وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
The spoils that Allah gave to His Apostle from them, you did not spur any horse for its sake, nor any riding camel, but Allah makes His apostles prevail over whomever He wishes, and Allah has power over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 59:6
[Pooya/Ali Commentary 59:6] As has been asserted in several verses of the Quran whatsoever is in the heavens and the earth and between them belongs to Allah. They are made available to people as a trust. When disbelieving possessors turn hostile and aggressive against Allah and His Prophet, then, if their possessions are returned to the prophet of Allah without any effort or exertion on the part of the believers, such possessions become the property of His prophet. In this way it is distinguished from anfal (spoils), taken after fighting. Even in the case of anfal the authority of the prophet of Allah is unchallengeable. See commentary of Anfal: 1. The voluntary submission of the enemy in verse 2 has been referred to here. The Jews of Madina had come from outside and seized the lands of the original inhabitants. Since then they had been scheming and plotting to retain the usurped properties by hook or by crook. Seeing the growth of Islam they became more active and aggressive against the people of Madina. It was a just and wise decree of the Lord of the worlds to restore the lands to their original owners and thus bring peace and order in the region. Fa-i is derived from afa which means "returned to". The warriors are not entitled to any share in the property of fa-i as stated above. It belongs to Allah and His Prophet and is to be distributed among the relatives of the Holy Prophet (see commentary of Anfal: 41; Nahl: 90; Rum: 38), orphans, the needy and the wayfarer, so that it does not concentrate in the hands of a few rich-this serves as a basis for the socio-economic system of Islam. After the Holy Prophet his share has to be given to the Imam of his Ahl ul Bayt in addition to the share of his relatives. To know the real and genuine relatives (Ahl ul Bayt) of the Holy Prophet see commentary of Baqarah: 124; Ali Imran: 61; Ahzab: 33 and Shura: 23. Also see commentary of Bani Isarail: 26; Naml: 15, 16; Nahl: 90 and Maryam: 2 to 15 for the unjust, unislamic and unquranic deviation of the so-called followers of the Holy Prophet resorted to for depriving the Ahl ul Bayt from their rightful share decreed by Allah. They began to misappropriate the share of the Holy Prophet in the name of "baytul mal" (public treasury), which is an open transgression of the explicit ordinance of Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 59:6-7
شانِ نزول
