أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّى
Did you see him who turned away,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 53:33
[Pooya/Ali Commentary 53:33] "He who turns back" refers to those who forsake the faith like those who left the Holy Prophet in the midst of danger and ran away from the battles of Uhad and Hunayn. According to Minhajul Sadiqin Uthman bargained with Abdullah bin Ubay for a camel load of merchandise if Abdullah would take upon himself the sins of Uthman. After giving the merchandise Uthman put a stop to alms giving relying upon Abdullah's undertaking. Then these verses were revealed. If we accept Islam, we must accept it whole-heartedly and not look back to pagan superstitions. No man can bargain about spiritual matters, for he cannot see what his end will be in the hereafter. It is the unchangeable law of Allah in every age that no bearer of burden can bear the burden of another. See commentary of Baqarah: 48, 123, 254; An-am: 165 ; Bani Israil: 15 ; Fatir: 18 and other such verses.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 53:33-62
Although scientists by composition of two or more elementary substances produce a mixture or a compound, they are not able to explain property thereof. Thus the creator of these elements and producer of property is God beyond conception of scientists, the most intelligent.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
٥۔ گزشتہ کتب میں اعمال کے مقابلہ میں اصل مسئو لیت
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ موجودہ تورات میں کتاب حز قیلمیں بھی زیر بحث آیت کاکچھ مضمون آ یاہے ،کیونکہ وہ اس طرح ہے : وہی جان جوگناہ کرے گی وہی مرے گی ،بیٹاباپ کے گناہ کابوجھ نہیں اٹھا ئے گا، ور باپ بیٹے کے گناہ کابار نہیں اٹھائے گا(۱) ۔ یہی مفہوم خصوصیت کے ساتھ قتل کے بارے میں تورات کے سفر تثنیہ میں بھی آیاہے : باپ اولاد کے بدلے میں قتل نہیں کئے جائیں گے ،اوراولاد بھی باپوں کے بدلے میں قتل نہیں کی جائیں گی ،ہرشخص اپنے گناہ کے سبب ہلاک ہوگا( ۲) ۔ البتہ گزشتہ انبیاء میں مکمل طورپر اس وقت ہمارے پاس نہیں ہیں ،ورنہ اس اصل کے بارے میں بہت سی باتیں ہمیں مل جاتیں ۔ ۱۔ کتاب "" حز قیل"" فصل ١٨ صفحہ ٢٠۔ ۲۔"" تورات"" سفر "" تثنیہ "" باب ٢٤ شمارہ ١٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
٢۔ آ یت کے مفاد سے سوء استفادہ
جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں ، یہ آ یات گزشتہ اور بعد میں آنے والی آ یات کے قرینہ سے ، آخرت کے لیے انسان کی سعی وکوشش کوبیان کررہی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود چونکہ یہ چیزایک مسلم عقلی حکم کی بنیاد پرہے ،لہٰذا اس کے نتیجہ کوعمومیت دی جاسکتی ہے ،اور دنیا کی کوششوں کوبھی اس میں شامل سمجھا جاسکتاہے ،اوراسی طرح دنیوی اجروصلہ اورسزاؤں کوبھی ۔ لیکن یہ اس معنی میں نہیں ہے ، جوسوشلسٹ مکتب کے زیراثر بعض لوگ اسے مند کے طورپر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں ،کہ اس آ یت کامفہوم یہ ہے ،کہ مالکیت صرف کام کے طریقہ سے حاصل ہوتی ہے ،اوراس طرح وہ قانون میراث ،مضاربہ اوراجارہ و کرایہ وغیرہ پرخط بطلان کھینچ دیں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کادم بھر تے ہیں، اورقرآنی آیات سے استد لا ل بھی کرتے ہیں ،حالانکہ مسئلہ میراث اسلام کے قطعی اصولوں میں سے ہے ۔اور اسی طرح زکوٰة وخمس ہیں،حالانکہ نہ تو وارث نے ہی اپنے مورث کے مال کے لیے کوئی سعی و کوشش کی ہے ، اورنہ ہی خمس وزکوٰة کے مستحقین نے ، اور نہ ہی وصیتوں اورنذ روغیرہ کے موارد میں، حالانکہ یہ تمام امور قرآن مجید میں آ ئے ہیں ۔ دوسرے لفظومیں یہ ایک اصل ہے ،لیکن عام طورپر ہراصل کے مقابلہ میں ایک استثناء ہوتاہے ،مثلاً بیٹے کا باپ سے میراث لیناایک اصل ہے ، لیکن اگربیٹاباپ کاقاتل ہویااسلام سے خارج ہوجائے تواُسے میراث نہیں ملے گی ۔ اسی طرح ہرشخص کی کوشش کے نتیجہ کااس تک پہنچنا ایک اصل ہے ،لیکن اس بات میں کوئی امرمانع نہیں ہے کہ اجارہ کی قرار داد کے مطابق جوایک قرآنی اصو ل ہے (۱) اسے اس چیز کے مقابلہ میں ،جس پر طرفین رضامند ہیں، واگزار کردے ، یاوصیت ونذر کے طریق سے کہ دونوںبھی قرآن میںہیں دوسرے کومنتقل کردے ۔ ۱۔یہ اصل موسیٰ اور شعیب کی داستان میں سورة قصص آیہ ٢٧ میں آ ئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
سوره النجم/ آیه 33- 41
٣٣۔أَ فَرَأَیْتَ الَّذی تَوَلَّی۔ ٣٤۔ وَ أَعْطی قَلیلاً وَ أَکْدی۔ ٣٥۔ أَ عِنْدَہُ عِلْمُ الْغَیْبِ فَہُوَ یَری۔ ٣٦۔ أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِما فی صُحُفِ مُوسی۔ ٣٧۔ وَ ِبْراہیمَ الَّذی وَفَّی۔ ٣٨۔ أَلاَّ تَزِرُ وازِرَة وِزْرَ أُخْری۔ ٣٩۔وَ أَنْ لَیْسَ لِلِْنْسانِ ِلاَّ ما سَعی۔ ٤٠۔وَ أَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُری۔ ٤١۔ ثُمَّ یُجْزاہُ الْجَزاء َ الْأَوْفی۔ ترجمہ ٣٣۔کیاتونے اس شخص کودیکھاہے جس نے اسلام ( یا انفاق) سے رو گردانی کی ؟ ٣٤۔اور تھوڑا سا دیااور زیادہ کوروک لیا ۔ ٣٥۔ کیااس کے پاس علم غیب ہے اوراس نے دیکھ لیا ہے (کہ دوسرے اس کے گناہوں کواپنے کندھے پرلے سکتے ہیں) ۔ ٣٦۔کیاوہ اس سے باخبر نہیں ہواہے ،کہ جوموسیٰ کی کتابوں میں نازل ہواہے ؟ ٣٧۔اوراسی طرح ابراہیم علیہ السلام کی کتابوں میں جس نے ذمہ داری کوپوری طرح سے اداکیاتھا ۔ ٣٨۔کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھے پرنہیں لے گا ۔ ٣٩۔اوریہ کہ انسان کے لیے اس کی اپنی سعی وکوشش کے علاوہ اور کوئی حصہ نہیں ہے ۔ ٤٠۔اوریہ کہ اس کی سعی وکوشش عنقریب دیکھی جائے گی ( اور وہ اس کا نتیجہ پالے گا) ۔ ٤١۔ اس کے بعد اسے پوری پوری جزادی جائے گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
شانِ نزول
