يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
O you who have faith! Do not take the Jews and the Christians for allies: they are allies of each other. Any of you who allies with them is indeed one of them. Indeed Allah does not guide the wrongdoing lot.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:51
[Pooya/Ali Commentary 5:51] The Jews and the Christians had much in common, and therefore readily formed an alliance against Islam. so anyone who makes them his friends must have some points of identity with them. A believer, in order to keep himself safe from the influence of falsehood, must avoid the company of disbelievers. The doctrines of tawalla (staying attached with the Ahl ul Bayt) and tabarra (avoiding the enemies of Allah, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt) are the articles of the faith of them followers of Muhammad and ali Muhammad. The Holy Prophet said: Do not adopt the style and mannerism of my enemies, lest you may be considered as one of them. He who appears like a certain type shall be identified as of that type.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 5:51-56
Re 51: It may noted, a friend should be one whose 1) understanding, 2) virtue, 3) confidence, 4) opinion, 5)appreciation (between right and wrong), 6) justice, and (7) sincerity can be vouched, because Jews and Christians believe in Ezra and Jesus as sons of God. They have neither understanding nor any way reliable. How can they be made friends? God and they (Jews and Christians) are God’s enemies. Re 55: It may be noted, a group of Jews entering the fold of Islam, in whom were included Abdus Salam and Ibne Surya. They asked the Prophet giving reference to Joshua son of Nun nominated as Moses’ successor who was going to be his (Prophet) successor. The Prophet took them to the mosque, whence a beggar (an angel in his habit) came out, whom the Prophet asked, if he was given any charity. he replied, pointing out to Ali, the ring was offered by him, upon which this couplet was revealed.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:51-53
غیروں پہ تکیہ
شانَ نزول میں تو عبادہ بن صامت اور عبد اللہ بن ابی کی گفتگو آئی ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ آیات صرف دوتاریخی شخصیتوں کے مابین ہونے والی گفتگو کے حوالے ہی سے نہیں دیکھی جاسکتیں بلکہ وہ دونوں دو معاشرتی مکاتب ِ فکر کی نمائندگی کررہے ہیں ۔ ایک مکتب کہتا ہے کہ دشمن سے الگ رہنا چاہئیے اور اپنی مہار اس کے ہاتھ میں نہیں دیا چاہئیے اور اس کی امداد پر اطمنان نہیں کرنا چاہئیے ۔ جبکہ دوسرا مکتبِ فکر کہتا ہے کہ اس ہنگامہ خیز دنیا میں ہر شخص اور ہر قوم کو ایک سہارے کی ضرورت ہے ۔ بعض اوقات مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے کہ غیروں میں سے کسی کو سہارا بنا لیا جائے اور غیروں کی دوستی بھی قدر وقیمت کی حامل ہے اور ایک دن وہ ثمر بخش ثابت ہوگی ۔ قرآن دوسرے مکتب کی شدت سے سر کوبی کرتا ہے او رمسلمانوں کو اس طرز فکر سے تاکید اً ڈراتا ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مسلمان یہ عظیم خدائی حکم بھلا چکے ہیں اور غیروں میں سے بعض پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی بہت سی بد بختیوں کا سر چشمہ یہی چیز ہے ۔ اُندلس اس کی زندہ نشانی ہے ۔ کل کے اندلس اور آج کے اسپانیہ میں مسلمانوں نے کیسے اپنی قوت و طاقت کے بل پر ایک درخشان تمدن کی بنیاد رکھی اور پھر غیروں پر بھروسہ کرکے اس سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کی دوسری دلیل عظیم عثمانی بادشاہت ہے جو تھوڑی ہی مدت میں گرمیوں میں پگھل جانے والی برف کی طرف بہہ گئی ۔ دور حاضر میں اس مکتب سے منحرف ہونے سے مسلمانوں نے جو کاری ضربیںکھائی ہیں وہ بھی کم نہیں ہیں لیکن تعجب ہے کہ ہم اب بھی کیوں بیدار نہیں ہوتے۔ غیر بہر حال غیرہی ہے ۔ مشترک مفادات کی خاطر اگر کوئی غیر چند قدم ہمارے ساتھ چلے بھی تو آخر کار حساس لمحاتمیں نہ صرف یہ کہ وہ ساتھ چھوڑدے گا بلکہ ہم پر کاری جربیں بھی لگائے گا ۔ چاہئیے یہ کہ آج کا مسلمان اس قرآنی صدا پر سب سے زیادہ کان دھرے اور اپنی طاقت کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہ کرے۔ پیغمبر اسلام اس بات کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ جنگ ِ احد کے موقع پر جب بہت سے یہودی مشرکین کے خلاف جنگ کے لئے آپ سے آملے تو آپ نے دوران ِ راہ ہی انھیں واپس کردیا اور ان کی مدد قبول نہ فرمائی ۔ حالانکہ یہ تعداد جنگ احد میں ایک موٴثر کر دار ادا کرسکتی تھی آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لئے کہ کچھ بعید نہ تھا کہ وہ جنگ کے حساس لمحات میں دشمن سے مل جاتے اور بچے کھچے لشکر اسلام کو بھی ختم کردیتے۔ ۵۴۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یَاٴْتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ یُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَیَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللهِ یُؤْتِیہِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ۔ ترجمہ ۵۴۔اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا ( وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا ) خدا آئندہ ایک ایسا گروہ لے آئے گا جسے وہ دوست رکھتا ہے اور وہ لوگ ( بھی) اسے دوست رکھتے ہیں ۔ جو مومنین کے سامنے متواضع اور کفارے کے مقابلے میں طاقت ور ہیں وہ راہِ خدا میں جہاد کرہیں اور سر زنش کرنے والوں کی سر زنش سے نہیں ڈرتے۔ یہ خدا کا فضل و کرم ہے ، وہ جسے چاہتا ہے ( اور اہل سمجھتا ہے ) عطا کرتا ہے اور ( خدا کا فضل) وسیع ہے ، اور خدا جاننے والا ہے ۔