يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
O you who have faith! Indeed wine, gambling, idols, and the divining arrows are abominations of Satan’s doing, so avoid them, so that you may be felicitous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:90
[Pooya/Ali Commentary 5:90] Intoxicating agents and gambling have been prohibited through al Baqarah : 219 (see commentary). Many scholars (Abu Hanifa, Hakim Ibn Sad, Suyuti, Shibli, Ibn Hajar) have mentioned in their books about the nabidh (barley malt) held lawful and taken by some of the Holy Prophet 's companions. In Shi-a fiqh all intoxicating agents are held unlawful. The Holy Prophet said: "Do not visit a sick person if he drinks wine (or any intoxicating drink), if he dies do not attend his funeral prayers, if he is in distress do not give him alms; and it is like throwing your daughter into hell if you marry her to a drunkard." Aqa Mahdi Puya says: According to the Ahl ul Bayt all the prophets of Allah were strict abstainers from intoxicating drinks. Hashim, Abdul Muttalib, Abdullah, Abu Talib, Jafar, Ali and the Holy Prophet, followers of the creed of Ibrahim, never touched any intoxicating drink. Some new converts continued wine-drinking till verse 219 of al Baqarah was revealed. Yet, not satisfied with the manner of its revelation, they did not altogether abandon their old habit. Then verse 43 of al Nisa was revealed. Still drinking parties were held in secret. Once, in such a gathering, where some of his prominent companions were enjoying wholeheartedly, the Holy Prophet came and recited these verses. "We will keep away from it. We will keep away from it! O Messenger of Allah!" said the companions. After that total prohibition prevailed. According to Iqdul Farid even after the total prohibition, a renowned companion of the Holy Prophet used to drink the nabidh on the plea that without it he could not digest camel's meat, because of which some Muslim jurists think that use of nabidh is permissible .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:90-92
شراب کے بارے میں قطعی حکم اور اس کے تدریجی مراحل
جیسا کے ہم نے اس تفسیر کی جلد سوم میں سورہٴ نساء کی آیہ ۴۳ کے ذیل میں اشارہ کیا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے زمانہٴ جاہلیت میں شراب خواری اور مے نوشی کا بہت زیادہ رواج تھا اور یہ ایک عمومی و باکی صورت اختیار کر گئی تھی یہاں تک کہ بعض مورخین کہتے ہیں کہ زمانہٴ جاہلیت کے عربوں کے عشق کا خلاصہ تین چیزیں تھیں شعر و شراب اور جنگ! روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شراب کے حرام ہونے کے بعد تک بھی بعض مسلمانوں کے لیے اس کی ممانعت کا مسئلہ حد سے زیادہ سخت اور مشکل تھا ۔ یہاں تک کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ”ما حرّم علینا شیٴ اشدّ من الخمر“۔ ”شراب کے حرام ہونے سے زیادہ اور کوئی حکم ہم پر سخت تر نہیں تھا“۔(1) یہ بات واضح ہے کہ اگر اسلام چاہتا کہ اس عظیم عمومی وبا کے خلاف نفسیات اور معاشرے کے اجتماعی اصول کو مد نظر رکھے بغیر بر سر بیکار ہوجائے تو کامیابی ممکن نہ تھی لہٰذا اس نے مے نوشی کی بیخ کنی کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کیا ۔ پہلے ان کے اذہان و افکار کو آمادہ کیا گیا پھر حرمت کا حکم ناقذ کیا گیا ۔ کیونکہ مے نوشی کی عادت ان کی ایک فطرت ثانیہ بن چکی تھی پہلے مکی سورتوں میں بعض آیات میں اس کام کی برائی کی طرف کچھ اشارے کئے گئے ۔ جیسا کہ سورہٴ نحل کی آیت ۶۷ میں ہے: ”و من ثمرات النخیل و الاعناب تتخذون منہ سکراً و رزقا حسناً“ ”تم انگور اور کھجور کے ردخت کے پھلوں سے مسکرات (نشہ آور چیزیں) اور پاکیزہ روزی فراہم کرتے ہو“۔ اس مقام پر لفظ ”مسکر“ یعنی مسکر اور اس شراب کو جو وہ انگور اور خرما سے حاصل کرتے تھے رزقِ حسن کے مد مقابل بیان کیا گیا ہے اور اُسے ایک ناپاک اور آلودہ مشروب شمار کیا گیا ہے ۔ لیکن شراب خواری کی بُری عادت نے اس سے کہیں زیادہ جڑیں پکڑی ہوئی تھیں کہ اُس کی ان اشاروں سے بیخ کنی ہوجائے ۔ اس کے علاوہ شراب اُن کی اقتصادی در آمدات کے ایک حصّہ کی ضامن بھی تھی لہٰذا جب مسلمان مدینے میں منتقل ہوگئے اور پہلی اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی تو شراب خواری کی ممانعت کے بارے میں دوسرا حکم قاطع تر صورت میں نازل ہوا تا کہ افکار کو (شراب کی) حرمت کے انتہائی حکم کے لیے اور زیادہ آمادہ کیا جاسکے ۔ یہ موقع تھا جبکہ سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۱۹ نازل ہوئی: ”یسئلونک عن الخمر و المیسر قل فیہما اثم کبیر و منافع للنّاس و اثمہما اکبر من نفعہما“ اس آیت میں بعض معاشروں مثلاً دورِ جاہلیت کے لیے شراب کے اقتصادی منافع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے خطرات اور عظیم نقصانات کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے جو کہ اُس کے اقصادی منافع سے کئی درجہ بڑھ کر ہیں ۔ اس کے بعد سورہٴ نساء کی آیت ۴۳ ہے: ”یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَاٴَنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ“ اس مسلمانوں کو صراحت سے حکم دیا گیا ہے کہ وہ مستی کی حالت میں ہرگز نماز نہ پڑھیں جب تک کہ یہ نہ جانیں کہ وہ اپنے خدا سے کیا باتیں کرتے ہیں ۔ البتہ اس آیت کا مفہوم یہ نہیں تھا کہ نماز کی حالت کے علاوہ شراب پینا جائز ہے بلکہ مقصد وہی تدریجی طور پر اس کی حرمت کا حکم نافذ کرنا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت نماز کی حالت کے علاوہ دوسری حالتوں کے سلسے میں خاموش ہے اور صراحت سے کچھ نہیں کہتی ۔ مسلمانوں کی احکام اسلام سے شناسائی اور اس عظیم معاشرتی روگ کو جو اُن کے وجود کی گہرائیوں میں اُتر چکا تھا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اُن کی فکری آمادگی اس بات کا سبب بنی کہ آخری حکم مکمل صراحت اور قاطعیت سے نازل ہوا کہ جس کے بعد بہانہ سازی کرنے والے بھی اعتراض نہ کرسکیں اور وہ یہی زیر بحث آیت ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں مختلف تعبیرات کے ذریعہ اس کام کی ممنوعیت پر تاکید کی گئی ہے: ۱۔ آیت ”یا ایہا الذین آمنوا“ کے خطاب سے شروع ہوئی ہے، یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حکم کی مخالفت روح ایمان کے منافی ہے ۔ اس کے بعد لفظ ”انّما“ جو استعمال ہوا ہے حر وتاکید کے لئے ہے ۔ ۳۔ شراب اور قمار بازی کو انصاب (2) (وہ بت کہ جن کی کوئی مخصوص شکل وصورت نہیں تھی صرف پتھر کے ٹکڑے سے بنے ہوئے تھے) کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شراب اور قمار بازی کا خطرہ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ بت پرستی کے ہم پلہ قرار پایا ہے، اسی بناپر پیغمبر اکرم سے ایک روایت میں ہے: ”شراب الخمر کعابد الوثن“ ”شراب خوار بت پرست کی مانند ہے(3) ۴۔ شراب، قمار بازی اور اسی طرح بت پرستی اور ازلام (جو ایک قسم کی لاٹری ہے)(4) یہ سب رجس وپلیدی کے طور پر شمار کیے گئے ہیں (انّمَا الخمر وَالْمیسر وَالانصاب وَالازلام رِجسٌ) ۵۔ یہ سب شیطانی اعمال میں سے قرار دیئے گئے ہیں (من عمل الشیطان) ۶۔ آخر کار ان سے اجتناب کرنے کے بارے میں قطعی حکم صادر کرنے کرتے ہوئے فرماتا ہے: (فاجتنبوہ) ضمنی طور پر توجہ رہے کہ اجتناب، نہی کی نسبت زیادہ رسا مفہوم رکھتا ہے کیونکہ اجتناب کا معنی فاصلہ پر رہنا ، دوری اختیار کرنا اور نزدیک نہ جانا ہے جو کہ ”نہ پیو“ سے کہیں بہتر اور رساتر ہے ۔ ۷۔