أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ
Is it not time yet for those who have faith that their hearts should be humbled for Allah’s remembrance and toward the truth which has come down [to them], and to be not like those who were given the Book before? Time took its toll on them and so their hearts were hardened, and many of them are transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 57:16
[Pooya/Ali Commentary 57:16] According to Ibn Abbas this verse was revealed after 13 years, and according to Ibn Masud after 14 years, from the day the Holy Prophet began his mission. It shows how shallow was the faith of the companions, like the faith of the Jews who became arrogant and corrupt; and their hearts grew hard.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:16-18
غفلت و بے خبری کب تک
اِن تمام سرکوبی کرنے والی تنبیہوں اورگزشتہ آیتوں میں بیدار کرنے والی تخویفوں اورقیامت میں کافروں اورمنافقوں کاجوحال ہوگا اس کوبیان کرنے کے بعد پہلی زیربحث آ یت میں پروردگار ِ عالم نتیجہ پیش کرتے ہوئے فر ماتاہے: کیااس چیز کاوقت نہیں آ یا کہ صاحب ِ ایمان افراد کے دل، ذکرِ خداسے اور جوکچھ حق میں سے نازل ہواہے ،اس سے خوف کھائیں اوران لوگوں کی طرح نہ ہوں جنہیں گزشتہ زمانے میں آسمانی کتاب دی گئی (مثل یہود ونصاریٰ کے ) پھران کے اورپیغمبروں کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا۔ انہوں نے طولانی عمرپائی اورخدا کوفراموش کیا۔ان کے دلوں میں قساوت پیدہوگئی ان میں سے بہت سے فاسق اورگنہگارتھے(أَ لَمْ یَأْنِ لِلَّذینَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ وَ ما نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَ لا یَکُونُوا کَالَّذینَ أُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلُ فَطالَ عَلَیْہِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُون)(۱) ۔ تخشع کامادّہ خشوع ہے ۔اس کے معنی میں وہ حالت ِ تواضع اورجسمانی ورُوحانی جوکسِی عظیم حقیقت یابزرگ شخصیّت کے سامنے کوئی انسان اختیار کرے ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ اگرخداکی یاد انسان کے دل اوراس کی رُوح کی گہرائیوں میں اُتر جائے اوروہ ان آ یات کوسُنے جوپیغمبرخداپر نازل ہوئی ہیں اوران میں غوروفکر کرے توان آیتوں کوخوفِ خُدا کاسبب بننا چاہیئے ۔ لیکن قرآن یہاں مؤ منین کے ایک گروہ کوسخت ملامت کرتاہے کہ وہ ان حقائق کے پیش ِ نظرکیوں خشوع اختیار نہیں کرتے اور بہت سی گزشتہ اُمّتوں کی طرح کیوں غفلت و بے خبری کاشکارہیں ۔وہی غفلت جس کانتیجہ قساوت ِ قلبی ہے اوروہی قساوت جس کاثمر فسق وفجوراورگُناہ ہے ۔ کیاصرف ایمان کے دعویٰ پرقناعت کرنا اور اہم مسائل کے نزدیک سے بہ آسانی گُزر جانااورخُودکوخوشحالی کے سپرد کردینا اورنازو نعمت میں رہنا اورہمیشہ عیش وعشرت میں مگن رہناایمان کے ساتھ مطابقت رکھتاہے ؟ (طال علیھم الامد) ان پرزمانہ طولانی ہوگیا یہ جملہ ہوسکتاہے ان لوگوں اور ان کے پیغمبروں کے درمیان فاصلہ کی طرف اشارہ ہویاان کے طول عمر اورآ رزوؤں کی کثرت کی طرف یاعذاب ِالہٰی کے طویل زمانہ تک نازل ہونے کی طرف یاان سب کی طرف ، اس لیے کہ ممکن ہے ان میں سے ہرچیز غفلت وقساوت ِقلبی کاسبب ہو اوروہ فسق وگناہ کاسبب بنے ۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ( لا تعاجلواالا مرقبل بلوغة فتند موا ولا یطولن علیکم الامد فتقسو قلوبکم) ۔ کسی کام کے سلسلہ میں ، اس کاوقت آ نے سے پہلے ، جلد نہ کرو ورنہ پشیمان ہوگے اورتمہارے اورحق کے درمیان طویل فاصلہ نہیں ہوناچاہیئے کیونکہ اس سے تمہارے دل قساوت کاشکار ہوجائیں گے (۲) ۔ ایک اورحدیث میں حضرت عیسےٰ علیہ السلام کی زبانی یہ مروی ہے کہ : ( لا تکثرو االکلام بغیرذ کراللہ فتقسو قلوبکم فان القلب القاسی بعید من اللہ ولا تنظروافی ذنوب العباد کانکم ارباب، وانظروافی ذنوبکم کانکم عبید،والنّاسرجلان ،مبتلی ، ومعافی ،فارحموااھل البلاء ،واحمدوااللہ علی العافیة ) ۔ خدا کے ذکر سے جوخالی ہوں وہ باتیں زیادہ نہ کرو یہ قساوت ِ قلب کاباعث ہے اور قساوت رکھنے والادل خداسے دُور ہے ۔بندوں کے گناہوں پر اس طرح نظر نہ ڈالو جس طرح مالک اپنے غلاموںپرنظر ڈالتے ہیں بلکہ اپنے گناہوں کی طرف اس طرح دیکھو جیسے کوئی غلام اپنے آقاکے سامنے ہو۔لوگ دوطرح کے ہیں ایک گروہِ مبتلا ہے اوردوسرااہل عافیت کاگروہ ہے ۔مبتلاؤں پررحم کرو اوراہل عافیت کودیکھ کرخدا کی حمد وستائش کرو (۳) ۔ چونکہ ذکرِ خدا سے مُردہ دلوں کازندہ ہونا اورقرآن کے سامنے خضوع وخشوع اختیار کرنے سے حیات ِ معنوی کاپیدا ہونا،بارش کے حیات بخش قطروں کی برکت سے مُردہ زمینوں کے زندہ ہونے کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتاہے اس لیے بعدوالی آ یت میں مزید فرماتاہے:جان لوکہ خدا زمین کومُردہ ہونے کے بعد زندہ کرتاہے (اعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ یُحْیِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہا) ہم اپنی آیتوں کو آفرینش کے میدان میں اوروحی کے میدان میں تمہارے لیے واضح کرتے ہیں اس خیال سے کہ شاید تم عقل سے کام لو( قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْآیاتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُون) ۔ درحقیقت یہ آ یت بھی بارش کے وسیلہ سے زمین ِ مُردہ کے زندہ ہونے کی طرف اورذکر ِ خدا وقرآن کے وسیلہ سے دل ہائے مُردہ کے زندہ ہونے کی طرف اشارہ ہے قرآن وہ ہے جوخداکی طرف سے قلب ِپاک پیغمبرپرنازل ہواہے ۔ذکرِ خداوقرآن دونوں تدبّر وتعقل کے مستحق ہیں اِسی لیے اسلامی روایات میں دونوں کی طرف اشارہ ہواہے ، ایک حدیث امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقوہے ۔آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس آ یت کی تفسیر میں فرمایا: العدل بعد الجور زمین کاعدالت وانصاف کے ذریعے زندہ ہونامُراد ہے بعداس کے کہ وہ ظلم وجور سے مُردہ ہوچکی ہو(۴) ۔ ایک دوسری حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ یُحْیِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہا کی تفسیر میں فرمایا :( یحی اللہ تعالیٰ بالقائم بعد موتھا یعنی بموتھا کفر اھلھا والکافرمیت) ۔ خدازمین کوحضرت مہدی علیہ السلام کے ذریعے زندہ کرے گابعداس کے کہ وہ مُردہ ہوچکی ہوگی اور زمین کے مُردہ ہونے سے مُراد اس کے رہنے والوں کاکفر ہے اور کافر مُردہ ہے (۵) ۔ یہ بات کہے بغیرظاہر ہے کہ یہ تفسیریں زیربحث آ یت کے مصداقوں کابیان ہیں اورہرگزآ یت کے مفہوم کومحدُود نہیں کرتیں ایک اورحدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ : فان اللہ یحی القلوب المیتة بنور الحکمة کمایحی الارض المیتة بوابل المطر خدامُردہ دلوں کونورِ حکمت سے زندہ کرتاہے جیساکہ مُردہ زمینوں کوبابرکت بارشوں سے زندہ کرتاہے (۶) ۔ بعد والی آ یت ایک مرتبہ پھر انفاق ، جوشجرِ ایمان کاایک پھل ہے ،اس کی طرف توجہ دلاتی ہے اوراسے موضوعِ گفتگو بناتی ہے اور وہی تعبیر جوگزشتہ آ یات میں ہم پڑھ چکے ہیں اسے کچھ اضافوں کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔ پروردگار ِ عالم فرماتاہے: وہ مرد اورعورتیں جوراہ ِ خدا میں انفاق کریں اور وہ جواس طرح خداکو قرض ِحسنہ دیں خدااس قرض کوکئی گُنا کرتاہے اور ان مردوں اورعورتوں کے لیے بیش قیمت اَجر ہے )أنَّ الْمُصَّدِّقینَ وَ الْمُصَّدِّقاتِ وَ أَقْرَضُوا اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً یُضاعَفُ لَہُمْ وَ لَہُمْ أَجْر کَریم )(۷) ۔ مسئلہ انفاق کوخدانے قرض ِ حسنہ دینے کے عنوان کے ماتحت کیوپیش کیاہے اور مذکورہ اضافہ اوراجرِ کریم کِس بناپر ہے ، اس سورہ کی آ یت ١١ کے ذیل میں ہم اس پربحث کرچکے ہیں ،بعض مفسّرین نے یہ احتمال تجویز کیاہے کہ اس آ یت میں اوراسی قسم کی دوسری آیتوں میں(۸) ۔ خداکوقرض ِ حسنہ دینے سے مُراد بندوں کوقرض دیناہے ، اس لیے کہ خدا کوقرض لینے کی ضرورت نہیں ہے ،یہ مومن بندے ہی ہیں جنہیں قرض کی ضرورت ہے ۔لیکن آ یات کے سیاق وسباق کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ نظر آتاہے کہ ان آ یات میں قرض ِ حسنہ سے مُراد وہی انفاق فی سبیل اللہ ہے اگرچہ بندگان ِ خدا کوقرض دینابھی افضل وبرتر اعمال میں سے ہے اوریہ ایک طے شدہ حقیقت ہے ۔ فاضل مقدار نے بھی کنز العرفان میں انہی معانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، اگرچہ وہ قرض ِ حسنہ کی تفسیر میں تمام اعمالِ صالح کوپیش کرتے ہیں ( ۹) ۔ وُہ گنہگار افراد جنہوں نے یہ آ یت سُن کرتوبہ کی آ یت (أَ لَمْ یَأْنِ لِلَّذینَ آمَنُوا...) قرآن مجید کی اِن لرزہ براندام کردینے والی آ یتوں میں سے ہے جوانسان کے دل اوراس کی رُوح کومسخّر کرتی ہیں اورغفلت کے پردے چاک کرکے پُکارپُکارکرکہتی ہیں کیااس کاموقع نہیں آ پہنچا کہ ایمان ار دل خدا کے ذکر سے اورجو حق سے نازل ہواہے اس کوسُن کرخدا کاخوف اختیارکریں اوران لوگوں کے مانند نہ ہوں جنہوں نے کتاب ِ آسمانی کی آ یات کا ادراک کیالیکن طول زمان ِ کے زیراثر ان کے دل قساوت کی طرف مائل رہے ۔ اس لیے تاریخ کے طویل دورمیں ہم بہت سے گنہگار افراد کودیکھتے ہیں جواس آیت کوسُن کراس طرح کانپ اُٹھتے ہیں ۔ منجملہ دوسروں کے فضیل بن عیاض ہیں، فضیل جوکُتب ِرجال میں امام جعفرصادق علیہ السلام کے موثق راویوں میں سے ہیں اورمشہور زاہدوں میں شمارہوتے ہیں وہ آخری زندگی میں جوارِ کعبہ میں رہائش رکھتے تھے ۔انہوں نے اسی علاقہ میں بروز عاشورہ دُنیا سے رخت ِ سفرباندھا، وہ ابتدا میں ایک خطرناک رہزن تھے جس سے تمام لوگ ڈرتے تھے ،وہ ایک آبادی کے قریب سے گزررہے تھے کہ ایک لڑکی کواُنہوں نے دیکھا۔ اس سے انہیں محبت ہوگئی ۔اس لڑکی کے عشق نے انہیں اس بات کی انگیخت دی کہ رات کے وقت وہ اس کے گھر کی دیوارپھاند کر اندر داخل ہوں اورہرقیمت پراس کاوصال حاصل کریں ۔ وہ جس وقت دیوار پھاندرہے تھے تواس وقت قریب کے گھروں میں سے ایک گھر میں کوئی شخص تلاوت ِ قرآن مجید میں مشغول تھااور وہ اس آ یت کی تلاوت کررہاتھا(أَ لَمْ یَأْنِ لِلَّذینَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ)یہ آ یت ایک تیرکی طرح فضیل کے دل پرلگی ۔انہوں نے دل میں چُھن محسوس کی ۔ان کے دل میں ایک قسم کا ہیجان برپا ہوگیا۔ اُنہوں نے تھوڑا سااس پرغور وفکر کیاکہ کون ہے جویہ گفتگوکررہاہے اورکسِے یہ پیام دے رہاہے ۔وہ مجھ سے کہہ رہاہے کہ اے فضیل کیاوہ وقت نہیں آپہنچا کہ تُو بیدار ہواوراس راہ ِ خطا سے لوٹ آ ئے ؟اس گناہ سے اپنادامن بچالے اورتوبہ کی راہ اختیارکرے؟اچانک فضیل کی صدابلند ہوئی ۔وہ مسلسل کہے جارہے تھے :(بلی واللہ قداٰن، بلی واللہ قداٰن ) خدا کی قسم اس کاوقت آپہنچاہے ۔خداکی قسم اس کا وقت آپہنچا ہے انہوں نے آخری فیصلہ کیااورپُختہ اِرادہ کرلیا اوروہ بجلی کی سی ایک جست لگاکرحلقۂ اشقیاسے نکل آ ئے اورصف ِ سعدامیں شامل ہوگئے ۔وہ دیوارسے نیچے اُترآ ئے اورایک ایسے خرابے میں داخل ہوئے جہاں مسافروں کی ایک جماعت قیام پذیر تھی ۔وہ مسافر اپنی منزل کی طرف کُوچ کرنے کے سلسلہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کررہے تھے اورآپس میں یہ کہہ رہے تھے ، کہ فضیل اوراس کے ساتھی راستے میں ہیں ۔اگر ہم جائیں گے تووہ ہمارا راستہ رو ک لیں گے اورہمارامال واسباب لُوٹ لیں گے،فضیل لرزگئے اوراپنے آپ کوسخت ملامت کرنیلگے اورکہنے لگے کہ میں کِتنا بُراشخص ہوں ، یہ کون سی شقاوت وبدبختی ہے جس میں میں مبتلا ہوں ۔رات کی تاریکی میںگناہ کے ارادہ سے ہیں باہر نکلا ہوں اورمسلمانوں کاایک گروہ میرے خوف کی وجہ سے اس خرابہ میں پناہ لینے پر مجبور ہواہے ۔انہوں نے آسمان کی طرف مُنہ کیااورتوبہ کرنے والے دل سے ان الفاظ کواپنی زبان پرجاری کیا(اللّٰھم انّی تبت الیک وجعلت توبتی الیک جوار بیتک الحرام )خدا یا میں تیری طرف لوٹ آ یااور اپنی توبہ یہ قرار دی ہے کہ ہمیشہ تیرے گھرکے قُرب میں رہوں گا۔خدا یامیں اپنی بدکار ی پررنجیدہ ہوں اوراپنی دنائت کی وجہ سے آہ وبکا کرتاہوں تومیرے درد کی دوا کر۔اے ہردرد کی دواکرنے والے!ایاے ہرعیب سیپاک ومنزہ !اے وہ جومیری خدمات بجالانے سے بے نیازہے !اے وہ جسے میری خیانت سے کوئی نقصان نہیں!مجھے اپنی رحمت کے صدقے میں بخش دے اورمُجھ ہوا وہوس کے اسیر کواس قید وبند سے رہائی بخش خُدا نے ان کی دُعا قبول کی اوران پرعنایات فرمائیں وہ وہاں سے لوٹ کرمکّہ آئے اوربرسوں تک وہاں مجاور رہے اولیاء اللہ میں سے ہوگئے ۔ گدائے کُوئے تواز ہشت خلد مستغنی است ا سیر عشق تواز ہردو کون آزاداست تیرے کُوچہ کاگداآٹھوں بہشتوں مستغنی ہے اورتیرے عشق کاقیدی دونوں جہاں سے آزاد ہے (۱۰) ۔ بعض مفسّرین نے لکھاہے کہ بصرہ کے مشہور افراد میں سے ایک فرد کہتاہے کہ میں ایک راستے سے گُزررہاتھا ۔اچانک ایک چیخ میں نے سُنی۔ میں اس چیخ مارنے والے کے قریب پہنچاتومیں نے دیکھا کہ ایک شخص زمین پربے ہوش پڑا ہواہے ،میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا کہیہ ایک بیدار دل شخص ہے ۔ قرآن کی ایک آ یت اس سے سُنی ہے اومدہوش ہوگیاہے ۔ میں نے کہاکہ کون سی آ یت تو انہوں نے بتایا:أَ لَمْ یَأْنِ لِلَّذینَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ میری آواز سُن کروہ بے ہوش شخص اچانک ہوش میں آگیا اورہوش میں آکراس نے اس دِل سوز اشعار کوپڑھنا شروع کیا: اماأن للھجران ان یتصرما وللغصن غصن البان ان یتبسّما وللعاشق انصب الذی ذاب وانحنی ال یأن ان یبکی علیہ ویرحما کتبت بماء الشوق بین جوانحی کتاباحکی نقش ِ الوشی المنمنما کیااس کاموقع نہیں آ یا کہ ہجرکا وقت ختم ہو اورمیری اُمید کی بلند شاخ اوراس کی خوشبو مسکرائے اورکیااس کاوقت نہیں آ یا کہ اس بیقرار عاشق کے لیے جوپگھل کرپانی ہوچکاہے اوراس کی کمرجُھک گئی ہے ، لوگ گریہ کریں اوروہ مرکز رحم قرار پائے جی ہاں شوق کے پانی کی روشنائی سے میں نے اپنے صفحہ دل پرلکھ دیاہے اورایک ایسانامہ ٔ شوق تحریر کیا ہے جوبہت ہی خوبصورت عُمدہ اور جاذب ِ توجہ ہے ۔اس کے بعد اس نے کہامشکل ہے مشکل ہے یہ کہہ کروہ دوبارہ بے ہوش ہوکرزمین پرگِر پڑااِس کوہم نے ہلا کردیکھاتووہ اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کرچکاتھا(۱۱) ۔ ۱۔"" یأ ن"" کامادہ "" أنی "" (بروزن امن ) ہے "" انا"" بروزن "" ندا"" کے مادّہ سے اور "" أنائ"" بروزن "" جفائ"" کے مادّہ سے نزدیک ہونے اور کسِی چیز کے حضور کے وقت کے معنوں میں ہے ۔ ۲۔"" بحارالانوار"" جلد ٧٨صفحہ ٨٣حدیث ٨٥۔ ۳۔"" مجمع البیان "" جلد ٩ ،صفحہ ٢٣٨۔ ۴۔روضة الکافی مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٢٤٣۔ ۵۔"" کمال الدین"" مطابق نقل "" نورلثقلین "" جلد ٥ صفحہ ٢٤٢۔ ۶۔بحا ر جلد ٧٨ صفحہ ٣٠٨۔ ۷۔""الْمُصَّدِّقینَ وَ الْمُصَّدِّقاتِ"" ""الْمتُصَّدِّقینَ وَ الْمُصَّدِّقاتِ"" کے معنی میں ہے اور "" أَقْرَضُوا اللَّہ"" کا عطف جوجملہ فعلیہ ہے گزشتہ جملہ اسمیہ پر اسی بناپر ہے کیونکہ یہ جملہ الذین اقر ضوااللہ کے معنی میں ہے ۔ ۸۔ بقرہ ۔ ٢٤٥، تغابن ،١٧ ، مزمل ۔ ٢٠ ۔حدید١١۔ ۹۔کنزالعرفان ،جلد ٢ ،صفحہ ٥٨۔ ۱۰۔اقتباس ازسفینة البحار ،جلد ٢ ،صفحہ ٣٦٩ ۔ اوررُوح البیان ،جلد ٩ ِصفحہ ٣٦٥۔ اورتفسیرقرطبی جلد ٩ صفحہ ٦٤٦١۔ ۱۱۔تفسیررُوح المعانی ،جلد ٢٧،صفحہ ١٥٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:16-18
شانِ نزول
پہلی زیربحث آ یت کے متعلق کئی شان ِ نزول بیان ہوئی ہیں ۔منجملہ ان سب کے ایک یہ ہے کہ آ یت مذکورہ ہجرت کے ایک سال بعد منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ،اس بناپر کہ ایک دن انہوں نے حضرت سلیمان فارسی سے پوچھا جوکچھ تو رات میں ہے ہم سے اس کی بات کرو کیونکہ تورات میں تعجب خیزمسائل ہیں اس طرح وُہ چاہتے تھے کہ قرآن کونظر انداز کردیں ۔ اس بناپر سُورہ یوسف کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں توسلمان نے ان سے کہا کہ یہ قرآن احسن القصص ہے اور بہترین واقعات بیان کرتاہے اورتمہارے لیے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ سُودمند ہے ۔اُنہوں نے ایک مدّت تک اپنے سوال کونہ دُہرا یا پھروہ مسلمان کے پاس آئے اوراپنی خواہش کی تکرار کی تواس وقت یہ آ یت نازل ہوئی (اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدیثِ کِتاباً مُتَشابِہاً مَثانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذینَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ...) خدانے بہترین گفتگو کونازل کیاہے ۔