إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ
Indeed the guilty are steeped in error and madness.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 54:47
[Pooya/Ali Commentary 54:47] (see commentary for verse 46)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:47-55
٢۔ تقدیر الہٰی اور اس کے اِرادہ کی آزادی
ہوسکتاہے کہ زیربحث آ یت اور اس سے مشابہت رکھنے والی آیتوں سے یہ غلط تاثر پیدا ہوجائے کہ اگر ہرچیز کوخدانے اندازے ،مقدار اورحساب کے ساتھ پیدکیا ہے توپھر ہمارے افعال واعمال بھی اس کی مخلوق ہیں ،لہٰذاہم کسی طرح کاکوئی اختیار نہیں رکھتے لیکن جیساکہ ہم نے پہلے بھی کہاہے کہ اگرچہ ہمارے افعال واعمال مشیت وتقدیر الہٰی کے مطابق ہیں اوراس کی قدرت اور ارادہ کے احاطہ سے ہرگز خارج نہیں ہیں لیکن اس نے یہ بات مقدر کردی ہے کہ اپنے اعمال میں ہم مختار ہیں اوراسی بناپر وہ ہمارے بارے میں ذمّہ داری وجوابدہی کاقائل ہے ۔اگرہم اپنے افعا ل میں بالکل بے اختیار ہوتے توتکلیف شرعی اور ذمّہ دارانہ جوابدھی کاکوئی مفہوم ہی باقی نہ رہتا،ہمارا اپنے اعمال کے سلسلہ میں کوئی اختیار نہ رکھنا تقدیر الہٰی کے خلاف ہے ۔ جبریوں کی افراط کے مقابلہ میں ، اس کے برعکس ، ایک گروہ تفریط اورتیز روی کاشکارہے ،وہ قدری یا مفوضہ کہلا تے ہیں وہ بالکل وضاحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے اختیار میں ہیں اورخدا کوہمارے کاموں میں کوئی دخل نہیں ہے ۔اس طرح انہوںنے الہٰی حاکمیت کی حدُود کومحدُود کردیاہے ، خُود کومُستقل سمجھاہے اور شرک کاراستہ اختیار کرلیاہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید وعدل کی دونوں اصلوں کے درمیان جونقط ہے اس کو سمجھنے کے لیے خاصی بصیرت درکا ر ہے ،اگرہم توحید کامفہوم یہ لیں کہ ہرایک شے حتّٰی کہ ہمارے اعمال کاخالق بھی خداہے اورہمیں اپنے اعمال کے سلسلہ میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے تواس طرح ہم عدلِ الہٰی کے منکر ہوجائیں گے ، کیونکہ ایسی صُورت میں خدانے گنہگاروں کو بے اختیار رکھ کرمجبور محض کردیاہے پھراس پر طرّہ یہ کہ انہیں سزابھی دے گا،اس کے برعکس اگرہم عدل کے معنی یہ سمجھیں کہ خداہمارے اعمال میں بالکل مداخلت نہیں کرتا تو ہم نے اس کو اس کی حکومت سے خارج کردیااوراس طرح ہم شرک کے گڑھے میں جاگرے ۔ امربین الامرین ایک درمیانی خط ہے اوروہ صراطِ مستقیم بھی ہے اور عقیدہ صحیح بھی ہمیں چاہیئے کہ یہ عقیدہ رکھیں کہ ہم صاحب ِ اختیاہیں لیکن ہمارایہ صاحبِ اختیار ہونابھی خدا کے ارادے سے ہے ،جس وقت چاہے وہ ہمارے اختیار کوسلب کرسکتاہے ،یہ مکتبِ فکر ِ اہل بیت علیہم السلام ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ زیربحث آ یات کے ذ یل میں متعدد روایات مذکورہ بالادونوںفرقوں کے بارے میں بصورتِ مذمّت کُتب اہل سُنّت وشیعہ میں وارد ہوئی ہیں ،منجملہ اِن حدیتوں کے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فر مایا: اصنفان من امّتی لیس لھم فی الاسلام نصیب السرجئة والقدریة انزلت فیھم اٰیة فی کتاب اللہ ان المجرمین فی ضلال وسعر... میری اُمّت کے دوگروہ ایسے ہیں کہ جن کااسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے جبری اور قدری اوران کے بارے میں (ان المجرمین فی ضلال وسعر) گنہگار اورمُجرم گمراہی ، جنون اور آگ کے شعلوں میں ہیں نازل ہوئی ہے ( ۱) ۔ مرحبئہ کامادّہ ارجائ ہے اس کے معنی تاخیر میں ڈالنے کے ہیں ، یہ ایک اصطلاح ہے جوجبریوں کے بارے میں نازل ہو ئی ہے اس لیے کہ وہ اوامر الہٰی کی پرواہ نہیں کرتے اورمعصیّت کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔وہ اس گمان میں ہیں کہ وہ مجبُور ہیں یایہ کہ وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ گناہانِ کبیرہ کے مرتکب افراد کے انجام کامعاملہ واضح نہیں ہے ،وہ اسے قیامت پرچھوڑ تے ہیں ( ۲) ۔ امام باقر علیہ السلام کی ایک حدیث میں ہمیں ملتاہے کہ ( نزلت ھذہ فی القدر یة ذو قوا مس سقر انّا کل شیء خلقنا بقدر)یہ آیات قدریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ،قیامت میں ان سے کہا جائے گا جہنم کی آگ کامزہ چکھو ہم نے ہرچیز کوحساب اور اندازے کے ساتھ پیداکیا ہے (۳) ۔ (یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اندازہ اورحساب سے مُراد یہ ہے کہ ہرگناہ کے لیے ہم نے معیّن سزا قرار دی ہے ،یہ آ یت کی ایک اورتفسیر ہے یایہ کہ تم جوتقدیر الہٰی کے منکر تھے اورہرچیز پرخود کوقادر سمجھتے تھے اورخُدا کواپنے اعمال کی قلمرد سے خارج سمجھتے تھے تواَب تم خدا کی قُدرت کودیکھو اوراپنے انحراف کے عذاب کامزہ چکھو) ۔ ۱۔ تفسیررُوح المعانی میں یہ حدیث بخاری ،ترمذی ابن ماجہ ، ابن عدی اورابنِ مردویہ سے ابنِ عباس سے نقل ہوئی ہے ج٢٧ ص ٨١ ،اس کی نظیر حدیث قرطبی نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے ،جلد ٩،صفحہ ٦٣١٨۔ ۲۔ "" مجمع البحرین "" مادہ "" رجال"" ۔ ۳۔ نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ١٨٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:47-55
٤۔ سُورہ قمر کا آغاز و اِختتام
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ سُورہ قمر وحشت واضطراب اورقُربِ قیامت کی تنبیہ کے ساتھ شروع ہواہے اووہ سکون وآرامِ مطلق ، کہ جوسچّے مومنین کے لیے ملیک مقتدر کے پاس مقام ِ صدق میں ہے ، اس کوبیان کرتے ہوئے اختتام پذیر ہورہاہے تربیّت کامرحلہ ہی ایسا ہوتاہے کہ جووحشت واضطراب سے شروع ہوتاہے اورمکمّل آرام وسکون پر ختم ہوتاہے ،وہ انکار ِ پریشاں کوجمع کرنے کے بعد سرکش خواہشات کورام کرتاہے ،انسان کے اندرونی خوف واضطراب سے مگراہی وفنا کے عوامل کودُور کرتاہے اوراسے پروردگار ِ عالم کے جوارِ اَبدیت اوراس کی بارگاہِ رحمت وقُرب کے سکون واطمینان سے ہم آغوشی کاشرف بخشتاہے ۔ حقیقی طورپر اس طرف توجہ کرنے سے کہ پروردگار ِ عالم ہستی میں غیر متنازع فیہ مالک اورمختارِ کُل حاکم ہے اوراس پر توجہ کرنے سے کہ وہ صاحب ِ اقتدار ہے اوراس کی قُدرت ہرچیز میں نافع ہے ،انسان کوبے مثل وبے نظیر سکون ،واطمینان قلب میسّر آتاہے ۔ بعض مفسّرین نے نقل کیاہے کہ یہ دومقدّس نام ملیک ومتقدر اجابت دعاکے سلسلہ میں بہت گہری اور شدید تاثیر رکھتے ہیں اس موضوع سے متعلق ایک روای نقل کرتا ہے کہ میں اس گمان کے ساتھ مسجد میں وارد ہوا کہ صبح ہوگئی ہے لیکن درحقیقت ابھی رات کاایک حصّہ باقی تھا ۔ میرے علاوہ مسجد میں کوئی اورنہیں تھا ،میں بالکل تنہاتھا ،اچانک میں نے اپنے پیچھے ایک حرکت محسوس کی جس سے میں ڈر گیا میں نے دیکھاکہ کوئی اجنبی پُکار رہاہے اے وہ شخص کہ جس کادل خوف سے لبریز ہے تو ڈرمت اورکہہ :اللھم انّک ملیک مقتدرماتشاء من امریکون : اس کے بعد تو جوچاہتاہے اس کے لیے دُعا کر وہ شخص کہتاہے کہ میں نے یہ مختصر سی دُعاپڑھی پھرکوئی چیزایسی نہیں تھی جس کاخداسے میں نے سوال کیا ہو اورہو پوری نہ ہوئی ہو (۱) ۔ خداوندا!توملیک ومقتدر ہے ہمیں اس طرح کی توفیق عطافرما کہ ہم ایمان وعمل اورتقوےٰ کے سائے میں مقام ِ صِدق میں تیرے جوارِ رحمت کے زیرسایہ قیام پذیر ہوں ۔ پروردگار ا!ہم ایمان رکھتے ہیں کہ قیامت کادن گنہگاروں کے لیے وحشت ناک تلخ اور ناگوار ہے ،اس دن ہماری اُمید صرف تیرے لُطف وکرم سے وابستہ ہے ۔ بارِ الہٰا!ہمیں بیداررُوح اورہوشیار عقل مرحمت فرماتاکہ ہم گزشتہ لوگوں کے حالات سے درسِ عبرت حاصل کریں اور اس راستے پر نہ چلیں جس پرچل کروہ ہلاک ہوئے ۔ ۱۔رُوح المعانی ،جلد ٢٧ ،صفحہ ٨٣۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:47-55
سوره قمر/ آیه 47- 55
٤٧۔ ِنَّ الْمُجْرِمینَ فی ضَلالٍ وَ سُعُر۔ ٤٨۔یَوْمَ یُسْحَبُونَ فِی النَّارِ عَلی وُجُوہِہِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَر۔ ٤٩۔ِنَّا کُلَّ شَیْء ٍ خَلَقْناہُ بِقَدَر۔ ٥٠۔ وَ ما أَمْرُنا ِلاَّ واحِدَة کَلَمْحٍ بِالْبَصَر۔ ٥١ ۔وَ لَقَدْ أَہْلَکْنا أَشْیاعَکُمْ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ۔ ٥٢۔وَ کُلُّ شَیْء ٍ فَعَلُوہُ فِی الزُّبُر۔ ٥٣وَ کُلُّ صَغیرٍ وَ کَبیرٍ مُسْتَطَر۔ ٥٤۔ِنَّ الْمُتَّقینَ فی جَنَّاتٍ وَ نَہَرٍ۔ ٥٥۔فی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلیکٍ مُقْتَدِرٍ۔ ترجمہ ٤٧۔مُجرمین گُمراہی اور آگ کے شعلوں میں ہیں ۔ ٤٨۔ جس دن وہ جہنم کی آگ میں مُنہ کے بَل گرائے جائیں گے ( توان سے کہا جائے گا) جہنّم کی آگ کامزہ چکھو ۔ ٤٩۔ ہم نے ہرچیز کوایک مقدار میں پیداکیاہے ۔ ٥٠۔ اورہمارا فرمان ایک اَمر سے زیادہ نہیں ہے ، ایک چشم زدن کی مانند ۔ ٥١۔ ہم نے ان لوگوں کوجو تمہارے مانند تھے ہلاک کیا ۔کیاکوئی ہے جونصیحت پکڑے ؟ ٥٢۔ اورجو کام انہوں نے کیاان کے نامہ اعمال میں تحریر ہے ۔ ٥٣۔ اورہرچھوٹا بڑا کام لکھاجاتاہے ۔ ٥٤۔پرہیز گارجنّت کے باغات اورنہروں کے پاس جگہ رکھتے ہیں ۔ ٥٥۔صِدق کی جگہ خداوند مالک ومقتدر کے پاس ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:47-55
٣۔ خُدا کافرمان صِرف ایک ہی کلمہ ہے
ہم جانتے ہیں کہ علّتِ تامہ اور معلول کے درمیان کسِی قسم کازمانی فاصلہ نہیں ہے اس لیے فلاسفہ کی اصطلاح میں علّت سچّے معلول تقدّم کوتقدّمِ رتبی سمجھتے ہیں اور خدا کے ارادے کے بارے میں ایجاد وخلقت کے امر کی نسبت کہ جوعِلّت ِ تامہ کاواضح ترین مصداق ہے ،یا علت ِ تامہ منحصر بہ فرد کامصداق ہے ،یہ معنی زیادہ واضح ہیں ۔اِس لیے اگرآ یہ (و ما امر ناالاواحدة ) ہمارااَمر ایک کلمہ سے زیادہ نہیں ہے کی لفظ کن سے تفسیر کی ہے تویہ تنگی بیان کی وجہ سے ہے کیونکہ لفظ کن بھی مرکب سے کاف ونون کا، اور وہ ایک زمانہ کامحتاج ہے ۔یہاں تک کہ فیکون میں فا جوعام طورپر ایک قسم کے زمانے کوبیان کرتاہے ، وہ بھی بیان کی تنگی کی بناپر ہے ،پھر ( کلمح بالبصر )(۱)(چشم زدن ) کی تشبیہ ،سُورہ نحل کی آ یت ٧٧ میں پروردگار ِ عالم جس وقت امرالہٰی کی قیامت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اوراس کولمح بصر کے ساتھ تشبیہ دیتاہے تومزید کہتاہے کہ (اوھواقرب) چشم زدن سے بھی زیادہ قریب ہے بہرحال زمانہ کے بارے میں یہ گفتگو ہماری روزمرّہ کی تعبیر کے مطابق ہے اور اس وجہ سے ہے کہ قرآن ہم سے ہمار ی زبان میں بات کرتاہے ورنہ خدااور اس کے اوامر زمانہ سے مافوق ہیں ضمنی طورپر واحدة کی تعبیر ہوسکتا ہے کہ اس معنی کی طرف اشارہ ہوکہ ایک ہی فرمان کافی ہے اوراس میں تکرار کی ضرورت نہیں ہے ،یا پھر اس طرف اشارہ ہے کہ اُس کافرمان چھوٹے بڑے ،صغیر وکبیر حتّی کہ تمام پھیلے ہوئے آسمانوں کی خلقت تک میں ذرّہ برابرفرق نہیں کرتا ، بُنیادی طورپر چھوٹا بڑا اور مشکل و آسان ہماری محدُود فکر اورناچیز قوّت کے پیمانوں میں سے ہے ،جہاں قدرتِ لامتناہی کے بارے میں گفتگوہو یہ مفاہیم مکمّل طورپر ختم ہوجاتے ہیں اور سب ایک ہی رنگ اورایک ہی شکل کے نظر آ تے ہیں ، غور کیجئے ۔ یہاں ایک سوال سامنے آتاہے کہ اگراُوپر والے جملے کامفہوم یہ ہے کہ تمام چیزیں آنا ً فاناً وجود میں آ تی ہین تویہ اَمر حوادثِ عالم کے تدریجی ہونے کے مشاہدہ کے ساتھ سازگار نہیں ہے ،اس سوال کاجواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتاہے کہ اس کافرمان ہرجگہ ایک ہی کلمہ ہے جوچشم زدن سے بھی زیادہ سریع ہے ،لیکن فرمان کے مضمون اورموضوع میں فرق ہوتاہے ،اگر جنین (وہ بچّہ جو شکمِ مادر میں ہوتاہے ) کواس نے حکم دیاہے کہ نوماہ کے اندر اپنے دور کی تکمیل کرے توایک لمحہ زیادہ یاکم نہیں ہوگا ،اس کافوراً ہونا اِس طرح ہے کہ ٹھیک اس مُدّت میں اس کی تکمیل ہو اور اگر کُرّئہ زمین کوحکم دیاہے کہ چوبیس گھنٹے کے درمیان ایک مرتبہ اپنے گردگردش کرے توبھی اس کا فرمان تخلّف ناپذیر ہے ،دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے فرمان کے اثرانداز ہونے کے لیے کسِی قسم کے زمانے کی ضرورت نہیں ہے ،یہ فرمان کامضمون وموضوع ہے کہ جوعالم ِ مادّی کے تدریجی ہونے کی وجہ سے اورخاصیّت ِ طبیعت وحرکت کی سُنّت کی طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے لیے زمانہ کوقبول کرتاہے ۔ ۱۔ "" لمح"" (بروزن مسح ) اصل میں بجلی کے کوندنے کے معنی میں ہے ،اس کے علاوہ یہ تیزنگاہ ڈالنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:47-55
١۔ اس جہان کی تمام چزیں حساب و کتاب کی تابع ہیں
(انَّا کُلَّ شَیْء ٍ خَلَقْناہُ بِقَدَر)کاجُملہ اختصار کے باوجود عالمِ تخلیق کی ایک اہم حقیقت کوبے نقاب کرتاہے ،ایسی حقیقت کہ جوپورے عالم امکان پرحکمران ہے اور وہ ساری کائنات میں ہر چیز کی مقدار کانہایت باریک بینی کے ساتھ تعیّن ہے انسان کاعلم جس قدر ترقی کر رہاہے،وہ باریک بینی پرمبنی اس دقیق تعیّنِ مقدار سے زیادہ طورپر باخبر ہوتا جارہاہے ،تعیّن مقدار کے سلسلہ میں یہ وقت نظر نہ صِرف زمینی موجودات میں کارفر ماہے ، بلکہ آسمان کے عظیم کُرّوں میں بھی جاری وساری ہے ،مثال کے طورپر ہم سُنتے ہیں کہ الیکڑانکی دماغوں کی مددسے سینکڑوں مخصوص ماہرین فن نہایت دقیق علمی حساب لگاکر اس اَمر پرقادر ہوئے ہیں کہ کُرّہ قمر کے اس علاقہ میں اُتریں کہ جہاں وہ چاہتے ہیں ،حالانکہ جن چند دِنوں میں خلائی جہاززمین اور چاند کادرمیانی فاصلہ طے کرنے میں مصروف ہوتاہے توتمام صورتِ حال اُلٹ پلٹ ہوجاتی ہے ۔چاند اپنے گردبھی گُھوم رہاہے اور زمین کے گر دبھی گردش کررہاہے اس طرح اس کی جگہ مکمل طورپر بدل جاتی ہے ۔