مَا جَعَلَ اللَّهُ مِن بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ وَلَكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
Allah has not prescribed any such thing as Bahirah, Sa’ibah, Waseelah, or Haam; but those who are faithless fabricate lies against Allah, and most of them do not exercise their reason.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:103
[Pooya/Ali Commentary 5:103] Bahira was the name given to a mother-camel which had ten young ones, her ear was then slit and she was turned loose. Sa-iba was a camel, turned loose, exempted from common services; her being so turned out was generally in fulfilment of a vow. Wasila was a term applied to sheep and goats. Ham was the dedicated stallion camel, turned loose and exempted from common services. These superstitious rites were not the ordinances of Allah, but the invention of the ignorant pagans.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:103-104
اپنے بزرگوں اور بڑوں کے نام کا بت
منجملہ اُن امور کے جو زمانہ جاہلیت بڑی شدّت کے ساتھ رائج تھے ایک اپنے بزرگوں اور بڑوں پر فخر کرنا اور پرستش کی حد تک بلاقید وشرط ان کی شخصیات، افکار، عادات اور رسوم کا احترام کرنا تھا، قرآن نے بھی اس امر کا مختلف آیات میں ذکر کیا ہے، نیز یہ امر زمانہ جاہلیت سے مخصوص نہیں تھا بلکہ بہت سی اقوام وملل میں موجود ہے اور شاید یہ ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف خرافات اور بیہودہ چیزیں پھیلنے اور منتقل ہونے کے اصلی عوامل میں سے ایک ہے، گویا ”موت“ گزرے ہوئے لوگوں کے لئے ایک قسم کی مصئونیت اور تقدّس پیدا کردیتی ہے اور انھیں احترام وتقویٰ کے حالے میں لے لیتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قدردانی کی روح اور اصول انسانی کے احترام کا تقاضا یہی ہے کہ آباؤاجداد اور اپنے بزرگوں کو محترم سمجھا جائے لیکن اس معنی میں نہیں کہ معصوم عن الخطاء جان لیا جائے اور ان کے افکار وآداب پر تنقید، تحقیق اور تجسس چھوڑ ہی دیا جائے اور ان کی بیہودہ باتوں کی بھی اندھی پیروی اور تقلید اختیار کرلی جائے ۔ یہ عمل حقیقت میں ایک قسم کی بت پرستی اور جاہلانہ منطق ہے، بلکہ ضروری یہ ہے ان کے حقوق اور مفید افکار وسنن کے احترام کے باوجود، ان کے غلط مراسم اور طور طریقوں کو سختی سے کچلا جائے، خاص طور پر جبکہ آئندہ نسلیں زمانہ گزرنے کے ساتھ علم ودانش کی ترقی اور زیادہ تجربات کی بناپر عام طور سے گذشتہ نسلوں کی نسبت زیادہ دانا اور ہوشمند ہیں اور کوئی عقل وخرد گذشتہ لوگوں کی اندھی تقلید کی اجازت نہیں دیتی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض علماء یہاں تک کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بھی اس کمزور منطق سے کنارہ کش نہیں ہوئے اور بعض اوقات بڑے ہی حیرت انگیز طریقے سے مضحکہ خیز خرافات کو عملاً قبول کرلیتے ہیں مثلاً بعض اپنے آباؤ اجداد کی تقلید میں سال کے آخر میں آگ کے اوپر کودتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح اپنے بڑوں کی آتش پرستی کو زندہ رکھ سکیں اور درحقیقت ان کی یہ منطق زمانہٴ جاہلیت کے بدووٴں کی سی منطق کے سوا اور کچھ نہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:103-104
