وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ
Certainly We sent Noah and Abraham and We ordained among their descendants prophethood and the Book. Some of them are [rightly] guided, and many of them are transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 57:26
[Pooya/Ali Commentary 57:26] Aqa Mahdi Puya says: It is asserted that prophethood and revelation have been exclusively reserved for the offspring of Nuh and Ibrahim. See Ali Imran: 33 and 34. Also refer to Fatir: 32. Those, among them, who were unjust, were discarded.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:26-27
ہم نے یکے بعد دیگر ے انبیاء بھیجے
جیساکہ ہم جانتے ہیں قرآن کاشیوہ یہ ہے کہ وہ اپنی تعلیمات کے اصول ِ کلّی کے ایک سِلسلہ کوبیان کرنے کے بعد گزشتہ قوموں کے حالات کی طرف اشارہ کرتاہے وہ اس بیان کے سِلسلہ میں شاہد کاکام دیں اِس مقصد کے لیے یہاں بھی گزشتہ مسائل کے بعدارسال رسل ، بینات وکتاب ومیزان کے ذکر اور مغفرت وسعادت ِجاودانی تک پہنچنے کے لیے ایک دُوسرے کے مقابلہ میں سبقت کرنے کے تذ کرے کے ساتھ گزشتہ اقوام سے شروع کرتاہے جوشیخ الانبیاہیں اورنمایاں رسُو لانِ حق میں سے ہیں اورفرماتاہے: ہم نے نوح اور ابراہیم کوبھیجا اوران دونوں کی ذریّت میں نبوّت وکتاب آسمانی قراردی (وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً وَ ِبْراہیمَ وَ جَعَلْنا فی ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْکِتاب) لیکن ان لوگوں نے ان عظیم نعمتوں سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا ، ایک گروہ ان کی تعلیم پرایمان لایا اوران میں سے اکثریّت گنہگار وں اور بے ایمان لوگوں کی ہے (َ فَمِنْہُمْ مُہْتَدٍ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُون)جی ہاں وہ نبوّ ت جس کے ساتھ شریعت اور آئین بھی تھے ،حضرت نوح علیہ السلام سے شروع ہوئی اوران کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ، جودُوسرے اولو العزم پیغمبرہیں، اس شریعت کو دوام بخشا اور یہی ان کی ذ ریّت میں برقرار رکھی گئی ۔ لیکن ہمیشہ اس نُور ِ ہدایت سے اقلیّت ہی نے فائدہ اُٹھا یا جب کہ اکثریت نے راہ ِ خطا طے کی، اس کے بعد اجمالی طورپر دُوسرے پیغمبروں کے سلسلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اورپیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے پہلے کے آخری نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے فر ماتاہے:(ثُمَّ قَفَّیْنا عَلی آثارِہِمْ بِرُسُلِنا)جویکے بعد دیگر ے آئے اور اُنہوں نے لوگوں کے راستے میں ہدایت کے چراغ روشن کیے یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے ، ہم اس کے بعد عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کولے آ ئے ( وَ قَفَّیْنا بِعیسَی ابْنِ مَرْیَم) ۔ قفینا قفا کے مادّہ سے ہے جس کے معنی پُشت کے ہیں، قافیہ کواسی لیے قافیہ کہتے ہیں کہ شعر کے آخری حصّے ایک دوسرے کے مشابہ اور عقب میں قرار پاتے ہیں مذکورہ بالا جُملے سے مُراد یہ ہے کہ انبیاء ومُرسلین نے یکساں طریقہ پر ہم آہنگ مقاصد کوپیش ِ نظر رکھ کریکے بعددیگرے عرصہ وجود میں قد م رکھاہے اورایک دوسرے کی تعلیمات کی تائید وتکمیل کی ہے ۔ یہ تعبیر درحقیقت توحید نبوّت کی طرف ایک بہت ہی خوبصُورت اشارہ ہے ۔ اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کی کتاب ِ آسمانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتاہے : ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں ، جنہوں نے اس کی پیروی کی ،رحمت ورافت قرار دی (وَ آتَیْناہُ الْانْجیلَ وَ جَعَلْنا فی قُلُوبِ الَّذینَ اتَّبَعُوہُ رَأْفَةً وَ رَحْمَة) ۔بعض مفسّرین نے رحمت ورافت دونوں کے ایک ہی معنی تجویز کیے ہیں لیکن مفسّرین کاایک گروہ ان دونوں کے درمیان فرق کاقائل ہے ۔رافت رفع مضرات کی محبت کے لیے ہے اوررحمت حصول منافع کی محبت کے معنوں میں ہے اسی لیے رافت کاذکر عام طورپر رحمت سے پہلے ہوتاہے ۔ اور اسی وجہ سے زنا کاروں کی سزا والی آ یت میں فرماتاہے:(وَ لا تَأْخُذْکُمْ بِہِما رَأْفَة فی دینِ اللَّہِ ) کہیں ایسانہ ہوکہ تم خدا کی مقرر کی ہوئی حد کے جاری کرنے کے سلسلہ میں رافت ومحبت کاشکار ہو جاؤ اورخدا کے حکم کوفراموش کردو (نور ۔٢) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سچّے پیروکار وں کی رحمت ورافت کامسئلہ کوئی ایسی چیزنہیں ہے کہ جس کی طرف صِرف اس آ یت میں اشارہ ہوا ہوبلکہ سُورئہ مائدہ کی آ یت ٨٢ میں بھی ہمیں ملتاہے (وَ لَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَوَدَّةً لِلَّذینَ آمَنُوا الَّذینَ قالُوا ِنَّا نَصاری ذلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیسینَ وَ رُہْباناً وَ أَنَّہُمْ لا یَسْتَکْبِرُون) تومومنین کے قریب ترین اوردوست (غیر مسلموں میں سے )ان لوگوں کوپائے گاجوکہتے ہیں ہم نصاریٰ ہیں ، یہ اس وجہ سے ہے کہ ان میں تارک الدنیا اورصاحب ِعلم افر اد ہیں اوروہ ( حق کے مقابلے میں) تکبّر نہیں کرتے نہیں کرتے ۔اگر چہ یہ آ یت زیادہ ترحبشہ کے عیسائیوں اورنجاشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے مسلمانوں کوپناہ دی تھی اورا ن سے خلوص محبت روارکھاتھا، لیکن کُلّی طورپرسچّے عیسائیوں کی رافت ومحبت کی طرف اشارہ ہے ۔اس سے مُراد وہ خونخواربھیڑ یے اور آدم نمادیو نہیں ہیں جوہمارے زمانے میں اپنے آپ کونصاریٰ کہتے ہیں اورساری دنیامیں غارت گری کرتے ہیں اور لوگوں کوخون میں نہلاتے ۔اس کے بعد مزید فرماتاہے: ان کے دلوں کوہم نے رہبانیت کی طرف لگادیا ہے جوخُود ان کی اختراع ہے اوراسے ہم نے ان کے لیے مقرر نہیں کیاتھا۔ان کا مقصد تھا کہ خوشنودیٔ خُدا حاصل کریں لیکن انہوں نے حق کی رعایت نہیں کی لہٰذا ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو جوایمان لائے تھے ،اَجر عطاکیا لیکن ان میں سے بہت سے فاسق وگنہگار ہیں (وَ رَہْبانِیَّةً ابْتَدَعُوہا ما کَتَبْناہا عَلَیْہِمْ ِلاَّ ابْتِغاء َ رِضْوانِ اللَّہِ فَما رَعَوْہا حَقَّ رِعایَتِہا فَآتَیْنَا الَّذینَ آمَنُوا مِنْہُمْ أَجْرَہُمْ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُونَ)(١) ۔ تواس طرح انہوں نے یہ صرف یہ کہ مسیح کے آئین ِ توحید کی رعایت نہیں بلکہ اس رہبانیت کے حق کی بھی رعایت نہیں کی جوخُود ان کی اپنی اختراع تھی اورزہد ورہبا نیت کے نام پر اُنہوں نے مخلوقِ خدا کے راستے میں جال بچھائے ہیں اورگرجاؤں کو مختلف قسم کے فسادات کامرکزبنادیا ہے اورانہوں نے دین مسیح میں بہت سی خرابیاں پیداکردی ہیں ۔