قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
They are certainly losers who slay their children foolishly without knowledge, and forbid what Allah has provided them, fabricating a lie against Allah. Certainly, they have gone astray and are not guided.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:140
[Pooya/Ali Commentary 6:140] Refer to verse 138 of this surah. The practice of infanticide was almost universal. The reform effected by Islam is a world reform. The Arab pagans used to bury alive their daughters because, as the females were neither allowed to earn their livelihood nor to own property, they were considered a burden. Moreover the more powerful among them usually took away the females by force and in this way the relatives of the female were put to shame.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:140
توحید کا ایک عظیم درس
تفسیر توحید کا ایک عظیم درس اس آیت شریفہ میں چند امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک دراصل دوسرے کا نتیجہ ہے ، پہلے ارشاد ہوتا ہے :- اللہ وهی ذات ہے جسے انواع و اقسام کے باغات ، کھیتیاں اور طرح طرح کے درخت پیدا کیے جن میں سے بعض لکڑی کے مچانوں پر پھیلتے ہیں اور اپنے دلآویز منظر سے نگاہوں کو اپنی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنے لذیذ و بابرکت میووں سے انسان کو شیریں کام کرتے ہیں ۔ بعض درخت ایسے ہیں جنہیں مچان باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ اپنے پیروں پرکھڑے ہو کر انسانوں کے سر پر اپنا سایہ بھی ڈالتے ہیں اور اپنے طرح طرح کے میووں سے انسان کی خدمت کرتے ہیں۔ (وهوالذي انشأ جنات معروشات وغيرمعروشات) مفسرین نے کلمہ "معروش" و "غیرمعروش" کے سلسلے میں تین احتمالات ذکر کیے ہیں :- اول :- اس کی طرف سطور بالا میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی ایسے درخت جو اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکتے بلکہ ان کو مچان وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے ، دوسرے وہ درخت جو بغیر مچان کی احتیاج کے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں (کیونکہ "عرش" کے معنی لغت میں پھیلانے اور ہر پھیلی ہوئی چیز کے ہیں، اسی بناء پر چھت یا اپنے پایوں کے تخت کو بھی عرش کہا جاتا ہے)۔ دوم :- عروش سے مراد گھریلو درخت ہیں جن کی دیوار وغیرہ سے باغوں میں حفاظت کی جاتی ہے اور غیر معروش سے مراد جنگلی اور کوہستانی درخت ہیں ۔ سوم :- معروش ایسا درخت ہے جو پیروں پر کھڑا ہو ، یا زمین پر اٹھا ہوا ہو جبکہ غیرمعروش وہ درخت ہے جو زمین پر بچھ کر پھیلتا ہے۔ لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں ۔ شاید "معروشات" کا تذکرہ آغاز سخن میں اس طرح کے درختوں کی عجیب و حیرت انگیز ساخت کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر ایک مختصر نظر انگور کی بیل ، اس کے تنے اور اس کی پیچدار شاخوں پر کی جائے جو مخصوص علابوں کے ذریعے اپنے کو اطراف کے سہاروں میں جکڑ لیتے ہیں تاکہ اپنی کمر کو سیدھا کرسکے تو اس سے ہمارے دعوے کی تائید ہوتی ہے۔ بعد ازاں دو طرح کے باغوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : کہ اس طرح کھجور کے درخت اور کھیتیاں پیدا کیں۔ (والنخل والزوع)۔ ان دو کا ذکر خاص طور سے اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں انسانی زندگی اور خوراک میں شامل ہیں (یہ توجہ رہے کہ جنات باغات کو بھی کہتے ہیں اور زراعت سے ڈھکی ہوئی زمینوں کو بھی کہتے ہیں)۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوا :- یہ درخت میوہ اور ذائقے کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں ۔ یعنی باوجود اس کے کہ یہ ایک ہی زمین سے گئے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک الگ الگ مزه ، خوشبو اور خاصیت کا حامل ہے جو دوسرے درختوں میں نہیں پائے جاتے (مختلفًا اكله)۔ ؎1 اس کے بعد دوسرے دو قسم کے میووں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو غیرمعمولی مفید اور حیات بخش ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ، اسی طرح سے زیتون اور انار ہیں (والزيتون والرمان). ان دو کا انتخاب بظاہر اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ دو درخت اگرچہ ظاہری نظر میں ایک دوسرے سے مشابہت ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اکل (باضم الف ، وسکون یا ضم کاف) اس چیز کو کہتے ہیں جو کھائی جائے (اس کی اصل اکل ہے جس کے معنی کھانے کے ہیں)۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- رکھتے ہیں لیکن میوہ اور غذائی خاصیت کی رو سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ لہذا بغیرکسی وقفہ کے ارشاد ہوتا ہے :- یہ دونوں ایک دوسرے سے مشابہ بھی ہیں اور غیر مشابہ بھی متشابهًا وغير متشابه)۔ ؎1 ان تمام طرح طرح کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد پرور دگار عالم فرماتا ہے :- جب ان کے میوے تیار ہوجائیں تو ان میں سے تناول کرو لیکن بھولنا نہیں کہ میوہ چنتے وقت ان کے حق کو ادا کردینا (كلوا من ثمرهآ اتواحقه ، يوم حصارًا)۔ آخرمیں خدا تعالی یہ حکم دیا ہے :- اور اسراف نہ کرتا کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (ولا تسرفوا انه لا يحب المسرفين)۔ "اسراف" کے معنی ہیں حد اعتدال سے متجاوز ہونا. اس لفظ سے ہو سکتا ہے کھانے میں اسراف یا بخشنے میں طرف اشارہ ہو ۔ کیونکہ بعض لوگ اتنے کھلے دل کے ہیں کہ اپنا مال ادھر ادھرلٹا دیتے ہیں اور اپنے تئیں اور اپنے بچوں کو مردم کر دیتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:140
آیه 140
(140) وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِى الْكِتَابِ اَنْ اِذَا سَـمِعْتُـمْ اٰيَاتِ اللّـٰهِ يُكْـفَرُ بِـهَا وَيُسْتَـهْزَاُ بِـهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُـمْ حَتّـٰى يَخُوْضُوْا فِىْ حَدِيْثٍ غَيْـرِهٖ ۚ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُـهُـمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِيْنَ وَالْكَافِـرِيْنَ فِىْ جَهَنَّـمَ جَـمِيْعًا ترجمہ (140) (وہ خدا) وہ ہے کہ جس نے معروش باغات (جس میں درخت بیل کی شکل میں ہوتے ہیں اور ان کو مچان باندھ کر ان پر پھیلایا جاتا ہے جیسے انگور کی بیل) اور غیر معروش باغ (وہ درخت جن کو مچان کی ضرورت نہیں ہوتی) پیدا کیے ، اسی طرح سے کھجور کے نخلستان " اور طرح طرح کی کھیتیاں پیدا کیں جو میوہ اور مزے کے لحاظ سے آپس میں مختلف ہیں (نیز) زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جو ایک جہت سے باہم مشابہ ہیں دوسری جہت سے مختلف ہیں (پتوں اور ظاہری شکل میں آپس میں ملتے جلتے ہیں جبکہ ان کے میووں کا مزہ آپس میں مختلف ہے) ان کے میووں کو جب ان میں پھل آئیں کھاؤ اور ان کا حق محصول لینے کے وقت ادا کردو ، اسراف نہ کرو کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:140
3- یہ حق کیا ہے