اکثر مفسرین نے اوپر والی آ یات کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ شان نزول نقل کئے ہیں،لیکن یہ شان نزول آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں ، ان میں سے جوسب سے زیادہ مشہور ہیں وہ ذیل کے دوشان نزول ہیں: ١۔ ان آ یات میں عثمان کاواقعہ بیان ہواہے ،اس کے پاس بہت زیادہ مال ودولت تھی ،اوروہ اپنے مال میں سے خرچ کیا کرتاتھا ، اس کے رشتہ داروں میں سے ایک عبداللہ بن سعد نامی شخص نے کہا، اگرتیری یہی حالت رہی ،توایک دن تیرے پاس کچھ بھی نہیں باقی نہ بچے گا، عثمان نے کہا، میں نے بہت گناہ کئے ہیں ،لہٰذامیں چاہتاہوں کہ اس ذ ریعہ سے خداکی رضا اورعفو وبخشش حاصل کروں عبداللہ نے کہا، اگر تواپنی سوای کااونٹ اس کے سازو سامان سمیت مجھے دے دے تو میں تیرے سارے گناہ اپنی گردن پر لے لیتاہوں،عثمان نے ایساہی کیا اور اس قرار داد پر گواہ لئے ،اوراس کے بعداس نے انفاق کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، (تواوپر والی آ یات نازل ہوئیں اوراس کا م کاشدّت سے مذمت کی اوراس حقیقت کوواضح کیاکہ کوئی شخص دوسرے گناہ کواپنے کندھے پرنہیں لے سکتا، اورہرشخص کی سعی و کوشش کانتیجہ خوداسی کو ملے گا(١) ۔ ٢۔یہ آ یت ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہے ،وہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاس آ یا ، اور دین اسلام سے قربت حاصل کی توبعض مشرکین نے اس ے سرزنش کی اور کہا کہ تونے ہمارے بزرگوں کے دین کوچھوڑ دیا ہے اورانہیں گمراہ شمارکرتاہے ،اور تونے یہ گمان کیاکہ وہ جہنم کی آگ میں ہیں ۔اس نے کہاکہ واقعاً میں خدا کے عذاب سے ڈرگیا ہوں ،توسرز نش کرنے والے نے کہا اگرتو اپنے مال کاکچھ حصّہ مجھے دے دے اور شرک کی طرف پلٹ آ ئے تومیں تیرا عذاب اپنی گردن پرلے لیتا ہوں ،ولید بن مغیرہ نے ایساہی کیا، لیکن جومال دینا تھا اس میں سے تھوڑے سے حصّہ کہ سوا ادانہ کیا، تواوپروالی آیت نازل ہوئی ،اورولید کے ایمان سے منہ پھیر نے پر مذمت کی (٢) ۔ ١۔اس شان نزول کوطبرسی نے مجمع البیام میں نقل کیاہے ،اور دوسرے مفسرین مثلاً زمخشری نے کشافمیں فخررازی نے تفسیر کبیرمیں بھی نقل کیاہے طبرسینے اسے نقل کے بعدمزید کہاہے ،کہ یہ شانِ نزول ابن عباس ،کلبی اورمفسرین کی ایک جماعت سے نقل ہوئی ہے ۔ ٢۔ اس شان نزول کوبھی مجمع البیان قرطبی روح البیان اور بعض دوسری تفاسیر میں نقل کیاگیاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
ہرشخص اپنے اعمال کاذمہ دار ہے
گزشتہ آ یات میں اس سلسلہ میں گفتگو تھی کہ خدابد کاروں کوان کے برے کاموں کے بدلے میں سزا اور عذاب کرے گا اورنیکوکاروںکواجردے گا،چونکہ ممکن ہے بعض یہ تصور کرلیں کہ کسی کوکسی دوسرے کے بدلے میں بھی سزاہوجاتی ہے ،یاکوئی دوسرے کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتاہو ،تویہ آ یات اس توہم کی نفی میںآ ئی ہیں، اوراس اہم اسلامی اصل کی کہ ہرشخص کے اعمال کانتیجہ صرف اسی کی طرف لوٹتاہے تشریح کرتی ہیں ۔ پہلے فرماتاہے: کیا تونے اس شخص کودیکھاہے جس نے اسلام( یاانفاق) سے منہ پھیر لیاہے (أَ فَرَأَیْتَ الَّذی تَوَلَّی) ۔ اورتھوڑاسامال اورانفاق (یامزیدمال دینے سے ) ہاتھ روک لیا (اس گمان سے کہ دوسرااس کے گناہ کے بوجھ کواپنے کندھے پراٹھاسکتاہے)(وَ أَعْطی قَلیلاً وَ أَکْدی)(١) ۔ کیاوہ علم غیب رکھتاہے اوروہ یہ جانتاہے کہ دوسرے اس کے گناہوں کواپنے کندھے پرلے سکتے ہیں (أَ عِنْدَہُ عِلْمُ الْغَیْبِ فَہُوَ یَری) ۔ قیامت کے دن سے پلٹ کرکون آ یاہے اوران کے لیے یہ خبرلایاہے کہ لوگ رشوت لے کر دوسروں کے گناہ اپنی گردن پرلے سکتے ہیں؟یاکون شخص خداکی طرف سے آ یاہے اورانہیں یہ خبر دی ہے کہ خدا اس معاملہ پرراضی ہے ؟ کیا اس کے سوا بھی کوئی اور بات ہے کہ انہوںنے کچھ ادھام دل سے گھڑ لیے ہیں، اوراپنی ذمہ داریوں سے فرار کرنے کے لیے انہوں نے خود کوان اوہام کے تانے بانے میں پھنادیاہے؟ اس شدید اعتراض کے بعد، قرآن ایک اصل کلی کوجو باقی آسمانی دینوں میں بھی آ ئی ہے پیش کرتے ہوئے اس طرح کہتاہے :کیاوہ شخص جس نے ان خیالی وعدوں پر انفاق(یاایمان) سے ہاتھ اٹھالیاہے ،اور وہ یہ چاہتا ہے کہ مختصر سامال ہے ادا کرکے خود کوخدا ئی عذاب سے رہائی دلالے : کیاوہ اس سے جو موسیٰ کی کتابوں میں نازل ہوا ہے باخبرنہیں ہواہے ؟ (أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِما فی صُحُفِ مُوسی) ۔ اواسی طرح جوکچھ ابراہیم کی کتاب میں نازل ہواہے وہی ابراہیم جس نے اپنی ذمہ دار ی کومکمل طورپر پورا کیا ہے (وَ ِبْراہیمَ الَّذی وَفَّی)(٢) ۔ وہی عظیم پیغمبرجس نے خدا کے تمام عہد اور پیمانوں کوپوراکیا، اس کے حق رسالت کو اداکیا، اوراس کے دین کی تبلیغ کے سلسلہ میںکسی مشکل،تہدید اورآ زار سے ہراساں نہیں ہوا، وہی شخص جو کئی امتحانات سے گزر ا ،یہاں تک کہ اپنے بیٹے کو خداکے حکم سے قربانگاہ میں لے گیا اوراس کے گلے پرچھری رکھ دی ، اوران تمام امتحانوں سے سربلند اور سر فراز ہو کرباہر آ یا، اور خدانے اسے مخلوق کی رہبری و امامت کابلند مقام عطافر مایاجیساکہ سورئہ بقرہ کی آ یت ٢٤ میں آ یاہے : وَ اِذِ ابْتَلی ِبْراہیمَ رَبُّہُ بِکَلِماتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قالَ اِنِّی جاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِماما:اس وقت کویاد کرو جب خدانے ابراہیم کوچند احکام کے ذریعہ آزمایا ،اوروہ ان تمام امتحانات سے عہدہ برآ ہوئے اورانہیں مکمل کردیا توخدانے اُن سے فرمایا کہ میں تجھے لوگوں کاامام و پیشوا قرار دیا۔ بعض مفسرین نے اس آ یت کی وضاحت میں یہ کہا ہے :بذل نفسہ للنیران ،وقلبہ للرحمن ،وولدہ للقربان ومالہ اللا خوان: براہیم نے راہ خدا میں اپنانفس آگ کے حوالے کردیا، اور اپنادل خدائے رحمن کے لیے اوراپنا بیٹا قربانی کے لیے اور اپنا مال بھائیوں اور دوستوں کے لیے خرچ کیا(٣) ۔ کیا اسے یہ خبر نہیں دی گئی کہ ان تمام کتب آسمانی میں یہ حکم نازل ہواہے کہ کوئی شخص دوسرے کے گناہ کابوجھ اپنے دوش پرنہیں لیتا ؟(أَلاَّ تَزِرُ وازِرَة وِزْرَ أُخْری) ۔ وزر سے مراد وہ انسان ہے جوگناہ کے بوجھ کواٹھاتا ہے (٤) ۔ اس کے بعد مزید توضیح کے لیے کہتاہے: کیا اسے اس بات کی خبرنہیں ہے کہ ان آسمانی کتابوں میں یہ آ یاہے کہ انسان کے لیے اس کی سعی اورکوشش کے علاوہ کوئی حصہ نہیں ہے (وَ أَنْ لَیْسَ لِلِْنْسانِ ِلاَّ ما سَعی)(٥) ۔ سعیٰ اصل میں تیزی کے ساتھ راستہ چلنے کے معنی میں ہے ،جودوڑ نے کے مرحلہ تک نہ پہنچا ہو، لیکن عام طورپر یہ لفظ سعی وکوشش کے معنی میں استعمال ہوتاہے ،کیونکہ کاموں میں سعی و کوشش کے معنی میں استعمال ہوتاہے ،کیونکہ کاموں میں سعی و کوشش کے وقت انسان تیزحرکات انجام دیتاہے ،چاہے وہ نیک کام ہویابُرا ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ یہ نہیں فرماتا، کہ انسان کے حصہ میں وہ کام ہے جواس نے انجام دیاہے ،بلکہ فرماتاہے،کہ وہ سعی وکوشش جواس نے کی ہے ،یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہم چیزسعی وکوشش ہے ،چاہے انسان وقتی طورسے اپنے مقصد اورمقصود تک نہ پہنچے ،کیونکہ اگراس کی نیت نیک ہے توخدااس کواچھا اجر دے گا ،کیونکہ وہ تو نیتوں اور ارادوں کاخریدارہے ،نہ کہ صرف انجام شدہ کاموں کا ۔ اورکیا اسے اس بات کی خبرنہیں ہے کہ اس کی سعی وکوشش عنقریب دیکھی جائے گی ؟(وَ أَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُری) ۔ نہ صرف اس سعی وکوشش کے نتائج ،چاہے وہ خیر کی راہ میں ہوں یاشرکی راہ میں ،بلکہ خود اس کے اعمال اس دن اس کے سامنے آشکار ہوں گے ،جیساکہ ایک دوسری جگہ فرماتاہے ،:یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُحْضَرا: وہ دن جس میں ہرشخص ان نیک اعمال کوجنہیں اس نے انجام دیا ہے حاضر پائے گا (آل عمران،٣٠) ۔ اور قیامت میں نیک وبداعمال کے مشاہدہ کے بارے میں بھی سورئہ زلزال کی آ یت ٧، ٨ میں آ یاہے ۔(فَمَنْ یَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَہُ،وَ مَنْ یَعْمَلْ مِثْقالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَہ) جس شخص نے ذرہ برابر بھی خیرو نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا، اور جس نے ذرہ برابر بُراکام کیا تووہ اسے بھی دیکھے گا۔ اس کے بعداس کے عمل کے لیے اسے پوری پوری جزا دی جائے گی (ثُمَّ یُجْزاہُ الْجَزاء َ الْأَوْفی)(٦) ۔ جزاء اوفیٰ سے مراد وہ جزا ہے جوٹھیک ٹھیک عمل کے عین مطابق ہو، البتہ یہ بات نیک اعمال کے سلسلہ میں تفضل الہٰی کے ساتھ دس گنا یاگئی ہزار گنا سے اختلاف نہیں رکھتی ، اوریہ جو بعض مفسرین نے جزاء اوفیٰ کوحسنات کے بارے میں زیادہ اجر کے معنی میں لیاہے ،صحیح نظر نہیں آ تا ،کیونکہ یہ آ یت گناہوں کوبھی شامل ہے ،بلکہ آ یت کی اصلی گفتگو ہی وزر اورگناہ کے بارے میں ہے (غورکیجئے ) ۔ ۱۔"" اکدٰی"" اصل میں"" کدیہ"" (بروزن حجرہ)زمین کی سختی اور صلابت کے معنی میں ہے اس کے بعد ممسک اوربخیل لوگوں کے لیے استعمال ہونے لگا ۔ ٢۔"" وفی "" "" توفیہ"" کے مادہ سے ،بذل اورمکمل ادائیگی کے معنی میں ہے ۔ ٣۔ "" روح البیان"" جلد ٩ ،صفحہ٢٤٦۔ ٤۔"" وازرة "" کامؤ نث ہونااس بناپر ہے کہ یہ نفس کی صفت ہے جومحذوف ہواہے ،اوراسی طرح اخرٰی کامؤ نث ہونابھی ۔ ٥۔""ماسعیٰ""میں ""ما""مصدر یہ ہے ۔ ٦۔"" یجزی"" کانائب فاعل ایک ضمیر ہے جو"" انسان "" کی طرف لوٹتی ہے اوراس سے متصل ضمیر"" عمل "" کی طرف لوٹتی ہے حرف جرکے حذف کے ساتھ اورتقدیر میں اس طرح تھا: ثُمَّ یُجْزی الانسان بعملہ (اوعلی عملہ) الْجَزاء َ الْأَوْفی:""زمخشری"" "" کشاف""میں کہتا ہے ،ممکن ہے کہ تقدیر میں حرف جرنہ ہو، کیونکہ "" یجزی العبد سعید"" کہا جاتاہے (لیکن وجہ رکھنی چاہیے کہ عام طورپر "" جزاہ اللہ علی عملہ "" کہاجاتاہے "" جزاہ اللہ عملہ"" صحیح نہیں ہے)اور"" الجزاء اولافی "" کی تعبیرہوسکتاہے کہ"" تجزی"" کاایک اور دوسرامفعول ہویا مفعول مطلق ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
١۔ تین اہم اسلامی اصول
اوپر والی آ یات میں اسلام کے تین مسلم اصولوں کی طرف اشارہ ہواہے ،جوگز شتہ آسمانی کتابوں میں بھی مسلم اصول کے عنوان سے پہچانے گئے ہیں ۔ الف: ہرشخص اپنے گناہوں کامسئول اور جوابدہ ہے ۔ ب:آخرت میں ہرشخص کاحصہ اس کی سعی وکوشش ہی ہے ۔ ج: خدا ہرشخص کواس کے عمل کے مقابلہ میں پوری جزادے گا ۔ اور اس طرح قرآن بہت سے اوہام اورخرافات پرجوعام لوگوں میں پائے جاتے ہیں یابعض مذاہب میں وقتی طورپر ایک عقیدہ کی صورت میں آ گئے ہیں، خط ِ بطلان کھینچ رہاہے ۔ قرآن اس طریقہ سے نہ صر ف مشر کی عرب کے عقیدہ کی جوزمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے کہ ایک انسان دوسرے کے گناہوں کواپنے ذمہ لے سکتاہے،نفی کررہاہے ،بلکہ اس مشہور اعتقاد پر بھی ،جوعیسائیوں کے درمیان رائج تھا اوراب بھی ہے ،کہ خدانے اپنے بیٹے مسیح کودنیامیں اس لیی بھیجا تاکہ وہ سولی پرچڑھ جائے اور آزاد وتکلیف اٹھائے اور گنہگاروں کے گناہ کابوجھ اپنے کندھے پر لے لے ، خط تنسیخ کھینچ رہاہے ۔ اسی طرح پادریوں کے ایک گروہ کے برے اعمال کی جوقرون وسطی میں مغفرت نامے اوراستحقاق بہشت کے پروانے بیچاکرتے تھے اورموجودہ زمانہ میں بھی گناہ بخشی کے مسئلہ کوجاری رکھے ہوئے ہے مذمت کرتاہے ۔ عقل کی منطق بھی اسی چیز کاتقاضا کرتی ہے کہ ہرشخص اپنے اعمال کاذمہ دار ہے ،اوراپنے ہی اعمال سے نفع پائے گا ۔ یہ اسلامی عقیدہ اس بات کی سبب بنتاہے ،کہ انسان خرافات کی طرف پناہ لینے ، یااپناگناہ کسی اورکی گردن میں ڈالنے کے بجائے ، اعمال خیر کے لیے سعی و کوشش اورجدوجہد کرے ،اور گناہ سے پرہیزکرے ، اور جب کبھی اس سے کوئی لغزش ہوجائے اوراس سے کوئی خط سر زد ہوجائے توواپس لوٹے اور توبہ کرے اور تلافی مافات کرے ۔ انسانوں میں اس تربیتی عقیدہ کی تاثیر مکمل طورپر واضح اورناقابل انکارہے ،جیساکہ زمانہ جاہلیت کے ان مخرب عقائد کااثربھی کسی سے پوشیدہ نہیںہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ آ یات آخرت کے لیے سعی و کوشش اور دوسرے گھرمیں اس کا اجر وپاداش مشاہدہ کرنے کوبیان کر رہی ہیں، لیکن اس کامدرک اوراصلی معیار دنیاکو بھی اپنے اندر لے لیتاہے ،اس معنی میں کہ اہل ایمان کودوسروںکے انتظار میں نہیں بیٹھنا چاہیے کہ وہ ان کے لیے کام کریں ، اوران کے معاشرے کی مشکلات کوحل کریں ، بلکہ خودکمر ہمت کس کرکھڑے ہوجائیں اور سعی وکوشش کریں ۔ ان آ یات سے مسائل جزائی وقضاوت کی ایک حقوقی اصل کا بھی استفادہ ہوتاہے ،کہ سزائیں ہمیشہ واقعی اوراصلی گنہگاروں اورمجرموں کو ہی دی جائیں گی ، اور کوئی شخص کسی دوسرے کی سزا کواپنے ذمہ نہیں لے سکتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
