اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
The Hour has drawn near and the moon is split.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 54:1
[Pooya/Ali Commentary 54:1] The reference is a famous miracle of the Holy Prophet, recorded in several authentic traditions of the companions, particularly of the Ahl ul Bayt whose evidence is always true, performed at the insistent demand of the pagans and the Jews. The Jews who saw this miracle became Muslims but Abu Jahl said: "This is magic continuous". It is written in the Book of Joshua 10: 13: "So the sun stood still and the moon halted until a nation had taken vengeance on its enemies." So the Jews and the Christians cannot deny the possibility of "divine adjustment" in the solar system. Some commentators think that the past tense is used here for the future-the moon will be rent asunder at the approach of the resurrection. Firstly authentic traditions relate the cleaving asunder of the moon, secondly the observation "this is magic continuous" in verse 2 leaves no room for the speculation of the enemies of the Holy Prophet. Even the Qadiani commentators, who habitually deny miracles, accept the incident to have taken place. Aqa Mahdi Puya says: Those who deny the miracle performed by the Holy Prophet will be punished as the people of Nuh were punished. Refer to verses 9 to 15.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 54:1-22
1. The temple of Mecca was considered the object of great adoration by pagans. It was their pantheon, holding 360 gods. Sabians sent the offerings to fire-worshippers. Jews showed their respect. It had become a migration of the Prophet, as barbarous invasion of Goths had broken the Roman empire. Many of the great centres of learning, namely, Rome, Milan, Alexandria were partially destroyed and thus culture had declined during the dark ages (450 – 1000 A.D.) Besides idolatry, several religions were found in Arabia. Jews driven from Assyria, Romans, Greeks, welcomed the children of Ismail, found deep respect for God of Abraham, principally at Mecca and Yathrab. By means of souvenirs skilfully evoked, Judaism had made converts and had principally spread throughout Hijaz, in the neighbourhood of Khaibar and Yathrab. Powerful tribes of Khizran and Najhrites had been naturalized. Magianism was practiced by Himrites and on the coast of Persian Gulf, some disciples of Brahmanism in the midst of inhabitants of Oman. 2. Although some are doubtful in the miracle of splitting asunder of the moon, as it was not largely witnessed: 1. Owing to geographical difference of longitude. 2. People may be sleeping. 3. Not being broadcast. 4. People were in the habit of looking at heaven at all times whether cloudy or otherwise. 5. It was a question of little time. 6. Besides, such miracles have occurred in the past, vide Joshua, 14:12 – 13. Then spoke... in the sight of Israel, sun, stand, there still upon Gibeon, and then the moon in the valley of Ajalax, and the sun stood still, and the moon stayed until the people had avenged themselves upon their enemies. Is not this written in the book of Joshua?