ایسی کتاب جس کی آ یات (لُطف وزیبائی اور معانی کے لحاظ سے ) ایک دوسرے کے مانند ہیں۔اس کی آیات مکرر ہیں ۔(لیکن یہ تکرار شوق انگیز ہے) ۔اِن آیتوں کے سُننے سے وُہ لوگ جوخداسے ڈ رتے ہیںلرزة براندام ہوجاتے ہیں ...(زمر ۔٢٣) ۔ پھر انہوں نے ایک مُدّت تک اپنے سوال کونہ دُہرا یاپھرتیسری مرتبہ سلمان کے پاس آئے اوراپناسوال دہرا یاتو اس وقت زیرِ بحث آ یت نازل ہوئی (اوران کامواخذہ کیاکہ کیا اس بات کاموقع نہیں آ یا کہ تم خداسے ڈرو اوران باتوں سے دستبردار ہوجاؤ ) ۔ ایک اورشان ِنزول اس طرح ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اصحاب مکّہ میں خشک سالی اورسختی میں زندگی بسرکر رہے تھے ۔پھر جس وقت انہوں نے ہجرت کی اوران کونعمتوں کی فراوانی حاصل ہوئی توان کی کیفیّت بدل گئی اورایک جماعت کے دلوں میں سختی آگئی حالانکہ امکان میں بات کا زیادہ تھاکہ ، قرآن ہمراہ ہونے کی وجہ سے ، ان کے ایمان ،خلوص اوریقین میں اضافہ ہو) تویہ والی آ یت نازل ہوئی اوراس نے ان کوتنبیہ کی (١) ۔ اس آ یت کے سلسلہ میں کچھ اور شان ِنزول بھی نظر آتی ہیں لیکن چونکہ وہ آ یت کومکّی بتاتی ہیں لہٰذا قابلِ اعتبار نہیں ہیں کیونکہ مشہور یہ ہے کہ یہ ساری سورت مدینہ میں نازل ہوئی ہے ۔ ١۔ "" مجمع البیان "" جلد ٩صفحہ ٢٣٧۔تفسیر درالمنثور میں بھی کئی شان ِ نزول بیان ہوئی ہیں جومذکورہ دوسری شانِ نزول کے مطابق رکھتی ہیں ۔درمنثور جلد ٦،صفحہ ١٧٥،بیضاوی نے بھی اپنی تفسیر انوار لتنزیل میں یہ شان ِ نزول نقل کی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:16-18
سوره حدید/ آیه 16- 18
١٦۔أَ لَمْ یَأْنِ لِلَّذینَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ وَ ما نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَ لا یَکُونُوا کَالَّذینَ أُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلُ فَطالَ عَلَیْہِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَ کَثیر مِنْہُمْ فاسِقُونَ۔ ١٧۔اعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ یُحْیِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہا قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْآیاتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ۔ ١٨۔ ِنَّ الْمُصَّدِّقینَ وَ الْمُصَّدِّقاتِ وَ أَقْرَضُوا اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً یُضاعَفُ لَہُمْ وَ لَہُمْ أَجْر کَریم۔ ترجمہ ١٦۔کیاوہ وقت نہیں آ یاکہ جب مؤ منین کے دل ذکرِ خدا اورجوحق سے نازل ہواہے اس سے خشوع اختیار کریں اوران لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کوپہلے آسمانی کتاب دی گئی ہے پھر ان پرایک طویل زمانہ گزرگیا اوران کے دلوں میں قساوت پیداہوگئی اوران میں سے بہت سے گنہگار ہیں ۔ ١٧۔جان لو کہ خدا زمین کواس کے مُردہ ہونے کے بعد زندہ کرتاہے ۔ہم نے اپنی آ یات تمہارے لیے بیان کی ہیں ،شاید تم عقل کرو(اورسوچو) ۔ ١٨۔انفاق کرنے والے مرد اورعورتیں اوروہ جوخُداکوقرضِ حسنہ دیں ان کے لیے وہ رقم کئی گناہوجائے گی اوران کے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