وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا
By the scattering [winds] that scatter [the clouds];
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 51:1
[Pooya/Ali Commentary 51:1] As in the case of As Saffat the first four verses of this surah also begin with a swearing in the name of the entities or energies of nature, which discharge different functions in the working of the universe. Aqa Mahdi Puya says: It is said that once Imam Ali ibn abi Talib was asked by a (kharaji) critic, while he was delivering a sermon from the pulpit: "What is dhariyat?" He said: "The winds." "What is hamilat?" He said: "The clouds carrying rain." "What is jariyat that flow with ease?" He said: "The ships". "What is muqassimat?" He said: "The angels." There is scattering of matter, carrying of energy and weight and flowing of bodies in the universe, which are controlled and administered by various agencies appointed by the supreme creator. Even the microscopic corpuscles in the blood of living beings, which distribute sustenance, are controlled and regulated by such agencies. So man's attention is drawn to the reality of an universal plan, not haphazard but governed by precise laws, and a purpose pointed out in verses 5 and 6.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 51:1-23
Just as God, in spite of being Self-sufficient and Indispensable to His creation, by virtue of His being unlike creation, has recourse to physical and spiritual agents’ viz. clouds, rain, soil, and angels for provision of His creatures, has created Divine Lights, having guided them to His way, qualifying them with His attributes to guide His creation on earth without which man cannot attain Divine proximity. He who therefore denies ancillary leadership of Divine Lights, through whose medium alone, Divine proximity is attainable, is not only ungrateful, like children, disobeying their parents and incurring major sins which renders them unforgivable for wasting their virtues. Their infidelity to God is first followed by their infidelity to Divine Lights. Disobedience to parent is allowable, where Divine Commands are being contravened, but under no circumstances disobedience to Divine Lights is permissible, as they are infallible. Hence, disregard to them must end in perpetual condemnation to hell without any question of intercession. The only difference in Divine Commands and those of them is former emanate for Him and the latter are transferred through their agencies, and for this reason prostration to God is only permissible. These Divine Lights are alive, whether present on Earth or otherwise and seeking their help is but fair, as in the case of the living beings. To judge them otherwise is mere ignorance of their real object of creation. Their actions are as per Divine will. Compare the word of Jesus in St. John 8:28 – 29 and that I do nothing for myself but as my Father taught me. I speak these things and that he sent me is with me. The father has not left alone, for I do always things which please him. This is exactly what the Prophet said, “Ali is with God and God is with Ali.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:1-6
طوفانوں اور بارش لانے والے بادلوں کی قسم