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:1-3
٢۔"" شق القمر"" موجودہ زمانے کے علوم کے لحاظ سے :
وہ اہم سوالات جواس بحث میں سامنے آتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اجرامِ سماوی میں شگاف کاپیدا ہونااصولی طور پر ممکن ہے یانہیں اورعلم کی تائید کرتاہے یاتردید ماہرین فلکیات کے انکشافات کے مطالعہ سے اس سوال کاجواب مشکل نہیں ہے ،ان کے بیانات سے ظاہر ہوتاہے کہ اس قسم کے واقعات نہ صرف یہ کہ محال ہیں بلکہ ایسے امور کا مشاہدہ ہواہے کہ اگرچہ ہرمشاہد ہ میں مخصوص عوامل کافر ماتھے ،نظام شمسی کے متعلقات اوردُوسرے آسمانی کُرّہ کااس طرح شق ہونا اورپھر مل جاناایک ممکن امر ہے ،نمونے کے طورپر چند باتیں درج ذیل ہیں ۔ (الف)نظام شمسی کی تخلیق:اِس نظر یے کے تمام ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ نظام شمسی سے تعلق رکھنے والے تمام کُرّے اِبتداء میںسُورج کے اجزاتھے کسی وقت اس سے الگ ہوئے اور اپنے اپنے مدار میں گردش کرنے لگے ،یہ بات ضرور ہے کہ الگ ہونے کے اس عمل کے اسباب وعوامل میں اختلاف ہے لاپلاسکانظر یہ یہ ہے کہ کسی چیزکے الگ ہونے کے اس عمل کا سبب مرکز سے گریز کی وُہ قوّت ہے جوسُورج کے منطقۂ استوائی میں پائی جاتی ہے ،وہ اس طرح کہ جس وقت سُورج ایک جلانے والی گیس کے ٹکڑے کی شکل میں تھا(اور اب بھی ایسا ہی ہے )اوراپنے گرد گردش کرتاتھا تواس گردش کی سُرعت منطقۂ استوائی میں اس بات کاسبب بنی کہ سُورج کے کچھ ٹکڑے اس سے الگ ہوجائیں اورفضا میں بکھر جائیں اور مرکزاصلی یعنی خُود سُورج کے گرد گردش کرنے لگیں ،لیکن لاپلاس کے بعد بعض دوسرے ، ماہرین کی تحقیقات ایک دوسرے مفروضہ پرمنتہی ہوئیں ،وہ اس علیحدگی کاسبب اس شدید مدّت وجزر کوقرار دیتے ہیں ،جوسُورج کی سطح پرسے ایک بہت بڑے ستارے کے عبورکرنے کی وجہ سے ہوا، اس مفروضہ سے اتفاق کرنے والے اس وقت کی سُورج کی حرکت وصفی کوسُورج کے ٹکڑوں کے علیحدہ ہونے کی توجیہ کوکافی نہیں سمجھتے ،وہ اس مفروضہ کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذ کورہ مدّوجزر نے اس سورج کی سطح پر بہت بڑی بڑی لہریں اس طرح پیدا کیں جیسے پتھر کاکوئی بہت بڑا ٹکڑا سمند ر میں گرے اوراس سے لہریں پیداہوں اس طرح سُورج کے ٹکڑے یکے بعد دیگرے باہر نکل کرگرپڑے اورخُود سُورج کے گردگروش کرنے لگے ، بہرحال اس علیحدگی کا عامل کچھ بھی ہو اس پر سب متفق ہیں کہ نظام شمسی کی تخلیق انشقاق کے نیتجے میں وقوع پذیر ہوئی ۔ (ب)بڑے شہاب:یہ بڑے بڑے آسمانی پتھر ہیں کہ جو نظامِ شمسی کے گرد گردش کررہے ہیں اورجو کبھی چھوٹے کرّات اور سیّاروںسے مشابہت رکھنے والے قرار دیے جاتے ہیں ۔