اس تفسیر کے مطابق دین مسیح کاجُز نہیں تھی بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو کاروں نے اُن کے بعد اس کی اختراع کی تھی ، ابتدأ میں اس رہبانیت کاایک معتد ل انداز تھا لیکن بعد میں اس میں دین سے بالکل انحراف کی کیفیّت پیدا ہوگئی اوراس کی وجہ سے بہت سے مفاسد رُونما ہوئے ، دُوسری تفسیر کے مطابق دین ِ مسیح میں ایک طرح کازہد موجودتھا لیکن اس کے پیرو کاروں نے جوبد عتیں رہبانیت کے نام پرجاری کیں وہ کچھ اور تھیں جس کا پروردگار ِ عالم نے انہیں کبھی مکلف نہیں بنایاتھا(٢) ۔ پہلی تفسیر مناسب ہی نہیں بلکہ بعض حیثیتوں کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہے ۔ بہر کیف مندرجہ بالاآیا ت سے ظاہر ی طورپر معلوم ہوتاہے کہ رہبانیت دین ِ مسیح میں موجود نہیں تھی ۔ان کے پیرو کاروں نے ان کے بعداسے اپنی طرف سے دین ِ مسیح میں شامل کیاہے ۔ابتداء میں ایک قسم کے زہد کیطرف جھکاؤ اچھالگتاتھا،مثال کے طور پربہت سے مراسم اور سنن ِ حسنہ جوابھی تک لوگوں میں رائج ہیں اور کوئی شخص بھی ان کوشرعی احکام کے ماتحت نہیں سمجھتا لیکن یہ سُنّت اوریہ رسم بعد میں دین ِ حق سے انحراف کی شکل اختیار کرگئی حتّٰی کہ آ لودۂ گناہ ہوگئی (فمارعوھا حق رعایتھا) انہوں نے اس کے حق کی رعایت نہیں کی اس جملہ کی قرآنی تعبیراس امر کی دلیل ہے کہ اگراس کے حق کو اداکیاجاتاتو وہ ایک اچھی سُنّت ہوتی اور سُورئہ مائدہ کی آ یت ٨٢ کی تعبیر جورہبانیت اختیار کرنے والوں اور سچّے عیسائی علماکو اچھی نظر سے دیکھتی ہے وہ اس مقصد کی شاہد ہے (غورکیجئے )اوراگر رہبا نیت رأفت ورحمت پرعطف ہے توپھر اس مد عاپرایک اورشاہد پیداہوجائے گاکیونکہ وہ پھررافت ورحمت کاہم ردیف ہوگاجسے خدانے ایک پسندیدہ عنوان کے ماتحت ان کے دلوں میں ڈال دیاہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگرکوئی سُنّتِ حسنہ لوگوں میں رائج ہوجائے (مثلاً زُہد کادستور)جس کے اصول ِ کلّی کاایک مصداق سمجھیں اوراس کاحق اداکریں تواس میں کوئی برُائی نہیںہے ۔ بدبختی وہاں سے شروع ہوتی ہے کہ جب افراط وتفریط کی صورت ِ حال پیدا ہوجائے اوراس سُنّت ِ حسنہ کوسُنّت ِسیۂ میں تبدیل کردے ، جیساکہ موجودہ زمانے میں ہمارے ہاں مراسم سوگواری اور دین کے پیشواؤں کایوم ِ ولادت و وفات منانے کاسِلسلہ جاری ہے ۔ اوراسی طرح شہیدوں اورمرحوم عزیزوں کی یاد منانا، ان کایوم ولادت ِ وشہادت منانا یادسواں اورچالیسواں کرنایہ اسلام کے اصول ِ کُلی کے مطابق ہے اور تعظیم شعائر کے ذیل میں آ تاہے اور دین کے رہبروں اور شہدائے عموم مسلمین کی یاد منانے کا جومعمول ہے اِسی سے ماخوذ ومربوط ہے ۔شہدائے کربلا کی عزاداری اوراس قسم کے ایّام مصائب کی بُنیاد اِسلام کے اصولوں کی رُوح کُلّی کے مطابق ہے ۔ان مراسم کی جزئیات وتفاصیل کسی مخصوص شرعی حکم کے ماتحت نہیں ہے بلکہ یہ دستور اسلامی کی رُوح کلی کے مطابق انجام پاتی ہیں۔توجب تک ان مراسم میں حدُود ِ شریعت سے تجاوز نہیں ہے اور گناہ وخرافات سے آلودہ ہونے کاکوئی امکان نہیں ہے تویقینایہ ابتغاء رضوان اللہ کی مصداق ہیں اور سُنّت ِحسنہ کہلائے جانے کی مستحق ہیں ۔اگر یہ شکل نہ ہوتو پھرمعاملہ مختلف ہے ۔یُوں نظر آتاہے کہ رہبانیت رہبہ کے مادّہ سے لیاگیاہے جس کے معنی خوف ِ خداکے ہیں ۔شروع میں یہ رہبانیت دُنیا سے بے اعتناعی کامصداق تھی لیکن بعد میں اس میں بہت سی تحریفیں داخل انداز ہوگئیں ، اگراب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اس رہبانیت کاشِدّت سے مخالف ہے تواس کی اِس حد سے تجاوزکی ہوئی آخری صُورت کی بناپر ہے چنانچہ نکات کی بحث میں ہم اِنشاء اللہ اِس کی مزید تشریح کریں گے ۔ ١۔اس آ یت کی ترکیب اور معنی میں مفسّرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف ہے ۔بعض نے اسے رأفت ورحمت پرعطف سمجھاہے اورلفظ""حب""رہبائیت سے پہلے مقدرسمجھاہے کیونکہ رہبانیت کوئی ایسی چیز نہیں جودل میں ہو بلکہ اس کی محبت کاتعلق دل سے ہے اورایک جماعت نے اُسے فعل مضمر سے منصوب سمجھاہے ۔جس کامفسّرابتداعوھاہے اورتقدیر عبارت اس طرح ہے "" ابتداعوا رھبا نیة ابتدعوھا"" (الّاابتغاء رضوان اللہ )میں بھی دونظریے ہیں پہلایہ کہ استثنائے منقطع ہے اوراس کامفہوم یہ ہے کہ(ولکنھم ابتدعوھا ابتغأ رضوان اللہ)دُوسرا یہ کہ استثنائے متصل ہے اوراس کامفہوم یہ ہے کہ ہم نے رہبا نیت کی ایک قسم ان پرمقرر کی تھی جس کا مقصد رضائے الہٰی کوحاصل کرناتھالیکن انہوں نے ہبانیت کی ایک دوسری نوع ایجاد کرلی جوحق تعالیٰ کی رضا کے خلاف تھی یوں نظرآتاہے کہ ددونوں داروں میں پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔ ٢۔پہلی تفسیراستثنا کے منقطع ہونے کی صُورت میں ہے اوردُوسری تفسیر اس کے متصل ہونے کے مطابق ہے ۔غورکیجئے یہ نکتہ بھی قابل ِ توجہ ہے کہ اگررہبانیت کاعطف"" رافت ورحمت "" پرہو جیساکہ ہم نے متن میں منتخب کیاہے ، توپھردلوں میں اس کے جعل کرنے سے مُراد ان کااس مسئلہ کی طرف میلانِ قلبی ہے جب کہ "" ماکتبنا ھا"" سے مُراد یہ ہے کہ مسئلہ رہبانیت دین مسیح میں ایک حکم ِ الہٰی کی شکل میں نہیں تھااگرچہ اس سے لگاؤ اوراس کی محبت خدانے ہی ان کے دل میں ڈالی تھی تواس بناپر ابتدعوھاکے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:26-27
سوره حدید/ آیه 26- 27
٢٦۔وَ لَقَدْ أَرْسَلْنا نُوحاً وَ ِبْراہیمَ وَ جَعَلْنا فی ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْکِتابَ فَمِنْہُمْ مُہْتَدٍ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُونَ۔ ٢٧۔ ثُمَّ قَفَّیْنا عَلی آثارِہِمْ بِرُسُلِنا وَ قَفَّیْنا بِعیسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَ آتَیْناہُ الِْنْجیلَ وَ جَعَلْنا فی قُلُوبِ الَّذینَ اتَّبَعُوہُ رَأْفَةً وَ رَحْمَةً وَ رَہْبانِیَّةً ابْتَدَعُوہا ما کَتَبْناہا عَلَیْہِمْ ِلاَّ ابْتِغاء َ رِضْوانِ اللَّہِ فَما رَعَوْہا حَقَّ رِعایَتِہا فَآتَیْنَا الَّذینَ آمَنُوا مِنْہُمْ أَجْرَہُمْ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُونَ۔ ترجمہ ٢٦۔ ہم نے نوح علیہ السلام و ابراہیم علیہ السلام کوبھیجا اوران کی ذُرّ یّت میں نبوّت وکتاب قرار دی ،بعض ان میں سے ہدایت یافتہ ہیں اوران میں سے بہت سے فاسق ہیں۔ ٢٧۔پھر ان کے بعد ہم نے دُوسرے رسُول بھیجے ۔ان کے بعد ہم نے عیسیٰ علیہ السلام ابن ِ مریم علیہاالسلام کومبعوث کیااور انہیں انجیل عطاکی ، ان لوگوں کے دل میں جنہوں نے ان کی پیروی کی ہم نے رحمت ورافت پہنچائی اور جس رہبانیت کاانہوں نے اختراع کیاتھاوہ ہم نے ان پر عائد نہیں کی تھی ۔اگرچہ خوشنودئے خُداان کامقصد تھالیکن اس کے حق کی اُنہوں نے رعایت نہیں کی ، اس لیے ہم نے ان میں سے جوایمان لے آ ئے ان کواَجردیا اوران میں کثرت فاسقوں کی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:26-27
١۔ اِسلام اور رہبانیت
