وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
Let the people of the Evangel judge by what Allah has sent down in it. Those who do not judge by what Allah has sent down—it is they who are the transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:47
[Pooya/Ali Commentary 5:47] The Christians, as the Jews in verse 44 of this surah, have been warned not to use their own discretion but to judge in the light of the revealed books. Aqa Mahdi Puya says: Those who do not act by that which has been revealed have been described as infidels in verse 44, unjust in verse 45, and transgressors in verse 47 (of this surah). There is no justification in restricting the application of these descriptions to the Jews and the Christians only, because any one, Muslim or non-Muslim, who does not submit to the absolute authority of Allah's commands and guidance becomes a kafir (infidel), or a zalim (unjust), or a fasiq (transgressor) according to the degree of disobedience he has employed in his actions.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:47
وہ جو قانونِ الہٰی کے مطابق حکم نہیں کرتے
گذشتہ آیات میں انجیل کے نازل ہونے کا ذکر ہے ۔ اب اس آیت میں فرمایا گیا ہے : ہم نے اہل انجیل کو حکم دیا کہ جو کچھ خدا نے اس میں نازل کیا ہے اس کے مطابق حکم اور فیصلہ کریں (وَلْیَحْکُمْ اٴَہْلُ الْإِنجِیلِ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فِیہِ) ۔ اس میں شک نہیں کہ اس جملے سے یہ مراد نیں کہ قرآن عیسائیوں کو یہ حکم دے رہا ہے کہ انھیں اس وقت انجیل کے احکام پر عمل کرنا چاہئیے کیونکہ یہ بات تو قرآن سے مناسبت نہیں رکھتی کہ جو نئے آئیں اور دین کا اعلان کررہا ہے ، پرانے دین کو منسوخ کررہا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم نے عیسیٰ پر انجیل نازل کرنے کے بعد اس کے پیروکاروں کا حکم دیا تھا کہ وہ اس پر عمل کریں اور ا س کے مطابق فیصلے کریں ۔ ۱ اس آیت کے آخر میں بطور تاکید فرماتا ہے : جو لوگ حکم ِ خدا کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فاسق ہیں ( وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْفَاسِقُونَ ) ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں ایک مقام پر انہی افراد کو ” کافر “ کہا گیا ہے ۔ دوسرے مقام پر ” ظالم “ قراردیا گیا ہے اور تیسرے مقام پر ” فاسق“ کہا گیا ہے ۔ تعبیر میں یہ فرق ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ ہر حکم تین پہلو رکھتا ہے ۔ ایک طرف سے وہ قانون بنانے والے ( خدا ) پر منتہی ہوتا ہے دوسری طرف قانون جاری کرنے والے ( حاکم و قاضی) تک پہنچتا ہے اور تیسری طرف اس شخص کہ جس پر قانون جاری ہورہا ہے ( محکوم) تک پہنچتا ہے ۔ گویا ہر تعبیر تین میں سے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ جو شخص خدا کے ایک حکم کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ ایک ظرف سے قانون ِ الہٰی کو پاوٴن تلے روند کر ” کفر“ اختیار کرتا ہے ۔ دوسری طرف ایک بے گناہ انسان پر” ظلم “کرتا ہے اور تیسری طرف وہ اپنی ذمہ داری اور مسئولیت کی سر حد سے انحراف کرکے ” فاسق“ بن جاتا ہے جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ فسق کا معنی بندگی اور مسئولیت کی سر حد سے تجاوز ہے ۔ ۴۸۔ وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنْ الْکِتَابِ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ وَلاَتَتَّبِعْ اٴَہْوَائَہُمْ عَمَّا جَائَکَ مِنْ الْحَقِّ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَمِنْہَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَکُمْ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَکِنْ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ فِیہِ تَخْتَلِفُونَ۔ ترجمہ ۴۸۔ اور اس کتاب کو ہم نے حق کے ساتھ تم پر نازل کیا جبکہ یہ گذشتہ کتب کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی محافظ و نگہبان ہے لہٰذا خد انے جو احکام نازل کئے ہیں ان کے مطابق حکم کرو اور ان کے ہواو ہوس کی پیروی نہ کرو اور احکام الہٰی سے منہ نہ پھیرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے واضح آئیں اور طریقہ مقرر کردیا ہے ۔ اگر چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت قرار دیتا لیکن خدا چاہتا ہے کہ اس نے جو کچھ تمہیں بخشا ہے اس میں تمہیں آزمائے ( اور تمہاری صلاحیتیوں کی نشو ونما کرے ) اس لئے تم کو شش کرو اور نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاوٴ ۔ تم سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے اور جس میں تم نے اختلاف کیا ہے وہ تمہیں اس کی خبر دیتا ہے ۔ ۱در حقیقت اسی طرح جیسے بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ ”قلنا“ یہاں مقدر ہے اور آیت کا مفہوم ہے ” و قلنا لیحکم اھل الانجیل