٣۔ چند سوالات کاجواب
یہاں چند سوال سامنے آ تے ہیں جن کاجواب دیناضروری ہے : پہلایہ کہ اگرہرانسان کاحصہ قیامت میں صرف اس کی سعی وکوشش کاماحصل ہے ۔توپھر شفاعت کیامعنی رکھتی ہے ؟ دوسرایہ کہ سورئہ طور کی آ یت ٢١ میں اہل بہشت کے بارے میں آیاہے :الحقنا بھم ذریتھم:ہم ان کی اولاد کوبھی ان کے ساتھ ملحق کردیں گے ،حالانکہ ذ ریة نے تواس راہ میں کوئی کوشش نہیں کی ۔ اس کے علاوہ اسلامی روایات میں آ یاہے کہ جس وقت کوئی شخص اعمال خیرانجام دے تواس کانتیجہ اس کی اولاد کو پہنچے گا ۔ ان سب سوالات کاجواب صرف ایک جملہ ہے ،اوروہ یہ ہے کہ :قرآن یہ کہتاہے کہ انسان اپنی سعی وکوشش سے زیادہ کاحق نہیں رکھتا، لیکن یہ چیز اس بات میں مانع نہیں ہوگی کہ پروردگار کے لطف اورفضل کے طریق سے لائق افراد کونعمتیں دی جائیں ۔ استحقاق ایک مفہوم ہے اور تفضل ایک الگ مفہوم ہے جیساکہ وہ نیکیوں کی دس گنا، کبھی سوگنا، یاہزار وں گناہ جزا دیتاہے ۔ اس کے علاوہ شفاعت جیساکہ ہم اس کے اپنے مقام پر بیان کرچکے ہیں کہ بے حساب نہیں ہوگی ،بلکہ وہ بھی ایک قسم کی سعی وکوشش اور شفاعت کرنے والے کے ساتھ معنوی رابط پیداکرنے کی محتاج ہے ،اسی طرح اہل جنت کی اولاد کے ان سے ملحق ہونے کے بارے میں بھی قرآن اسی آ یت میں کہتاہے : واتبعتھم ذر یتھم بایمان یہ اس صور ت میںہے جب کہ ان کی اولاد ایمان میں ان کی پیروی کرے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 53:33-41
٤۔ صحف ابراہیم وموسیٰ
صحف جمع ہے صحفہ کی جواصل میں ہروسیع چیزکے معنی میں ہے ،اس لیے صورت کو صحیفة الوجہ کہتے ہیں اس کے بعد کتاب کے صفحات پربھی اطلاق ہواہے ۔ صحف موسیٰ سے مراد اوپر والی آیت میں وہی تورات ہے ،اور صحف ابراہیم بھی ان کی آسمانی کتاب کی طرف اشارہ ہے ۔ مرحوم طبرسی نے مجمع البیانمیں سورئہ اعلیٰ کی تفسیر میں ایک حدیث پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کی ہے ، جس کاخلاصہ اس طرح ہے : ابو ذرسوال کرتے ہیں: خدا کے پیغمبر کتنے ہوئے ہیں؟ آپ نے فرمایا:ایک لاکھ چوبیس ہزار پھرسوال کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟ آپ نے فرمایا:تین سوتیرہ ہیں اورباقی نبی ہیں(رسول وہ ہوتا ہے جوابلاغ وانذار پرمأ مور ہوجب کہ نبی کامفہوم عام ہے ) پھر سوال کیا: کیاآدم پیغمبر تھے ؟ آپ نے فرمایا:ہاں!خدانے ان سے کلام کیااورانہیں اپنے دست قدرت سے پیداکیا ۔ پھرپوچھا :خدا نے کتنی کتابیں نازل کیں؟ آپ نے فرمایا:ایک سوچار کتابیں:دس صحیفے آدم پر ، بچاس صحیفے شیث پر ،تیس صحیفے ادریس پر ،دس صحیفے ابراہیم پر (جومجموعی طورپر ایک سو صحیفے بنتے ہیں( اور تورات وانجیل وزبور وقرآن (۱) ۔ ۱۔""مجمع البیان "" جلد ١٠ ،صفحہ ٤٧٦اس حدیث کو"" روح البیان"" نے بھی جلد ٩،صفحہ ٢٤٦ پرنقل کیاہے ۔