضرت نے جواب میں فرمایا: میں اس بات کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ خدا وحدہٰ لاشریک ہے اور میں اس کا رسول کا رسول ہوں نیز میں لوگوں کو ان باتوں کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد آپ نے مذکورہ تین آیتوں کی تلاوت فرمائی جو دس حکموں پر مشتمل ہیں۔ جب اسعد نے یہ پُر معنی اور روح پر ور کلام سُنا جو اس کے جان و دل سے ہم آہنگ تھا تو اس کا عالم دگرگوں ہوگیا۔ اس کی زبان پر بے ساختہ جاری ہوا:۔ ”اشہد ان لا الٰہ الّا اللّٰہ و انّک رسول اللّٰہ“۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ میں یثرب کا رہنے والا ہوں، قبیلہ ”خزرج“ سے میرا تعلق ہے، ہمارا تعلق ہمارے بھائیوں ”قبیلہ اوس“ سے طولانی جنگوں کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے، شاید خداوند کریم آپ کی برکت سے اس ٹوٹے ہوئے بندھن کو دوبارہ جوڑ دے۔ اے نبی خدا: ہم نے آپ کے اوصاف قوم یہود سے سُنے تھے۔ وہ ہمیشہ آپ کے ظہور کی خبر دیا کرتے تھے۔ ہمارے تمنا ہے کہ ہمارے شہر ”مدینہ“ آپ کی ہجرت گاہ بنے کیونکہ یہودیوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں دیکھ کر ہمیں یہی بتایا ہے۔میں اللهکا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آپ کی خدمت میں آنے کا موقع دیا خدا کی قسم! میں تو یہ قصد لے کر آیا تھا کہ اہلِ مکہ سے اپنے بھائیوں کے خلاف جنگ میں مدد حاصل کرسکوں لیکن خدائے کریم نے مجھے اس سے بڑی کامیابی عطا کی۔ اس کے بعد اس کا ساتھی ذکوان بھی مسلمان ہوگیا اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے درخواست کی کہ کسی شخص کو ان کے ہمراہ مدینہ روانہ کریں تاکہ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دے اور انھیں اسلام کی طرف دعوت دے شاید اس طرح یہ جنگ کی بھڑکتی ہوئی آگ خاموش ہوجائے چنانچہ آنحضرت نے مصعب بن عمیر کو ان کے ہمراہ مدینہ بھیجا اور اس وقت سے مدینہ میں اسلام کی داغ بیل پڑی جس سے مدینہ کی صورت بدل گئی۔ یہ سب واقعہ مذکورہ بالا تین آیتوں کی برکت سے ہوا۔ (2) ۱۵۴ ثُمَّ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَامًا عَلَی الَّذِی اٴَحْسَنَ وَتَفْصِیلًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَھُدًی وَرَحْمَةً لَعَلَّھُمْ بِلِقَاءِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُونَ ۔ ۱۵۵ وَھٰذَا کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ۔ ۱۵۶ اٴَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا اٴُنزِلَ الْکِتَابُ عَلیٰ طَائِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَإِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِھِمْ لَغَافِلِینَ ۔ ۱۵۷ اٴَوْ تَقُولُوا لَوْ اٴَنَّا اٴُنزِلَ عَلَیْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا اٴَھْدیٰ مِنْھُمْ فَقَدْ جَائَکُمْ بَیِّنَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَھُدًی وَرَحْمَةٌ فَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَّبَ بِآیَاتِ اللهِ وَصَدَفَ عَنْھَا سَنَجْزِی الَّذِینَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوا یَصْدِفُونَ ۔ ترجمہ ۱۵۴۔ اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو (آسمانی) کتاب دی، جو نیک تھے ان پر (اپنی نعمت کو) تمام کیا اور تمام چیزیں (جن کی ان کو ضرورت تھی) ان پر واضح کردیں۔ یہ کتاب ہدایت و رحمت کا سرمایہ تھی، تاکہ وہ (قیامت کے دن) اپنے پروردگار کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔ ۱۵۵۔ اور یہ ایک پر برکت کتاب ہے جو ہم نے (تجھ پر) نازل کی ہے۔ اس کی پیروی کرنا، اور پرہیزگاری کو اپنا نا تاکہ اللہ کی رحمت کے مستحق ہو۔ ۱۵۶۔ (ہم نے ان خصوصیات کی کتاب نازل کی) تاکہ یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے جو دوقومیں (یہود و نصاریٰ) تھیں ان پر کتاب آسمانی نازل ہوئی تھی اور ہم اس کے مطالعہ سے بے بہرہ تھے۔ ۱۵۷۔ یا یہ نہ کہو کہ اگر ہم پر بھی آسمانی کتاب نازل ہوئی ہوتی تو ہم ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ (لو) اب یہ آیتیں اور روشن دلیلیں تمہارے پروردگار کی جانب سے آگئی ہیں۔ اسی طرح اس کی ہدایت و رحمت بھی (آگئی ہے)۔ اس صورت میں ان لوگوں سے بڑھ کر کون ستمگار ہوگا جو آیات الٰہی کی تکذیب کرنے لگیں، اور ان سے روگردانی کریں۔ لیکن عنقریب ہم ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے روگردانی کرتے ہیں، ان کی اس بلاوجہ کی رُو گردانی کے سبب سخت سزا دیں گے۔ تفسیر ۱۔ تفسیر المنار ج ۸ ص ۱۰۵ ۔ 2۔ بحارالانوار طبع جدید جلد ۱۵۔ ص ۹۰۰۔۱۰ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
