وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ فَإِن تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ
Judge between them by what Allah has sent down, and do not follow their desires. Beware of them lest they should beguile you from part of what Allah has sent down to you. But if they turn their backs [on you], then know that Allah desires to punish them for some of their sins, and indeed many of the people are transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:49
[Pooya/Ali Commentary 5:49] These verses should be studied in the light of verses 42 to 48 of this surah. The Jews used to come to the Holy Prophet as contending parties but always flouted his authority after seeking his judgement if it was against their worldly interests; and inspite of their high-sounding talk of the scripture-learning, stooped low to be judged by the laws and customs of paganism. Aqa Mahdi Puya says:. Verse 50 was quoted by Bibi Fatimah Zahra in her address to the assembly of her father's companions when the first caliph, depriving her of the inheritance she had received from her father (the Holy Prophet), wrongfully confiscated her lands in Fadak. Please refer to her biography published by our Trust to know the issue of Fadak; and study the commentary of al Baqarah: 9 which makes clear the fate of those who harassed annoyed and oppressed her.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:49-50
ایک سوال اور اس کا جواب
ہوسکتا ہے یہ اعتراض کیا جائے کہ زیر بحث آیت اس امر پر دلیل ہے کہ پیغمبر بھی حق سے انحراف کرسکتے ہیں لہٰذا خدا انھیں تنبیہ کررہا ہے تو کیا یہ بات انبیاء کے معصوم ہو نے کے مقام سے مناسبت رکھتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معصوم ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پیغمبراور امام کے لئے گناہ محال ہے ورنہ ان کے لئے ایسی عصمت میں تو کوئی فضیلت نہ ہوگی بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ گناہ کی طاقت رکھنے کے باوجود گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے۔اگر چہ یہ مرتکب نہ ہوناتذکرات ِ الہٰی کی وجہ سے ہی ہو ۔ دوسرے لفظوں میں خدائی تو جہات گناہ سے پیغمبر کے محفوظ رہنے کا ایک عامل ہے ۔ انبیاء اور آئمہ کے مقام عصمت کے بارے میں تفصیلی بحث انشاء اللہ آیت تطہیر ( احزاب۔۲۳)کے ذیل میں آئے گی ۔ بعد والی آیت میں استفہام انکارتی کے طور پر فرمایا گیا ہے : کیا یہ لوگ آسمانی کتب کی پیروی کے مدعی ہیں ،توقع رکھتے ہیں کہ تم زمانہ جاہلیت کے احکام کی طرح اور تبعیض و امتیاز برتتے ہو ئے ان کے درمیان قضاوت کرو( اٴَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّةِ یَبْغُونَ ) ۔ حالانکہ اہل ایمان کے لئے حکم ِ خدا سے بہتر اور بالا تر کوئی فیصلہ نہیں ہے (وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ حُکْمًا لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ) ۔ جیسا کہ ہم گذشتہ آیات کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ یہودیوں کے مختلف قبائل میں بھی عجیب و غریب امتیازات تھے۔ مثلاً اگر بنی قریظہ کا کوئی شخص بنی نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو قصاص لیا جاتا تھا ۔ لیکن اس کے برعکس بنی نضیر کا کوئی شخص بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو قصاص نہ لیا جاتا یا یہ کہ دیت اور خون بہا عام دیت سے دو گنا لیتے تھے ۔ قرآن کہتا ہے کہ ایسے امتیازار زمانہ جاہلیت کی نشانیاں ہیں ۔ جبکہ خدا ئی احکام کی نظر میں بند گانِ خدا میں کوئی امتیاز نہیں ۔ کافی میں امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام) نے فرمایا : الحکم حکمان حکم اللہ و حکم الجاھلیة فمن اخطاٴ حکم اللہ حکم بحکم الجاھلیة حکم صرف دو طرح کے ہیں ۔ اللہ کا حکم یا جاہلیت کا حکم ۔ اور جو خدا کا حکم چھوڑ دے، اس نے جاہلیت کا حکم اختیار کرلیا ۔ ( نوالثقلین جلد ۱ ص ۶۴۰) ۵۱۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الْیَھُودَ وَالنَّصَارَی اٴَوْلِیَاءَ بَعْضھہُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ یَتَوَھَُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْھُمْ إِنَّ اللهَ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ۔ ۵۲۔ فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیھِم یَقُولُونَ نَخْشَی اٴَنْ تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَی اللهُ اٴَنْ یَاٴْتِیَ بِالْفَتْحِ اٴَوْ اٴَمْرٍ مِنْ عِنْدِہِ فَیُصْبِحُوا عَلَی مَا اٴَسَرُّوا فِی اٴَنفُسِہِمْ نَادِمِینَ۔ ۵۳۔ وَیَقُولُ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَہَؤُلاَءِ الَّذِینَ اٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اٴَیْمَانِہِمْ إِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُھُمْ فَاٴَصْبَحُوا خَاسِرِینَ۔ ترجمہ ۵۱۔اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا سہارا نہ بناوٴ وہ تو ایک دوسرے کے لئے سہارا ہیں اور جو ان پر بھروسہ کرتے ہیں وہ انھی میں سے ہیں اور خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔ ۵۲۔ تم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہو جن کے دلوں میں بیماری ہے جو ( ایک دوسرے کی دوستی میں ) ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈرہے کہ کوئی حادثہ پیش نہ آئے( کہ جس میں ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑے) شاید خدا کی طرف سے کوئی او رکامیابی یا واقعہ ( مسلمانوں کے فائدے میں ) رونما ہوجائے اور یہ لوگ اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس پر پشمان ہیں ۔ ۵۳۔ اور وہ جو ایما ن لائے ہیں کہتے ہیں کیا یہ وہی ( منافق) ہیں جو بڑی تاکید سے قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ( ان کا معاملہ یہاں تک کیوں آپہنچا کہ) ان کے اعمال نابود ہو گئے اور وہ خسارے میں جا پڑے۔ شان نزول بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جنگ ِ بدر کے بعد عبادہ بن صامت خزرجی پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یہودیوں میں کچھ میرے ہم پیمان ہیں جو تعداد میں بہت ہیں اور طاقت ور ہیں ، اب جبکہ وہ ہمیں جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں اور مسلمانوں کا معاملہ غیر مسلموں سے الگ ہو گیا ہے تو میں ان کی دوستی اور عہد و پیمان سے براٴت کا اظہار کرتا ہوں او رمیرا ہم پیمان صرف خدا اور اس کا رسول ہے ۔ عبداللہ بن ابی کہنے لگا : میں تو یہودیوں کی ہم پیمانی سے براٴت نہیں کرتا کیونکہ میں مشکل حوادث سے ڈرتا ہوں اور مجھے ان لوگوں کی ضرورت ہے ۔ اس پرپیغمبر اکرم نے فرمایا : یہودیوں کی دوستی کے سلسلہ میں مجھے جس بات کا ڈر عبادہ کے بارے میں تھا وہی تیرے متعلق بھی ہے ( اور اس دوستی اور ہم پیمانی کاخطرہ اس کی نسبت تیرے لئے بہت زیادہ ہے ) ۔ عبد اللہ کہنے لگا : اگر ایسی بات ہے تو میں بھی قبول کرتا ہوں اور ان سے رابطہ منقطع کرلیتا ہوں ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو یہودو نصاریٰ سے دوستی کرنے سے ڈرا یاگیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:49-50