جیساکہ ہم نے کہاہے رہبانیت رہبہ کے مادّہ سے خوف کے معنوں میں ہے اور یہاں مُراد خوف ِ خداہے مرادت میں راغب کے بقول اس سے ایساخوف مُراد ہے جس میں پرہیز اضطراب کی آمیزش ہواور ترھب یعنی تعبد اورعباد ت کرنے کے معنی میں ہے لہٰذا رہبانیت کے معنی میںشدید تعبد ہیں۔مذکورہ بالا آ یات کی ہم جس طرح بھی تفسیر کریں اس سے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ عیسائیوں میں ایک طرح کی رہبانیت موجود تھی اگرچہ دین ِ مسیح میں اس طرح کالازم حکم نہیں دیاگیاتھا لیکن مسیح کے پیروکاروں نے اس رہبانیت کے سلسلہ میں اس کی حدُود سے تجاوزکیااور وہ اسے دین سے برگشتگی کی طرف لے گئے ۔اس وجہ سے اسلام نے اس کی شِدّت سے مذّمّت کی اور یہ مشہور حدیث ( لارھبانیة فی الاسلام ) اِسلام میں رہبانیت نہیں ہے بہت سے منابع اِسلامی میں نظر آ تی ہے (۱) ۔ عیسائیوں کی رہبانیت کے سلسلہ میں دُوسری قبیح بدعتوں کے علاوہ ایک بدعت یہ تھی کہ تارک الدنیا مردوں اورعورتوں نے ازدواج کواپنے اُوپر حرام کرلیاتھا اوردوسری چیزیہ تھی کہ اجتماعی گوشہ نشینی کوجائز سمجھ لیاگیاتھا ۔اس طرح معاشرتی ذمّہ داریوں کوٹھو کرمار کرعبادت کرنے کے ارادہ سے دور دراز کے گرجاؤں کومنتخب کرنا اور معاشرتی ماحول سے دُور زندگی بسرکرنادین کاجُز وسمجھاجانے لگاتھا ۔اس طرح گرجاؤں اوررہبانیت کے قائل لوگوں کی زندگی کے مرکز وں سے بہت سے مفاسد وابستہ ہوگئے تھے جن کے ایک گوشہ کے بارے میں اِنشاء اللہ اس مبحث کی تکمیل کے وقت ہم ایک بحث پیش کریں گے ۔ یہ ٹھیک ہے ک ہے تارک الدنیا عورتوں اورمردوں(راہبین وراہبات )نے بہت سی مثبت خدمات انجام دی ہیں ،مثال کے طورپر ناقابل ِعلاج بیماریوں کی تیمارداری کافرض انجام دینا( جذام اورکوڑھ کے مریض )اور دُور دراز علاقوں میں جا کروحشی اقوام میں تبلیغ کافرض انجام دینا اوراسی طرح کے دیگر مطالعاتی اور تحقیقی پروگراموں کوبرو ئے کارلانا ،لیکن یہ تمام اموران پروگراموں سے متلق مفاسد کے مقابلہ میںبہت کم ہیں اورمفاسد کئی گنازیادہ ہیں ۔ اصولی طورپر انسان ایک ایساموجود ہے جو معاشرتی طورپر زندگی گزار نے کے لیے پیدکیاگیاہے اوراُس کی مادّی ومعنوی ترقی بھی اسی میں مضمر ہے کہ وہ تمدّنی اور اجتماعی زندگی بسر کرے ۔اسی لیے کسی آسمانی مذہب نے انسان کے بارے میں اس اجتماعی زندگی کے خلاف کوئی راہ ِ عمل تجویز نہیں کی بلکہ اس کی بنیادوں کومستحکم کیاہے ۔ خدانے انسان میں اس کی حفاظت نسل ِ کے لیے عزیزہ جنسی پیداکیاہے ،لہٰذا ہروہ چیز جواِس حفاظت نسل کی مطلق طورپر مخفی کرے وہ یقیناباطل ہے ۔اسلامی زُہد ایک مختلف چیزہے ۔اس کے معنی ہیں سادہ طورپرزندگی بسرکرنا ،عیش وعشرت کوترک کرنااورمال ومقام کے چُنگل میں نہ پھنسنااس زہدکا عیسائیت کی رہبانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔رہبانیت کے معنی ہیں معاشرتی اوراجتماعی زندگی سے فرار اختیار کرناجب کہ زُہد کے معنی ہیں اجتماعی زندگی کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا،مشہور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں کہ عثمان بن مظعون ،کابیٹا مرگیاتھاتووہ بہت غمگین ہوئے یہاں تک کہ اُنہوں نے گھرکومسجد بنالیا اورعبادت میں مشغول ِ ہوگئے اورباقی تمام کام چھوڑدیے ،یہ خبررسول ِ خُدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تک پہنچی توآپ نے عثمان کوبلایا اورفرمایا: (یاعثمان ان اللہ تبارک وتعالیٰ لم یکتب علینا الرھبانیة انما رھبا نیة امتی الجھاد فی سبیل اللہ ) اے عثمان خُدا نے میری اُمّت کے لیے رہبانیت کوتجویز نہیں کیا ہے ۔