بڑیاس وجہ سے کہ ان کاقطر ٢٥ کلومیٹر تک ہوتاہے لیکن وہ عموماً اس سے چھوٹے ہوتے ہیں ،ماہرین کانظر یہ یہ ہے کہ استروئیدھا ایک عظیم سیّار ے کے بقیہ جات ہیں کہ جو مشتری اورمریخ کے درمیان مدار میں حرکت کررہاتھا اوراس کے بعد نامعلوم عوامل کی بناء پر وہ پھٹ کرٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، اَب تک پانچ ہزار سے زیادہ اس طرح کے ٹکڑے شہاب معلوم کیے جاچکے ہیں اوران میں سے جوبڑے ہیں ان کے نام بھی رکھے جاچکے ہیں بلکہ ان کا حجم ،مقدار اور سُورج کے گرد ان کی گردش کاحساب بھی لگا یا جاچکاہے ،بعض ماہرین فضاان استر وئیدوں کی خاص اہمیّت کے قائل ہیں ،ان کانظریہ ہے کہ فضا کے دُور دراز حِصّوں کی جانب سفر کرنے کے لیے اوّلین قدم کے عنوان سے ان سے استفادہ کیاجاسکتاہے ۔ آسمانی کُروں کے انشقاق کاایک دُوسرانمُونہ )ج) شہابِ ثاقب جھو ٹے جھوٹے آسمانی پتھرہیں جوکبھی کبھی چھوٹی اُنگلی کے برابر بھی ہوتے ہیں ،بہرحال وہ سُورج کے گرد ایک خاص مدار میں بڑی تیزی کے ساتھ گردش کررہے ہیں اور جب کبھی ان کی سمتِ سفرکُرّئہ زمین کے مدار کوکاٹ کرگزرتی ہے تووُہ زمین کارُخ اختیار کرتے ہیں ،یہ چھوٹے پتھر، اس ہواسے شِدّت کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے ، کہ جوزمین کااحاطہ کیے ہوئے ہے اورتھرتھر اہٹ پیداکرنے والی اس تیزی کی وجہ سے کہ جوان کے اندر ہے زیادہ گرم ہو کہ اس طرح بھڑک اٹھتے ہیں کہ ان میں سے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اورہم انہیں ایک پُر نُور ،خوبصورت لکیر کی شکل میں فضائے آسمانی میں دیکھتے ہیں اورانہیں شہاب کے تیر کے نام سے موسُوم کرتے ہیں ،اور کبھی یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک دُور دراز کاستارہ ہے جوگِر رہاہے حالانکہ وہ چھوٹا شہاب ہے جوبہت ہی قریبی فاصلہ پربھڑک کرخاک ہوجاتاہے ۔ شہابوں کی گردش کامدار زمین کے مدار سے دو نقطوں پرملتاہے ،اِسی بناء پر مرداد (ایرانی مہینے کانام ہے )اورابا نماہ (یہ بھی ایرانی مہینے کانام ہے ) میں جو دومداروں کے نقطہ تقاطع ہیں، شہابِ ثاقب زیادہ نظر آتے ہیں ،ماہرین کاخیال ہے کہ یہ دُمدار ستارے کے بقیہ حصّے ہیں جونامعلوم حوادث کی بناء پر پھٹ کرٹکڑے ٹکڑے ہوگیاہے ۔ آسمانی کُرّوں کے پھٹنے کاایک اورنمُونہ بہرحال آسمانی کُرّوں کاانفجارواِنشقاق یعن پھٹنا اور پھٹ کربکھر ناکوئی بے بنیاد بات نہیں ہے اورجدید علوم کی نظر میں یہ کوئی فعل محال بھی نہیں کہ یہ کہاجائے کہ معجزہ کاتعلق امرِ محال کے ساتھ نہیں ہواکرتا ۔ یہ سب انشقاق یعنی پھٹنے کے سلسلہ کی باتیں ۔دوٹکڑوں میں جوقوّتِ جاذبہ ہوتی ہے اس بناپر اس انشقاق کی بازگشت ناممکن نہیں ہے ۔ اگرچہ ہیئت ِقدیم میں بطلیموس کے نظریہ کے مطابق نوآسمان پیاز کے تہہ بہ تہہ چھلکوں کی طرح ہیں اورگھومتے رہتے ہیں اور یوں یہ نوآسمان ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں جن کاٹوٹنا اورجڑ ناایک جماعت کی نظرمیں امرِ محال تھا ۔اس لیے اس نظریہ کے حامل افراد معراجِ آسمانی کے بھی منکر تھیاور شق القمر کے بھی لیکن اَب جب کہ ہیئت ِ بطلیموس کامفروضہ خیالی افسانوں اورکہا نیوں کی حیثیت اختیار کرچکاہے اور نوآسمانوں ونشان تک باقی نہیں رہا تواَب ان باتوں کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی ۔یہ نکتہ کسی یاد دہانی کامحتاج نہیں کہ شق القمر ایک عام طبعی عامل کے زیراثر رُونما نہیں ہوا بلکہ اعجاز نمائی کا نتیجہ تھا ۔لیکن چونکہ اعجاز محال عقلی سے تعلق نہیں رکھتالہذا یہاں مطلوب اس مقصد کے امکان کو بیان کرناتھا، غور فرمائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:1-3
٣۔"" شق القمر"" تاریخی اعتبار سے