چونکہ یہ آیتیں گزشتہ آتیوں کی تکمیل ہیں جو یہودبنی نظیرکی شکستوں کو بیان کر رہی تھیں، لہٰذا ان کی شان ِ نزول بھی اُسی شانِ نزول کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ بنی نظیر کے یہودیوں کے مدینہ سے چلے جانے کے بعدان کے باغات ، زمینیں، زراعتیں ، گھر اور دوسریم ال کاکچھ حصّہ مدینہ میں رہ گیا ، مسلمانوں کے سرداروں کی ایک جماعت رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہوئی او زمانہ ٔ جاہلیّت کے قانون کے مطابق جوبات ان کے دل میں تھی وہ انہوںنے عرض کی اوروہ یہ کہ اس مال غنیمت کامنتخب حصّہ اورباقی کی ایک چوتھائی آپ لے لیجے اورباقی ہمیں دے دیجئے تاکہ اسے ہم اپنے درمیان تقسیم کرلیں ،پرمندرجہ بالا آ یات نازل ہوئیں اورصراحت کے ساتھ کہاکہ چونکہ ان اموال ِ غنیمت کے لیے جنگ نہیں ہوئی اور مسلمانوں نے کوئی زحمت ومشقت برداشت نہیں کی م، لہٰذا یہ تمام مال واسباب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملکیّت ہیں ۔ جس طرح ان کی مصلحت ہوگی وہ تقسیم کریں گے اور جیساکہ ہم بعد میں دیکھیں گے ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یہ اموال ان مہا جرین کے درمیان ، جومدینہ میںمال دنیانہ رکھتے تھے ، اورانصار کی وہ تھوڑی سی تعداد جنہیں مال کی شدید احتیاج تھی ، ان کے درمیان تقسیم کردیے (١) ۔ ١۔"" مجمع البیان "" اور دوسری تفاسیر درذیل آ یت ِ زیربحث ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 59:6-7
ان اموال غنیمت کے بارے میں حکم جوجنگ کے بغیر ہاتھ لگیں
یہ آ یتیں جیساکہ ہم نے کہاہے ، بنونظیر کے اموال غنیمت کے بارے میں جوحکم ہے اسے پیش کرتی ہیں اوراس کے اتھ ساتھ ان تمام اموال ِ غنیمت کے سلسلہ میں ایک قانون ِ کلّی کوبھی واضح کرتی ہیں ،جومال بغیرکسی زحمت ومشقت کے اسلامی معاشرہ کوملے اسے فقہ اسلامی میں فے کہتے ہیں خداوند ِ عالم فرماتاہے: جوکچھ خدانے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان سے پلٹا یاوہ ایسی چیزہے جس کے حصول کے لیے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں اورنہ اونٹ ( وَ ما أَفاء َ اللَّہُ عَلی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَما أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَ لا رِکاب)(١) افائ فی کے مادّہ سے اصل میں رجوع وبازگشت کے معنی میں ہے اوریہ جواموال ِ غنیمت پراس کااطلاق ہواہے شاید اسی بنا پر ہے کہ خدانے اس جہان کی تمام نعمتیں اصل میں مومنین کے لیے اور سب سے پہلے اپنے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے لیے پیدا کی ہیں جواشرف کائنات وفخرِ موجودات ہیں اورغیر مومن وگنہگار افراد حقیقت میں ان اموال کے غاصب ہیں(اگر چہ وہ حسب ِقوانین شرعی وعرفی مالک شمار ہوں ) ۔ جس وقت یہ اموال حقیقی مالکوں کی طرف لوٹیں توفیء ان کے لیے بہترین عنوان ہے اوجفتم ایجاف کے مادّہ سے تیزی سے ہانکنے کے معنی میں ہے جس کاعام طورپر جنگوں میں اتفاق ہوتاہے ۔خیل کے معنی گھوڑ ے ہیں ۔( یہ ایسی جمع ہے جس کامفرد خُود اس کی جنس میں سے نہیں ہے )(٢) ۔ اورچونکہ انسان جب گھوڑے پرسوار ہوتاتو عام طورپرایک قسم کاغرور محسوس کرتا ہے لہٰذا لفظ خیل کا گھوڑے پراطلاق ہواہے ۔ قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ خیل گھوڑوں اور سواروںدونوں کے لیے بولا جاتاہے ۔ رکاب رکوبکے مادّہ سے عام طورپرسواری کے اُونٹوں کے لیے آتا ہے ۔ پورے جملہ سے مقصود یہ ہے کہ وہ تمام مواقع جن میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے سلسلے میں کوئی جنگ واقع نہ ہووہاں مال ِغنیمت جنگجوافراد میں تقسیم نہیں ہوگا اوروہ مکمل طورپر رئیسِ مسلمین کے اختیار میں ہوگا اوروہ اپنی صوابدید کے مطابق بعد والی آ یت میں بیان شدہ مصارف میں سے کسِی مَصرف میں صَرف کرے گا ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے : اس طرح نہیں کہ کامیابیاں ہمیشہ تمہاری جنگوں کا نتیجہ ہوں لیکن خدااپنے رسولوں کوجس پرچاہے تسلّط عطا کردیتاہے اورخدا ہرچیزپرقادر ہے (ٍ وَ لکِنَّ اللَّہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہُ عَلی مَنْ یَشاء ُ وَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر)جی ہاں!یہودِ بنی نظیرجیسے قوی دشمن پرکامیابی خدا کی مدد کے نتیجے میں ممکن ہوئی تاکہ تم جان لو خداہر چیز پرقادر ہے اورچشمِ زدن میں ایک طاقتور قوم کو زبوں حال بناسکتاہے اورایک گروہ کوان پر مسلّط کرسکتاہے اورپہلے گروہ کے تمام امکانات ووسائل دوسرے گروہ کومنتقل کرسکتاہے ، یہ وہ منزل ہے کہ مسلمان اس قسم کے میدانوںمیں اللہ کی معرفت کادرس بھی لے سکتے ہیں اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی حقانیّت کی نشانیاں بھی دیکھ سکتے ہیں اورذاتِ پاک خدا سے خلوص اوراسی پرانحصارکومشعل ِراہ بنا سکتے ہیں ۔یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ یہود بنی نظیر کے اموال غنیمت ِ جنگ کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ میںنہیں آ ئے بلکہ انہوںنے لشکرکشی کی اور یہود یوں کے قلعوں کامحاصرہ کیا، یہاں تک کہاجاتاہے کہ کسی حد تک تلوار بھی چلی جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بنونظیر کے قلعے ،جیسا کہ مؤرخین نے کہاہے ،مدینہ سے کچھ زیادہ فاصلہ پرنہیں تھے (بعض مفسرّین نے یہ فاصلہ دومیل یاتین کلومیٹر سے کم بیان کیاہے ) مسلمان پیادہ قلعوں کی طرف آئے اس وجہ سے انہوںنے کوئی مشقّت برداشت نہیں کی ،باقی رہی تلواروں کی جنگ تووہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے محاصرہ نے بھی زیادہ طول نہیں کھینچا ،اس بناپر کہاجاسکتاہے ،حقیقت میں وہ چیز جسے جنگ کانام دیا جاسکے ، واقع نہیں ہوئی اور کوئی قطرہ خون زمین پرنہیں گرا ۔ بعد والی آ یت وضاحت کے ساتھ فے کامَصرف بتاتی ہے جوگزشتہ آیت میں آ یاتھا ۔خدا وند ِ عالم ایک قاعدہ کلّی کے طورپر فرماتاہے: جوکچھ خدانے ان آبادیوں والے لوگوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف پلٹا یاہے وہ خدا، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)،اس کے ذوی القربیٰ ، یتیموں مسکینوں اور راستوں میں درماندہ لوگوں کے لیے ہے (ما أَفاء َ اللَّہُ عَلی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُری فَلِلَّہِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِی الْقُرْبی وَ الْیَتامی وَ الْمَساکینِ وَ ابْنِ السَّبیلِ) ۔ یعنی مسلّح جنگ کے اموال غنیمت کی مانند نہیں جن کاصرف پانچواں حصّہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور دوسرے حاجت مندوں کے اختیار میں ہے ،باقی چار حصّہ جنگجوافراد کے لیے ہیں ۔ نیز اگرگزشتہ آ یت میں کہاگیاہے کہ وہ تمام کاتمام رسول ِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق ہے تو اس کامفہوم یہ نہیں ہے کہ وہ سارے کا سارا اپنے شخصی اورذاتی مصارف میں صَرف کریں بلکہ اس لیے کہ وہ اسلامی حکومت کے سربراہ ہیں اورخصوصاًحاجت مندوں کے حقوق کے محافظ ہیں لہٰذا وہ اس کازیادہ حصّہ ان پرخرچ کریں گے ۔ اس آ یت میں کّلی طورپر فے کے لیے چھ مَصرف بیان ہوئے ہیں : ١۔ سہم خدا: واضح ہے کہ خداہر چیز کامالک ہے اوراس کے ساتھ ساتھ کسی چیز کامحتاج نہیں ہے ، یہ ایک قسم کی نسبت تشر یعی واعزاز ی ہے تاکہ دوسرے گروہ جو اس کے بعد بیان ہوئے ہیں کسی قسم کی حقارت محسوس نہ کریں اوراپنا حصّہ خدا کے حصّہ کاسلسلہ خیال کریں ۔ اس طرح ان کی شخصیّت عام افراد کے ذہنوں میں کسی نقص کاشکارنہ ہو ۔ ٢۔ سہم پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم):جس سے فطری طورپر ان کی ذاتی ضرورتیں ،اس کے بعد مقامی حاجتیں اوروہ توقعات جولوگ ان سے رکھتے ہیں وہ سب اِ س سے پوری ہوں ۔ ٣۔ سہم ذوی القربیٰ:اس میں شک نہیں کہ اس سے یہاں مراد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ذوی القربیٰ ہیں اور بنی ہاشم ہیں جوزکوٰة کے لینے سے محروم ہیں جوعام مسلمانوں کے اموال کاجز ہے (٣) ۔ اصولی طورپر اس کے کوئی معنی نہیں کہ اس سے مراد عام لوگوں کے ذوی القربیٰ ہوں کیونکہ اس صُورت میں تمام مسلمانوں کوبغیر کسی استثناء کے شامل کرناپڑے گا کیونکہ تمام لوگ ایک دوسرے کے عزیز واقرباہیں ،اَب رہایہ کہ ذوی القربیٰ میں احتیاج وفقر شرط ہے یا نہیں اس پرمفسّرین کے درمیان اختلاف ہے ،اگرچہ وہ قرائن جواس آ یت کے آخر میں اور بعد والی آ یت میں ہیں اس کاشرط ہونا زیادہ صحیح نظر نہیں آتا ۔ ٤، ٥، ٦، یتیموں مسکینوں اور سفر میںدرماندہ افرادکاحصّہ ہے یہ کہ یہ تینوں گروہ بنی ہاشم میں سے ہونے چاہئیں یاعام یتیموں ،مسکینوںاور مسافروں کااس میں حصّہ ہے مفسّرین کے رمیان اس میں اختلاف ہے ۔زیادہ ترفقہائے اہل سُنّت اوران کے مفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ عمومیت رکھتاہے جب کہ وہ روایتیں جوطرقِ اہلبیت سے ہم تک پہنچی ہیں وہ اس سلسلہ میں مختلف ہیں ۔بعض سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حصّہ بنی ہاشم کے یتیموں ،مسکینوں اورمسافروں کے لیے مخصوص ہے لیکن بعض روایات میں تصریح ہوئی ہے کہ یہ حکم عمومیت رکھتاہے ، امام محمد باقر علیہ السلام سے اس طرح مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (کان ابی یقول لناسھم رسول اللہ وسھم ذی القربیٰ ونحن شرکاء النّاس فیما بقی) ہمارے لیے رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورذوی القربیٰ کاحصّہ ہے اورہم ان باقی ماندہ حصّوں میں لوگوں کے ساتھ شریک ہیں(٤) ۔ اس سُورہ کی آ یت ٨،٩ جواس آ یت کی وضاحت کرتی ہیں اور گواہی دیتی ہیں کہ یہ حصّہ بنی ہاشم کے لیے مخصوص نہیں ہے کہ کیونکہ ان میں عام فقراء مہاجرین وانصار کے بارے میں گفتگو ہے ۔علاوہ ازیں مفسّرین نے نقل کیاہے کہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بنو نظیر کے واقعہ کے بعدان اموال کو جووہ چھوڑ گئے تھے مہاجرین میں جو عام طورپر مدینہ میں سخت حالات میں زندگی گزاررہے تھے ،اورانصار کے تین گروہوں میں جوبہت زیادہ حاجت مند تھے ،تقسیم کردیے اور یہ امر آ یت کے مفہوم کی عمومیّت کی دلیل ہے ،اَب اگر بعض روایات اس کی تائید نہ کرتی ہوں تو ظاہر قرآن کو ترجیح دینی چاہیئے ( ٥) ۔ اس کے بعد اس حساب شدہ تقسیم کے فلسفہ کوپیش کرتے ہوئے مزید فرماتاہے ۔ یہ اس بناپر ہے کہ یہ عظیم اموال تمہارے امیر لوگوں کے درمیان دست بدست گردش نہ کرتے رہیں اور حاجت مند اُن محرم نہ ہوں( کَیْ لا یَکُونَ دُولَةبَیْنَ الْأَغْنِیاء ِ مِنْکُمْ )(٦) ۔ مفسرین نے اس جُملہ کے لیے خُصوصیّت کے ساتھ ایک شان ِ نزول بیان کی ہے جس کی طرف پہلے بھی اجمالاً اشارہ ہوچکاہے اوروہ یہ کہ رؤسا ء مسلمین کی ایک جماعت واقعہ بنی نظیر کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ ئی اور عرض کیا جس کو آپ خود منتخب کریں وہ اوران اموال غنیمت کاچوتھا حصّہ آپ لیجئے اور بقایا ہمارے اختیار میں دے دیجئے تاکہ ہم اپنے درمیان تقسیم کرلیں جیساکہ اسلام سے پہلے زمانہ ٔ جاہلیّت میں تھا ۔ تو مندرجہ بالاآ یت نازل ہوئی اورانہیں متنبہ کیاکہ یہ اموال اغنیاء میں دست بدست گردش نہ کرنے پائیں ۔ یہ آ یت اقتصاد اسلامی کے ایک بنیادی اصول کوبیان کرتی ہے اوروہ یہ کہ اسلام کے اقتصادی نظام کا مزاج ، ہے کہ باوجود شخصی اورخصوصی مالکیّت کے احترام کے سلسلہ کا رایسارکھاجائے کہ مال ودولت ایک مخصوص گروہ میں محدُود ہو کر نہ رہ جائیں ۔ اور ایسانہ ہوکہ صرف انہیں کے درمیان گردش کریں ۔ البتہ اس آ یت کے یہ معنی نہیں ہیں ہم اپنی طرف سے قوانین وضع کرلیں اورمال ودولت ایک گروہ سے لے کر دوسرے گروہ کے حوالے کردیں ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ اگردولت کے حصول کے سلسلہ میںاسلام کے مقرر ہے کیے ہوئے اصول سرکاری مالیات مثلاً خمس زکوٰة اوراخراج وغیرہ کے احکام اور بیتُ المال وانفال کے احکام ٹھیک طرح سے عملی جامہ پہن لیں توخود بخود یہ نتیجہ نکل آ ئے گاکہ باوجود انفرادی کوششوں کے احترام کے اجتماعی مصلحتیں بھی پُوری ہوجائیں گی ۔ اور معاشرہ میں نہ بہت امیر طبقہ رہے گا نہ بہت غریب ، بلکہ دولت کی معتدل تقسیم بروئے کار آ ئے گی ۔خدا وند تعالیٰ آ یت کے آخر میں فرماتاہے : جوکچھ خداکا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تمہارے لیے لایا ہے اُسے لے لو اور جس سے اس نے تمہیں منع کیاہے اس سے باز رہو اور تقویٰ اختیار کرو ، اس لیے کہ خداشدید العقاب ہے (وَ ما آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ ما نَہاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ شَدیدُ الْعِقاب) ۔ کا یہ جملہ اگرچہ بنونظیر کے اموال ِ غنیمت کے بارے میں نازل ہواہے لیکن یہ مسلمانوں کے تمام کارو بار ِ زندگی میں ایک حکم ِعمومی کی حیثیت رکھتاہے اوریہ چیزسنت ِپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے حجت ہونے کی ایک واضح دلیل ہے ۔ اس اصول ِ اساسی کے پیش ِنظر تمام مسلمانوں کی ذمّہ داری ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوامرونواہی کوگوشِ دل سے سُنیں اوران کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ، خواہ وہ حکومت ِاسلامی سے تعلق رکھنے والے مسائل کے بارے میںہوں یااقتصادی مسائل سے متعلق ہوں یاحقوقِ بندگان ِ کے بارے میں ہوں یاان سے علیٰحدہ ہوں ۔ یہ حقیقت خصوصیّت کے ساتھ پیش ِ نظر رکھنی چاہیئے کہ جولوگب مخالفت کریں گے ان کوشدید عذاب کی وعید سنائی گئی ہے ٢۔