اس آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے کہ یہ حکم اس بنا پر دیا گیا ہے تا کہ تم کا میابی اور فلاح حاصل کر لو (لعلّکم تلحون) یعنی اس کے بغیر کامیابی اور نجات ممکن نہیں ہے ۔ ۸۔ بعد والی ایت میں شراب اور قمار بازی کے بعض واضح نقصان ذکر کیے گئے ہیں، پہلے کہتا ہے کہ شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور قمار بازی کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت ودوشمنی کی تخم ریزی کرے اور تمھیں نماز اور ذکر خدا سے بازرکھے (إِنَّمَا یُرِیدُ الشَّیْطَانُ اٴَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللهِ وَعَنْ الصَّلاَةِ )۔ ۹۔ اس آیت کے آخر میں استفہام تقریری کے طور پر کہتا ہے: ”کیا تم اس سے بچوگے اور رک جاؤگے“ (فَہَلْ اٴَنتُمْ مُنتَہُون)۔ یعنی کیا ان تمام تاکیدوں کے باوجود ان دو عظیم گناہوں کو ترک کرنے کے بارے میں کوئی بہانہ جوئی یا شک وتردّد کی گنجائش رہ گئی ہے ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر تک بھی گذشتہ آیات کی تصریحات کو اس لگاؤ کی وجہ سے جو (سنّی مفسّرین کی تصریح کے مطابق) انھیں شراب سے کافی نہیں سمجھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد کہنے لگے کہ یہ حکم کافی دوانی اور قناعت کنندہ ہے ۔ ۱۰۔ تیسری میں اس حکم کی تاکید کے طور پر پہلے تو مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کریں اور اس کی مخالفت سے پرہیز کریں ۔ ”اَطِیعُوا اللّٰہَ وَاَطِیعُو الرَّسُول وَاحْذَرُوا“ اس کے بعد مخالفین کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر انھوں نے پروردگار کے فرمان کی اطاعت سے روگردانی کی کیفر کردار اور سزا کے مستحق ہوںگے اور پیغمبر کی ذمہ داری اور فریضہ سوائے واضح ابلاغ اور تبلیغ کے اور کچھ نہیں ہے(فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِینُ ۔ 1۔ المنار جلد۷ صفحہ ۵۱. 2۔انصاب، نصیب کے بارے میں ہم اس تفسیر کی جلد چہارم میں بحث کرچکے ہیں ۔ 3۔حاشیہ تفسیر طبری، ج۷، ص۳۱۔ یہی حدیث تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۶۹ میں امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے ۔ 4۔”ازلام“ کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ چلد چہارم میں بحث کرچکے ہیں (دیکھئے صفحہ۲۰۵ اُردو ترجمہ)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:90-92
شراب اور قمار باطی کے مہلک اثرات
تفسیر نمونہ کی دوسری جلد میں سورہٴ بقرہ کی آیت۲۱۹ کے ذیل میں ان دو اجتماعی اور معاشرتی باؤں کے سلسلے میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے لیکن یہاں پر تاکید مطلب کے لیے قرآن مجید کی اقتدا کے طور پر ضروری ہے کہ کچھ اور نکات کا تذکرہ کیا جائے ۔ یہ نکات اُن مختلف اعداد وشمار کا مجموعہ ہیں جن میں علیحدہ علیحدہ اُن نقصانات کی گہرائی اور وسعت ظاہر ہوتی ہے جن کا تعلق ان دونوں سے ہے ۔ ۱۔ ان اعداد وشمار کے مطابق جو انگلستان میں الکحل کے جنون کے بارے میں شائع ہوئے ہیں کہ جن میں دیوانگی کا دوسری چیزوں سے ہونے سے والی دیوانگی اور جنون سے موازنہ کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۲۴۹ الکحل کے دیوانوں کے مقابلہ میں صرف ۵۳ دیوانے دوسرے اسباب کی وجہ سے ہوئے تھے(1) ۲۔ دوسرے اعداد وشمار میں جو امریکہ کے اسپتالوں سے ہاتھ لگے ہیں ان کے نفسیاتی مریضوں میں سے ۸۵ فیصد الکحل سے مریض تھے(2) ۳۔ ایک انگریزی دانشور جس کا نام ”بنٹام“ ہے لکھتا ہے: مشروباتِ الکحل شمالی ممالک میں انسان کو احمق وبے وقوف بناتے ہیں اور جنوبی ممالک میں دیوانہ بنادیتے ہیں ۔ پھر مزید کہتا ہے : دین اسلام نے تمام قسم کے مشروبات ِ الکحل کو حرام قرار دیا ہے اور یہ اسلام کی خصوصیات میں سے ہے(3) ۴۔ جن لوگوں نے مستی اور نشہ کی حالت میں کوئی قتل یا کسی اور جرم کا ارتکاب کیا ہے اور گھروں کے گھر ویران کردیئے اور خاندان تباہ کردیئے ہیں اگر ان کے اعداد وشمار جمع کیے جائیں تو وہ ہوش ربا حد تک بہت زیادہ ہوں گے(4) ۵۔