شانِ نزول
بعض مفسرین نے اس پہلی آیت کی شان ِ نزول میں ابن عباس سے نقل کیا ہے : یہودیوں کے بڑوں کی ایک جما عت نے آپس میں سازش کی او رکہا کہ محمد کے پاس جاتے ہیں ۔ شاید اسے ہم اس کے دین سے منحرف کردیں ۔ یہ طے کرکے وہ پیغمبر اسلام کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم یہودیوں کے علماء اور اشراف ہیں ، اگر ہم آپ کی پیروی کرلیں تو مسلم ہے کہ باقی یہودی ہماری اقتداء کریں گے لیکن ہمارے اور ایک گروہ کے درمیان ایک نزاع ہے ( ایک شخص کے قتل یا کسی اور بات کے بارے میں ) اگر اس جھگڑے میں آپ ہمارے فائدے میں فیصلہ کردیں تو ہم آپ پر ایمنا لے آئیں گے ۔ اس پرپیغمبر اسلام نے ایسے ( غیر عادلانہ ) فیصلے سے منہ موڑ لیا ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی ۔ ( تفسیر المنار ۔ج۶ ص ۴۲۱۔) ۔ تفسیر اس آیت میں خدا تعالیٰ دوبارہ اپنے پیغمبرکو تاکید کرتا ہے کہ اہل کتاب کے درمیان حکم ِ خدا کے مطابق فیصلہ کریں ، اور ان کی ہوا وہوس کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں۔ (وَاٴَنْ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ وَلاَتَتَّبِعْ اٴَھْوَائَھُمْ ) ۔ اس حکم کی تکراریا تو ان مطالب کی وجہ سے ہے جو آیت کے ذیل میں آئے ہیں یا اس بناپر کہ اس فیصلے کا موضوع گذشتہ آیات کے فیصلے کے موضوع سے مختلف ہے ۔ گذشتہ آیات میں موضوع زنا ئے محصنہ اور یہاں موضوع قتل یا کوئی اور جھگڑا تھا ۔ اس کے بعد پیغمبر کو متوجہ کیا گیا ہے کہ انھوں نے سازش کی ہے کہ تمھیں آئیں حق و عدالت سے روگرداں کردیں تم ہوشیار اور آگاہ رہو(وَاحْذَرھُمْ اٴَنْ یَفْتِنُوکَ عَنْ بَعْضِ مَا اٴَنزَلَ اللهُ إِلَیْکَ) ۔ اور اگر اہل کتاب تمہارے عادلانہ فیصلے کے سامنے سر نہیں جھکاتے تو جان لو کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے گناہوں نے ان کا دامن پکڑ رکھا ہے اور اس سے توفیق سلب ہو چکی ہے اور خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دے( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اٴَنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُصِیبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِھِمْ) ۔ تمام گناہوں کی بجائے بعض گناہوں کا ذکر ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ تمام گناہوں کی سزا اس دنیا میں انجام نہیں پاتی صرف کچھ سزا انسان کو ملتی ہے اور باقی معاملہ دوسرے جہان کے سپرد ہوجاتا ہے۔ انھیں کون سی سزا دامن گیر ہوئی ، اس کی آیت میں کوئی صراحت نہیں ہے لیکن احتمال ہے کہ اسی انجام کی طرف اشارہ ہے ، جس سے مدینہ میں یہودی دو چار ہوئے ۔ وہ اپنی پے در پے خیانتوں کے باعث اپنا گھربار چھوڑ کر مدینہ سے باہر چلے جانے پرمجبورہوئے یایہ کہ سلبِ توفیق ان کے لئے ایک سزا شمار ہوئی ہو۔ دوسرے لفظوں میں پیہم گناہ اور ہٹ دھرمی کی سزا عادلانہ احکام سے محرومی اور بے راہ و سرگردان زندگی کی صورت میں انھیں ملی ہو۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : اگر یہ لوگ راہ ِ باطل میں ڈٹے ہو ئے ہیں تو تم پرشان نہ ہونا کیونکہ بہت سے لوگ فاسق ہیں ( وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:49-50
تفسیر
