سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
Whatever there is in the heavens and [whatever there is on] the earth glorifies Allah and He is the All-mighty, the All-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 57:1
[Pooya/Ali Commentary 57:1] See commentary of Bani Israil: 44. "The heavens and the earth (the universe) celebrate the glory of Allah" means they obey the laws made by Allah to govern their working. See commentary of Rahman: 5; Jathiya: 3 to 11; Baqarah: 164; Rad: 2; Anbiya: 33; Ya Sin: 38 and Fatihah: 2 (rabbul alamin)-taqdir and hidayat on page 20. Obedience implies submission or surrender. If surrender is made due to helplessness or under compulsion, the surrenderer follows a given pattern, and in the course of following realises the wisdom and the grace ingrained in the pattern and fortifies the authority controlling all activities. If the submission or surrender is voluntary, the surrenderer follows a model pattern, in thought and action, by exercising freedom of choice and discretion after knowing the wisdom and grace ingrained in the suggested pattern, and willingly keeps himself away from the loss and straying if the said pattern is rejected. The willing and voluntary surrender to reap the harvest of order, harmony, justice and welfare is Islam. The mission of guidance is to present and manifest the suggested pattern, in theory and practice, to let every man use his faculties of understanding and discretion, given to him by Allah, to see the light, distinguish between good and evil, right and wrong, truth and falsehood (see commentary of Baqarah: 256), and then make a choice of the right path. With the wisdom and insight he develops by following true guides (the Holy Prophet, his Ahl ul Bayt and the Quran) he is in a position to avoid sealing of his eyes, ears and heart or mind with falsehood and prejudice as stated in the various verses of the book of Allah, which inevitably lead to destruction, deprivation and punishment. This voluntary course of action brings him into the fold of the accepted religion of Allah preached by the Holy Prophet. See Baqarah: 112, Ali Imran: 19; Nisa: 125 and Maidah: 3.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 57:1-10
1. If you are reasonable, you must agree there is an object behind human creation. Further there is a Prophet, a divine messenger Divine taught, inviting you thereto, with a book of guidance to support his claims. This should force you to give him hearing which will bring you out from your present misguidance. 2. To equalize and establish justice, he who visits the eighth Divine Light shall be similarly graded, as those who acted righteously before conquest of Mecca.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:1-3
سوره حدید/ آیه 1- 3
