إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ
Indeed those who oppose Allah and His Apostle—they will be among the most abased.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 58:20
[Pooya/Ali Commentary 58:20] (see commentary for verse 14)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
حزب اللہ کامیاب ہے
گزشتہ آ یات میں گفتگو منافقین اوردشمنان ِ خدا کے بارے میں اوران کی کچھ صفات اورعلامتوں سے متعلق تھی ۔ اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے اِن آیتوں میں جوسورئہ مجادلہ کی آخری آیات ہیں ان کی کچھ اورنشانیاں پیش کرتاہے اوران کی حتمی سرنوشت جوشکست وبربادی ہے اسے واضح کرتاہے پہلے فر ماتاہے: وہ لوگ جوخدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے دُشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ترین افراد کے زمرہ میںہیں(ِانَّ الَّذینَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ أُولئِکَ فِی الْأَذَلِّین) (١) ۔ بعد والی آ یت حقیقت میں ان معانی کی دلیل ہے فرماتاہے: خدا نے اس طرح مقرر کیاتھاکہ میں اورمیرے پیغمبر ہی کامیاب ہوں گے (کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلی) ایسا کیوں نہ ہوں اس لیے کہ خداقوی اورناقابلِ شکست ہے ( ِنَّ اللَّہَ قَوِیّ عَزیز)جس قدر خداصاحب ِقوّت ہے اتنے ہی اس کے دشمن کمزور اور ذلیل ہیں اوراگر ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ آ یت میں (اذلین)کی تعبیر آ ئی ہے تواس کی وجہ سے یہی تھی کتب (لکھتاہے)کی تعبیر اس کامیابی کے قطعی ہونے کی تاکید ہے اورلاغلبن کاجملہ لام تاکید اورنون ثقیلہ کے ساتھ اس کامیابی کے موکد ہونے کی دلیل ہے اس طرح کہ کسی شخص کے لیے کسی قسم کے شک اورتردّدکی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ اس چیزکے مشابہہ ہے جوسورئہ صافات کی آ یت ٧١ ١ تا ٣٧١میں آئی ہے (وَ لَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنا لِعِبادِنَا الْمُرْسَلینَ،ِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُورُون ،وَ ِنَّ جُنْدَنا لَہُمُ الْغالِبُون) ۔ ہمارا قطعی وعدہ ہمارے مُرسل بندوں کے بارے میں پہلے سے مُسلّم ہوچکاہے کہ ان کی مدد کی جائے گی اورہمارا لشکرتمام میدانوںمیں کامیاب ہے ۔ تاریخ کے طویل دُور میں خدا کے پیغمبروں اوراس کے بھیجے ہوئے افراد کی کامیابی مختلف صُورتوں میں نمایاں ہوئی ہے مختلف عذابوں کی صُورت میں مثلاً طوفانِ نوح علیہ السلام میں ،صاعقۂ عاد وثمود میں، قومِ لوط علیہ السلام کوتباہ وبرباد کرنے والے زلزلے کی صُورت میں اوراسی قسم کی چیزوں میں مختلف جنگوں میںمثلاًجنگ بدر وحنین ، فتح مکّہ اور پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے باقی غزوات میں ۔ ان سب سے زیادہ اہم شیطانی مکاتبِ فکر اورحق وعدالت کے دُشمنوں پران کی منطقی کامیابی تھی ۔یہاں ان لوگوں کے سوال کاجواب واضح ہوجاتاہے جویہ کہتے ہیں کہ اگریہ وعدہ قطعی تھاتو پھر کیوں بہت سے انبیا ومرسلین ،آئمہ معصومین علیہم السلام اور سچّے مومنین کوان کے دشمنوں نے شہید کیااوروہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے ان اعتراض کرنے والوں نے حقیقت میں کامیابی کے معنی کوصحیح طرح نہیںسمجھا ۔ مثلاًممکن ہے ( تصوّر کریں)کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں شکست کھائی اس لیے کہ آپ علیہ السلام خود اورآپ علیہ السلام کے یاور وانصار تمام کے تمام شہید ہوگئے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اپنے اصلی مقصد تک پہنچ گئے ،آپ کامقصد یہ تھا کہ بنی اُمیّہ رسواہوں اورمکتب آزادی کی بُنیادرکھی جائے اورساری دنیاکے لوگوں کودرسِ آزادی دیاجائے آپ علیہ السلام نے یہ مقصد یقیناحاصل کیااور آپ آج بھی سرور شہیدانِ عالم اورجہانِ انسانیت کے رہبرِ کامل کی حیثیت سے انسانوں کے ایک عظیم طبقہ کے دِلوں پرکامیابی کے ساتھ حکومت کررہے ہیں (٢) اس چیز کی یاد آ وری بھی ضروری ہے کہ یہی حکم یعنی خدائی وعدہ کے مطابق کامیابی انبیاء واولیاء کے پیروکاروں کے بارے میںبھی ثابت ہے یعنی ان کی کامیابی کی بھی خُدا کی طرف سے ضمانت دی گئی ہے جیساکہ سورئہ مؤمن کی آیت ٥١ میں ہم پڑھتے ہیں (انا لننصررسلنا والّذین اٰمنو افی الحیٰوة الدنیا ویوم یقوم الاشھاد)ہم یقینا اپنے رسُولوں کی اورایمان لانے والوں کی زندگی دنیا میں اوراس دن جب گواہ قیام کریں گے (قیامت کے دن )مدد کریں گے یقیناخدا جس کی مدد کرے وہ کامیاب ہے ۔لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ خداکا یہ حتمی وعدہ قید اور شرط کے بغیر نہیں ہے ۔ اس کی شرط ایمان اورآثار ایمان ہیں اس کی شرط یہ ہے کہ بند سُستی وکمزوری کواپنے اندر پیدا نہ ہونے دے اور مشکلات سے نہ گھبرائے اورغمگین نہ ہو جیساکہ آل ِ عمران کی آیت ١٢٩ میں فر ماتاہے : (وَ لا تَہِنُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ)اس کی دوسری شرط یہ ہے کہ تغیّرات کواپنی ذات سے شروع کرے کیونکہ خداکسی قوم وملّت کی نعمتوںکومتغیّر نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے اندر تغیر پیدانہ کریں(ذلِکَ بِأَنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّراً نِعْمَةً أَنْعَمَہا عَلی قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا ما بِأَنْفُسِہِمْ ) (انفال ٥٣)انہیں خدا کی رسّی کومضبُوطی سے پکڑے رہناچاہیئے ۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی صفوںکومتحد رکھیں اوراپنی قوّتوں کو مجتمع کریں ، نیّتوںکوخالص رکھیں اورمطمئن رہیں کہ دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اوروہ خُود بظاہر کمزور ہوں اور تعداد میں کم ہوں لیکن آخر کار جہاد ، کوشش اورخداپر توکّل کی وجہ سے وہ کامیاب ہوں گے ، مفسرین کی ایک جماعت نے مندرجہ بالاآ یت کے لیے ایک شانِ نزول بیان کی ہے اوروُہ یہ کہ مسلمانوںکے ایک گروہ نے جس وقت حجاز کی بعض آبادیوںکی فتح کودیکھاتوانہوں نے کہاکہ خداعنقریب ہمیں روم و ایران کی فتح بھی نصیب کرے گا اس پر منافقین نے کہاکہ تم سمجھتے ہو کہ ایران وروم بھی ان بستیوں کی مانند ہیں جنہیں تم نے فتح کرلیاہے ۔ اس پر مندرجہ بالا آ یت نازل ہوئی اوراس کا میابی کاان سے وعدہ کیاآخری زیربحث آ یت جوسُورہ مجادلہ کی آخری اور آیات ِ قرآنی میں سب سے زیادہ سرکوبی کرنے والی آ یت ہے مؤ منین کوباخبر کرتی ہے کہ خداکی محبت اور دشمنانِ خداکی محبت کوایک ہی دل میں جمع کرناممکن نہیں ہے لہٰذا وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کومنتخب کریں ۔ اگر واقعی وہ مومن ہیں توانہیں دشمنانِ خدا کی دوستی سے پرہیز کرناچاہیئے ورنہ وہ مسلمان ہونے کادعویٰ نہ کریں ۔پر وردگار ِ عالم فرماتاہے: کسی ایسے گروہ کوجوخدااور روزِ قیامت پرایمان رکھتا ہوتونہیں پائے گا کہ وہ خدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دشمنوں سے دوستی کریںچاہے وہ ان کے آباؤ اجداد ، اولاد یارشتہ دار ہوں(لا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ یُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ لَوْ کانُوا آباء َہُمْ أَوْ أَبْناء َہُمْ أَوْ ِخْوانَہُمْ أَوْ عَشیرَتَہُم) ۔جی ہاں!ایک دل میں دوومتضاد محبتیںجمع نہیں ہوسکتیں اورجو دومتضاد محبتوںکے حامل ہوں وہ یاتوضعیف الایمان ہوتے ہیں یاپھر منافق ہوتے ہیں اِسی لیے غزوات ِالہٰی میں ہم دیکھتے ہیں کہ مخالف صفوںمیںمسلمانوںکے عزیز واقارب کی ایک جماعت تھی لیکن چونکہ اُنہوں نے اپنا رشتہ خدا سے توڑ رکھا تھا اوروہ حق تعالیٰ کے دشمنوںکی صف سے وابستہ تھے ،لہٰذا مسلمانوں نے ان سے جنگ کی یہاں تک کہ ان میں سے بہت سوں کوموت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ اباؤاجداد ، اولاد اوررشتہ داروں کی محبت بہت اچھی چیزہے اورانسان کے جذبہ کرم کے زندہ ہونے کی نشانی ہے لیکن جب اس محبت کامقابلہ خدا کی محبت سے ہو تو پھر یہ محبت اپنی قدروقیمت کھو بیٹھتی ہے ۔ البتہ انسان کے مرکزِمحبت صرف یہی چار گروہ نہیں ہوتے جن کاذکر مذکورہ آ یتمیں ہوا ۔یہ انسان کے نزدیک ترین افرادہیں اوران کی مثال کوپیش نظر رکھ کرباقی افراد کی کیفیت بھی واضح ہو جائے گی ۔ اسی لیے زیر بحث آ یت میں گفتگو بیوی ، شوہر ، مال ودولت ،تجارت اورگھروںکے متعلق، جو مرکزمحبت ہوسکتے ہیں، درمیان میں نہیں آ ئی ۔جبکہ کہ سور ہ توبہ کی آ یت ٢٤ میں یہ سب امور موردِتوجہ قرار پائے ہیں خدا فرماتاہے: (قُلْانْ کانَ آباؤُکُمْ وَ أَبْناؤُکُمْ وَ ِخْوانُکُمْ وَ أَزْواجُکُمْ وَ عَشیرَتُکُمْ وَ أَمْوال اقْتَرَفْتُمُوہا وَ تِجارَة تَخْشَوْنَ کَسادَہا وَ مَساکِنُ تَرْضَوْنَہا أَحَبَّ ِلَیْکُمْ مِنَ اللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ جِہادٍ فی سَبیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَأْتِیَ اللَّہُ بِأَمْرِہِ وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفاسِقینَ ) کہہ دے اگرتمہارے باپ دادا، اولاد ،بھائی اورقبیلہ اوروہ مال جوتمہارے ہاتھ لگے ہیں ،اور وہ تجارت جس کے نقصان کاتمہیں خطرہ ہے اور وہ گھر جن سے تمہارادلی تعلق ہے خدااس کے پیغمبروں اوراس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں توپھر اس اس انتظار میںرہو کہ خدااپنا عذاب تم پرنازل کردے اورخدانافر مان لوگوں کوہدایت نہیں کرتا۔ دُوسرے امورکے زیربحث آ یت میں مذکور نہ ہونے کی دوسری دلیل ممکن ہے وہ شان ِہائے نزول ہوں جو آ یت کے لیے بیان ہوئی ہیں،منجملہ دوسری شان ہائے نزول کے ایک یہ ہے کہ حاطب ابن ابی بلتعہنے اہل مکّہ کوخط لکھا اور انہیں خبر دار کیاکہ ہوسکتاہے ،رسولخدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے لیے روانہ ہوں ، جب یہ بات کُھلی ،توحاطب نے عُذر پیش کیا کہ میرے عزیز واقارب مکّہ میں کفّار کے کے جنگل میں ہیںمیں نے چاہا کہ اہل مکّہ کی خدمت کروں تاکہ میرے عزیز وامان میں رہیں (٣) بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہ آ یت عبداللہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کابیٹا صاحب ِایمان تھا ، اس نے ایک دن دیکھا کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ آلہ وسلم)پانی نوش فرمارہے ہیں تواس نے عرض کیا کہ تھوڑا ساپانی اس برتن میں رہنے دیجئے تاکہ میں وہ اپنے باپ کوپلاؤں ۔شاید خدااس کے دل کو پاک کردے ۔مختصر یہ کہ وہ جس وقت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پئے ہوئے پانی میں سے بچاہواپانی اپنے باپ کے پاس لے کر پہنچا تواس نے وہ پانی ینے سے انکار کردیااور نہ صرف یہ بلکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے متعلق ایک بہت ہی توہین آمیز جملہ کہا۔ اس کابیٹا پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ یا اوعراس نے اپنے باپ کے قتل کرنے کی اجازت طلب کی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اجازت نہ دی اور فرمایا اس کالحاظ کرو لیکن دل میں اس کے اعمال سے بیزاررہو ۔ اس کے بعد پر وردگار ِ عالم اس گروہ کے عظیم اَجرکوپیش کرتاہے جس کے دل مکمل طورپر عشق ِ خدا کے قبضہ میں ہیں ،اورپانچ موضوعات کوبیان کرتاہے جن میں سے بعض امداد اور توفیق کی شکل میں ہیں ، اور بعض نتیجے اورانجام ِکار کی صُورت میں پہلے اوردُوسرے حصّہ کے سلسلہ میںفرماتاہے: وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا نے ایمان کاخط ان کے دلوں کے صفحے پرکھینچ دیاہے اور اپنی طرف سے ایک رُوخ کے ذریعے ان کو تقویت پہنچائی ہے (ْ أُولئِکَ کَتَبَ فی قُلُوبِہِمُ الْیمانَ وَ أَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِنْہ) ۔واضح رہے کہ یہ امداد اور لُطفِ الہٰی انسان کے ارادہ واختیار کی آزادی کی رُوح سے متصادم نہیں ہوتے کیونکہ پہلے قدم،یعنی دُشمنان ِکی محبت کوترک کرنا،خُود انہی کی طرف سے اُٹھائے گئے ہیں ۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے امداداستقرارِایمان کی شکل میں ان کی جانب آ ئی ہے ۔ کیایہ رُوحِ الہٰی جس سے خدا مومنین کی تائید کرتاہے ایمان کی بنیاد دوں کی تقویت ہے یاعقلی دلائل ہیں یاقرآن ہے یاوہ خدا کاعظیم فرشتہ ہے جس کانام رُوح ہے ؟اس سلسلے میں مختلف تفسیریں اوراحتمالات بیان ہوئے ہیں اوران سب کااجتماع بھی ممکن ہے ۔خلاصۂ کلام یہ کہ یہ رُوح ایک طرح کی جدید حیات معنوی ہے جس کافیضان خدامؤ منین پرکرتاہے ۔تیسرے مرحلہ میں فرماتاہے: خدا انہیں جنّت کے باغات میں داخل کرے گا جن کے درختوںاورمحلّوںکے نیچے نہریں جاری ہیں اوروہ ہمیشہ اِن میں رہیں گے ۔ ( ُ وَ یُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ خالِدینَ فیہا )چوتھے مرحلے میں اضافہ کر تاہے : خدا اُن سے راضی اورخوش ہے اووہ خدا سے راضی وخوش ہیں(رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوا عَنْہ) ۔