وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ
They swear by Allah with solemn oaths that were a sign to come to them they would surely believe in it. Say, ‘These signs are only from Allah,’ and what will bring home to you that they will not believe even if they came?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:109
[Pooya/Ali Commentary 6:109] Some of the disbelievers assured the Holy Prophet that if he could, like Musa and Isa, display a miracle they would believe in Allah and him. As some of the Muslims imagined that the infidels might yet be won over if a miracle of their choice did really occur, it was made plain to them that no miracle would bring them to the right path. Please refer to the commentary of al Baqarah : 118, according to which the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt had the authority, given by Allah, to work miracles but as Islam is a religion based upon reason, intelligence and knowledge of the laws of creation, miracles displayed in the days of ignorance of earlier prophets had been discontinued. Aqa Mahdi Puya says: Imam Ali mentions in Nahj al Balagha that once some infidels assured the Holy Prophet that if he commanded a tree to come to him they would believe in him and his God. The Holy Prophet did as they wished. They asked him to order the tree to go back to its original place. He again did as they desired. Then they asked him to divide the tree in two equal portions and bring one portion only to him and then send it back to join the stationary portion. He again did exactly what they wanted . The infidels said: "You are a sorcerer."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:109-110
انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی
گذشتہ آیات میں توحید کے بارے میں متعدد منطقی دلیلیں بیان ہوئی ہیں کہ جو خدا کی وحدانیت اور اثبات اور شرک وبت پرستی کی نفی کے لئے کافی تھیں لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرم اور متعصب مشرکین کی ایک جماعت نے سرتسلیم خم نہ کیا اور وہ بہانے تراشنے لگے اور منجملہ ان کے، پیغمبر ﷺسے عجیب غریب خارق العادات کے لئے کہ جن میں سے بعض تو بنیادی طور پر محال تھے، مطالبہ کرنے لگے اور دروغ بیانی کے ساتھ یہ دعوا کرنے لگے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آئیں، قرآن پہلی آیت میں ان کی کیفیت اور وضع کو اس طرح بیان کرتا ہے : انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی کہ اگر ان کے لئے معجزہ آجائے تو وہ ایمان لے آئیں گے(وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اٴَیْمَانِہِمْ لَئِنْ جَائَتْہُمْ آیَةٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِہَا)۔(۱) قرآن ان کے جواب میں دو حقیقتوں کو بیان کرتا ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تو ان سے یہ کہہ دے کہ یہ کام میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمھارے ہر مطالبے اور ہر تقاضے کو پورا کردوں، بلکہ معجزات تو صرف خدا ہی کی طرف سے (ہوتے) ہیں اور اسی کے فرمان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ( قُلْ إِنَّمَا الْآیَاتُ عِنْدَ اللهِ)۔ اس کے بعد روئے سخن ان سادہ لوح مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے کہ جو ان کی سخت اور شدید قسموں سے متاثر ہوگئے تھے کہتا ہے: تم نہیں جانتے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اوراگر یہ معجزات اور ان کی درخواستوں کے مطابق مطلوبہ نشانیاں دکھا بھی دی جائیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لایئں گے( وَمَا یُشْعِرُکُمْ اٴَنَّہَا إِذَا جَائَتْ لاَیُؤْمِنُونَ )۔(2) پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ان کے ساتھ ٹکراؤ کے مختلف مناظر اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہ گروہ حق کی جستجو میں نہیں تھا بلکہ ان کا ہدف اور مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو بہانہ تراشیوں میں لگائے رکھیں اور شک وشبہ کے بیج ان کے دلوں بکھیرتے رہیں۔ بعد والی آیت میں ان کی ہٹ دھرمی کی علت کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے کہ وہ کجروی، جاہلانہ تعصبات اور حق کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہ کرنے پر اصرار کی وجہ سے قوت ادراک اور صحیح نظر کھو بیٹھے ہیں، اور حیران وپریشان اور گمراہ ہوکر سرگردانی کے عالم میں پھر رہے ہیں چنانچہ قرآن اس طرح کہتا ہے: ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو دگرگوں کردےں گے جیسا کہ وہ آغاز میں اور دعوت کی ابتدا میں ایمان نہیں لاتے تھے( وَنُقَلِّبُ اٴَفْئِدَتَہُمْ وَاٴَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِہِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ)۔ یہاں بھی اس کام کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے جس کی ایک نظیر قبل کی آیات میں گزرچکی ہے، یہ حقیقت میں خود ان ہی کے اعمال کا نتیجہ اور عکس العمل ہے، اس کی خدا کی طرف نسبت اس عنوان سے ہے کہ وہ علت العلل اور عالم ہستی کا سرچشمہ ہے اور ہر چیز میں جو بھی خاصیت ہے وہ اسی کے ارادہ سے ہے، دوسرے لفظوں میں خداوند تعالی نے ہٹ دھرمی، کجروی اور اندھے تعصبات میں یہ اثر پیدا کیا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ انسان کے ادراک اور فکرونظر کو بے کار کردیتے ہیں۔ آیت کے آخر میں کہتا ہے: ہم انھیں طغیان وسرکشی کی حالت میں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ سرگرداں پھرتے رہیں( وَنَذَرُہُمْ فِی طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُون)۔(3) ۱۱۱ وَلَوْ اٴَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیْہِمْ الْمَلاَئِکَةَ وَکَلَّمَہُمْ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ وَلَکِنَّاٴَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُونَ۔ ترجمہ ۱۱۱۔ اور اگر ہم ان پر فرشتوں کو نازل کردیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اورتمام چیزوں کو ان کے سامنے جمع کردیتے تو بھی وہ ہرگز ایمان نہ لاتے، مگر یہ کہ خدا چاہے ، لیکن ان میں سے اکثر نہیں اجانتے۔ تفسیر ۱۔ ”جھد“ کسی بھی کام کام کرنے کے لئے سعی وکوشش کو کہتے ہیں اور یہاں تاکیدی قسموں کے لئے کوشش کرنا مراد ہے۔ 2۔اس بارے میں کہ اوپر والے جملے میں ”ما“ استفہامیہ ہے یا نافیہ اور اسی طرح جملے کی ترکیب کی کیفیت میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے، بعض نے ”ما“ استفہام انکاری قرار دیا ہے، حالانکہ اگر ایسا ہوتو جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ :تم کہاں سے جانتے ہو کہ اگر معجزہ آگیا تو یہ ایمان نہیں لائیں گے، یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور یہ مفہوم مقصود آیت کے بالکل برخلاف ہے، لہٰذا بعض نے ”ما“ کو نافیہ قرار دیا ہے (اور ذہن سے زیادہ نزدیک بھی یہی ہے) تو اس بنا پر جملے کا معنی اس طرح ہوگا: تم نہیں جانتے کہ اگر یہ معجزات دکھا بھی دئے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، اس صورت میں ”یشعر“ کا فاعل لفظ”شیء“ ہے جو مقدر ہے اور ”یشعر“ کے دومفعول ہیں پہلا مفعول”کم“ اور دوسرا ”انھا‘۔(غور کیجئے گا) 3۔ ”یعمھون“،”عمہ“(بروزن”قدح“)کے مادہ سے سرگردانی اور تحیر کے معنی میں ۔ خدا وند تعالی ہم سب کو اس قسم کی سرگردانی سے جو ہمارے بے سوچے سمجھے اعمال کا نتیجہ ہے محفوظ رکھے اور ہمیں قوت ادراک اور ایسی کامل نظر مرحمت فرمائے کہ ہم حقیقت کے چہرے کو اس کی اصلی ہیئت وصورت میں دیکھ لیں۔