فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمۡ ذُو رَحۡمَةٖ وَٰسِعَةٖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُهُۥ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
But if they deny you, say, ‘Your Lord is dispenser of an all-embracing mercy, but His punishment will not be averted from the guilty lot.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 6:130-154
Abdullah son of Massod relates from the Prophet, “The Prophet drew a straight line on ground saying this is Divine Way, on right and left of which he drew several lines and said, “Devil is seated on them for your destruction,” and “God has Commanded me and forbidden me and I have likewise commanded Ali and forbidden Ali under Divine Commands. THUS Ali has known from Providence. You can follow Ali and accept him for your safety and obey him to attain right path. He will keep you off from the forbidden and after him his offsprings, who are also guided will guide you.”
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:146-147
وہ چیزیں جو یہودیوں پر حرام ہوئیں
قبل کی آیات میں حرام حیوانات کی چار قسمی ہی بیان کی گئیں تھیں لیکن ان آیتوں میں یہودیوں پر جو چیزیں حرام تھیں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ بُت پرستوں کے مہمل وخرافاتی احکام نہ تو آئین اسلام سے ہم آہنگ ہی، نہ آئین یہود سے (اور نہ آئینِ مسیح سے جس میں عموماً آئین یہود کی پیروی کی گئی ہے)۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان آیات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اس قسم کے محرمات بھی یہودیوں کے لئے سزا وعذاب کا پہلو لئے ہوئے تھے، اگر انھوں نے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہ کی ہوتیں تو یہ چیزیں بھی ان پر حرام نہ کی جاتیں، بنابریں اس بات کا حق پہنچتا ہے ہے بُت پرستوں سے سوال کیا جائے کہ اس طرح کے احکام تم کہاں سے لے آئے؟ لہٰذا پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہودیوںپر ہم نے ناخن دار ہر جانور کو حرام کیا (وَعَلَی الَّذِینَ ھَادُوا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ)۔ ”ظُفُر“ (بروزن ”شتر“) در اصل ناخن کے معنی میں ہے لیکن اس لفظ کا استعمال سُمدار حیوانات (یعنی وہ حیوانات جن کا سُم گھوڑے کی طرح پھٹا ہوا نہیں ہے، نہ کہ بھیڑ گائے وغیرہ کی طرح جن کا کھُر بیچ سے پھٹا ہوا ہوتا ہے) کے سُم پر بھی ہوا ہے کیونکہ ان کے سُم ناخن کی طرح کے ہوتے ہیں، اسی طرح اونٹ کا پاؤں جس کی نوک یایکپارچہ ہوتی ہے اور اس میں شگاف نہیں ہوتا اس لئے یہ لفظ ”ظُفُر“ بولا جاتا ہے۔ اس بناپر آیہٴ فوق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام حیوانات جن کے سُم بیچ سے شگافتہ نہیں ہیں یا وہ ناخن والے ہیں چاہے وہ چوپائے ہوں یا پرندے، یہودیوں پر حرام کردیئے گئے تھے۔ موجودہ توریت کے ”سفر لاویان“ فصل ۱۱ سے بھی اجمالاً یہی مفہوم حاصل ہوتا ہے جیسا کہ اس میں تحریر ہے۔ بہائم میں سے شگافتہ کھُر رکھنے والا جس میں پورا شگاف ہو اور جگالی کرتا ہو کھاؤں، لیکن وہ جگالی کرنے والا جس کا کھُر پھٹا ہوا نہیں ہے،مت کھاؤں، اونٹ با وجودیکہ وہ جگالی کرتا ہے چونکہ اس کا پورا کھُر چاک نہیں اس لئے وہ تمھارے لئے ناپاک ہے۔ آیہٴ مذکورہ میں بعد کے جملے سے (جس میں صرف گائے بھیڑ کا ذکر کیا گیا ہے) بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ اونٹ یہودیوں پر باکل حرام تھا، (ذرا غور کیجئے) اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: گائے بھیڑ کے جسم پر موجود چربی کو ہم نے ان پر حرام کردیا تھا (وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ شُحُومَھُمَا)۔ اسی کے ذیل میں تین چیزوں کا استثناء فرماتا ہے: پہلے وہ چربی جو اُن کی پشت پر ہوتی ہے (إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُھُورُھُمَا) دوسرے وہ چربی جوپہلووٴں میں اور آنتوں کی تہوں میںپائی جاتی ہے(اٴَوْ الْحَوَایَا)۔(۱) تیسرے وہ چربی جو ہڈیوں میں لتھڑی ہوتی ہے (اٴَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ)۔ لیکن آیت کے آخر میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ چیزیں یہودیوں پر در حقیقت حرام نہ تھیں لیکن چونکہ وہ ظلم وستم کرتے تھے اس لئے بحکمِ خدا وہ اس طرح کے گوشت اور چربی سے محروم کردیئے گئے جسے وہ پسند کرتے تھے (ذٰلِکَ جَزَیْنَاھُمْ بِبَغْیِھِمْ)۔ تاکید کے لئے اضافہ فرماتا ہے: یہ ایک حقیقت ہے اور ہم سچ کہتے ہیں (وَإِنَّا لَصَادِقُونَ)۔ چند اہم نکات ۱۔ بنی اسرائیل نے وہ ظلم وستم کئے تھے جس کی سزا میں الله نے اپنی بعض نعمتیں جو انھیں پسندنہیں تھیں ان پر حرام کردی تھیں، مفسّرین کے درمیان اس بارے میں ایک بحث ہے لیکن سورہٴ نساء کی آیت ۱۶۰ اور ۱۶۱ سے جو ظاہر ہوتا ہے یہ ہے کہ اس تحریم کا باعث چند امور تھے۔ کمزور طبقہ پر ظلم وستم اور انھیں انبیائے الٰہی کی ہدایت سے روکنا، سُود خوری اور لوگوں کے اموال کو ناحق کھانا، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: <فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِینَ ھَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبَاتٍ اٴُحِلَّتْ لَھُمْ وَبِصَدِّھِمْ عَنْ سَبِیلِ اللهِ کَثِیرًا وَاٴَخْذِھِمْ الرِّبَا وَقَدْ نُھُوا عَنْہُ وَاٴَکْلِھِمْ اٴَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ(نساء/۱۶۰) ۲۔ جملہٴ ”وَإِنَّا لَصَادِقُونَ“ جو آیت کے آخر می آیا ہے، ممکن ہے اس امر کی طرف اشارہ ہو کہ ان غذاؤں کی تحریم کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے وہی حقیقت ہے نہ وہ کہ جو یہودی کہتے ہیں اور اپنے ان کمانوں کو حضرت یعقوب کی طرف منسوب کرتے ہیں، اس بات کا تذکرہ سورہٴ آل عمران کی آیت ۹۳ میں گزرچکا ہے کہ یعقوب نے انھیں ان چیزوں کے حرام ہونے کا حکم ہرگز نہیں دیا تھا بلکہ یہ ایک تہمت ہے جو یہودی ان پر لگاتے ہیں(2) چونکہ یہودیوں اور مشرکوں کو ہٹ دھرمی نمایاں تھی اور اس بات کا امکان تھا کہ وہ اپنی پر اڑے رہیں گے اور پیغمبر کی تکذیب کریں گے لہٰذا بعد کی آیت میں الله تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے: اگر تم کو جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمھارا پروردگار وسیع رحمت رکھتا ہے اور تم کو جلد سزا نہیں دیتا ہے بلکہ مہلت دیتا ہے کہ شاید تم اپنی غلطیوں سے پلٹ جاؤ اور کیے پر پشیمان ہوجاؤ اور خدا کی طرف پلٹ آؤ (فَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ رَبُّکُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ) لیکن اگر خدا کی دی گئی مہلت سے پھر بھی ناجائز فائدہ اٹھاؤ اور اپنی ناروا تہمتوں پر باقی رہو تو جان لو کہ خدا تمھیں کیفر کردار تک ضرور پہنچائے گا کیونکہ اس کی سزائیں اور مجازات مجرموں کے گروہ سے دور ہونے والی نہیں (وَلَایُرَدُّ بَاٴْسُہُ عَنْ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ)۔ یہ آیت بخوبی تعلیمات قرآنی کی عظمت کو واضح کرتی ہے کہ یہودیوں اور مشرکوں کی اتنی نافرمانیوں کی وضاحت کرنے کے بعد بھی خدائے تعالیٰ انھیں فوراً اپنے عذاب کی تحدید نہیں کرتا بلکہ اپنی پُر محبت تعبیروں سے، جیسے ”ربّکم“ (تمھارا پروردگار) ”ذو رحمة واسعة“ (وسیع رحمت والا) ان کے لئے لوٹ آنے والے راستے کھولتا ہے تاکہ ذرا بھی ان میں پشیمان ہونے کی گنجائش ہے تو ان کی تشویق ہوجائے اور وہ حق کی طرف پلٹ آئیں، ساتھ ہی انھیں اپنے قطعی عذاب سے ڈرتا بھی ہے الله کی ناپیدا کنار رحمت ان کی جسارت وسرکشی کا باعث نہ بن جائے۔ ۱۴۸ سَیَقُولُ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا اٴَشْرَکْنَا وَلَاآبَاؤُنَا وَلَاحَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ حَتَّی ذَاقُوا بَاٴْسَنَا قُلْ ھَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ تَخْرُصُونَ ۔ ۱۴۹ قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَھَدَاکُمْ اٴَجْمَعِینَ ۔ ۱۵۰قُلْ ھَلُمَّ شُھَدَائَکُمْ الَّذِینَ یَشْھَدُونَ اٴَنَّ اللهَ حَرَّمَ ھٰذَا فَإِنْ شَھِدُوا فَلَاتَشْھَدْ مَعَھُمْ وَلَاتَتَّبِعْ اٴَھْوَاءَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَالَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَھُمْ بِرَبِّھِمْ یَعْدِلُونَ ۔ ترجمہ ۱۴۸۔ عنقریب مشرک لوگ (اپنی برائت کے لئے) کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم مشرک ہوتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام کرتے، ان سے قبل جو لوگ تھے وہ بھی اسی طرح کے جھوٹ بولتے تھے اور بالآخر انھوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا، ان سے کہیے اس بارے میں تم کوئی یقینی دلیل رکھتے ہو، اگر ہو تو ہمیں بھی دکھلاؤ، تم فقط بے بنیاد خیالات کی پیروی کرتے ہو اور بے جا اندازے قائم کرتے ہو۔ ۱۴۹۔ کہیے کہ خدا کے لئے (دعوے کو) ثابت کرنے والی (یقینی) دلیل ہے (ایسی کہ جس کے بعد کسی کو بہانہ تراشی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی) اگر وہ چاہے تم سب کو (اجباری طور پر) ہدایت کردے (لیکن جبراً ہدایت کا کوئی نتیجہ نہیں اس لئے وہ یہ کام نہیںکرتا) ۱۵۰۔ کہہ دو کہ تم اپنے گواہوں کو جو اس بات کی گواہی دے سکیں الله نے ان چیزوں کوحرام کیا ہے، لے آؤ، اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے بھی دیں تو تم ان کے ساتھ (ہم آواز نہ ہونا) گواہی نہ دینا، اور ان لوگوں کی ہوا وہوس کی پیروی نہ کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور روزِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ۱۔ ”حوایا“ جمع ہے ”حاویہ“ (بروزن ”زاویہ“) کی یہ ایس چیز کو کہتے ہیں جس میں شکم کی تمام چیزیں شامل ہیں یہ کُرہ کی شکل میں ہوتی ہے اور آنتیں بھی اس کے اندر ہوتی ہیں ۔ 2۔ مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ ،ج۳، سورہٴ ال عمران آیت ۹۳ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:147
[Pooya/Ali Commentary 6:147] The Lord of the worlds is full of all-embracing mercy, so He is not hasty in His judgement, but His wrath will not be turned back from the guilty beliers and slayers of the prophets.