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ١۔سَبَّحَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ ہُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ۔ ٢۔لَہُ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ یُحْیی وَ یُمیتُ وَ ہُوَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر۔ ٣۔ ہُوَ الْأَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْباطِنُ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیم۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جورحمان ورحیم ہے ١۔ جوکچھ آسمانوں اورزمین میں ہے وہ سب خداکی تسبیح کرتے ہیں اوروہ عزیز وحکیم ہے ۔ ٢۔ آسمانوں اور زمین کی مالکیت (وحاکمیّت )اس کے لیے ہے وہ زندہ کرتاہے اور مارتاہے اوروہ ہرچیز پرقادر ہے ۔ ٣۔ اوّل وآخراور ظاہر وباطن وہی ہے اوروہ ہرچیز سے آگاہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:1-3
گہری فکر رکھنے والوں کی علامات
ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ توحید اورصفات ِ باری تعالیٰ کے بیان سے شروع ہواہے ۔ وہ صفتیں جوبیان ہوئی ہیں وہ تعداد میں بیس ہیں، یہ صفات ایسی ہیں کہ ان کی معرفت انسان کی سطح فکر کو بلند کرتی ہے اوروہ اپنے ربّ سے رُوشناس ہوجاتاہے ۔اِن صفتوں میں سے ہر ایک پروردگار ِ عالم کی صفات ِ جلال وکمال کے کسی گوشہ کولیے ہوئے ہے اورصاحبان ِ فکر ونظر اس میں جس قدر غور وفکر کرتے ہیں انہیں نئی حقائق دستیاب ہوتے ہیں جیساکہ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے یہ بات سُننے میں آ ئی ہے کہ جس وقت آپ سے لوگوں نے توحید الہٰی کے بارے میں سوال کیاتوآپ نے فرمایا: ان اللہ عزّوجل علم انہ یکون فی اٰخرالزمان اقوام متعمقون فانزل اللہ تعالیٰ قل ھو اللہ احد والاٰیات من سورة الحدید، الیٰ قولہ علیم بذات الصدور فمن رام وراء ذالک فقد ھلک ، خداوندتعالیٰ جانتا تھاکہ آخری زمانے میں کچھ قو میں ا ئیں گی جومسائل میں غور وفکر سے کام لیں گی لہٰذا خدانے سُورقل ھو اللہ اورسُورہ حدید کی ابتدائی آ یات علیم بذات الصدتک نازل فرمائیں ، پس جوشخص اس سے ہٹ کرکسی اور شے کاطالب ہوگا وہ ہلا ک ہوجائے گا ( ١) ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اِن آیتوں سے طالبان ِحقیقت کوخدا کی ممکن معرفت کے بیشتر حصّہ پرعبور ہوجاتاہے ۔ بہرحال اس سُورہ کی پہلی آ یت خدا کی تسبیح سے شروع ہوتی ہے ارشاد ہوتاہے :جوکچھ آسمان اور زمین میں ہے وہ ہمیشہ خداکی تسبیح کرتاہے اوروہی ایسا قادر ہے جسے کبھی شکست نہیں ہوتی ،اوروہ حکیم علی اطلاقہے (سَبَّحَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ ہُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ ) ۔گزشتہ سورہ تسبیح کے حکم کے ساتھ ختم ہواہے اوریہ سورہ تسبیح الہٰی سے شروع ہورہاہے اورقابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ سورتیں جوخداکی تسبیح سے شروع ہوتی ہیں اور جنہیں مسبّحات کہتے ہیں ان میں تین مواقع ایسے ہیں کہ جہاں تسبیح کا زکر ماضی کے صیغے سبّح سے شروع ہواہے (حدید ،حشر اورصف)اور دو مواقع ایسے ہیں کہ وہاں صیغہ مضارع استعمال ہواہے ،یعنی یسبّح (جمعہ اورتغابن ) ۔ تعبیر کایہ فرق شاید اس نکتہ کی طرف اشارہ ہو کہ گزشتہ اور آئندہ یعنی ہمیشہ اس جہان کے موجودات اس ذاتِ اقدس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ، یہ تسبیح ہوتی رہی تھی ،ہوتی رہی ہے اورہوتی رہے گی ۔تسبیح سے مراد خداکی ذات کوہرعیب ونقص سے پاک قرار دینا ہے ( ٢) ۔ اورتمام موجودات ِعالم کی یہ گواہی کہ خداتمام عیوب ونقائص سے پاک ہے یاتو، اس بناپر ہے کہ ان سب کے نظامِ حیات میں اس طرح کی حکمت ودانائی اورایسے نظم ونسق ، حساب و کتاب اورعجائب وغرائب موجود ہیں جوسب کے زبان ِحال سے ذکرِ پروردگار کرتے ہیں اوراس کی تسبیح وحمد وثناکرتے ہیں اوربا آواز بلند کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار کی قدرت اوراس کااختیار بے حدوبے پایاں ہے اسی لیے اس آ یت کے آخر میں (وَ ہُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ )کاجملہ آیاہے یاپھریہ کہ اس عالم کے تمام ذرّات اِک طرح کے اور اک و شعور سے بہرہ ورہیں اوروہ اپنے اپنے مقام پرزبان ِحال سے خداکی تسبیح کے بارے میں سورۂ ِ اسراکی آ یت ٤٤ کے ذیل میں (جلد ٦ ملاحظہ فرمائیں ۔ اس نکتہ کویاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ لفظ ما جو(سَبَّحَ لِلَّہِ ما فِی السَّماوات) میں استعمال ہواہے وہ وسیع معانی پرمشتمل ہے ،اس سے تمام موجودات ِ عالم مراد ہیں خواہ وہ صاحب ِ عقل ورُوح ہوں یابے رُوح ، یہ سب پر احاطہ رکھتاہے ( ٣) ۔ خداوند ِ عالم کی ددوصفتیں یعنی عزّت اورحکمت کے بعد عالم ِ ہستی میں جواس کی مالکیت ، تدبیر اور تصرف کار فرما ہے اورجو لازماً قدرت ہے اس کوپیش کرتے ہوئے فر ماتاہے: خدا کے لیے آسمانوں اور زمین کی مالکیت وحاکمیت (لَہُ مُلْکُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ) وہی ہے جوزندہ کرتاہے اور مارتاہے۔( یُحْیی وَ یُمیتُ ) ۔اوروہ ہرکام پرقدرت رکھتاہے ۔(وَ ہُوَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر)۔عالم ِ ہستی میں خداکی مالکیت اعتبار ی اورتشریعی نہیں ہے بلکہ مالکیّت ِ حقیقی وتکوینی ہے یعنی وہ ہرچیز پراحاطہ رکھتاہے اور ساراجہان اس کے قبضۂ قدرت میں ہے اوراس کے ارادہ وفرمان کے ماتحت ہے ۔اس لیے اس کے بعد زندہ کرنے، مارنے اورہر چیز پراختیار رکھنے کی گفتگو درمیان میں آئی ہے ۔تواس طرح اَب تک ان دوآیتوں میں خدا کی صفات میں سے چھ صفتیں بیان ہوئی ہیں ، عزّت اورقدرت میں فرق یہ ہے کہ عزّت عام طورپر دفاع کے انتظا مات کودرہم وبرہم کرتی ہے اورقدرت کی توجہ اسباب کوایجاد کرنے کی طرف ہے اس بناپر یہ دومختلف صفتیں شمارہوتی ہیں،اگرچہ بنیادی طورپرقوّت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں ( غورفر مایئے)زندہ کرنے اورمارنے کا مسئلہ بہت سی آیتوں میںبیان ہوا ہے اوردرحقیقت یہ دونوں موضوع ایسے ہیں جن کے پیچیدہ اسرار کسی پرواضح وروشن نہیں ہیں، نہ کوئی شخص مکمل طورپر زندگی کی حقیقت سے باخبرہے اورنہ موت کی حقیقت کوکوئی کماحقّہ جانتاہے ،بلکہ جوکچھ ہم ان دونوں کے بارے میںجانتے ہیں وہ ان کے آثار ہیں، تعجب کی بات یہ ہے کہ تمام چیزوں سے زیادہ نزدیک ہم سے ہماری زندگی ہے ،اس کے باوجود اس کی حقیقت اوراس کے اسرار ہم سے ہی سب سے زیادہ مخفی ہیں ۔ قابلِ توجہ یہ کہ یحی ویمیت کاجملہ مضارع کی شکل میں تمام زمانوں میں موت وحیات کے استمرار کی دلیل ہے ۔ ان دونوں کااطلاق نہ صرف انسانوں کی زندگی وموت تک محدُود ہے بلکہ فرشتے اوردوسرے تمام زندہ موجودات ممبع حیوانات حتّٰی کہ یہ گھاس پھونس پربھی احااطہ رکھتے ہیں اور نہ صرف اس دنیاہی کی زندگی بلکہ عالم ِ برزخ و قیامت کی زندگی کوبھی اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں ۔ جی ہاں حیات وموت اپنی تمام صُورتوں کے اعتبار سے خداکے قبضہ ٔ قدرت میں ہے ۔ اس کے بعد پانچ اورصفتوں کوبیان کرتے ہوئے فر ماتاہے: و ہ اوّل ہے اور وہ آخر ہے ، ظاہر ہے اور باطن ہے اورہرچیز سے آگاہ ہے (ہُوَ الْأَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الْباطِنُ وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیم ) ۔ اوّل وآخر ہونے کی صفت اس کی ازلیت وابدیت کی بہت لطیف تعبیر ہے ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ واجب الوجود اور لامتناہی ہے یعنی اس کی ہستی خود اپنی ذات ہی سے ہے نہ کر خارج سے کہ اس کی کوئی ابتدا ہو اور وہ ختم ہو ،اس بناپر وہ ازل سے ہے اوراَبد تک رہے گا ، وہ عالم ِ ہستی کاسرآغاز ہے اور وہی ہے کہ جوعالم ِ فنا کے بعد بھی ہوگا ،اس بناپر اوّل وآخر کی تعبیر کسی خاص زمانے تک محدُود نہیں ہے اور کسی معیّن مدّت تک اشارہ نہیں کرتی ۔ ظاہروباطن کی توصیف بھی تمام چیزوں کی نسبت اس کے احاطۂ وجود ی کی ایک اور تعبیر ہے ۔ وہ ہرچیز سے زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اس کے آثار نے ہرجگہ کا احاطہ کررکھاہے ۔ اوروہ ہرچیزسے زیادہ مخفی ہے کیونکہ اس کی کنہ ذات کسی پرآشکار نہیں ہے ، بعض مفسرین نے یہاں یہ مفہوم لیاہے (الاوّل بلا ابتداء والاٰخربلا انتھاء والظاھربلا اقتراب والباطن بلا احتجاب) وہ ایسااول ہے کہ جس کاآغاز نہیں ہے اورایساآخر ہے جس کا اختتام نہیں ہے ،باوجود قریب نہ ہونے کے ظاہر ہے اور پوشیدہ ہے باوجود ظاہر ہونے کے کچھ اورمفسرین ایک تعبیر پیش کرتے ہیں ( الاول ببرہ والاٰ خر بعفوہ والظاہر باحسانہ وتوفیقہ اذا اطعتہ والباطن بسترہ اذاعصیتہ )وہ اول ہے نیکیوں میں اور آخر ہے عفود بخشش کی بناء پر ۔اگر تواس کی اطاعت کرے تووہ اپنے احسان وتوفیق کے ساتھ تجھ پرظاہر ہوتاہے اوراگر تواس کی نافرمانی کرے تو ستر وپوشش کے ذ ریعے پنہاں ہوجاتاہے ۔ مختصر یہ کہ وہ ہرچیز پراحاطہ رکھتاہے اورعالم ہستی کاآغاز وانجام اورظاہر وباطن ہے ۔بعض مفسرین نے ظاہر کے معنی یہاں غالب تجویز کیے ہیں (ظہور بمعنی غلبہ ) اورنہج البلاغہ کے بعض خطبوں میں ان معانی کاقرینہ نظر آتاہے جہاں خلقت ِ زمین کے بارے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں : (ھو الظاھرعلیھابسلطانہ وعظمتہ وھو الباطن لھابعلمہ و معرفتہ ) وہ اس پراپنے تسلّط اورعظمت کی بنا پرغلبہ رکھتاہے اوراپنے علم ومعرفت کی وجہ سے اس کے باطن میں راہ رکھتاہے ( ٤) ۔ ١۔اصول کافی مطابق نقل تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٣١۔ ٢۔"" تسبیح "" "" سبح "" (بروزن مسح)کے مادّہ سے ہے جس کے معنی پانی اور ہوا کی تیزحرکت ہے تسبیح بھی پروردگار کی عبادت کی راہ میں حرکت سریع ہے (مفردا تِ راغب ) ۔ ٣۔باوجود یکہ تسبیح حرف جر کے بغیر متعدی ہوتاہے مثلاً کہاجاتاہے "" شجرہ "" لیکن یہاں لام کے ساتھ آ یا ہے اوریہ ممکن ہے تاکید کے لیے ہے ۔ ٤۔نہج البلاغہ خطبہ ،١٨٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:1-3
خدا کی صفات میں اضداد کاجمع ہونا
