وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
We have sent down to you the Book with the truth, confirming what was before it of the Book and as a guardian over it. So judge between them by what Allah has sent down, and do not follow their desires against the truth that has come to you. For each [community] among you We had appointed a code [of law] and a path, and had Allah wished He would have made you one community, but [His purposes required] that He should test you in respect to what He has given you. So take the lead in all good works. To Allah shall be the return of you all, whereat He will inform you concerning that about which you used to differ.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:48
[Pooya/Ali Commentary 5:48] "To each of you (every people or community) Allah has given a law and a way and a pattern of life", before the revelation of the final law, the Quran, which confirms the earlier revelations and preserves them from change and corruption. The word "guardian" has been exclusively used for the Quran in connection with the other revealed books. Refer to the commentary of verse 44 of this surah. Therefore Islam is a universal religion. Please refer to the commentary of al Baqarah: 4, 136 and 285; al Nisa: 150. Aqa Mahdi Puya says: According to verse 42 of this surah, if the people of the book refer their disputes to the Holy Prophet or any of his successor, it can be judged in the light of their books or in accordance with the Islamic law, or it can be referred back to their own jurists.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:48
قرآن کے مقام و مرتبے کا تذکرہ ہے
گذشتہ انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اس آیت میں قرآن کے مقام و مرتبے کا تذکرہ ہے ” مھیمن “ در اصل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی محافظ، شاہد، امین اور نگہدار ہو۔ قرآن چونکہ گذشتہ آسمانی کتب کے اصولوں کی مکمل حفاظت و نگہداری کرتا ہے اور ان کی تکمیل کرتا ہے لہٰذا اسے ” مھیمن “ قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے ہم نے اس آسمانی کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے ، جبکہ یہ گذشتہ کتب کی تصدیق کرتا ہے ( اور اس کی نشانیاں اور علامات اس کے مطابق ہیں جو گذشتہ کتب نے بتائی ہیں ) اور یہ ان کا محافظ و نگہبان ہے ( وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنْ الْکِتَابِ وَمُھَیْمِنًا عَلَیْہِ ) ۔ بنیادی طور پر تمام آسمانی کتابیں اصول ِ مسائل میں ہم آہنگ ہیں اور سب کا ہدف و مقصدایک ہی ہے یعنی سب انسانی تربیت، ارتقاء اور تکامل کے در پے ہیں اگر چہ فروعی مسائل میں تکامل و ارتقاء کے تدریجی قانون کے مطابق مختلف ہیں اور ہر نیا دین بالاتر مرحلے کی طرف قدم بڑھا تا ہے اور جامع ترین پروگرام پیش کرتا ہے ۔ ”ِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ “کے بعد”مھَیْمِنًا عَلَیْہِ “ کا ذکر جو تم پر نازل ہو ئے ہیں (فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ ) ۔یہ جملہ فاء تفریح کے ساتھ آیا ہے جو گذشتہ ادیان کے احکام کی نسبت احکام اسلام کی جامعیت کا نتیجہ ہے ۔ یہ حکم گذشتہ آیات کے اس حکم کی منافی نہیں کہ جن میں پیغمبر کویہ بتا دیا گیا ہے کہ ان کے درمیان خود فیصلہ کریں یا انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔ کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ جب اہل کتاب کے درمیان فیصلہ کرنا چاہو تو قرآن کے احکام کے مطابق فیصلہ کرو ۔ پھر مزید فرما یا گیا ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ احکام الہٰی کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال لیں ، تم ان کے ہواو ہوس اور خواہشات کی اتباع نہ کرو ۔ اور حق میں سے جو کچھ تم پرنازل ہوا ہے اس سے منہ نہ پھیرو(وَلاَتَتَّبِعْ اٴَھْوَائَھُمْ عَمَّا جَائَکَ مِنْ الْحَقِّ ) ۔ بحث کی تکمیل کے لئے فرما یا گیا ہے : تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے دین ، شریعت ، طریقہ اور واضح راستے کا تعین کردیا ہے ( لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَمِنْھَاجًا ) ۔”شرع“ اور ” شریعة“ اس راستے کو کہتے ہیں جو پانی کی طرف جاتا ہو اور وہاں کا کر ختم ہو تا ہو اور دین کو شریعت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ حقائق اور ایسی تعلیمات تک پہنچا تا ہے جو پاکیزگی ، طہارت اور انسانی زندگی کا سر مایہ ہیں ” نھج“ اور” منھاج “ واضح راستے کو کہتے ہیں راغب مفردات میں ابن عباس سے نقل کیا ہے : ” شرعة “ اور ” منھاج “ میں یہ فرق ہے کہ ” شرعة“ اسے کہا جا تا ہے جو قرآن میں وارد ہوا ہے اور منہاج سے مرادوہ امور ہیں جو سنت ِ پیغمبر میں وارد ہو ئے ہیں ۔ یہ فرق اگر چہ جاذب ِ نظر ہے لیکن اس کے لئے کوئی قطعی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ ۱ لیکن ہمارے پاس اس فرق کے لئے بھی کوئی واضح دلیل نہیں کیونکہ یہ دونوں الفاظ بہت سے مواقع پر ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے : خدا میں یہ طاقت تھی کہ وہ تمام لوگوں کو ایک ہی امت قرار دے دیتااور سب کو ایک ہی دین کا پیرو بنا دیتا لیکن یہ بات تدریجی تکامل کے قانون اور مختلف تربیتی مراحل کے اصول سے مناسبت نہیں رکھتی تھی (وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَکُمْ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَکِنْ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ ) ۔ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ ۔یعنی تاکہ تمہیں ان چیزوں کے متعلق آزمائے جو تمہیں دی گئی ہیں ۔ یہ جملہ اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ خدا نے وجود انسانی میں مختلف قسم کی استعدادیں اور صلاحیتیں پیدا کی ہیں اور وہ آزمائشوں کے ذریعے اور تعلیمات ِ انبیاء کے ذریعے لوگوں کی تربیت اور پرورش کرتا ہے ۔ اسی لئے ایک مرحلہ طے کرنے کے بعد انھیں بالاتر مرحلے میں لے جاتا ہے ایک دور کے ختم ہ ونے پر دوسرے پیغمبر کے ذریعے بالاتر دور میں لے جاتا ہے بالاتر تمام اقوام و ملل کو مخاطب کرکے دعوت دیتا ہے کہ بجائے اس کے کہ اپنی توانائیاں اختلافات و مشاجرات میں صرف کرو، نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو(فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ)کیونکہ سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے اور وہی روز قیامت ان چیزوں سے آگاہ کرے گا ، جن میں تم اختلاف کرتے ہو( إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ فِیہِ تَخْتَلِفُونَ) ۔ ۴۹۔) وَاٴَنْ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ وَلاَتَتَّبِعْ اٴَہْوَائَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اٴَنْ یَفْتِنُوکَ عَنْ بَعْضِ مَا اٴَنزَلَ اللهُ إِلَیْکَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اٴَنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُصِیبَہُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِہِمْ وَإِنَّ کَثِیرًا مِنْ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ ۔ ۵۰۔ اٴَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّةِ یَبْغُونَ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ حُکْمًا لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ۔ ترجمہ ۴۹۔ اور ان ( اہل کتاب) کے درمیان تمھیں اس کے مطابق حکم کرنا چاہئیے جو خدا نے نازل کیا ہے اور ان کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو اور اس سے بچو کہکہیں تمہیں وہ بعض ایسے احکام سے منحرف کردیں جو تم پر نازل ہوئے ہیں اور اگر وہ ( تمہارے کام اور فیصلے سے ) رو گردانی کریں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے کچھ گناہوں کے بدلے انھیں سزا دے اور بہت سے لوگ فاسق ہیں ۔ ۵۰۔ کیا وہ ( تم سے ) زمانہ ٴ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اہل ایمان کے لئے خدا سے بہتر حکم کون کر سکتا ہے ۔ ۱۔ بعض بذرگ مفسرین کا نظر یہ ہے کہ دین اور شریعت کے درمیان فر ق یہ ہے کہ دین توحید اور دیگر اصول سے عبارت ہے جو تمام مذاہب میں مشترک ہیں اسی لئے دین ہمیشہ ایک ہی رہا ہے لیکن شریعت ایسے قوانین ، احکام کو کہا جاتا ہے جو ان مذاہب میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