ایک اور اعتراض جوبعض بے خبر افراد شق القمر پرکرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگریہ واقعہ شق القمر کااپنی اس اہمیّت کے ساتھ کہ جووہ رکھتا ہے حقیقت پرمبنی ہوتا تو دُنیا کی تاریخوں میں اس کاذکر ملتا جب کہ ایسا نہیں ہوا ۔ یہ واضح کرنے کے لیے کہ اس اعتراض کی حقیقت کیاہے اس مسئلہ کاتجزیہ اوراس کی تحلیل کی جاتی ہے ۔ (الف) یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ چاند ہمیشہ صرف آدھے کُرّئہ ارض سے نظر آ تا ہے اور سارے کُرّے ارض سے بیک وقت نظر نہیں آتا اسی وجہ سے زمین کے آدھے حصّہ کے لوگ تواس حساب سے خارج ہیں یعنی ان کے اس واقعہ کے دیکھنے کاکوئی امکان نہی نہیں ہے ۔ (ب)اس نیم کُرّہ کے جوآدھے لوگ ہیں ان میں، کاسویا ہواہونا ممکن ہے ،چونکہ معاملہ آدھی رات کے بعدکا ہے اس لیے ساری دُنیا کے چھوتھائی افراد اس واقعہ سے باخبر ہوسکتے ہیں ۔ (ج) قابل رویت حصّہ میں بھی عین ممکن ہے کہ آسمان کاکوئی خاص حِصّہ ابرآلود ہو اور چاند کاچہرہ بادلوں میں پوشیدہ ہو ۔ (د) آسمانی حوادث افراد کی توجہ صرف اس صُورت میں اپنی طرف مبذول کرتے ہیں جب بجلیوں کی سی شدید کڑک اپنے اندررکھتے ہوں یامکمل گرہن کی صُورت میں کہ جب چاند بالکل ہی غائب ہوجائے اور وہ بھی ایک طویل وقفہ کے لیے ،یہی وجہ ہے کہ اگر منجمین بے خبر رہتے ہیں ۔صرف وہ لوگ کہ جواجرامِ فلکی یعنی چاند وغیرہ کارصد گا ہوں میں مشاہدہ کرتے رہتے ہیںیاوہ لوگ کہ اتفاق سے جن کی نگاہ آسمان پرپڑجائے توان کے لیے ممکن ہے کہ وہ ایسے واقعہ سے باخبر ہوں اور کچھ اورلوگوں کوبھی باخبر کردیں یہی وجہ ہے کہ چاند کا مختصر وقت کے لیے رُو نما ہونے والا واقعہ جیساکہ ابتدامیں سمجھا جاتا تھا، پُوری دنیا کے لوگوں کی توجہ تو جذب کرنے کاسبب نہیں بن سکتا ۔علی الخصوص اس زمانے کے لوگ کہ جواجرامِ سمجھا جاتاتھا ،پُوری دنیاکے لوگوں کی توجہ تو جذب کرنے کاسبب نہیں بن سکتا ۔ علی الخصوص اس زمانے کے لوگ کہ جواجرامِ سماوی کی اہمیّت کے اصولی طورپر بہت کم قائل تھے ۔ (ھ) علاوہ ازیں تاریخ میں مندرج مطالب اوران کی نشرو اشاعت کے وسائل اس زمانے میں محدُود تھے ،یہاں تک کہ لکھے پڑھے افراد بہت کم تھے اورکتابیں سرف ہاتھ سے لکھی ہوئی ہوتی تھیں ۔اس وقت موجودہ دور کی کیفیّت نہیں تھی کہ اہم واقعات بجلی کی سی سُرعت کے ساتھ ریڈ یو،ٹیلی ویژن اوراخبارات کے ذ ریعے تمام دنیا میں پھیل جاتے ہیں،اِن پہلوؤں کواگرپیش نظر رکھاجائے تواس واقعہ کے غیراسلامی تاریخوں میں مندرج نہ ہونے پرتعجب نہیں کرناچاہیئے اوراس صُورتِ حال کو اس واقعہ کی نفی پر محمول نہیں کرناچاہیئے ۔ ٤۔اِس عظیم معجزہ کے وقوع کی تاریخ راویانِ حدیث اورمفسّرین میں اس بات پر قطعاً کوئی اختلاف نہیں ہے کہ شق القمر کامعجزہ پیغمبراسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت سے پہلے قیام ِ مکّہ کے زمانے میں رُونما ہوا ۔لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ ابتدائے بعثت ِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہواہے(١)جب کہ بعض دوسری روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ قیامِ مکّہ کے آخری دورمیں ہجرت کے قریب ہوااوروہ بھی کچھ حقیقت کے متلاشی افراد کے تقاضے پر ۔ وہ مدینہ میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور انہوںنے عقبہ میں آپ کی بیعت کی (٢) بعض روایات سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ پیغمبراسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے شق القمر کااعجاز دکھانے کی عِلّت یہ تھی کہ جادو او رسحر کے اثرات زمینی امورسے متعلق ہوتے ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ اس بات کااطمینان حاصل کرلیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات جادو نہیں ہیں(٣) ۔ متعصّب اورہٹ دھرم لوگوں کی ایک جماعت نے اس معجزہ کودیکھ کرکہاکہ ہم اسے قبول کریں گے یہاں تک کہ شام اور یمن کے قافلے آن پہنچیں اورہم ان سے سوال کریں کہ کیااُنہوں نے یہ واقعہ دیکھاہے لیکن جب آنے والے مسافروں نے اس واقعہ کی تصدیق کی تب بھی وہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے (٤) ۔ آخری نکتہ کہ جس کاذکریہاں ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے اوربہت سے معجزات کی طرف یہ معجزہ بھی تاریخ اورضعیف روایتوں کے خرافات میں آمیزش کاشکار ہوگیاہے جس کی وجہ سے اس کاچہرہ غور وفکر کرنے والوں کی نظرسے اوجھل ہوگیا ۔مثلاً یہ کہ چاند کے ایک ٹکڑے کازمین پرآناوغیرہ مناسب یہ ہے کہ ایسی خرافات کواس واقعہ سے جُدا رکھنا چاہییٔے تاکہ معجزہ کی اصل حقیقت اس میں ملوّث نہ ہو ۔ ١۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٤٥(حدیث ٨) ۔ ٢۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٥٢(حدیث ١) ۔ ٣۔"" بحارالا نوار "" جلد ٧١ صفحہ ٣٥٥(حدیث ١٠) ۔ ٤۔ درالمنثورجلد٦،صفحہ ١٣٣۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:1-3
سوره قمر/ آیه 1- 3
سورةُ القَمَر بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ١۔اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ۔ ٢۔وَ ِنْ یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُسْتَمِرّ۔ ٣۔ وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَہْواء َہُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرّ۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جورحمان ورحیم ہے ١۔ قیامت قریب ہوئی اور چاند شق ہوگیا ۔ ٢۔ جس وقت نشانی اورمُعجزہ کودیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ سحر مستمر ہے ۔ ٣۔ اُنہوںنے (خدا کی آیتوں کی ) تکذیب کی ،اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اورہرامر کے لیے ایک قرار گاہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:1-3
چاند شق ہوگیا
پہلی آ یت میں دواہم باتوں کے بارے میں گفتگوہوئی ہے ،ایک توقیامت کاآنا کہ جس کاورُود اس عالمِ فانی کے لیے اپنے ہمراہ ایک عظیم انقلاب لیے ہوئے ہے ،دوسرا عنوان ہے نئی زندگی کی اِبتدائ وہ ایسی دُنیا ہے کہ جس کی عظمت ووُسعت اس دُنیا ئے دَنی میں مقیّد رہنے والوں کے لیے ناقابل فہم وناقابل ِ توصیف ہے ۔ دُوسراواقعہ مُعجزہ شق القمر کاہے جوخُدائے بزرگ وبرتر کی ہرشے پرقُدرت رکھنے کی دلیل بھی ہے اوراس کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کی نشانی بھی ،قیامت قریب ہوئی اور چاند شق ہوگیا(اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَر) ۔ قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ سُورئہ نجم قربِ قیامت کوبیان کرنے والے جُملوں پرختم ہوا ازفت الٰا زفة یہ سُورہ بھی اسی معنی ومفہوم سے شروع ہو رہاہے ،یہ تاکید ہے اِس بات کی کہ قیامت قریب ہے خواہ یہ قُرب دُنیا کے پیمانے کے اعتبار سے ہزاروں سال ہی کیوں نہ ہو،لیکن اس دُنیا کی مجموعی عمرکی طرف توجہ کرتے ہوئے اوراس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اس دُنیا کی تمام عمر قیامت کے مقابلے میں ایسے ایک لمحہ سے زیادہ نہیں جوجلدی گُزر جائے ، اس سے مقصود یہ ہے کہ اس تعبیر کامفہوم واضح ہوجائے ۔ مفسرین کی ایک جماعت کے قول کے مطابق ان دونوں حادثوں کااکٹھا ذکراس وجہ سے ہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ،جوکہ خدا کے آخری پیغمبر ہیں، ان کاظہور اصو لی طورپر خُود قُربِ قیامت کی ایک نشانی ہے ،پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: بعثت انا والساعة کھاتین میرامبعوث ہونا اور قیامت مثل ان دو کے ہے (١) یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دواُنگلیوں کی طرف اشارہ ہے جواُس وقت ایک دُوسرے سے ملی ہوئی تھیں ۔ دُوسری طرف چاند کادوٹکڑے ہونا ستاروں کے نظام کے درہم برہم ہونے کے اِمکان پر خود ایک دلیل ہے اورایک چھوٹا سا نمونہ ہے اِن عظیم حادثات کاجوقُربِ قیامت میں ظہور پذیر ہوں گے کیونکہ تمام ستارے بمع زمین ٹوٹ پُھوٹ جائیں گے اوران کی جگہ ایک نئی دُنیا معرض ِ وجود میں آ جائے گی، ایسی مشہورویات کے مطابق کہ جن کے بارے میں بعض راویوں نے متواتر ہونے کادعویٰ بھی کیاہے مُشرک کین پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اورکہا کہ اگرآپ سچ کہتے ہیں، اورخُدا کے پیغمبرہیں توہم کوچاند کے دوٹکڑے کرکے دکھائیں ،آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما یا : کہ اگر میں یہ کام کرکے دکھادوں توکیاتم ایمان لے آؤ گے اُنہوں نے کہاجی ہاں ۔ وہ چود ھویں کی رات تھی، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارگاہِ ایزدی میں دُعا کی کہ جوکچھ یہ چاہتے ہیں وہ تو کردے،چاند اچانک دوٹکڑے ہوگیا،رسو ل اللہ ایک ایک شخص کوآواز دیتے تھے اورفرماتے تھے (٢) یہ مُعجزہ دیکھ لو۔ اِس سلسلہ میں چند سوالات ہیں مثلاً یہ کہ یہ کِس طرح ممکن ہے کہ ایک آسمانی کُرّہ شق ہو کردوٹکڑے ہوجائے نیزاس قسم کاحادثہ کُرّئہ زمین اور نظام شمسی کے لیے اپنے اندر کیاتاثیر رکھتاہے،شگافتہ ہوجانے کے بعد چاند کے دونوں ٹکڑوں کے ہلنے کی کیفیّت اور یہ کہ اس قسم کے حادثہ کاہونا کِس طرح ممکن ہے ۔پھر یہ بھی کہ تورایخِ عالم نے اس کاذکر بھی نہ کیا ہو، اِس ضمن میں کچھ یہ اور کچھ ایسے ہی دوسرے سوالات ہیں،اِنشاء اللہ نکات کے ذیل میں ہم یہ سب تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔ وہ نکتہ کہ جس کاذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ بعض ایسے مفسرین ،کہ جن کی شہرت اچھی نہیں ہے اورجو ہرقسم کے اس عمل کے جوخارقِ عادت ہو سوائے قرآن کے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذ ریعے انجام پانے کے مُنکر ہیں، باوجود اس کے کہ مذکورہ بالا آ یت واضح ہے اوراس عنوان پرعُلمائے اسلام کی کتابوں میں روایات کثرت سے موجود ہیں ،وہ اُلجھن میں گرفتار ہیں کہ اس خارقِ عادت عمل کی کِس طرح توجیہ کریں،وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس موضوع کواس طرح زیربحث لائیں کہ اس واقعہ کے معجزانہ پہلو کی نفی ہوجائے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ شق القمر کا واقعہ بطور اعجاز ظہور پذیر ہواہے اوعربعد میں آ نے والی آ یتیں اس امر پر اپنے واضح شواہد لیے ہوئے ہیں،اگرکچھ آ یاتِ قرآنی مُعجزہ کی نفی کرتی ہیں تووہ ایسے معجزات کی طرف اشارہ ہے کہ بہانے بنانے والے افراد جن کامطالبہ کرتے تھے ،وہ نہ تو حق کوقبول کرنے کاارادہ رکھتے تھے اورنہ اس کے انجام پاجانے کے بعد حق کے سامنے سرتسلیم خم کرتے تھے ،وہ معجزات کہ جن کی تحقیق کے لیے مطالبہ ہوتاتھا ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے انجام پاتے تھے ۔