حتّٰی کہ خلائی جہاز کے ایک مصروف لمحے ہی کے دوران زمین اپنے گرد بھی گردش کرتی ہوئی ہوتی ہے اورسُورج کے گرد بھی گردش میں مصروف ہوتی ہے لیکن چونکہ یہ مختلف قسم کی گردشیں ایسے حساب کے مطابق ہیں کہ جوبہت باریک بینی پرمبنی ہے اور جس میں ذرّہ برابر فرق واقع نہیں ہوتا ،اَب فضا نورو اس قابل ہوچکے ہیں کہ نہایت پیچیدہ حساب کے باوجود وہ اپنے پسندیدہ خطّے میں اُتریں علمِ نجوم کے ماہراس قابل ہوگئے ہں کہ دسیوں سال پہلے مکمّل یانامکمل چاند گہن اورسُورج گہن کے متعلق زمین کے مختلف حِصّوں کے حوالہ سے صحیح طورپر پیشین گوئی کرسکیں ۔یہ تمام باتیں اِس وسیع دنیامیں حساب کی انتہائی باریک بینی پر دلالت کرتی ہیں چھوٹے چھوٹے جانداروں میں ،مثال کے طورپر ننھی چیونٹیوں میں ، ان کے مختلف قسم کے جسموں ، رگوں اورپٹھوں کے بارے میں یہ حساب اِنسان کوحیران کردینے کے قابل ہے ،جس وقت ہم زیادہ چھوٹے موجودات مثلاً مائیکروب ، وائرس اورایمیباتک پہنچتے ہیں توحساب کی عمدگی اورصحت اپنے کمال کوپہنچ جاتی ہے ، یہ وہ مقام ہے کہ جہاں مِلی میٹر کاہزارواں حصّہ بلکہ اس سے چھوٹا حصّہ بھی مکمل طورپر حساب کے ماتحت ہے ،اس سے آگے بڑھ کراگرہم ایٹم کے دائرہ میں داخل ہوں تو پھر ان تمام اندازہ لگانے والے پیمانوں کو خیر باد کہناپڑتاہے ۔اب ھساب کے موضو عات اتنے چھوٹے ہوجاتے ہیں کہ کسی انسان کے دائرہ فکر میں ہیں آتے ، یہ تخمینے صِرف مقدار وں کے بارے میں نہیں ہیں ،ترکیبی کیفیّتیں بھی اندازہ لگانے کے ان پیمانوں کی گرفت میں آ جاتی ہیں ، وہ نظام ،کہ جو رُوحِ انسانی کے تقاضوں اورحجانات ومیلانات پر حاکم ہے ،اس کابھی حساب لگایا جاسکتاہے حتّی کہ انسان کی انفرادی اوراجتماعی خواہشات کاوہ سلسلہ کہ جس میں ذراسی بھی برہمی واقع ہوجائے تواس کی انفرادی واجتماعی زندگی درہم وبرہم ہوجائے اس کوناپنے کے بھی دقیق پیمانے موجود ہیں ،عالم طبعی میں ایسی موجودات ہیں کہ جوایک دوسرے کے لیے مصیبت کاباعث بھی ہیں اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں بھی ڈٹی ہوئی ہیں ۔ شکاری پرند ے چھوٹے پرندوں کے گوشت سے غذاحاصل کرتے ہیں اورحد سے تجاوز نہیں کرتے کہ تمام موجود ذخیرہ ٔ غذا کے لیے نقصان وہ ثابت ہوں ۔نتیجة ً ان کی عمر طویل ہوتی ہے ، یہ شکاری پرندے بہت کم انڈ ے دیتے ہیں ۔ان کی بچّوں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے ، یہ صرف خاص حالات میں تنہا زندگی گزارتے ہیں ۔اگراس طویل عمر کے ساتھ ان کے بچّے بھی زیادہ ہوتے تو دُنیا سے تمام چھوٹے پرندوں کی نسلیں ختم ہوکررہ جاتیں ،عالم حیوانات ونباتات میں اس موضوع کادامن بہت وسیع ہے جس کامطالعہ انسان کو (ِنَّا کُلَّ شَیْء ٍ خَلَقْناہُ بِقَدَر)کی گہرائی اوراس کے عمق سے زیادہ رُوشناس کراتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:47-55
مقامِ صِدق میں خُدا وند مقتدر کے پاس
اِن آیتوں میں قیامت کے دن مُشرکی اورمُجرموں کی جوکیفیّت ہوگی اور جس کی بحث گزشتہ آیتوں میں تھی اسی کے بیان کو جاری رکھاگیاہے ۔گزشتہ آ یتوں میں سے آخری آ یت نے اس حقیقت کوپیش کیا تھاکہ قیامت کادن ان کی وعدہ گاہ ہے اوروہ دن مصیبت کادن ہے اورتلخی لیے ہوئے ہے ،ایسی تلخی کہ جو دُنیاکی مصیبتوں اور شکستوں سے زیادہ تلخ ہوگی ، زیربحث آیات میں سے پہلی آ یت میں اس امر کی عِلّت کوپیش کرتے ہوئے خدا فرماتاہے : مُجر مین گمراہی اورآگ کے شعلوں میں ہیں (ِنَّ الْمُجْرِمینَ فی ضَلالٍ وَ سُعُر)(١) ۔ قیامت کے دن وہ جہنم کی آگ میں اپنے منہ کے بل کھینچے جائیں گے اوران سے کہاجائے گا کہ دوزخ کی آگ کامزہ چکھو ۔