راغب مفردات میں کہتاہے کہ خیل اصل میں خیال کے مادّہ سے خیالات اورذہنی تصوّرات کے معنی میں ہے اور"" خیلا"" تکبّر اوراپنے آپ کوبڑاسمجھنے کے معنی میں ہے ،اس لیے کہ ایک قسم کاتخیل فضیلت سے پیداہوتاہے اورچونکہ انسان جب گھوڑے پرسوار ہوتاتو عام طورپرایک قسم کاغرور محسوس کرتا ہے لہٰذا لفظ خیل کا گھوڑے پراطلاق ہواہے ۔ قابلِ توجہ یہ بات ہے کہ خیل گھوڑوں اور سواروںدونوں کے لیے بولا جاتاہے ۔ ٣۔یہ تفسیر نہ صرف شیعہ مفسّرین نے بلکہ بہت سے اہل سنّت مفسّرین نے بھی تحریر کی ہے ،مثلاً فخررازی نے اپنی تفسیر کبیر میں ، برسوئی نے رُوح البیان میں ، سید قطب نے فی ظلال میں، مراغی نے اپنی تفسیر میں اورآلوسی نے رُوح المعانی میں ۔ ٤۔مجمع البیان جلد ٩ ،صفحہ ٢٦١ ،وسائل الشیعہ ،جلد ٦ ،صفحہ ٣٦٨(حدیث ١٢ باب ١ ابواب انفال ) ۔ ٥۔وسائل الشیعہ ،جلد ٦ ،صفحہ ٣٥٦(حدیث ٤ ،باب١ ابواب انفال ) ۔ ٦۔""دولة "" (دال کے زبراور پیش کے ساتھ )ایک ہی معنی میں ہے ۔ اگر چہ بعض مفسّرین نے ان کے درمیان فرق کیاہے کہ پہلے اموال کے ساتھ مخصوص اور دوسرے کو جنگ کے ساتھ اورمقام کے ساتھ مربوط جاناہے یاپہلے کواسم مصدر اوردوسرے کومصدر شمار کیاہے ۔ بہرحال تداول کے مادّہ سے دست بدست کرنے کے معنی میں دونوں ایک ہی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 59:6-7
سوره حشر/ آیه 6- 7
٦۔ وَ ما أَفاء َ اللَّہُ عَلی رَسُولِہِ مِنْہُمْ فَما أَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَ لا رِکابٍ وَ لکِنَّ اللَّہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہُ عَلی مَنْ یَشاء ُ وَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر۔ ٧۔ما أَفاء َ اللَّہُ عَلی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُری فَلِلَّہِ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِی الْقُرْبی وَ الْیَتامی وَ الْمَساکینِ وَ ابْنِ السَّبیلِ کَیْ لا یَکُونَ دُولَةً بَیْنَ الْأَغْنِیاء ِ مِنْکُمْ وَ ما آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ ما نَہاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا وَ اتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ شَدیدُ الْعِقاب۔ ترجمہ ٦۔ اورجوکچھ خدا اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو یہود سے لوٹادے تووہ ایسی چیزہے جس پرقبضہ کرنے کے لیے( تم نے کوئی زحمت اُٹھائی )نہ تم نے گھوڑا دوڑایاہے ،نہ کوئی اُونٹ لیکن خُدا اپنے رسولوں کوجس پر چاہے مسلّط کردیتاہے اورخُدا ہرچیز پر قدرت رکھتاہے ۔ ٧۔جوکچھ خداان آبادیوں والوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرلوٹائے وہ خدا، رسول ، ذوی القربیٰ ، یتیموں ، مسکینوں اورابن السبیل (راستہ میں عاجز ہو کررہ جانے والوں)کے لیے ہے رتاکہ ( یہ عظیم مال )دست بدست تمہارے دولت مندوں کے درمیان گردش نہ کرے ۔ جوکچھ خدا کارسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تمہارے لیے لایاہے وہ لے لو اور جس سے منع کرے اِس سے رُک جاؤ اورخدا کی مخالفت سے پرہیز کرو کیونکہ خداشدید العقاب ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 59:6-7
ایک نکتہ