مندر جہ بالا آیات مسلمانوں کو یہودو نصاریٰ کی دوستی اور ہم کاری سے شدت کے ساتھ ڈرائی ہیں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا سہارا اور ہم پیمان نہ بناوٴ(یعنی خدا پر ایمان کا تقاضا ہے کہ مادی مفاد کے لئے ان سے ہم کاری اور دوستی نہ کرو) یَا(اٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الْیَھُودَ وَالنَّصَارَی اٴَوْلِیَاءَ ) ۔ ” اولیاء “ ”ولی “ کی جمع ہے اور” ولایت“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے دو چیزوں کے درمیان بہت زیادہ قرب ، نزدیکی اور دوستی ۔ نیز اس میں ہم پیمان ہونے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے لیکن آیت کی شان ِ نزول اور باقی موجودی قرائن کو مد نظر رکھا جائے تو پھر اس سے مراد یہاں معنی نہیں کہ مسلمان یہود و نصاریٰ سے کوئی تجارتی اور سماجی رابطہ نہ رکھیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ان سے عہد و پیمان نہ کریں ار دشمنوں کے مقابلے میں ان کی دوستی پر بھروسہ نہ کریں ۔ عہد و پیمان کا مسئلہ اس زمانے میں عربوں میں بہت رائج تھا اور اسے ” ولاء “ سے تعبیر کرتے تھے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں ” اہل کتاب “ نہیں کہا گیا بلکہ یہود و نصاریٰ کہا گیا ہے ۔ شاید یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ اپنی آسمانی کتاب پر عمل کرتے تو پھر تمہارے اچھے ہم پیمان ہوتے لیکن ایک دوسرے سے ان کا اتحاد آسمانی کتاب کی رو سے نہیں ہے بلکہ سیاسی اور نسلی اغراض پر مبنی ہے ۔ اس کے بعد ایک مختصر سے جملے سے اس نہی کی دلیل بیان فرمائی گئی ہے : ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک اپنے ہم مسلک لوگوں کے دوست اور ہم پیمان ہیں ( بَعْضھہُمْ اٴَوْلِیَاءُ بَعْضٍ ) ۔یعنی جب تک ان کے اپنے اور ان کے دوستو ں کے مفادات بیچ میں ہیں وہ تمہاری طرف ہر گز متوجہ نہیں ہوں گے۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی بھی ان سے دوستی کرے اور عہد و پیمان باندھے وہ اجتماعی او رمذہبی تقسیم کے لحاظ سے انھی کا جزء شمار ہو گا (وَمَنْ یَتَوَھَُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْھُمْ ) ۔ اور اس میں شک نہیں کہ خدا ایسے ظالم افراد کو جو اپنے ساتھ اور اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ خیانت کریں اور دشمنوں پر بھروسہ کریں ، ہدایت نہیں کرے گا ( إِنَّ اللهَ لاَیَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ) ۔ بعد والی آیت میں ان بہانہ تراشیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو بیمار فکر اراد غیر سے اپنے غیر شرعی روابط کے لئے پیش کرتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے : جن جن کے دلوں میں بیماری ہے وہ اصرار کرتے ہیں کہ انھیں اپنے لئے سہارا سمجھیں اور انھیں اپنا ہم پیمان بنائیں اور ان کا عذر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ قدرت طاقت ان کے ہاتھ میں آجائے اور پھر ہم مصیبت میں گرفتار ہو جائیں ( فَتَرَی الَّذِینَ فِی قُلُوبِھِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُونَ فِیھِم یَقُولُونَ نَخْشَی اٴَنْ تُصِیبَنَا دَائِرَةٌ) ۔۱ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے : جیسے انھیں اس بات کا احتمال ہے کہ کسی دن طاقت یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھ آجائے گی اسی طرح انھیں یہ خیال بھی آنا چاہئیے کہ آخر کار ہو سکتا ہے کہ خدا مسلمانوں کو کامیاب کرے اور قدرت و طاقت ان کے ہاتھ آجائے او ریہ منافق اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں اس پر پشمان ہیں ( فَعَسَی اللهُ اٴَنْ یَاٴْتِیَ بِالْفَتْحِ اٴَوْ اٴَمْرٍ مِنْ عِنْدِہِ فَیُصْبِحُوا عَلَی مَا اٴَسَرُّوا فِی اٴَنفُسِہِمْ نَادِمِینَ) ۔ اس آیت میں در حقیقت انھیں دو طرح سے جواب دیا گیا ہے : پہلا یہ کہ ایسے خیالات بیماردلوں سے اٹھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں سے کہ جن کا ایمان متزلزل ہے اور وہ خدا کے بارے میں بد گمانی رکھتے ہیں ورنہ کوئی صاحب ایمان ایسے خیالات کو اپنے دل میں راہ نہیں دیتا اور دوسرا یہ کہ فرض کریں کہ ان کی کامیابی کا احتمال ہو بھی تو کیا مسلمانوں کی کامیابی کا احتمال نہیں ہے ؟ جو کچھ بیان کیا گیا ہے ، اس کی بنا پر ” عسیٰ “ کا مفہوم ہے ” احتمال “ اور ” امید“ اس سے اس لفظ کا ہر جگہ استعمال ہونے والا اصلی معنی بر قرار رہتا ہے ۔ لیکن عام طور پر مفسرین نے یہاں خدا کی طرف سے مسلمانوں کے لئے قطعی وعدہ مراد لیا ہے جو کہ لفظ ”عسیٰ “ کے ظاہری مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ لفظ ” فتح“ کے بعد ” او امر من عندہ“کے جملے سے مراد یہ ہے کہ ممکن ہے مسلمان آئندہ زمانے میں اپنے دشمنوں پرجنگ اور اس میں کامیابی کی وجہ سے غالب آجائیں یاجنگ کے بغیر ان میں اتنی قدرت پیدا ہو جائے کہ دشمن جنگ کئے بغیر گھٹنے ٹیک دے دوسرے لفظوں میں لفظ ” فتح“ مسلمانوںکی فوجی کامیابیوں کی طرف اشارہ ہے اور” امر من عندہ “اجتماعی ، اقتصادی اور دیگر کامیابیوں کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خدا یہ احتمال بیان کررہا ہے اور وہ آئندہ کی وضع و کیفیت سے آگاہ ہے لہٰذا یہ آیت مسلمانوں کی فوجی ، اجتماعی اور اقتصادی کامیابیوں کی طرف اشارہ ہی سمجھی جائے گی ۔ آخری آیت میں منافقین کے انجام ِ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جب سچے مسلمانوں کو فتح و کامرانی نصیب ہو جائےاور منافقین کا معاملہ الم نشرح ہو جائے تو ” مومنین تعجب سے کہیں گے کہ کیا یہ منافق لوگ وہی نہیں ہیں کہ دعویٰ کرتے تھے اور قَسمیں کھاتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں اب ان کا یہ انجام کیوں ہوا ہے “( وَیَقُولُ الَّذِینَ آمَنُوا اٴَھَؤُلاَءِ الَّذِینَ اٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَہْدَ اٴَیْمَانِہِمْ إِنَّھُمْ لَمَعَکُمْ ) ۔2 اور اسی نفاق کی وجہ سے ان کے تمام اعمال باطل اور نابود ہو گئے کیونکہ ان کا سر چشمہ پاک اور خالص نیک نہ تھی اور ” اسی بناپر وہ اس جہان میں بھی اور دوسرے جہ ان بھی خسارے میں ہیں “( حَبِطَتْ اٴَعْمَالُھُمْ فَاٴَصْبَحُوا خَاسِرِینَ) ۔ در اصل آخری جملہ سوالِ مقدرکے جواب کی طرح ہے گویا کوئی پوچھتا ہے کہ ان کا انجام کار کیا ہو گیا تو ان کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ان کے اعمال بالکل بر باد ہو گئے ہیں اور انھیں خسارا اٹھانا پڑا ہے ۔ یعنی انھوں نے نیک اعمال ِ خلوص سے بھی انجام دئے ہوں لیکن آخر کار انھوں نے چونکہ نفاق اور شرک اختیار کیا ہے لہٰذا ان کے اعمال بر باد ہو گئے ہیں جیساکہ تفسیر نمونہ جلد دوم ( ص۶۶ اردو ترجمہ ) سورہ ٴبقرہ آیہ ۲۱۷ کے ذیل میں بیان کیا جاچکا ہے ۔ ۱۔ ”دائرة“ کا مادہ ” دور“ ہے اس کا معنی ہے ایسی چیز جو گردش میں ہو اور چونکہ تاریخ میں حکومت و سلطنت ہمیشہ گردش میں رہی ہے ، اس لئے اسے دائرة کہتے ہیں ۔ اسی طرح مختلف حوادث زندگی میں جو افراد کے گرد جمع رہتے ہیں انھیں ”دائرة “ کہا جاتا ہے ۔ 2۔مندرجہ بالا آیت میں ” ھٰؤلاء“ مبتدا ہے اور ” الذین اقسمو ا باللہ “ ا سکی خبر ہے اور ” جھد ایمانھم“ مفعول مطلق ہے ۔