اِس امر پر بہت سے شواہد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی تاریخ زندگی میں موجود ہیں ۔ اِس کے بعد قرآن مزید کہتاہے ہٹ دھرم اورکج بحثی کرنے والے مخالفین جب تیری تبلیغ کی صداقت کے بارے میں کوئی معجزہ یانشانی دیکھتے ہیں تو اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ واقعی مُستقل جادوہے (وَ ِنْ یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُسْتَمِر) ۔مستمر کالفظ اس لیے کہا کہ انہوںنے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے پے درپے معجزات دیکھے تھے اور شق القمر اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا ۔وہ ان سب باتوں کومستقلاجادو قرار دیتے تھے اگرچہ یہ تہمت حق توتسلم نہ کرنے کامحض ایک بہانہ تھی ،کچھ مُفسرین نے مستمر کے معنی طاقتور قرار دیے ہیں ۔جیساکہ (حبل مریر)کہاجاتا ہے جس کے معنی مضبُوط رسّی کے ہیں،بعض مُفسرین نے اس کے معنی ناپائیدار کے لیے ہیں لیکن صحیح پہلی تفسیر ہی ہے ۔ بعدوالی آ یت میں ان کے مخالفانہ نکتے اور اس مخالفت کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی نحوست کی طرف اشارہ کیاگیاہے انہوں نے تکذیب کی اوراپنی ہوائے نفس کی پیروی کی اورہرچیز کی ایک قرار گاہ ہے(وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَہْواء َہُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِر) ۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مخالفت یاآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دلائل اورمعجزات کی تکذیب اور قیامت کے انکار کاسبب ان کی ہوائے نفس کی پیروی تھی، تعصّب ،ہٹ دھرمی اورنفس پرستی انہیں حق کے سامنے سرتسلیم ِ خم نہیں کرنے دیتی تھی ،دُوسری بات یہ ہے کہ بلاکسِی قید کے مفادات کاحاصل کرنااور ہرقسم کے گناہ میں الودہ ہونا،اس راہ میں حائل تھا کہ وہ دعوتِ حق کوقبول کریں کیونکہ دعوتِ حق کاقبول کرناذمّہ داری عائد کرتاتھا ،جی ہاں ہمیشہ ایساہوتا رہاہے ،اورایساہی ہوتارہے گاکیونکہ حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مفاد پرستی ہی ہوتی ہے ۔ (وکل امرمستقر) ہرچیزکی ایک قرار گاہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرشخص اپنے کیے کی سزاپائے گا ،نیکی کرنے والوں کی نیکی کی قرار گاہ اوربُرائی کرنے والوں کی بُرائی کی قرار گاہ ،اس تفسیر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اِس جہان میں کوئی چیزختم نہیں ہوتی اور ہرنیکی اوربُرائی باقی رہتی ہے ،یہاں تک انسان اس کی جزا یاسزاپائے ۔ مندرجہ بالاتفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ جھوٹے الزامات حق کے چہرے کوہمیشہ نہیں جُھپاسکتے ،ہرچیز اپنی قرار گاہ کی طرف جاتی ہے ،اور زیادہ دیر نہیں لگتی کہ حق کا خوبصورت اورباطل کا قبیح چہرہ آشکار ہوجاتاہے ، یہ اس دُنیا کی ایک مُستقل روایت ہے ،یہ تفسیریں ایک دُوسرے سے متصادم نہیں ہیں، ہوسکتاہے کہ یہ سب کی سب آیت کے مفہوم میں داخل ہوں ۔ ١۔ "" تفسیر فخر رازی"" جلد ٢٩ ،صفحہ ٢٩۔ ٢۔ "" مجمع البیان "" اور دُوسری کتب تفاسیر زیر بحث آ یت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:1-3