میری اُمّت کی رہبانیّت تو یہ ہے کہ راہ ِ خدا میں جہاد کیاجائے (۲) ۔ اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تو چاہتاہے کہ مادّی زندگی سے رُوگردانی ہوجائے تواس عمل کومنفی شکل میں انجام نہ دے اوراجتماعی گوشہ نشینی کی راہ اختیار نہ کر بلکہ اسے ایک مثبت طریق عمل میں تلاش کر اور وہ مثبت طریقِ عمل راہ ِ خدامیں جہاد ہے ، اس کے بعد پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کے لیے ایک تفصیلی بحث نماز باجماعت کی فضیلت کے مسئلہ میں بیان کرتے ہیںجوگوشہ نشینی اور رہبانیت کی نفی کی تائید میں ہے ۔ایک اورحدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ کے بھائی علی علیہ السلام ابن ِ جعفر علیہ السلام نے آپ سے سوال کیا:الرجل المسلم ھل یصلح ان یسیح فی الارض او یترھب فی بیت لا یخرج منہ ؟قال لا۔ کیامرد مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ سیاحت کرے یارہبانیت اختیار کرے اوراپنے گھر میں بیٹھ رہے اورباہر نکلے توامام نے فرمایا نہیں (۳) ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ وہ سیاحت جس کی اس روایت میں ممانعت ہوئی ہے رہبانیت ہی کی قسم کی ایک چیزہے یعنی وہ ایک طرح کی سیر کرنے والی رہبانیت ہے اوروہ یُوںہے کہ بعض افراد بغیر اس کے کہ ان کاکوئی گھربار یا کاروبار ہوجہاںگردی کی شکل میں سامان ِ سفر کے بغیر ہمیشہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف جاتے تھے اورلوگوں سے مدد حاصل کرکے اور گدائی کرکے زندگی بسر کرتے تھے اوراسے ایک قسم کازُہد اورترک ِ دُنیا خیال کرتے تھے ،لیکن اسلام اس کی ہی نہیں بلکہ مقیم رہبانیت کی بھی نفی کرتاہے ۔جی ہاں تعلیمات اسلامی کی نظرمیں اہم یہ ہے کہ انسان اجتماعی زندگی اختیار کرتے ہوئے زہد اختیار کرے نہ یہ کہ معاشرتی زندگی کوخیر بادکہہ کرزاہد بنے ۔ ۱۔مجمع البحرین میں مادّہ "" رھب"" میں یہ حدیث آ ئی ہے اور نھا یہ ابن ِ اثیر میں بھی بیان ہوئی ہے ۔ ۲۔بحارالانوار ،جلد ٧٠ ،صفحہ ١١٤( باب نہی از رہبانیت حدیث ١) ۔ ۳۔بحارالا نوار ،جلد ٧٠ ،صفحہ ١١٩ حدیث ١٠۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:26-27
٢۔ رہبانیت کاتاریخی سرچشمہ
مسیحیت کی موجود ہ تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ رہبانیت جو موجود ہ شکل میں ہے یہ مسیحیت کے قرونِ اولیٰ میں موجود نہیں تھی وہ اس کی ابتداتیسری صدی میلادی کے بعد امپرا طورروم ریسوس کے ظہوراورمسیح کے پیروکاروں سے اس کی شدید لڑائی کے بعد سے بتاتی ہیں ۔عیسائیوں نے اس امپر اطور(خونخوار )سے شکست کھانے کے بعدپہاڑوں اوربیابانوں میں پناہ لی تھی ( ۱) ۔ اِسلامی روایات میں بھی یہی معانی دقیق شکل میں پیغمبرگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہیں کہ ایک دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ِ مسعود سے فرمایا: تم جانتے ہو کہ رہبانیت کب پیداہوئی ؟انہوں نے عرض کیا کہ خدا اوراس کاپیغمبربہتر جانتے ہیں ،آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جبّار بن کی ایک جماعت کاظہور ہوااور مؤ منین نے تین مرتبہ ان سے جنگ کی اور شکست کھائی لہٰذا بیابانوں میں جاچُھپے اورموعودعیسٰے علیہ السلام (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ظہور کے انتظار میں پہاڑوں کے غاروں میںعبادت میں مشغول ہوگئے ، ان میں سے بعض اپنے دین پرباقی رہے اور بعض نے کفر کی راہ اختیار کی ،اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جانتے ہو میری اُمّت کی رہبانیت کیاہے ؟ عرض کیاخدااور اس کارسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بہتر جانتے ہیں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا: الھجرة والجھاد والصّلوٰة والصوم والحج والعمرة میری اُمّت کی رہبا نیت ، ہجرت ،جہاد ،نماز ، روزہ ،حج اورعمرہ ہے (۲) ۔ مشہور عیسائی مؤرّخ ویل دورانت اپنی مشہور تاریخ کی جلد ١٣ میں ایک تفصیلی بحث راہبوں کے بارے میںدرج کر تاہے اس کانظر یہ ہے کہ راہبوں کے ساتھ راہبوں کامیل جول چوتھی میلادی سے شروع ہوااو ر رہنانیت کامعاملہ روزبروز بڑھتا گیایہاں تک کہ دسویں صدی میلادی میں اپنی انتہا کوپہنچ گیا (۳) ۔ اِس میں شک نہیں کہ اس اجتماعی طورپر ظہور میں آنے والے معاملے کے دُوسرے معاملات کی طرح تاریخی اسباب کے علاوہ نفسیاتی اسباب بھی ہیں ۔ منجملہ ان تمام کے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جاسکتاہے کہ اصولی طورپر متفرق افراد واقوام کاشکستوں اورناکامیوں کے مقابلہ میں جوردِّ عمل ہے وہ مختلف ہوتاہے ۔بعض گوشہ نشینی اختیار کرلیتے ہیں اور باطن کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اوراپنے آپ کواجتماعی مصروفیتوں سے بے تعلق کرلیتے ہیں ، جب کہ دوسراگروہ شکست سے استقامت کادرس لیتاہے اوراپنے اندرزیادہ صلابت اورثابت قدمی پیدا کرلیتاہے ۔پہلا گروہ رہبانیت یااسی قسم کی کسِی صُورت ِ حال کواختیار کرلیتاہے اوردوسراگروہ زیادہ اجتماعی ردّ ِ عمل پیش کرتاہے ۔ ۱۔دائرة المعارف قرن بیتم مادہ "" رھب"" ۲۔تفسیر "" مجمع البیان "" جلد ٩،صفحہ ٢٤٣ (تھوڑے سے خلاصہ کے ساتھ ) تفسیر درالمنثور میں اس کے مقابل ایک اورحدیث نقل ہوئی ہے (جلد ٦ ،صفحہ ١٧٧) ۔ ۳۔ تاریخ "" ویل دورانت "" جلد ١٣ ،صفحہ ٢٤٣۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:26-27
٣۔رہبانیت سے پید ا ہونے والے اجتماعی اوراخلاقی مفاسد
قوانین ِ خلقت سے انحراف ہمیشہ اپنے پیچھے منفی ردِّ عمل رکھتاہے ۔اس وجہ سے کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جس وقت انسان اجتماعی زندگی سے،جواس کی فطرت میں رچی بسی ہے ،دُور ہوجائے توشدید ردّ ِ عمل کاشکار ہوجاتاہے ،اس لیے رہبانیت جوانسان کے اصول ِ فطرت اور طبیعت ومزاج کے برخلاف ہے زیادہ مفاسد کاباعث بنتی ہے ۔ ١۔ رہبانیت انسان کے مدنی الطبع ہونے کی رُوح کے خلاف جنگ کرتی ہے او رانسان معاشروں کوانحطاط اورپس ماندگی کی طرف لے جاتی ہے ۔ ٢۔رہبانیت نہ صرف یہ کہ کمالِ نفس ، تہذیب ِ رُوح اورتہذیب ِ اخلاق کاسبب نہیں ہے بلکہ اخلاقی تنزّل سستی وکاہلی ، بد بینی، غرور وتکبّر وعجب اورنامعقول احساسِ برتری کاباعث بنتی ہے ۔فرض کیجئے کہ انسان حالت ِ گوشہ نشینی میں اخلاقی فضیلت تک پہنچ بھی جائے تویہ کیفیّت فضیلت شمارنہیں ہوگی ،فضیلت تویہ ہے کہ انسان اجتماعی اورمعاشرتی زندگی کے اندررہ کرخُود کو اخلاقی گرواٹوں سے بچاسکے ۔ ٣۔ترک ازدواج جورہبانیت کے اصولوں میں سے ہے نہ صرف یہ کہ کسی کمال کوپیدانہیں کرتابلکہ کئی نفسیاتی اُلجھنوں اوربیماریوں کی تخلیق کاسبب بنتاہے ۔