بہت سی صفات ایسی ہیں جوانسانوں میں اوردوسرے موجودات میں سے کسی ایک وجود میں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں ۔وہ صفات ایک دوسرے سے تضاد رکھتی ہیں ۔مثال کے طورپر آگرمیں ایک گروہ میں اوّلین شخص ہوں تو یقینامیں اخر ی شخص نہیں ہوسکتا۔اگرظاہرہوں توپوشیدہ نہیں ہوسکتا اوراگر پوشیدہ ہوں تو ظا ہرنہیں ہوں گا ۔ یہ سب کچھ اس بناپر ہے کہ ہمارا وجود محدُود ہے اورہر محدود وجود اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا ۔ لیکن جب گفتگو صفات ِ خداتک پہنچتی ہے توپھر اوصاف اپنی شکل بدل لیتے ہیں ۔وہاں ظاہر و باطن آپس میں جمع ہوجاتے ہیں ۔اسی طرح آغاز وانجام کاایک جگہ جمع ہونااس کی ذات کے لامتناہی ہونے کی بناپر کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے ۔وہ احادیث جوخُودپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہیں ان میں اس عنوان پربہت ہی پُر کشش وضاحتیں موجود ہیں اورمذ کورہ موضوعات کی تفسیریںبہت حد تک معاون ہیں ، منجملہ دیگر حدیثوں کے ان میں ایک حدیث ہے جوصحیح مسلم میں درض ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: (اللّٰھم انت الاول فلیس قبلک شی ء وانت الاٰخرفلیس بعدک شی ء وانت الظاھر فلیس فوقک شی ء وانت الباطن فلیس دونک شی ) خداوندا توایسا اوّل ہے جس سے پہلے کوئی چیز نہیں اورایساآخر ہے جس کے بعد کوئی چیز نہیں ۔ اسی طرح تووہ ظاہر ہے اورغائب ہے کہ تجھ سے برتر کوئی وجود نہیں ۔اسی طرح توباطن وپنہاں ہے کہ تجھ سے ماوراء کسی چیز کاتصوّر نہیں ہوسکتا( 1) ۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : لیس لاوّ ولیتہ ابتداء ولا لاز لیتہ انقضاء ھو الا وّل لم یزل والباق بلا اجل ... الظاھرلا یقال مم؟والباطن لایقال فیم؟ اس کے والیت کی ابتدانہیں ہے اوراس کی ازلیت کی کوئی انتہانہیں ہے وہ ایسا پہلاہے جوہمیشہ سے تھااور ایساباقی ہے جس کے ختتام کی کوئی مدّت معیّن نہیں ہے ۔ایساظاہر وآشکار ہے جس کے متعلق کہاجاسکتاہے کہ وہ کِس چیزسے ظاہر ہوا اور ایسانہیں ہے کہ نہیں کہاجاسکتا کس چیز میں پوشیدہ ہے ( 2) ۔ اما م حسن مجتبےٰ علیہ السلام بھی ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں : (الحمد اللہ الذی لم یکن فیہ اول معلوم ولا اٰخرمتناہ ...فلا تدرک العقول واو ھامھا ولا الفکر وخطراتھا ولا الالباب واذھانھاصفتہ فتقول متیٰ؟ولابدع مما؟ولاظاھرعلی ما؟ولاباطن فیما؟) ۔ حمد ہے اس خدا کے لیے جس کی ابتدا معلوم نہیں اور نہ اس کی انتہامحدُود ہے عقل وفہم اورفکر وخرد کبھی اس کی صفات کاادراک نہیں کرسکتے ۔ کبھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ کس وقت سے ہے اور کِس سے اس کی ابتداہوئی اور کِس چیز پرظاہر ہوااور کِس میں پنہاں ہے ( 3) ۔ بہ عقل نازی حکیم تاکے بہ عقل این رہ نمی شود طے بہ کنہ ذاتش خرد برد پے اگررسد خس بہ قعر دریا اے حکیم ودانا فلسفی تواپنی عقل پرکب تک ناز کرے گا تو عقل کے ذ ریعے اس راہ کوطے نہیں کرسکتا ۔اس کی کنہ ذات تک عقل جب پہنچ سکتی ہے جب خس وخاشاک سمندر کی حقیقت کوسمجھ لیں بلکہ کہاجاسکتاہے کہ : خرد بہ ذاتش نمی بردپے وگر رسد خس بہ قعر دریا خس وخاشاک سمندر کی حقیقت کوسمجھ میںلیں تب بھی عقل اس کی کہنہ ذات تک نہیں پہنچ سکتی ۔ 1۔تفسیر قرطبی ،جلد ٩ ،صفحہ ٦٤٠٦۔ 2۔ نہج البلاغہ خطبہ ١٦٣۔ 3۔تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٣٦۔