١۔ شق القمر ،پیغمبر(ص) اسلام کاایک عظیم مُعجزہ :
اگر چہ بعض کوتاہ نظر مفسّرین کااس بات پراصرار ہے کہ اس معجزہ کی اس طرح توجیہ کریں کہ اس کی خارق العادت حیثیّت باقی نہ رہے ، ان کاکہنا ہے کہ مندرجہ بالا آ یات آئندہ اورمُستقبل کے بارے میں خبر دیتی ہے ، قیامت کی شرائط سے متعلق ہے اوراس سے پہلے کے حوادث میں سے ہے ،لیکن ایسی متعدد قرآنی آیات موجودہیں جواس کے معجزہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں،منجملہ ان کی ایک بات یہ بھی ہے کہ اس مُعجزہ کابیان ماضی کے صیغے میں کیاگیا ہے جوبتا تا ہے کہ شق القمر واقع ہوچکاہے جیساکہ آخری پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مبعوث ہونے کی وجہ سے قربِ قیامت کی تصدیق ہوچکی ہے ۔علاوہ ازیں اگر گفتگو معجزے کے بارے میں نہ ہو توپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سحرِ نسبت،جوبعدوالی آ یت میں آ ئی ہے ،کوئی مناسبت نہیں رکھتی اوراس طرح (وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَہْواء َہُمْ)کاجملہ ان کی تکذیب کی خبر دیتاہے ،وہ بھی کوئی مناسبت ِ کلام نہیں رکھتا ۔ قطع نظراس سے کُتبِ اسلامی میں اس معجزے کے وقوع کے بارے میں بہت سی روایات بھی موجود ہیں جو حدِّ تواتر وشہرت تک پہنچی ہوئی ہیں اوراس وجہ سے قابلِ انکارنہیں ہیں،ہم فخرالدین رازی اور طبرسی اہل سُنّت اوراہل تشیع کے دو معروف مخسرین کی گفتگو کاحوالہ دیتے ہیں،فخرالدین رازی کاکہناہے کہ زیادہ ترمفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ اس آ یت سے مُراد یہ ہے کہ چاند کے دوٹکڑے ہوگئے تھے اورصحیح روایتیں بھی اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں، اس کاوقوع ایسانہیں کہ اس کے ماننے میں کسی قسم کے شک یاتردّد کودخل ہو، پھرپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس کی خبردی ہے ،اس بناپر اسے قبول کرناچاہیئے ،باقی رہی عدم فرق والتیام کی داستان (مطابق عقیدئہ ابطال شدہ بطلیموس)تووہ بے بُنیاد ہے اوراس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ دلائل عقلیہ سے ثابت ہے کہ افلاک میں سے کسی چیز کاٹوٹنا اورپھر جڑجاناممکن ہے ،مرحوم طبرسی مجمع البیان میں رقم طراز ہیں کہ مفسرین اس آ یت کوزمانۂ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں رُو نما ہونے والے معجزئہ شق القمر سمجھتے ہیں،اس کے بعدان چندمخالفین کے بے اعتنائی کے ساتھ نام لیتے ہیں ،وہ نام یہ ہیں عطا ، حسن اور بلخی ۔ بعض افراد نے نقل کیاہے کہ حذیفۂ یمانی جومشہور صحابی تھے اُنہوں نے شق القمر کاواقعہ مسجدمدائن میں ایک کثیر جماعت کے سامنے بیان کیا،وہاں ان پرکسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا، حالانکہ ان میں سے بہت سے حاضرین ایسے تھے جنہوںنے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا زمانہ دیکھاتھا(اس حدیث کو دُرّ ِ منثور اور قرطبی نے اس آ یت کے عنوان کے ماتحت پیش کیاہے ) ۔ آ یت میںجس مفہوم کے قرائن موجود ہیں ،جوروایات اس سلسلہ ہیں اورجو مفسّرین کے اقوال ہیں، ان سب سے قطع نظر کرتے ہوئے بھی شق القمر کاواقعہ قابلِ انکارنہیں ہے ۔یہاں چند سوالات ذہن میں اُبھر تے ہیںجن کے جواب ہم پیش کرتے ہیں ۔