وہ دوزخ جس کا تم ہمیشہ انکارکرتے تھے اوراسے محض جُھوٹ تصوّر کرتے تھے (یَوْمَ یُسْحَبُونَ فِی النَّارِ عَلی وُجُوہِہِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ) ۔ سقر بروزن سفر جسم کے رنگ کے متغیّر ہونے اور دھوپ کی شِدّت سے یاایسی ہی کسی دوسری چیز سے تکلیف اُٹھا نے کے معنی میں ہے ۔چونکہ جہنم تکلیف وآزار کا ایک ایسا شدید تنوع رکھتاہے ،اس لیے اس کانام سقر ہے ۔اور مس سے مُراد چھونا ہے ،اسی بنا پردوزخیوں سے کہاجائے گااس جلانے والی آنچ کامزہ چکھو جوجہنم کی آگ کے چھُونے سے حاصل ہوتی ہے ۔اِسے چھکو اور یہ نہ کہو کہ یہ چیزیں جُھوٹ ،خرافات اور فسانے ہیں ۔ بعض مفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ سقر تمام دوزخ کانام نہیں ہے بلکہ دوزخ کاایک خاص حِصّہ ہے جس میں حد سے زیادہ تپش ہے چنانچہ ایک روایت میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے نقل ہواہے کہ سقر ایک درّہ ہے اور یہ متکبّر لوگوں کے لیے ہے یہ درّہ جس وقت سانس لیتاہے توجہنم کوجلادیتا ہے (٢) ۔ چونکہ یہ ہوسکتاتھا کہ یہ خیال ہو کہ یہ عذابِ اِن گناہوں سے متناسب نہیں ہے ، اس لیے بعد والی آ یت میں مزید فرماتاہے کہ ہم نے ہرچیز کومقدار اوراندازے کے ساتھ پیداکیا ہے (ِنَّا کُلَّ شَیْء ٍ خَلَقْناہُ بِقَدَر)جی ہاں ! ان کے اس دنیا کے دردناک عذاب کابھی حساب کتاب ہے اوران کو آخرت میں پہنچنے والی سزا ئیں ہی نہیں بلکہ ہر چیز کوخدا نے حساب وکتاب کے ماتحت پیداکیا ہے ،زمین وآسمان ،زندہ وبے جان وجود ۔اِنسانی جسم کے اعضا اور زندگی کے وسائل ہرایک چیزحساب کتاب کے ماتحت اورضروری مقدار کے مطابق ہے ۔اس عالم کی کوئی چیزحساب کتاب کے بغیر نہیں ہے اس لیے کہ خالقِ حکیم کی پیدا کردہ ہے ۔ اِس کے بعد فرماتاہے : نہ صرف ہمارے اعمال حکمت کی رُ وسے ہیں بلکہ انتہائی قدرت وقاطعیت کے ساتھ بھی ہیں کیونکہ ہمارا فر مان ایک اَمر سے زیادہ نہیں ہے اور وہ اتنی تیزی کے ساتھ تکمیل پاتاہے جیسے پلک کاایک مرتبہ جھپکنا (وَ ما أَمْرُنا ِلاَّ واحِدَة کَلَمْحٍ بِالْبَصَر) ۔ جی ہاں! جس چیزکے بارے میں ہم ارادہ کریں توہم کہتے ہیں کن ہوجا تو وہ بلاتا خیر ہو جاتی ہے ۔(حتّی کہ کلمہ کن کی اِصطلاح بھی محض افہام کے لیے ہے ورنہ خدا کااِرادہ ،مشیّت اوراس کی مُراد کاتحقق یہ سب ایک ہی چیزہیں ) اِ س بناپر جس دن ہم قیامت کے برپا ہونے کافرمان صادر کریں گے تو چشم زدن میں ہرچیز قیامت کی گرفت میں ہوگی اورجسموں کے ڈھانچوں میں نئی زندگی پھونک دی جائے گی ،اس طرح جس روز ہم ارادہ کریں کہ مجرموں کوآسمانی بجلی کی چیخ یازمین کے زلزلوں ،طوفانوں اورتیز آندھیوں سے معذب کریں یاان پر عذاب نازل کرنے کااِرادہ رکھیں گے تواس کے لیے ایک حکم سے زیادہ کسی چیزکی ضرورت نہیں ہے ،یہ سب چیزیں گنہگاروں کے لیے تنبیہ کی حیثیت رکھتی ہیں تاکہ وہ جان لیں کہ خداحکیم ہونے کے ساتھ ساتھ قطعی اور دوٹوک فیصلے کرتاہے اوروہ قاطعیت کے ساتھ حکیم بھی ہے ،لہٰذا اس کے فر مان کی مخالفت سے پرہیزکریں ۔بعدوالی آ یت میں دوبار ہ کفّار ومجرمین کومخاطب کرتے ہوئے اور گزشتہ اقوام کے حالات کی طرف ان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے پروردگار عالم فرماتاہے : ہم نے گزشتہ زمانے میں کچھ افراد کو،جو تمہارے ہی جیسے تھے ،ہلاک کیا کیاکوئی ہے کہ جونصیحت حاصل کرے ؟ (وَ لَقَدْ أَہْلَکْنا أَشْیاعَکُمْ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِر) ۔ اشیاع جمع ہے شیعہ کی ،ایسے لوگوں کے معنوں میں کہ جوکسی فرد کی طرف سے چہار جانب جائیں اوراس فرد سے متعلق امور کی نشرو اشاعت کریں اوراس کوتقویت پہنچائیں ۔اگرشیعہ پیرو کارکے معنوں میں استعمال ہوتاہے تواس کی بھی یہی وجہ ہے ۔یقینا گزشتہ اقوام ، مشرکینِ مکّہ کی پیروکار نہیں تھیں بلکہ بالکل اس کے برعکس تھالیکن چونکہ کسی فرد کے طرفدار اس کے شیعہ ہوتے ہیں ،اس لیے یہ لفظ مانند اورمثل کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔ یہ چیز بھی پیش نظر کھنی چاہیئے کہ کفّارِ مکّہ کا یہ گروہ گزشتہ لوگوں کے طرز عمل سے بھی قوّت حاصل کرتاتھا اوران کے نظر یات سے استفادہ کرتاتھا ،اِسی بناپر گزشتہ اقوام پر اشیاع کااطلاق ہواہے ۔ بہرحال یہ آ یت دوبارہ اس حقیقت کی تاکید کرتی ہے کہ جب تمہارے عمال، رفتار وگفتار اور عقائد ان کے عقائد وغیرہ مشترک ہوں توپھر کوئی وجہ نہیں کہ تمہارا انجام ان کے انجام سے مختلف ہو ،بیدار ہوجاؤ اورنصیحت حاصل کرو، اس کے بعد بُنیاد ی حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ گزشتہ اقوام کی موت کے ساتھ ان کے اعمال کا لعدم نہیں ہوگئے بلکہ جوکام انہو ںنے انجام دیے ہین وہ ان کے نامہ اعمال میں مندرج ہیں(وَ کُلُّ شَیْء ٍ فَعَلُوہُ فِی الزُّبُر ) ۔ اسی طرح تمہارے اعمال بھی مندرج ومنضبط ہیں اور روزحساب کے لیے محفوظ ہیں زبر جمع ہے زبور کی جوکتاب کے معنی میں ہے ۔یہاں انسانوں کے نامۂ اعمال کے معنوں میں ہے ،بعض نے اس احتمال کی تائید بھی کی ہے کہ اس سے مُراد لوح محفوظ ہے لیکن یہ معنی جمع کے معنی کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے ۔اس کے بعد تاکید مزید کے لیے خدافرماتاہے : اورہرچھوٹا بڑا کام بلااستثنالکھاجائے گا (وَ کُلُّ صَغیرٍ وَ کَبیرٍ مُسْتَطَر) ۔ اس بناپر اس روز جواعمال کاحساب وکتاب ہوگا، وہ ایک جامع اورمکمّل حساب ہوگا چنانچہ جس وقت مجرموں کانامۂ اعمال ان کے ہاتھ میں دیاجائے تو وہ فریادکریں گے کہ وائے ہو ہم پر یہ کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسانہیں جواس میں درج نہ ہو (وَ یَقُولُونَ یا وَیْلَتَنا ما لِہذَا الْکِتابِ لا یُغادِرُ صَغیرَةً وَ لا کَبیرَةً ِلاَّ أَحْصاہا)(سورکہف ۔آ یت ٤٩) ۔ مستطر کامادّہ سطرہے اس کے معنی صف کے ہیں ۔وہ خواہ انسان ہوں کہ ایک صف میں کھڑے ہوں یا درخت جوایک صف میں ایسّادہ ہوں یاالفاظ وہں کہ جو صفحہ کاغذ پرایک ہی صف میں تحریر ہوں ۔چونکہ یہ زیادہ ترآخری معنوں میں اِستعمال ہوتاہے لہٰذا یہی مفہوم عام طورپر اس سے ذہن میں آ تا بہرحال یہ ایک دوسرے تنبیہ ہے گنہگار ،غافل اور بے خبرلوگوں کے لیے ۔ قرآن مجید کی سُنّت یہ ہے کہ اس کے بیانات میں اچھے بُرے اورنیک وبد افراد ایک دوسرے کے موازنہ اورتقابل سے متعارف ہوتے ہیں اورومازنہ وتقابل کی صُورت میں دونوں کافر ق بھی واضح طورپر محسوس ہوتاہے ،یہاں بھی کافر مُجرموں کے احوال کے تذکرے کے بعد پرہیزگاورں کے مسّرت بخش اوررُوح پرور احوال کی طرف ایک مختصر سااشارہ کرتے ہوئے پروردگارِ عالم فرماتاہے :پرہیزگار جنّت کے باغوں میں نہروں کے قریب وسیع فضا اورخدا کے واضح فیض ( کے مقام پر ) جگہ رکھتے ہیں (ِنَّ الْمُتَّقینَ فی جَنَّاتٍ وَ نَہَرٍ ) ۔ نھر بروزن قمر اور نھر بروزن قھر دونوں بہت سے پانی کے بہنے کے معنی میں ہے ،اوراسی مناسبت سے کبھی وسیع فجا، فیض ِ عظیم یاپھیلی ہوئی روشنی کے لیے نھر بروزن قمر کہاجاتاہے ۔ یہ لفظ زیربحث آ یت مٰں (آئندہ آنے والی حدیث سے قطع نظر ) ممکن ہے اسی اصلی معنی کے مطابق پانی کی نہر یادریاہو ۔اس کا مفرد ہوناکوئی مشکل پیدا نہیں کرتا کیونکہ وہ جنس جمع کے معنی رکھتاہے ۔اسی لیے جنّات جو جنت کی جمع ہے ،اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ،یہ بھی ممکن ہے کہ فیضِ الہٰی کی وسعت جنّت کی وسیع روشنی اوراس کی وسیع فضا کی طرف اشارہ ہویادونوں معانی کی طرف اشارہ ہولیکن اس حدیث میں جودُرِ منثور میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے ہم دیکھتے ہیں کہ (النھر الفضاء واسعة لیس بنھر جار) نھر کے معنی وسیع فضا کے ہیں، جاری نہرکے نہیں (٣) ۔ زیربحث آیات کی آخری آ یت نے کہ جو سُورئہ قمر کی بھی آخری آ یت ہے متقین کی رہائش گاہ کی مزید وضاحت کی ہے پروردگار ِ عالم فرماتاہے : وہ جائے صِدق وحق اور راستی میں مالک وقادر خداکے ہاں قرار ومقام رکھتے ہیں (فی مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلیکٍ مُقْتَدِر) ۔ اس آ یت میں پرہیزگار وں کی رہائش گاہ کی کیسی پُر کشش اورجاذبِ توجہ توصیف ہے ،اس میں دوخصوصیتیں ہیں جن میں تمام امتیازات جمع ہیں ۔ پہلی تویہ کہ کہ وہ صدق کی جگہ ہے ۔ وہاں کسی قسم کی بے ہودیگ یاباطل کاکوئی گزر نہیں ہے وہ سراحق ہے بہشت کے بارے میں خداکے سارے وعدے حقیقت کارُوپ دھارلیں گے اور ان کی سچائی بالکل واضح اور آشکار ہوگی ۔دوسر ی خصوصیّت یہ کہ وہ خداکے قُرب وجوار میں ہے ۔وہی چیزکہ جو عند سے ظاہر ہوئی ہے ۔ یہ قت معنوی کی انتہا کی طرف اشارہ ہے ۔ قربِ جسمانی کی طرف نہیں ،اورپھر خدا کی نسبت کہ جومالک بھی ہے اور قادر بھی ،ہرقسم کی نعمت وموھبت اس کے قبضہ میں ہے اور اس کی حکومت وملوکیت کے زیرفرمان ہے ،اس بناپر وہ ان مہمانانِ گرامی پذیرائی میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔ وہی بہتر جانتاہے کہ اس نے ان کے لیے کیاکیا نعمتیں فراہم کی ہیں ۔ قابلِ توجہ بات ہے کہ ان دوآیتوں میں کہ جہاں جنّت کی نعمتوں اورجزاؤں کے بارے میں گفتگو ہے اِن میں پہلے تزکرہ وسیع باغات اورجاری نہروں کاہے ۔ یہ مادّی نعمتیں ہیں ،پھران کے عظیم معنوی اجر کا ذکر ہے یعنی خُدا ئے مالک وقادر کی بارگاہ میں حضوری کاتذکرہ ۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اِنسان کوحقائق کی طرف رفتہ رفتہ مائل کرے ،اس کی رُوح کو پرداز کرائے اورعشق ونشاط میں مستغرکرے مَلیکٍ مُقْتَدِراور مقعد صدق ایسے الفاظ ہیں کہ جواللہ کے حضور اوراس کے قُرب معنوی کے دوام و بقاء پر دلالت کرتے ہیں ۔ ١۔"" سعر"" جیساکہ ہم نے اس سورہ کی آ یت ٢٤ میں اشارہ کیاہے دومعنی رکھتاہے پہلا یہ کہ یہ جمع ہے "" سعید"" کی جس کے معنی جلتی ہوئی آگ کے ہیں ۔دوسرا یہ کہ یہ جنون ہیجان اور اشتعال کے معنوں میں ہے کہ جوفکر ی اعتدال کے فقدان کے وقت ہوتاہے ،زیربحث آ یت میں ممکن ہے پہلے معنی میں ہو یاپھر دوسر ے معنوں میں ۔اگر دوسرے معنوں میں ہوتو آ یت کامفہوم یہ ہوگا "" وہ کہتے تھے کہ اگر ہم اپنے جیسے اِنسان کی پیروی کریں توہم گمراہ ہیں اور دیوانے ہیں"" قرآن کہتاہے کہ قیامت کے دن سمجھ لیں گے کہ وہ انکار اورجنون کی وجہ سے گمراہی میں تھے ۔ ٢۔ تفسیرصافی درذیل آیات زیربحث ۔ ٣۔ تفسیر"" درالمنثور "" جلد ٦ ،صفحہ ١٣٩۔