فرانس میں ہر روز ۴۴۰ افراد اپنی جان الکحل کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں(5) ۶۔ایک اور اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں ایک سال میں نفسیاتی بیماریوں سے تلف ہونے والی جانیں دوسری عالمی جنگ امریکیوں کی تلف ہونے والی جانوں سے دوگنی تھیں اور محققین کے نظریہ کے مطابق امریکہ میں نفسیاتی بیماریوں میں مشروباتِ الکحل اور سگرٹ نوشی کا بنیادی حصّہ ہے(6) ۷۔ان اعداد وشمار کے مطابق جو ایک دانشور ”ہوگر“ کے ذریعے مجلّہٴ علوم کی بیسویں سالگرہ کی مناسبت سے شائع ہوئے تھے ۶۰فیصد قتل عمر، ۵فیصد مارپیٹ اور زخمی کرنے کے جرائم، ۳۰فیصد اخلاقی جرائم (جن میں محارم سے زنا کے جرائم بھی شامل ہیں) اور ۲۰فیصد چوری چکاری کے جرائم شراب اور مشروبات الکحل کے ساتھ مربوط تھے ۔ اسی دانشور کے اعداد وشمار کے مطابق ۴۰فیصد مجرم بچے الکحل کے ساتھ اثر کے حامل ہیں(7) ۸۔اقتصادی نقطہٴ نظر سے صرف انگلستان میں وہ نقصانات جو کاریگروں کے کارخانوں سے مے نوشی کی وجہ سے غیر حاضر رہنے سے پیدا ہوتے ہیں سال میں ۵۰ملین ڈالر (تقریباً اسی کروڑ روپئے موجودہ حساب سے) ہیں ۔ یہ وہ رقم جو ہزراوں نرسری، پرائمری اور ہائی اسلوکوں کے اخراجات پورے کرسکتی ہے(8) ۹۔ان اعداد وشمار کے مطابق جو مے نوشی کے نقصانات کے سلسلے میں فرانس میں شائع ہوئے ہیں ۱۳۷ ارب فرانک سالانہ انفرادی نقصانات کے علاوہ حکومت فرانس کے مخارج میں الکحل سے مدرجہ ذیل تفاصیل کے مطابق نقصان ہوتا ہیں: ۶۰ ارب فرانک عدالت اور قید خانے کے اخراجات ۔ ۴۰ ارب فرانک تعاون عمومی اور خیرات کے اخراجات ۔ ۱۰ ارب فرانک شراب خواری کے ہسپتالوں کے اخراجات ۔ ۷۰ ارب فرانک معاشرے کے امن وامان کو برقرار رکھنے کے اخراجات ۔ تو اس طرح واضح ہوجاتا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں ہسپتالوں، قتلوں، خونی فسادات، چوریوں، زیادتیوں اور حادثوں کی تعداد میخانوں کی تعداد کے ساتھ براہِ راست منسلک ہے(9) ۱۰۔ امریکہ میں اعداد وشمار کے سب سے بڑے مرکز نے ثابت کردیا ہے کہ قمار بازی کا ۳۰فیصد جرائم میں براہِ راست حصّہ ہے ۔ دوسرے اعداد وشمار کے مطابق جو قماربازوں کے سلسلے میں شائع ہوئے ہیں، بڑے افسوس کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ۹۰فیصد جیب تراشی، ۵۰فیصد اخلاقی خرابیاں، ۳۰فیصد طلاقیں، ۴۰فیصد مارپٹائی اور زخمی کرنے کے واقعات اور ۵فیصد خودکشیاں قماربازی کی وجہ سے ہوتی ہیں(10) ۹۳# لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٴَحْسَنُوا وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ ترجمہ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انھوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس چیز سے روکا جائے اُس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہ اسے مانیں ۔ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویّہ رکھیں، الله نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔ شان نزول تفسیر مجمع البیان، تفسیرطبری، تفسیر قرطبی اور بعض دوسری تفاسیر میں اس طرح آیا ہے کہ شراب وقماربازی کی حرمت کی آیت کے نزول کے بعد بعض اصحاب پیغمبر نے کہا کہ اگر ان دونوں کاموں کے یہ سب گناہ ہیں تو پھر ہمارے اُن مسلمان بھائیوں کا کیا بنے گا جو اس آیت کے نزول پہلے کرچکے ہیں اور انھوں نے اس وقت تک ان دونوں کاموں کو ترک نہیں کیا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اُنہیں جواب دیا گیا ۔ 1۔ سمپوزیوم الکحل، ص۶۵. 2۔کتاب سمپوزیوم الکحل، ص۶۵. 3۔تفسیر طنطاوی، ج۱، ص۱۶۵. 4۔دائرة المعارف، فرید وحیدی، ج۳، ص۷۹۰. 5۔بلاہائے اجتماعی قرن ما، ص۲۰۵. 6۔ مجموعہ انتشارات نسل نو. 7۔ سمپوزیوم الکحل، ص۶۶. 8۔مجموعہ انتشارات نسلِ جوان، سال دوم، ص۳۳۰. 9۔نشریہ مرکز مطالعہ پیشرفتہائے ایران (الکحل اور قمار بازی کے بارے میں) 10۔نشریہ مرکز مطالعہ پیشرفتہائے ایران (برائے الکحل و قمار بازی)