دائرة المعارف قرن بلیتم میں ہم پڑھتے ہیں کہ بعض راہب صنف ِ نازک کی طرف توجہ کواس قدرشیطانی عمل سمجھتے تھے کہ وہ اس بات پرتیار نہیں ہوتے تھے کہ کسی مادّہ جانور کواپنے گھر لے جائیں اس خوف سے کہ کہیں رُوح شیطانی اس کی رُو حانیت پرضرب نہ لگا دے ۔اس کے باوجود تاریخ گرجاؤں کے بارے میں اپنے اندر بہت زیادہ قباحتیں لیے ہوئے ہے یہاں تک کہ بقول ویل دورانت اینوسان کے تیسرے پوپ نے ایک گرجے کی فاحشہ خانے کے عنوان سے تعریف کی ہے ( ۱) ۔ ان میں سے بعض گِرجے شکم ِ پرستوں ،دُنیا طلبوں اوراچھا وقت گزارنے والوں کے اجتماع کامرکز بن چکے تھے ۔یہاں تک کہ بہترین شراب گرجوں ہی میں ملتی تھی ،البتہ تاریخ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی قطعاً نہیں کی لیکن یہ چیز ہرگز اس امر سے آپ کی مخالفت کی بناپر نہیں تھی بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی مختصر سی عمر اور دُنیا کے مختلف علاقوں کی طرف ان کے مسلسل سفرنے ان کواس امر کی مہلت نہ دی ۔ رہبانیت کے بارے میںبحث کرناایک مُستقل کتاب چاہتاہے ۔اگرہم اس کی تفصیلات کی طرف جائیں توبحث ِ تفسیر ی سے خارجہوجائیں گے ۔اس بحث کوحضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث پرختم کرتے ہیں ،آپ علیہ السلام نے آ یہ ذیل کی تفسیر میں فرمایا: قل ھل ننبئکم بالا خسرین اعمالاً الّذین ضل سعیھم فی الحیٰوة الدّنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعاً ۔ کہہ دے کیامیں تمہیں خبردوں کہ لوگوں میں سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وُہ وُہ ہیں جن کی کوشش دُنیاوی زندگی میں گُم ہوگئی لیکن اس کے باوجود وہ گمان کرتے ہیں کہ اچھاکام انجام دے رہے ہیں( ۲) ۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس کی تفسیر میں فرمایا:(ھم الرھبان الذین حبسو اانفسھم فی السواری ) اس کاایک واضح مصداق وہ راہب ہیں جنہوں نے اپنے آپ کوپہاڑوں اوربیابانوں کی اُونچی جگہوں میں قید کررکھاہے ،اوروہ گمان کرتے ہیں کہ اچھا کام انجام دے رہے ہیں (۳) ۔ ۱۔ویل دورانت ،جلد ١٣ صفحہ ٢٤٣۔ ۲۔سورہ کہف (آ یت ١٠٣ و ١٠٤) ۔ ۳۔کنز العمال جلد ٢ حدیث ٤٤٩٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:26-27
٤۔ انجیل یااناجیل
انجیل اصل میں ایک یونانی لفظ ہے ،اس کے معنی ہیں بشارت یاجدید تعلیم اوریہ اس کتاب کانام ہے جوحضرت عیسیٰ علیہ السلام پرنازل ہوئی ، یہ لفظ بارہ مرتبہ قرآن مجید میں اسی معنی میں استعمال ہواہے اورہرجگہ مفرد کی شکل میں ہے لیکن قابل ِتوجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو چیز انجیل کے نام سے مشہورہے وہ بہت سی کتابوں کامجموعہ ہے جنہیں اناجیل سے تعبیر کیاجاتاہے ۔ان میں سے مشہور چار انجیل ہیں ، لوقا مرقس متی یوحنا۔ عیسائیوں کانظر یہ ہے کہ چارانجیلیں اصحابِ مسیح یاان اصحاب کے شاگردوں میں سے چار افراد کے زریعہ تحریر کی گئی ہیں ۔ان کی تالیف کی تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کے ٣٨ سال بعد سے لے کرتقریباًایک صدی بعد تک پہنچتی ہے ۔اس بناپر مسیح علیہ السلام کی اصل کتاب ایک آسمانی کتاب کی حیثیت سے مستقل طورپر پردہ خفا میں چلی گئی ہے ۔صِرف اس کے بعض حصّے جوان چاروں افراد کے حافظے میں رہ گئے تھے ان کے اپنے افکار کی آمیزش کے ساتھ ان چاروں انجیلوں میں تحریر ہوئے ہیں، اِس عنوان پرزیادہ تفصیلی بحث ہم سورہ آل عمران کی آیت ٣میں پیش کرچکے ہیں ( ۱) ۔ ۱۔ تفسیر نمونہ ،جلد ٢ ، صفحہ ٢٤١ سے آگے ۔