سُورہ والصافات کے بعد یہ دوسری سُورت ہے جو بار بار کی قسموں کے ساتھ شروع ہوتی ہے، پُرمعنی اور فکر انگیز قسمیں ، بیدار کرنے والی اور آگاہی بخش قسمیں ۔ قرآن کی بہت سی دوسری سُورتیں ،جن سے ہم انشاء اللہ آئندہ کے مباحث میں گفتگو کریں گے ، اسی قسم کی ہیں ، اورقابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہ قسمیں غالباً مسئلہ معاد و قیامت کے بیان کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہیں، چند موقعوں کے سوا جو مسئلہ توحید اور دوسری باتوں کے ساتھ مربوط ہیں، اور یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ان قسموں کامضمون قیامت کے مطالب کے ساتھ ایک خاص ربط رکھتاہے، اورایک خاص عمد گی اور زیبائی کے ساتھ قرآن اس اہم بحث کامختلف طریقوں سے جواب دے رہاہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنی قسمیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے ،اس آسمانی کتاب کے اعجاز کی صورتوں ، اورقرآن کے زیبا ترین اور روش ترین حصّوں میں سے ایک ہے ، جن میں سے ہرایک کی تشریح و تفصیل اپنے مقام پر آ ئے گی ۔ اس سُورہ کے آغاز میں خدانے پانچ مختلف موضوعات کی قسم کاذکر کیاہے، جن میں سے چار توایک دوسرے کے ساتھ ہیں، اورایک حِصہ علیحدہ صورت میں آ یاہے ۔ پہلے فرماتاہے قسم ہے ان ہواؤں کی جوبادلوں کوفضامیں چلاتی ہیں اور گردوغبار اور گیاہ اور پھولوں کے بیج روئے زمین میں ہرجگہ بکھیر تی ہیں(وَ الذَّارِیاتِ ذَرْواً )(١) ۔ اس کے بعد مزید کہتاہے،: قسم ہے ان بادلوں کی جوبارش کاسنگین بوجھ اپنے ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں(فَالْحامِلاتِ وِقْراً )(٢) ۔ اور قسم ہے ان کشتیوں کی جوعظیم درپاؤں اور سمندروں کی سطح پرآسانی کے ساتھ چلتی ہیں (فَالْجارِیاتِ یُسْراً)( ٣) ۔ اورقسم ہے ان فرشتوں کی جوکاموں کو تقسیم کرتے ہیں(فَالْمُقَسِّماتِ أَمْراً ) ۔ ایک حدیث میں جسے بہت سے مفسرین نے اسی آ یت کے ذیل میں نقل کیاہے یہ کہ آ یاہے کہ ابن الکوا (٤)نے ایک دن علی علیہ السلام سے ،جبکہ آپ علیہ السلام منبر پرخطبہ دے رہے تھے ، سوال کیا الذاریات ذرواً سے کیامراد ہے ؟آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہوائیں! اس نے عرض کیا: فَالْحامِلاتِ وِقْراً فرمایابادل ! اس نے عرض کیا: فَالْجارِیاتِ یُسْراً فمایا: کشتیاں ! اس نے عرض کیا: فَالْمُقَسِّماتِ أَمْراً فرمایا: فرشتے مراد ہیں! اس کے باوجود دوسری تفسیریں بھی ہیں، جواس تفسیر کے ساتھ قابلِ جمع ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جاریاتِ یسراً سے مراد وہ نہریں اور در یاہیں جوبارشوں کے ذریعہ جاری ہوتے ہیں، اور فَالْمُقَسِّماتِ أَمْراً سے مراد وہ رزق ہیں جو فرشتوں کے ذریعہ کھیتی باڑی کے طریق سے تقسیم ہوتے ہیں ۔ اس طرح سے ہوا ؤں کے بارے میں پھر بار دلوں کے بارے میں اوراس کے بعد دریاؤں اور نہروں کے بارے میں ، اور آخرمیں نباتات کے اگانے کے سلسلے میں گفتگو ہوئی ہے، جومسئلہ معاد کے ساتھ جواس کے بعد آ یاہے ، قریبی مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امکانِ معاد کی ایک دلیل مردہ زمینوں کوبارش کے ذریعہ زندہ کرنے کامسئلہ ہے جو قرآن میں بار ہامختلف عبادتوں میں ذکر ہواہے ۔ یہ احتمال بھی دیاگیاہے کہ ممکن ہے یہ چاروں اوصاف سب کے سب ہواؤں کے اوصاف ہوں ،وہ ہوائیں جوبادلوں کو پیدا کرتی ہیں، اور وہ ہوائیں جوانہیں اپنے دوش پراٹھائے پھر تی ہیں اوروہ ہوائیں جوانہیں ہرطرف چلاتی ہیں اوروہ ہوائیں جوبارش کے قطروں کوہرطرف بکھیرتی ہیں( ٥) ۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہُوئے کہ ان آ یات کی تعبیریں جامع اور کلی ہیں، لہٰذا وہ ان تمام معانی کواپنے اندر جگہ دے سکتی ہیں ،لیکن عمدہ وہی پہلی تفسیر ہے ۔ یہاں یہ سوال سامنے آ تاہے کہ اگر فرشتے مرادہوں ، توفرشتے کن امور کوتقسیم کرتے ہیں؟ اس کے لیے ہمارا جواب یہ ہے کہ : تقسیم کارممکن ہے کہ اس عالم کے کل امور کی تدبیر ہے مربوط ہو، کیونکہ فرشتگان الہی کے کچھ گروہ خداکے فرمان سے اس کے امور کی تدبیر کواپنے ذمہ لیے ہُوئے ہیں، اور بھی ممکن ہے کہ یہ تقسیم ارزاق ،یا زمین کے مختلف منطقوں میں بارش کے قطرات کے تقسیم سے مربوط ہو،( ٦) ۔ ان چار قسموں کو بیان کرنے کے بعد جوسب کی سب اُس مطلب کی اہمیّت کو بیان کرتی ہیں، جواُن کے بعد آ رہاہے ، فرمانا ہے : جوکچھ تمہیں وعدہ دیاگیاہے،وہ یقینا سچ ہے ۔