۹۔ یہودیوں کے دس گناہ :
۹۔ یہودیوں کے دس گناہ : ۔ توریت فصل ۲۰ ”سفر خروج“ میں یہودیوں کے احکام دہگانہ پر نظر پڑتی ہے جو یہودیوں میں ”دس فرمان“ کے نام سے مشہور ہیں وہ اس فصل کے دوسرے جملہ سے شروع ہوتے ہیں اور ساتویں پر ختم ہوتے ہیں۔ اگر ان دس فرمانوں اور قرآن کے مدکورہ بالا دس فرمانوں کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ ؤنوں کے درمیان کافی فرق ہے، البتہ یہ اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا کہ توریت کا یہ حصّہ تحریف سے محفوظ رہ گیا ہے اور اس میں تغیر و تبدل نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ اس کے بعض دوسرے حصوں میں کیا گیا ہے، لیکن جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ یہ دس دن فرمان جو اس وقت نوریت میں موجوء ہیں اگر چہ ضروری مسائل پر مشتمل ہیں لیکن وسعت کے لحاظ سے اور اخلاقی و اجتماعی طور پر اور عقیدہ کی رو سے آیات مذکورہ بالا کی سطح سے بہت پست ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
۸۔ نمایاں و پنھان گناہ : ۔
۸۔ نمایاں و پنھان گناہ : ۔ اس میں شک نہیں کہ جملہ ”نمایاں و پنہاں“ کے الفاظ میں ہر قسم کے گناہ شامل ہیں لیکن بعض احادیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:۔ ”ما ظہر ہوالزنا و ما بطن ہو المحالة“۔ ”نمایاں گناہ سے مراد زنا ہے اور پنہاں گناہ سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص خفیہ طور پر داشتہ رکھ لے“۔ یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کے موارد کا ذکر ایک مصداق کے طور پر ہے نہ یہ کہ مذکورہ عنوان اسی میں منحصر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
۷ ۔ ان گناہوں کے پاس نہ جانا :
۷ ۔ ان گناہوں کے پاس نہ جانا : ۔ مذکورہ بالا آیات میں دوجگہ لاتقربوا (نزدیک نہ جانا) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے اس بات کی قرآن کریم میں بعض دیگر گناہوں کے لیے بھی تکرار ہوئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تعبیر ان گناہوں کے لیے ہے جو جذبات کو برانگیختہ کرنے والے اور عام افراد کو اپنی طرف لبھانے والے ہیں۔ جیسے ”زنا و فحشاء “ اور کمزور یتیموں کا مال کھانا۔ اسی طرح دیگر گناہ ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ ان گناہوں کے پاس نہ جانا کہ ان کی دل لبھانے والی تاثیروں کی زد میں نہ آسکو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
ماں باپ کے ساتھ نیکی
حرام ہے حالانکہ یہ اس آیت میں ذکر ہونے والے دیگر محرمات سے ہم آھنگ بھی تھا، بلکہ احسان ونیکی کے عنوان سے ذکر فرمایا ہے، یعنی نہ صرف یہ کہ انھیں تکلیف پہنچانا حرام ہے بلکہ اس کے علاوہ ان پر نیکی رنا بھی لازم وضروری ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی جاذبِ نظر ہے کہ کلمہٴ ”احسان“ کو ”ب“ کے ذریعہ متعدی کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ”وبالوالدین احسانا“ ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی نہیں کیا کیونکہ ”احسان“ اگر ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی ہو تو اس کے معنی نیکی کرنے کے ہوں گے چاہے بالواسطہ، لیکن اگر ”احسان“ کا ”ب“ کے ذریعہ کیا جائے تو اس کے معنی بالواسطہ اور بطور مستقیم نیکی کرنے کے ہیں، بنابریں آیت اس بات کی تاکید کررہی ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کے مسئلے کو اس قدر اہمیت دینا چاہیے کہ شخصاً اور بغیر واسطہ کے اسے انجام دینا چاہیے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:151-153
۶۔ فواحش سے کیا مراد ہے؟ :
۶۔ فواحش سے کیا مراد ہے؟ : ۔ ”فواحش “ جمع ہے ”فاحشتہ“ کی اس کے معنی اس گناہ کے ہیں جو غیر معمولی اور نفرت آمیز ہو۔ بنابریں عہد شکنی، کم فروشی، شرک اور اسی طرح کے دوسرے گناہ اگر چہ گناہ کبیرہ میں سے ہیں لیکن فواحش کے مقابلہ میں ان کا ذکر مفہوم کے اسی فرق کے لحاظ سے ہے۔