١۔ فی کامَصرف (وُہ اموالِ غنیمت جوبغیر جنگ کے حاصل ہوں ان کامصرف ) ۔ وہ اموال جوفی ء کے عنوان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضہ میں سربراہ ِ حکومت ِ اسلامی کی حیثیت سے آتے تھے وہ ان تمام اموال پرمشتمل ہوتے تھے جو بغیر جنگ مسلمانوں کے ہاتھ لگتے تھے ،یہ اموال اسلامی معاشرہ میں اعتدال ِ ثروت کے سلسلہ میں اہم کردار انجام دے سکتے تھے کیونکہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے خلاف یہ اموال کبھی بھی اقوام وقبائل کے دولت مندوں میں تقسیم نہیں ہوتے تھے بلکہ براہِ راست مسلمانوں کے سربراہِ اعلیٰ کے اختیار میں ہوتے تھے اوروہ بھی سب سے زیادہ استحقاق کے اصول کوپیش نظررکھ کرتقسیم کیے جاسکتے تھے جیساکہ انفال کی بحث میں ہم نے کہاہے کہ فی ء انفال کاایک حصہ ہے اوراس کادوسراحصّہ وہ تمام اموال ہیں جن کامالک مشخص نہیں ہوتا ، اس کی تشریح فِقہ اسلامی میں ہوچکی ہے اوراس سے متعلق زیادہ موضوعات میں ،اس طرح الہٰی نعمتوں کازیادہ حصّہ حکومت ِ اسلامی کے قبضہ میں جاتا اوراس کے بعد ضرورت مندوں کوملتا (٧) ۔جوکچھ ہم نے کہاہے اس سے یہ نکتہ واضح ہوجاتاہے کہ پہلی اور دوسری آ یت کے درمیان ، جیساکہ ہم نے اُوپر ذکرکیاہے ،کوئی تضاد نہیں ہے اگرچہ پہلی آ یت بظاہر فی ء کوخُود پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اختیار میں دیتی ہے اور دُوسری آ یت میں اس کے چھ مَصرف بیان ہوئے ہیں اور وہ اس لیے کہ یہ چھ مَصرف ان شدید استحقاق رکھنے والوں سے متعلق ہیں جن کا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوخصوصیّت سے خیال رکھنا چاہیئے ۔ بالفاظ دیگرپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان تمام اموال کواپنی ذات کے لیے اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ حکومت اسلامی کے سربراہ وامیر کی حیثیت سے جن شعبہ میں ضرورت محسوس کرتے ہیں صرف فرماتے ہیں یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ حق پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بعد آ ئمہ معصومین کواوران کے بعدان کے نائبین کویعنی مجتہدین ِ جامع الشرائط کوپہنچتا ہے کیونکہ اسلامی احکام کبھی معطّل نہیں ہوتے اورحکومت اسلامی ان اہم ترین مسائل میں سے ہے جس سے مسلمان سروکار رکھتے ہیں اوراس حکومت کی بنیاد کاایک حصّہ اقتصادی مسائل پرمنحصر ہے اوراصلی اسلامی اقتصادی مسائل یہی ہیں ٧۔"" انفال "" کے بارے میں مختلف موضوع اس طرح ہیں :(ا) وہ زمینیں جن کے مالکوں نے انہیں چھوڑ دیاہے اوروہ وہاں سے چلے گئے (بنی نظیر کے یہود یوں کی زمینوں کی طرح )(٢)وہ زمینیں جن کے مالکوں نے انہیں اپنی مرضی سے مسلمانوں کے سربراہ کے سپر کردیا(فدک کی طرح )(٣) اراضی موات ( غیرآباد زمینیں) ۔(٤) سمندروں کے کنارے ۔(٥) پہاڑ وں کی چوٹیاں ۔ (٦) درّے ۔(٧)جنگلات۔(٨) بادشاہوں کے منتخب اموال جو جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگیں ۔(٩) جوکچھ مسلمانوں کاپیشوا اموال ِ غنیمت میں سے اپنے لیے رکھے ۔(١٠)وہ اموال ِ غنیمت جوان جنگوں کے ذریعہ مسلمانوں کے ہاتھ لگیں جو سربراہِ مسلمین کی اجازت کے بغیر لڑی گئی ہوں ۔(١١) معدنیات ۔(١٢) اس شخص کی میراث جس کا کوئی وارث نہ ہو (مذ کورہ بالا بعض موارد میں فقہا کے درمیان اختلاف لیکن اکثر یت ان موارد کوقبول کرتی ہے ، مزید وضاحت کے لیے کتب فقہ کی طرف رجوع کیاجائے ۔