(انَّما تُوعَدُونَ لَصادِق )(٧) ۔ دو بارہ تاکید کے عنوان سے مزید کہتاہے: اس میں شک نہیں کہ اعمال کی جزاء واقع ہوکر رہے گی (وَ اِنَّ الدِّینَ لَواقِع ) ۔ دین یہاں جزا ء کے معنی میں ہے ،جیساکہ مالک یوم الدین میں آ یاہے، اورصولاً قیامت کاایک نام یوم الدین (روزجزا )ہے.اس سے واضح ہوجاتاہے، کہ واقع ہونے والے وعدوں سے مراد ، یہاں قیامت وحساب وجزاوسزابہشت و دوزخ سے مربُوط وعدے ،اورمعاد سے مربوط تمام امور ہیں، اس بناء پر پہلا جُملہ قیامت کے تمام وعدوں کوشامل ہے ، اور دوسرا جُملہ مسئلہ جزاء پر ایک تاکید ہے ۔ بعدکی چند آ یات میں بھی یوم الدینکے بارے میں گفتگو آ ئی ہے، اور جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے وہ قسمیں جواس سُورہ کے آغاز میں آ ئی ہیں، وہ ان قسموں کے نتائج کے ساتھ ایک واضح وروشن تعلق اورمناسبت رکھتی ہیں،کیونکہ بادلوں ، کاچلنا ، بارش کابرسنا ، اوراس کے نتیجہ میں مردہ زمینوں کازندہ ہونا خودقیامت ومعاد کے منظر کی اس دُنیا میں نشاندہی کرتاہے ۔ بعض مفسرین نے ماتوعدونکی یہاں ایک زیادہ وسیع مفہوم کے ساتھ تفسیر کی ہے ،جوخدا کے تمام وعدوں،قیامت و دنیا و تقسیم ارزاق اوراس جہان میں اور دوسرے جہان میں مجرموں کی سزا کے ساتھ مربوط ہیں اورمومنین صالح کی کامیابی کوشامل ہیں، اسی سورہ کی آیت ٢٢ جوکہتی ہے وَ فِی السَّماء ِ رِزْقُکُمْ وَ ما تُوعَدُونَ (تمہارارزق اور جوکچھ تم سے وعدہ کیاگیاہے آسمانوں میں ہے)ممکن ہے اسی معنی کی تائید ہو، اور چونکہ آ یت کالفظ مطلق ہے ،لہٰذا یہ عمومیت بعید نہیں ہے ۔ بہرحال ،خدا کے سب وعدے سچے ہیں، کیونکہ وعدہ کی مخالفت یاتو جہالت کے سبب سے ہوتی ہے ، یاعجزہے ، وہ جہالت جووعدہ کرنے والے کی فکر اورسو چ کوبدل کررکھ دیتی ہے ، اوروہ عجزجواُسے وعدہ کی وفاسے روک دیتاہے، لیکن خدا عالم اور قادر ہے ،لہٰذااس کے وعدے تخلف ناپذیر ہیں،یعنی پکّے ہیں ۔ ١۔ "" ذاریات "" جمع ہے "" ذاریہ "" کی ،ایسی ہواؤں کے معنی میں جو چیزوں کواڑاتی ہیں ۔ ٢۔ "" وقر"" (بروزم فکر) بھاری بوجھ کے کے معنی میں ہے ، نیز کانوں کے بھاری ہونے کے معنی میں آ یاہے"" وقار"" بھی سنگینی حرکات اور سکون و بربادی کے معنی میں ہے ۔ ٣۔ "" جاریات"" "" جاریہ"" کی جمع ہے جوکشتی کے معنی میں ہے،جاری پانی کی نہروں کے معنی میں بھی آ یاہے "" "" فیھاعین جاریة "" (غاشیہ،١٢) اوراسی طرح سُورج کے معنی میں ، آسمان میں اس کی حرکت کی بناء پر ، اور نوجوان لڑ کی کوبھی "" جاریة "" کہاجاتاہے ،کیونکہ جوانی کوخوشی اس کے تمام وجودمیں جاری ہوتی ہے ۔ ٤۔ اس کانام عبداللہ تھا، جوامیر المومنین علی علیہ السلام کے زمانہ میں رہتاتھااورآپ کے سخت ترین دشمنوں میں سے تھا، خود کو ان کودوست کہتاتھااور کار شکنی کرتاتھا ۔ ٥۔ "" تفسیر قخر رازی "" جلد ٢٧ ،صفحہ ١٩٠۔ ٦۔ اس نکتہ کی توجہ بھی ضروری ہے کہ "" والذاریات"" میں "" واؤ"" قسم کاواؤ ہے ، اور "" فا"" بعدوالے جملہ میں فاء عاطفہ ہے ،جویہاں قسم کامفہوم رکھتی ہے،لیکن اس کے باوجود ان چارقسموں میں ایک قسم کے ربط کوبیان کرتی ہے ۔ ٧۔ توجہ رکھنی چاہیئے کہ "" انما"" میں"" ما"" موصولہ ہے اور"" ان"" کااسم ہے اور"" صادق"" اس کی خبرہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 51:1-6
سوره ذاریات/ آیه 1- 6
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ ١۔وَ الذَّارِیاتِ ذَرْوا ۔ فَالْحامِلاتِ وِقْرا ۔ فَالْجارِیاتِ یُسْرا ۔ فَالْمُقَسِّماتِ أَمْرا ۔ ِنَّما تُوعَدُونَ لَصادِق۔ وَ ِنَّ الدِّینَ لَواقِع۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمان ورحیم ہے ١۔ ان ہواؤں کی قسم جوبادلوں کوچلاتی ہیں (اور گردو غبار اور نباتات کے بیجوں کوحرکت میں لاتے ہیں ۔ ٢۔ اور پھر ان بادلوں کی قسم جو (بارش کا) بارسنگین اپنے ساتھ اٹھاتے ہیں ۔ ٣۔ پھر قسم ہے ان کشتیوں کی جو آسانی کے ساتھ چلتی ہیں ۔ ٤۔ اورقسم ہے ان فرشتوں کی جوکاموں کو تقسیم کرتے ہیں ۔ ٥۔ (ہاں !ان سب کی قسم ) جوکچھ تجھے وعدہ دیاگیاہے و ہ یقیناسچ ہے ۔ ٦۔ اوربلاشک وشبہ اعمال کی جزاو اقع ہوکررہے گی ۔