قیامت کے مادّی انعامات یعنی حُوروقصور کے مقابلے میںیہ عظیم ترین رُوحانی آجر ہے جومومنین کے اس گروہ کودیاجائے گا ۔ یہ گروہ احساس کرے گا کہ خداان سے راضی ہے ۔ ان کے معبُود کی یہ رضا مندی کہ اس نے انہیں قبول کرلیاہے اوراپنی عنایت سے انہیں نوازا ہے اوراپنی بساط قُرب پرانہیں بٹھایاہے بہترین لطف دینے والااحساس ہے جوانہیں حاصل ہوگا اور اس کا نتیجہ خداسے ان کی مکمل خوشنودی ہے ۔ جی ہاں!کوئی نعمت اس دوہری نعمت کے برابر نہیں ہے ۔ اور یہ دوسری نعمتوں کی کلید ہے اس لیے کہ جب خدا کسِی سے خوش ہوتو جووہ طلب کرے گا خدااسے دے گا ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ کریم بھی ہے اور قادر وتوانا بھی ہے ۔کیا یہی عُمدہ تعبیر ہے فرماتاہے: خدا بھی ان سے راضی ہے اوروُہ بھی خدا سے راضی ہیں ۔یعنی ان کامقام اس قدر اُونچا ہوگیاہے کہ ان کا نام خداکے نام کے ساتھ اوران کی رضامندی خدا کی رضا کے پہلو بہ پہلو قرار پائی ہے ۔ اخری مرحلہ میں ایک ایسے عمومی اعلان کی شکل میں ،جوایک اورنعمت کی ترجمانی کرتاہے ، فرماتاہے: وہ اللہ کی جماعت ہیں اورجان لوکہ اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے (ُ أُولئِکَ حِزْبُ اللَّہِ أَلا انَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْمُفْلِحُون)نہ صرف انہیں دوسرے جہان میںکامیاب اورقیامت میں انواع واقسام کی مادّی ومعنوی نعمتیں حاصل ہوں گی بلکہ جیساکہ گزشتہ آیات میں بھی آیاہے وہ اس دنیامیں بھی اللہ کی مہربانی سے دشمنوںکے مقابلہ میں کامیابی حاصل کریں گے اوراس دنیا کے اختتام پر بھی حق وعدالت کی حکومت ان کے قبضہ میں ہوگی ۔ ١۔"" یحادون"" "" محادہ""کے مادّہ سے مسلّح یاغیر مسلّح مبارزہ کے معنی میں ہے یاممانعت کے معنی میں ہے (ہم اس سورہ کی آیت ٥ کے ذیل میں وضاحت کرچکے ہیں) ۔ ٢۔ اس سلسلہ میںمزید وضاحت کے لیے اسی تفسیر کی جلد ١٠ سُورہ صافات کی آ یت ١٧١ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔ ٣۔ مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٥۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
٢۔ حب فی اللہ اور بغض فی اللہ کااَجر
جیساکہ ہم مندرجہ بالا آ یات میں دیکھاہے کہ خدانے ان لوگوں کے لیے ،جواس کے عشق کوہرچیزپرمقدم سمجھتے ہیں اور ہر تعلق کواس سے لگاؤ کے ماتحت قرار دیتے ہیں ، اس کے دوستوں کودوست اوراس کے دشمنوں کودُشمن قرار دیتے ہیں ، پانچ عظیم اَجر مقرر کیے ہیں جن میں سے تین اَجر تواسی دُنیا میں عطا کرتاہے اوردو اَجر قیامت میں عطافر مائے گا۔ اس جہان کی پہلی نعمت ایمان کا ان کے دلوں میں قرار دینا اثبات ہے ،خداان کے دلوں میں ایمان کانقش اس طرح مرتسم کرتاہے کہ حوادث کے ہاتھ اور زندگی کے طوفان اسے محو نہیںکرسکتے اور، قطع نظراس سے ایک نئی رُوح سے ان کو تقویت دیتاہے اورتیسرے یہ کہ انہیں اپنے حزب میں شمار کرتاہے اور دُشمنوںکے مقابلہ میں کامیابی عطا کرتاہے ۔ اخرت میں بہشت ِ جاوداں اپنی تمام نعمتوں کے ہمراہ ان کے اختیار میں دے دیتاہے ۔ اس کے علاوہ اپنی مطلق خوشنودی ورضامندی کااعلان کرتاہے ۔ ایک حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے مروی ہے : (مامن مؤ من الّا ولقلبہ اذ نان فی جوفہ اذن ینفث فیھاالوسواس الخنّاس واذن ینفث فیھا الملک فیؤ ید اللہ المؤ من بالملک قولہ واید یھم بروح منہ) ۔ ہرمومن کے دل کے دوکان ہیں ۔ ایک وہ جس میں وسواس خنّاسپھونک مارتا ہے اور دوسرے کان میں ملک پھونک مارتاہے ،خدامومن کوفرشتے کے ذریعہ تقویت دیتاہے اور یہی وہ چیزہے جس کے متعلق فر ماتاہے :(واید یھم بروح منہ ) (٩) ۔ ایک اورحدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے کلام کی تفسیر کے سلسلہ میں منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:(اذازنی الرّجل فارقہ رُوح الایمان ) جب انسان زناکرتاہے تواس وقت رُوحِ ایمان اس سے جُدا ہوجاتی ہے ،یہ رُوح ایمان وہی ہے جس کے متعلق خدانے قرآن میں فر مایا ہے :(واید ھم بروح منہ) (١٠) ۔ مندرجہ بالااحدیث سے رُوحِ ایمان کی وسعت اوررُوحِ انسانی کے اعلیٰ مرتبہ اور شمول ِ فرشتہ کے بارے میںوضاحت ہوتی ہے ۔یہ آیات اس حقیقت کو بھی بتاتی ہیں کہ روِ ایمان کے اس مرتبہ کے ہوتے ہوئے انسان شراب خوری اوراس قسم کے دوسرے گناہوں کامرتکب نہیں ہوتا ۔ خداوندا! اگرتو ہمیں رُوحِ ایمان عطا کردے تواپنے کمزور اورضعیف بندوں پرتیرااحسان عظیم ہوگا۔ اس کے بعد انہیں کوئی غم نہیں ہوگا ۔ پروردگارا!ہمیں اپنے دوستوںکی دوستی اوراپنے دشمنوں کی دشمنی کی توفیق عطا فرما اوراپنے دشمنوں کی دوستی اوردوستوں کی دُشمنی سے محفوظ فرما۔ بارِ ا لہٰا !تُونے سچّے مؤ منین سے کامیابی کاوعدہ کیاہے اورانہیں حزب اللہ شمارکیاہے ۔ہمیںاس حزب میں داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرما اور اپنی کامیابی ہمارے شامل ِ حال فرما۔ آمین یارب العالمین (سورہ مجادلہ کی تفسیر تمام) ٩۔کافی مطابق نقل تفسیر المیزان ،جلد ١٩ ،صفحہ ٢٨٨۔ ١٠۔کافی مطابق نقل تفسیر المیزان ،جلد ١٩ ،صفحہ ٢٨٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
١۔حِزبُ اللہ اورحِزب شیطان کی اصل نشانی
قرآن مجید کی دو آیتوںمیں حزب اللہ کی طرف اشارہ ہواہے (زیر بحث آ یت اور سُورہ مائدہ کی آ یت ٥٦ ) اورایک آیت میں حزب شیطان کی طرف اشارہ ہے ۔ دونوں مواقع جن پر حزب اللہ کے بارے میں گفتگو کرتاہے (حُب فی اللہ اوربُغض فی اللہ )اور اولیائے حق کی ولایت کے مسئلہ پرانحصار کرتاہے ۔سُورہ مائدہ میں مسئلہ ولایت اورخدا ورسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کے وجوب کی بات کر تاہے جس میںمذکورہے کہ (علی علیہ السلام )نے حالت ِ رکوع میں زکوٰة دی ہے (وَ مَنْ یَتَوَلَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ الَّذینَ آمَنُوا فَِنَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغالِبُونَ)زیربحث آ یت میں بھی دُشمنان ِخدا کی دوستی سے قطع روابط پرتکیہ کرتاہے ۔ اس پرحزب اللہ کاخط وہی خطِ ولایت ہے اور خدا ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اوراس کے اوصیاء کے دُشمنوںسے قطع تعلق کاخط ہے ۔ اس کے مقابلے میںحزب ِ شیطان کے تعارف کے وقت جس کی طرف اس سورہ کی گزشتہ آ یات میں اشارہ ہواہے اس کی جوواضح ترین نشانیاں بتاتاہے وہ نفاق ،حق سے دُشمنی ،یادِ خدا کی فراموشی ،جُھوٹ اور فریب ہیں ۔ قابلِ تو جہ یہ ہے کہ ایک موقع پر کہتاہے : (فَانَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْغالِبُون)اوردُوسری جگہ فر ماتاہے:()اس طرف توجہ کرنے سے کہ فلاح بھی دشمن کے مقابلہ میںکامیابی اور ان پر غلبہ کے ہمراہ ہے یہ پتہ چل جاتاہے کہ دونوں آیتوں کامفہوم ایک مربوط صورت میں اس امر کے ساتھ ظاہر ہے کہ فلاح ورستگاری غلبہ وکامیابی کی نسبت زیادہ گہرا مفہوم رکھتی ہے ،اس لیے کہ وہ مقصد تک پہنچنے کوبھی مشخّص کرتی ہے ۔ اس کے برعکس حزبِ شیطان کاتذکرہ اس کی شکست، اس کے نقصان اورمقاصد میں نا کامی کے حوالے سے کرتاہے ۔ مسئلہ ولایت خاص معانی میں اور حبّ فی اللہ اور بغض فی اللہ عام معانی میں، ایک ایسامسئلہ ہے کہ روایاتِ اِسلامی میں اس کی بات بہت تاکید ملتی ہے ۔ یہاں تک کہ حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ )امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کرتے ہیں کہ جب بھی میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں گیاتوانہوں نے میرے شانے پرہاتھ رکھ کر آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کہ اے سلمان !یہ شخص اوراس کاگروہ کامیاب ہے (یا اباالحسن ما اطلعت علی رسول اللہ الاضرب بین کتفی وقال یاسلمان ھٰذاوحز بہ ھم المفلحون) (٤) دوسرے مورد میں یعنی ولایت عامہ کے سلسلہ میں ایک حدیث پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ہمیں ملتی ہے ۔ (و د المؤ من اللمؤ من فی اللہ من اعظم شعب الایمان) ایک مومن کی دُوسرے مومن سے برائے خدا خوشنودی اہم ترین شعبۂ ایمان ہے (٥) ۔ ۔ ایک اورحدیث میںآ یاہے کہ خدانے حضرت موسیٰ علیہ السلام پروحی کی کہ کیا کوئی عمل میرے لیے بھی انجام دیاہے ۔عرض کیا : جی ہاںمیں نے تیرے لیے نماز پڑھی ہے ، روزہ رکھاہے انفاق کیاہے اور تجھے یاد کرتارہاہوں فرمایا: نماز تیرے لیے حق کی نشانی تھی ، روزہ جہنم کی آگ کے مقابلہ میں سپر تھا ،انفاق محشر کے لیے سایہ ہے اور ذکر نور ہے اے موسیٰ میرے لیے تم نے کونساعمل کیاہے ؟ عرض کیاخداوندا!خُود تواِس سلسلہ میں میری رہنمائی فرما۔ فرمایا: (ھل والیت لی ولیا وھل عادیت لی عدوا قط فعلم موسیٰ ان افضل الا عمال الحبّ فی اللہ والبغض فی اللہ ) ۔ کبھی میرے لیے کسی سے محبت کی ہے اورمیرے خاطر کسی سے دشمنی کی ہے ؟ یہ وہ مقام تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سمجھ گئے کہ افضل ترین عمل حب فی اللہ اور بغض فی اللہ ہے ،(اللہ کے لیے دوستی اوراللہ کے لیے دشمنی (٦) ۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: (لا یمحض رجل الا یمان باللہ حتّی یکون اللہ احب الیہ من نفسہ وابیہ وامہ وولدہ واھلہ ومالہ ومن النّاس کلھم) کسی شخص کااللہ پر ایمان ِ کامل نہیں ہوتاتاو قتیکہ خد ااس کواس کی جان، اس کے ماں باپ ،اولاد،اہل خانہ اوراس کے مال سے زمادہ محبوب نہ ہو(٧) ۔ اس عنوان کے ماتحت اثبات کی سمت بھی ، یعنی دوستان ِ خداسے دوستی اورنفی کی سمت میں بھی دوستان ِ خُداسے دُشمنی سے روایات بہت زیادہ ہیں، بہتر ہے کہ ہم اس گفتگو کوامام محمد باقر علیہ السلام کی ایک پُرمعنی حدیث پرختم کردیں ۔ اپ علیہ السلام نے فرمایا ہے : (اذااردت تعلم ان فیک خیر افانظرالی قلبک فان کان یحب اھل طاعة اللہ عزّو جل ویبغض اھل معصیة ففیک خیر واللہ یحبک واناکان یبغض اھل طاعة اللہ و یحب اھل معصیة ،لیس فیک خیرواللہ یبغضک ، والمرء مع من احب ) ۔ اگریہ جانناچاہو کہ تم ایک اچھے انسان ہوتواپنے دل میں جھانک کردیکھو اگروہ اللہ کی اطاعت کرنے والوں کودوست اوراس کے نافر مانوں کودشمن رکھتاہے توجان لوکہ تم اچھے انسان ہواور خدا بھی تمہیں دوست رکھتاہے اوراگر تمہارادل خداکی اطاعت کرنے والوں کودشمن اوراس کی معصیّت کرنے والوں کودوست رکھتاہے توپھرتم میں کوئی خُوبی نہیں اور خدا تم سے دشمنی رکھتاہے اورانسان ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتاہے جسے وہ دوست رکھتاہے ( ٨) ۔ ٤۔ یہ حدیث تفسیربرہان میں اہل سنت کی کتب سے نقل ہوئی ہے (برہان ،جلد ٤، صفحہ ٣٢١) ۔ ٥۔ اصول کافی ، جلد ٢ باب حب فی اللہ حدیث ٣۔ ٦۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔ ٧۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔ ٨۔۔سفینة البحار ، جلد ١،صفحہ ٢٠١۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:20-22
سوره مجادله/ آیه 20- 22
٢٠۔ِانَّ الَّذینَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ أُولئِکَ فِی الْأَذَلِّینَ ۔ ٢١۔کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلی ِنَّ اللَّہَ قَوِیّ عَزیز ۔ ٢٢۔ لا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ یُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ لَوْ کانُوا آباء َہُمْ أَوْ أَبْناء َہُمْ أَوْ ِخْوانَہُمْ أَوْ عَشیرَتَہُمْ أُولئِکَ کَتَبَ فی قُلُوبِہِمُ الْیمانَ وَ أَیَّدَہُمْ بِرُوحٍ مِنْہُ وَ یُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ خالِدینَ فیہا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوا عَنْہُ أُولئِکَ حِزْبُ اللَّہِ أَلا ِنَّ حِزْبَ اللَّہِ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔ ترجمہ ٢٠۔وُہ لوگ جوخدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے دُشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل ترین افراد کے زُمرہ میں ہیں ۔ ٢١۔خُدانے اس طرح مقرر کررکھّا تھاکہ میں اورمیرے رسُول کامیاب ہوں گے کیونکہ خدا قوی اور ناقابلِ شکست ہے ۔ ٢٢۔کسِی ایسی قوم کوتو نہیں پائے گا جوخدااورروزِ قیامت پر ایمان رکھتی ہو اوروہ خُدا اوراس کے رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دشمنوں کے ساتھ ددستی کرے خواہ وہ ان کے آباؤ اجداد ، اولاد، بھائی اور رشتہ دار کیوں نہ ہوں وہ ایسے لوگ ہیں جن کے صفحۂ دل پرایمان لِکھ دیاہے اوراپنی طرف سے ایک رُوح کے ذریعے ان کی تقویت فرمائی ہے ۔ انہیں جنّت کے باغوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ،وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ۔خدا ان سے خوش ہے اور وہ خداسے خوش ہیں ۔وہ اللہ کاحزب ہیں ۔ جان لوکہ اللہ کاحزب ہی کامیاب ہے ۔