وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَى أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
Also from those who say, ‘We are Christians,’ We took their pledge; but they forgot a part of what they were reminded. So We stirred up enmity and hatred among them until the Day of Resurrection, and soon Allah will inform them concerning what they had been doing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:14
[Pooya/Ali Commentary 5:14] Please refer to John 14: 16, 17; 15: 26; and 16: 7 to 13 mentioned in the commentary of al Baqarah: 253, according to which the comforter, the advocate and the spirit of truth (the Holy Prophet) will be with mankind for ever- through his descendants (the twelve holy Imams), because the Holy Prophet said: The first of us is Muhammad, the middle of us is Muhammad the last of us is Muhammad, everyone of us is Muhammad. Please refer to pages 1 to 7, and the commentary of al Fatihah: 6, 7; al Baqarah: 2 to 5, 27, 30 to 39, 51, 83, 93, 124 to 126, 207, 247 to 251; Ali Imran: 7,13,61. The Jews had corrupted their written book revealed to Musa, and the Christians had forgotten the verbal announcements of Isa.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:14
چند اہم نکات
۱۔ ” اغوینا“ کا مفہوم : یہ لفظ ” اغراء“ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے کسی چیز سے چمٹا دینا اور جو ڑ دینا ۔ بعد ازاں کسی کام کا شوق دلانے اور اس پر اکسا نے کے مفہوم میں استعمال ہو نے لگا کیونکہ یہ بات لوگوں کے معین اسباب سے مربوط ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ لہٰذا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ نصاریٰ کی عہد شکنی اور غلط کاریاں اس بات کا سبب بنیں کہ ان میں عداوت و دشمنی اور نفاق و اختلاف پیدا کر دیا جائے ( کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسبابِ تکوینی کے آثار کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے ) آج بھی عیسائی حکومتوں کے درمیان بے شمار کشمکش موجود ہیں جن کی بنا پر اب تک دو عالمی جنگیں ہوچکی ہیں ان میںگروہ بند یاں اور عداوت و دشمنی آج بھی جاری و ساری ہے ۔ علاوہ ازیں عیسائیوں کے مختلف مذاہب میں اختلافات اور عداوتیں اس قدرہیں کہ آج بھی وہ ایک دوسرے کا کشت و خون جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں مراد یہود و نصاریٰ کے درمیان دشمنی ہے جو رہتی دنیا تک جاری رہے گی لیکن آیت کا ظاہری مفہوم عیسائیوں کے مابین عداوت ہی کی تائید کرتا ہے ۔ 1 شاید اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ دردناک انجام عیسائیوں ہی میں منحصر نہیں اگر مسلمان ان کا طریقہ اپنا ئیں گے تو وہ بھی اس نتیجے سے دو چار ہو ںگے۔ ۲۔ ”عداوت “اور” بغضاء“کا مفہوم : ”عداوت“ ” عدو“ کے مادہ سے تجاوز کرنے کے معنی میں ہے ، اور ” بغضاء“ بعض “ کے مادہ سے کسی چیز سے نفرت کرنے کے معنی میں ہے ان دونوں الفاظ میں یہ فرق ہو کہ ” بغض“ زیادہ تر قلبی پہلو رکھتا ہے جب کہ ” عداوت“ عملی پہلو رکھتی ہے یا کم از کم عملی اور قلبی دونوں پہلو رکھتی ہے ۔ ۳۔ کیا یہودیت اور عیسائیت ہمیشہ موجود رہیں گی ؟ : زیر بحث آیت میں یوں لگتا ہے جیسے نصاریٰ ایک مذہب کے پیرو کار ہونے کے حوالے سے زیادہ یہودو نصاریٰ دونوں )رہتی دنیا تک موجود رہیں گے۔ یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی روایات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (علیه السلام) کے ظہور کے بعد پورے عالم میں ایک سے زیادہدین نہی ہو گا اور وہ دین اسلام ہے تو ان دو باتوں کو کیسے جمع کیا جاسکتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ عیسائیت ( عیسا ئیت اور یہودیت) ایک بہت ہی کمزور اقلیت کے طور حضرت مہدی (علیه السلام) کے دور میں بھی باقی رہ جائے کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ اس دور میں بھی انسانوں سے ارادہ کی آزادی نہیں چھینی جائے گی اگر چہ دنیا کی قطعی اکثریت دین حق کو پالے گی اور اسے قبول کرلے گی ۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ پوری دنیاپر ایک اسلامی حکومت ہی ہو گی ۔ ۱۵۔ یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَائَکُمْ رَسُولُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنْ الْکِتَابِ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ قَدْ جَائَکُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ ۔ ۱۶۔ یَہْدِی بِہِ اللهُ مَنْ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُہُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِہِ وَیَہْدِیہِمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ۔ ترجمہ ۱۵۔ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آیاہے جو آسمانی کتاب کے ان بہت سے حقائق کو واضح کرے گا جنہیں تم چھپاتے تھے او ربہت سی چیزوں سے ( جن کی عملاً ضرورت نہیں ) صرفِ نظر کرلے گا ۔ خدا کی طرف سے تمہارے پاس نور اور واضح کتاب آئی ہے ۔ ۱۶۔ جو لوگ اس کی خوشنودی کی پیروی کرتے ہیں خدا انھیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرے گا اور اپنے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر انہیں روشنی میں لیجائے گا انہیں راہِ راست کی ہدایت کرے گا ۔ 1۔ اس بنا پر ” بینھم “ کی ضمیر نصاریٰ کی طرف ہی لوٹے گی کہ جن کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:14
دائمی دشمن
گذشتہ آیت میں بنی اسرائیل کی عہد شکنی سے متعلق گفتگو تھی اب اس آیت میں نصاریٰ کی پیمان شکنی کا تذکرہ ہے ۔ ار شاد فرمایا گیا ہے : دعوائے نصرانیت کرنے والوں کی ایک جماعت جس سے ہم نے عہد و فا لیا تھا پیمان شکنی کی مرتکب ہوئی انھیں جو احکام دئے گئے تھے ان کا ایک حصہ انھوں نے فراموش کردیا ( وَمِنْ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَی اٴَخَذْنَا مِیثَاقَہُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوا بِہِ) ۔ ہاں انھوں نے بھی خد اسے پیمان باندھا تھا کہ وہ حقیقت توحید سے منحرف نہیں ہوں گے اور احکام الہٰی کو فراموش نہیں کریں گے اور آخری پیغمبر کی نشانیاں نہیں چھپائیں گے لیکن انھوں نے بھی یہودیوں کا سا طرز عمل اختیار کرلیا ۔ فرق یہ ہے کہ قرآن یہودیوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کی قلیل تعداد پاک اور حق شناس تھی لیکن نصاریٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ منحرف ہوگیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسائیوں کی نسبت یہودیوں کی نسبت میں سے منحرف ہونے والے زیادہ تھے۔ موجودہ اناجیل کی تاریخ کہتی ہے کہ یہ ساری انجیلیں حضرت مسیح (علیه السلام) کے کئی سال بعد بعض عیسائیوں نے لکھی تھیں یہی وجہ ہے کہ ان میں واضح تناقضات موجود ہیں ۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ انجیل کی آیات کا ایک اہم حصہ بھول چکے تھے موجودہ اناجیل میں واضح طور پر خرافات موجود ہیں مثلاً حضرت مسیح (علیه السلام) کی شراب خوری ۱ کا ذکر ہے جو کہ عقل کے بھی خلاف ہے اور خود موجودہ تورات و انجیل کی بعض آیات کے بھی خلاف ہے ۔ اسی طرح مریم مجدلیہ کا قصہ بھی ہے ۔ ۲ ضمناً توجہ رہے کہ ” نصاریٰ“ ”نصرانی“کی جمع ہے ، عیسائیوں کو اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا ہے اس سلسلے میں مختلف احتمالات پیش کئے جاتے ہیں : پہلا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے بچپن ناصرہ شہر میں گزارا ۔ دوسرا یہ کہ لفظ نصران سے لیا گیا ہو ۔ یہ ایک بستی کا نام ہے جس سے نصاریٰ خاص لگاوٴ رکھتے تھے ۔ تیسرا ی ہکہ جب حضرت مسیح (علیه السلام) نے لوگوں میں سے یاروانصار طلب کیے تو انھوں نے آپ کی دعوت قبول کرلی جیسا کہ قرآن میں ہے: کماقال عیسیٰ ابن مریم للحواریین من انصاری الیٰ اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا کہ کون اللہ کے لئے میری نصرت کرنے والا ہوگا، تو حواریوں نے کہا کہ ہم انصار ِ خدا ہیں ۔ (صف۱۴) چونکہ ان سے بعض ایسے بھی تھے جو اپنے کہنے کے مطابق عمل نہ کرتے تھے اور صرف دعویٰ کی حد تک حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے یارو انصار تھے لہٰذا قرآن زیر بحث آیت میں کہتا ہے ومن الذین قالوا انا نصاریٰ (ان لوگوں میں سے جو موجود کہتے تھے کہ ہم عیسیٰ کے مدد گار ہیں لیکن وہ اس دعویٰ میں سچے نہ تھے) ۔ اس کے بعد قرآن عیسائیوں کے اعمال کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کے اعمال کے نتیجے میں ہم قیامت تک کے لئے ان میں دشمنی ڈال دی ( فَاٴَغْرَیْنَا بَیْنَہُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ ) ۔ ان کے لئے دوسری سزا کہ جس کی طرف آیت کے آخری حصے میں اشارہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ : عنقریب خدا انھیں ان کے اعمال کے نتائج کی خبر دے گا اور وہ عملی طور پر اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ( وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمْ اللهُ بِمَا کَانُوا یَصْنَعُونَ ) ۔ ۱۔انجیل یو حنا، باب ۲، جملہ ۲ تا ۱۲۔ ۲۔ انجیل لوقا، باب ۷، جملہ ۳۶ تا ۴