3- یہ حق کیا ہے جسے "یوم الحصاد" پر ادا کرنا چاہیے اور اس سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہې زکوة واجب ہے یعنی 1/10 اور 1/20 لیکن ایک بات پر نظر کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اور زکوة کا حکم ہجرت کے دوسرے سال با بعد ازاں مدینہ میں نازل ہوا، مذکورہ خیال بعید معلوم ہوتا ہے۔ بہت سی روایات جو اہل بیت طاہرین علیہم اسلام سے ہم تک پہنچی ہیں ، اسی طرح اہل سنت کی بھی مستعدد روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت زکوة کے علاوہ ہے اور اس سے مراد وہ غلہ یا میوہ ہے جو محصول لیتے وقت جو مستحقین موجود ہوں انہیں دینا چاہیے اور اس کی کوئی معین مقدار یا نصاب نہیں ہے۔ ؎1 بنابریں آیا یہ حکم واجب ہے یا مستحب بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ واجب ہے جو تشریع زکوة سے قبل مسلمانوں پر واجب تھا لیکن جب زکوة کی آیت نازل ہوئی تو یکم منسوخ ہوگیا اور زکوة کا حکم اپنی تمام تفاصیل و کیفیات کے ساتھ اس کی جگہ مقرر ہوگیا۔ لیکن روایات اہل بیت سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ہے اور ایک مستجبی حکم کے طور پر اب بھی اسی طرح باقی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:140
زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام
گذشتہ چند آیات میں زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام اور قبیح اور شرمناک رسموں سے متعلق گفتگو تھی منجملہ ان کے اپنی اولاد کو بتوں کی قربانی کے طور پر قتل کرنا ، اپنے قبیلہ اور خاندان کی حیثیت و عزت کو محفوظ رکھنے کے نام پر اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا اور اسی طرح کچھ حلال نعمتوں کے حرام کرلینا تھا، اس آیت میں بڑی سختی کے ساتھ ان تمام اعمال وہ احکام کو جرم قرار دیتے ہوئے سات مختلف تعبیروں کے ساتھ جو مختصر جملوں میں ہے لیکن وہ بہت ہی رسا اور جاذب توجہ ہے ، ان کی وضع وکیفیت کو واضح وروشن کیا گیا ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ کہ جنھوں نے اپنی اولاد کو حماقت ، بیوقوفی اور جہالت کی بنا پر قتل کیا ہے ، انھوں نے نقصان اور خسارہ اٹھایا ہے وہ انسانی اور اخلاقی نظر سے بھی اور احساس کی نظر سے بھی اور اجتماعی ومعاشرتی لحاظ سے بھی خسارہ اور نقصان میں گرفتار ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ اور سب سے بڑھ کر انھوں نے دوسرے جہان میں روحانی نقصان اٹھایا ہے( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا اٴَوْلاَدَہُمْ سَفَہًا بِغَیْرِ عِلْمٍ )۔ اس جملے میں ان کا یہ عمل اولا ایک قسم کا خسارہ اور نقصان اور اس کے بعد حماقت کم عقلی اور بعد میں جاہلانہ کام کے طور پر متعارف ہوا ہے ان تینوں تعبیرات میں سے ہر ایک تنہا ان کے عمل کی برائی کے تعارف کے لئے کافی ہے ، کونسی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے اور کیا یہ حماقت اور بے وقوفی کی انتہا نہیں ہے کہ وہ اپنے اس عمل پر شرم نہ کریں بلکہ اس پر ایک قسم کا فخر کرے اور اسے عبادت شمار کرے، کونسا علم ودانش اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انسان ایسا عمل ایک سنت کے طور پر یا اپنے معاشرے میں ایک قانون کے طور پر قبول کرے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ابن عباس کی گفتگو یاد آرہی ہے کہ جو کہا کرتے تھے : جو شخص زمانہ جاہلیت کی قوموں کی پسماندگی کی میزان کو جاننا چاہے تو وہ سورہٴ انعام کی آیات (یعنی زیر بحث آیات ) کو پڑھے۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: انھوں نے اس چیز جو خدا نے انھیں روزی کے طور پر دی ہوئی تھی اور ان کے لئے اسے مباح وحلال قرار دیا تھا اپنے اوپر حرام قرار دے لیااور خدا پر انھوں نے یہ افتراء باندھا کہ خدا نے انھیں حرام کیا ہے (وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَہُمْ اللهُ افْتِرَاءً عَلَی اللهِ)۔ اس جملہ میں دو اور تعبیروں کے ذریعے ان کے اعمال کو جرم قرار دیا گیا ہے کیون اول تو انھوں نے اس نعمت کو جو خدا نے انھیں بطور روزی دے رکھے تھی یہاں تک کہ وہ ان کی حیات کی بقا اور زندگی کے برقرار رہنے کے لئے بھی ضروری تھی، اسے اپنے اوپر حرام کرلیا اور خدا کے قانون کو پاؤں تلے روند ڈالا اور دوسرے خدا پر افتراء باندھا کہ اس نے یہ حکم دیا ہے، حالانکہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں تھا آیت کے آخر میں دو اور تعبیرات کے ذریعے انھیں مجرم قرار دیا گیا ہے پہلے کہا گیا ہے :وہ یقینا گمراہ ہوگئے( قَدْ ضَلُّوا)۔ اس کے بعد مزید کہا گیا ہے:وہ کبھی بھی راہ ہدایت پر نہیں تھے( وَمَا کَانُوا مُہْتَدِین)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:140
4- کلمہ "یوم"
4- کلمہ "یوم" اس تعبیر سے ممکن ہے اس امر کی طرف اشارہ مقصود ہو کہ میدہ توڑنے اور زراعت کا حصول لینے کا کام بہتر ہے کہ دن کے وقت انجام پائے چاہے اس طرح صاحبان احتیاج اکٹھا کیوں نہ ہو جائیں۔ یہ نہ ہو کہ بعض بخیل افراد اس خوف سے کہ لوگوں کو پتہ نہ چل جائے رات کے وقت یہ کام کریں ۔ جو احادیث اہل بیتؑ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں ان سے بھی اس بات کی تاکید و تائید ہوتی ہے ۔ ؎1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس موضوع سے متعلق روایات کو صاحب وسائل نے دیکھو وسائل الشیعہ کتاب زکوة ، ابواب زکوة باب 13 - نیز بہیقی نے بھی لکھا ہے۔ دیکھو کتاب سنن جلد 4 ص 132۔ ؎2 اس موضوع سے متعلق روایات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب وسائل الشیعہ ، کتاب زکوة، ابواب زکوة الفلات باب کراہتہ الحصاد و الجذاذ ..... بالیل (جلد 6 ص 136).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:140
1- اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط
چند اہم نکات 1- اس آیت کا سابقہ آیات سے ربط اس سورہ کی گزشتہ آیات میں بت پرستوں کے خرافاتی احکام و رسوم کے متعلق گفتگو کی گئی تھی کہ وہ لوگ اپنی زراعت اور چوپایوں میں سے خدا کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان حصتوں کو خاص طریقے سے طریقے صرف کرنا چاہیئے۔ نیز بعض چوپایوں پر سواری کو بھی حرام جانتے تھے اور اپنے بچوں کو بعض بڑوں کے لئے قربان کر دیتے تھے۔ آئہ مذکورہ بالا اور وہ آیت جو بعد میں آنے والی آیت ہے درحقیقت ان تمام خرافی احکام کا جواب ہے کیونکہ اس میں صاف طور پر کہا گیا ہے :- ان تمام نعمتوں کا خالق خدا ہے ، وہی ہے جس نے تمام درختوں ، چوپایوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اسراف نہ کرو ۔ بنابریں اس کے علاوہکسی اور کو یہ حق نہیں پہنچتا یا کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:140
2- "اذا اثمر"
2- "اذا اثمر" (جس وقت میوہ دے) اس کا ذکر لفظ "ثمره" کے بعد آیا ہے۔ یہ کیا مطلب بیان کرتا ہے؟ مفسرین نے اس بارے میں گفتگو کی ہے لیکن ظاہرًا اس سے یہ غرض ہے کہ جونہی درختوں پر میوہ اور زراعت میں خوشے آشکار ہوجائیں تو ان سے فائدہ اٹھانا مباح اور جائز ہے اگرچہ ان کا حق ادا نہ کیا گیا ہو اور یہ حق ؎2 محصول کاٹنے کے دن (یوم الحصاد) ادا کرنا چاہیئے۔ (غور کیجئے گا)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس بارے میں اسی سورہ کی آیت 99 کے ذیل میں ایک توضیع گزرچکی ہے ، ملاحظہ کیجئے ۔ ؎2 اس حق سے کیا مراد ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے. (مترجم)۔