بے دلیل تضاد
تفسیر المیزان میں تفسیر درّمنثور سے اہلِ سنت کے علماء کے ایک گروہ سے منقول ہے کہ ابوالاحوص نامی ایک شخص سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں پیغمبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے پُرانا اور بوسیدہ لباس پہن رکھا تھا، پیغمبر نے فرمایا: کیا تمھارے پاس مال ودولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! پیغمبر نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا مال میرے پاس موجود ہے؛ اونٹ، گوسفند، گھوڑے وغیرہ، پیغمبر نے فرمایا: جب خدا تجھے کوئی چیز دے تو ضروری ہے کہ اُس کے آثار بھی تم میں دکھائی دیں (نہ یہ کہ اپنی ثروت کو ایک طرف رکھ دو اور غریبوںمسکینوں کی طرح زندگی بسر کرو) ۔ اس کے بعد فرمایا: کیا تمھارے اونٹوں کے بچے پھٹے ہوئے کانوں کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں یا سالم کانوں کے ساتھ، میں نے کہا: یقینا صحیح وسالم کانوں کے ساتھ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اوٹنی کٹے ہوئے کان والا بچہ جنے؟ تو آپ نے فرمایا:پھر تو لازماً خود تم ہی تلوار ہاتھ میں لے کر اُن میں سے بعض کے کانوں کو چیرتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ”بحر “ ہے اور کچھ دوسرں کے کانوں کو کاٹ کر کہتے ہو کہ یہ”صرم “ ہے ۔میں نے کہا: جی ہاں ایسا ہی کرتا ہوں ۔ فرمایا: ہرگز ایسا کام نہ کرو، جو کچھ خدا نے تجھے دیا ہے، وہ تیرے لئے حلال ہے، اس کے بعد آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی: (مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ)(المیزان، ج۶، ص۱۷۲) ۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک حصے کو معطل اور بے مصرف چھوڑ دیتے تھے اور کنجوسی کرکے پھٹے پُرانے کپڑے پہنتے ۔در اصل یہ ایک بے دلیل تضاد تھا ۔ ۱۰۵ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اھْتَدَیْتُمْ إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ِ ترجمہ ۱۰۵۔اسے ایمان والو!اپنے اُوپر نظررکھو،جب تمھیں ہدایت حاصل ہوجائے تو ان لوگوں کی گمراہی جو گمراہ ہوچکے ہیں تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا نہیں سکے گی، تمام چیزوں کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور وہ تمھیں اس عمل سے جو تم کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا ۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:103-104
چار غیر مناسب ”بدعات“
آیت میں پہلے تو چار غیر مناسب ”بدعات“ کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ جو زمانہ جاہلیت کے عربوں میں موجود تھیں، اُنھوں نے کچھ جانوروں کے بارے میں کسی جہت سے علامت اور نشانی مقرر کررکھی تھی اور ان کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا دودھ کا پینا، اُون کاٹنا اور اُن پر سواری کرنا جائز شمار نہیں کرتے تھے ۔ بعض اوقات ان جانوروں کو آزاد چھوڑدیتے تھے کہ جہاں چاہیں چلے جائیں اور کوئی شخص اُن سے متعرض نہ ہوتا ۔ یعنی کلی طور پر اس جانور کو بے کار اور فضول چھوڑ دیتے تھے ۔ ۱۔ یہ چار قسم کے گھریلو جانور وں کی طرف اشارہ ہے، زمانہ جاہلیت میں ان سے استفادہ ممنوع سمجھا جاتا تھا، اسلام نے اس بدعت کا خاتمہ کردی- لہٰذا قرآن مجید کہتا ہے: خدا ان احکام میں سے کسی کو بھی قانونی طور پر قبول نہیں کرتا نہ اس نے بحیرہ قرار دیا نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام (مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ) ۔ باقی رہی ان چار قسم کے جانوروں کی تشریح اور وضاحت تو وہ یہ ہے: ۱۔ بحیرہ: اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس نے پانچ مرتبہ بچہ جنا ہو کہ جن میں پانچواں بچہ مادہ یا ایک روایت کے مطابق نر ہو ۔ ایسے جانور کے کان میں ایک وسیع سوراخ کردیتے تھے اور اُسے اس کے حال پر چھوڑدیتے تھے اور اسے ذبح یا قتل نہیں کرتے تھے ۔ ”بحیرہ“ بحر کے مادہ سے وسعت اور پھیلاؤ کے معنی میں ہے ۔ عرب سمندر کو بحر اس کی وسعت کی بناپر ہی کہتے ہیں اور بحیرہ کو جو اس نام سے پکارتے تھے تو یہ اُس وسیع شگاف کی وجہ سے تھا جو اُس کے کان میں وہ کردیتے تھے ۔ ۲۔ سائبہ وہ اونٹنی جس نے بارہ یا ایک روایت کے مطابق دس بچے جنے ہوں اُسے آزاد چھوڑ دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ کوئی اس پر سوار نہیں ہوتا تھا اور وہ جس چراگاہ میں جاتی آزاد تھی اور جس گھاٹ اور چشمے سے چاہتی پانی پیتی ۔ کوئی اُس سے مزاحمت کا حق نہیں رکھتا تھا ۔ کبھی کبھار صرف اس کا دودھ دوہ لیتے اور مہمان کو پلاتے (سائبہ سیب کے مادہ سے، پانی جاری ہونے، اور چلنے میں آزادی کے معنی میں ہے) ۔ ۳۔ وصیلہ اس گوسفند کو کہتے تھے جس نے سات دفعہ بچہ جنا ہو اور ایک روایت کے مطابق اس گوسفند کو کہتے تھے جو دو بچوں کو ایک ہی مرتبہ جنم دے (وصیلہ وصل کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے باہم بستگی) ایسے جانور کو قتل کرنا بھی حرام سمجھتے تھے ۔ ۴۔ حام: ”مادہ حمایت“ کا اسم فاعل ہے، جو حمایت کرنے والے کے معنی میں ہے ۔ حام اُس نر جانور کو کہتے ہیں جس سے مادہ جانوروں کی تلقیح اور جفتی میں استفادہ کیا جاتا ہے ۔ جب عرب دس مرتبہ اس جانور سے جفتی میں استفادہ کرلیتے اور ہر دفعہ اس کے نطفہ سے بچے پیدا ہوجاتا تو کہتے کہ اس جانور نے اپنی پشت کی حمایت کی ہے یعنی اب کوئی شخص اس پر سوار ہونے کا حق نہیں رکھتا (ایک معنی اس کا ”حمی“ نگہداری، رکاوٹ اور ممنوعیت بھی ہے) ۔ اُوپر والے چار عناوین کے معنی میں مفسّرین کے درمیان او راحادیث کے اندر دوسرے احتمال بھی نظر آتے ہیں لیکن سب کی قدر مشترک یہ ہے کہ مراد ایسے جانور تھے جنہوں نے حقیقت میں اپنے مالکوں کی زیادہ بار بار نتیجہ بخش طور پر خدمت کی ہو ۔ وہ بھی ان کی اس خدمت کے صلے میں ان جانوروں کے لئے ایک قسم کے احترام اور آزادی کے قائل ہوجاتے تھے ۔ یہ صحیح ہے کہ ان تمام مواقع پر جانوروں کی خدمات کے بدلے میں شکر گزاری اور قدر دانی کی روح کار فرما نظر آتی ہے اور اس لحاظ سے ان کا عمل قابل احترام تھا چونکہ ان جانوروں کے بارے میں ان سے استفادہ نہ کرنا ایک ایسا احترام تھا جس کا کوئی مفہوم نہ تھا علاوہ ازیں ایک قسم کا مال کا اتلاف، نعمات الٰہی کا ضیاع اور انھیں معطل کرنا بھی شمار ہوتا تھا سب چیزوں کو چھوڑتے ہوئے یہ جانور اس احترام کی وجہ سے جانکاہ تکالیف اور مصائب میں گرفتار ہوجاتے تھے کیونکہ عملی طور پر بہت کم افراد اس کے لئے تیار ہوتے تھے کہ انھیں صحیح غذا مہیا کریں اور ان کی حفاظت اور نگہداری کریں اور اگر اس چیز کو مد نظر رکھا جائے کہ یہ جانور بہت زیادہ سِن کے ہوتے تھے تو مزید اندازہ ہوگا کہ وہ تکلیف دہ حالت میں بے پناہ محرومیوں میں زندگی بسر کرتے تھے یہاںتک کہ مرجاتے، انہی وجوہ کی بناپر اسلام نے سختی سے ان امور سے منع کیا ۔ ان سب باتوں کو چھوڑتے ہوئے کئی ایک روایات اور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ان سب چیزوں کو یا ان میں سے بعض کو بتوں کے لئے انجام دیتے تھے اور درحقیقت انھیں بت کی نذر کرتے تھے، لہٰذا اس صورت میں اسلام کا اس کام سے مبارزہ بت پرستی سے مقابلہ بھی تھا ۔ تعجب کی بات یہ ہے بعض روایات کے مطابق جب اُن میں سے بعض جانور طبعی موت مرجاتے تو بعض اوقات اُن کے گوشت سے گویا بطور تبرک وتیمن استفادہ کرتے جو بذاتِ خود ایک قبیح فعل تھا(۱) اس کے بعد فرماتا ہے: کافر لوگ اور بت پرست ان چیزوں کی طرف نسبت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ قانونِ الٰہی ہے (وَلَکِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ) اُن میں سے اکثر اس بارے میں تھوڑاسا بھی غور وفکر نہیں کرتے تھے اور اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے تھے، بلکہ دوسروں کی اندھی تقلید کرتے تھے(وَاٴَکْثَرُھُمْ لاَیَعْقِلُونَ) بعد والی آیت میں ان کی بے تکی اور غیر مناسب تحریکوں کی دلیل ومنطق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جب اُن سے یہ کہا جائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور پیغمبر کی طرف آؤ، تو وہ اس کام سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے بڑوں کے رسم ورواج اور ان کے طریقے اور دستور کافی ہیں(وَإِذَا قِیلَ لَھُمْ تَعَالَوْا إِلیٰ مَا اٴَنزَلَ اللهُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ آبَائَنَا) ۔ حقیقت میں ان کی غلط کاریاں اور بُت پرستیاں ایک دوسری قسم کی بت پرستی سے پھوٹتی تھیں، وہ اپنے بزرگوں اور بڑے بوڑھوں کے بیہودہ رسم ورواج اور طور طریقوں کوبلاقید وشرط اختیارکرتے تھے، گویا وہ صرف ”بوڑھوں“ اور ”آباؤاجداد“ سے نسبت کو اپنے عقیدہ اور عادت ورسوم کی صحت ودرستی کے لئے کافی سمجھتے تھے ۔ قرآن صراحت سے انھیں جواب دیتا ہے: کیا ایسا نہیں کہ اُن کے آباؤاجداد صاحب علم ودانش نہیں تھے اور انھیں ہدایت حاصل نہیں ہوئی تھی(اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُھُمْ لاَیَعْلَمُونَ شَیْئًا وَلاَیَھْتَدُونَ ) ۔ یعنی اگر تمھارے وہ بڑے بوڑھے اور بزرگ جن پر تم اپنے عقیدہ اور اعمال کے لئے تکیہ ہوئے ہو، ارباب علم ودانش اور ہدایت یافتہ ہوتے تو تمھارا ان کی پیروی کرنا جاہل کا عالم کی تقلید کرنے کے زمرے میں شمار ہوتا، لیکن اس صورت میں جبکہ تم خود بھی جانتے ہو کہ وہ کوئی چیز تم سے زیادہ نہیں جانتے تھے بلکہ شاید تم سے بھی پیچھے تھے تواس حالت میں تو تمھارا معاملہ جاہل کا جاہل کی تقلید کرنے کا واضح مصداق ہے، جوکہ عقل وخرد کے ترازو میں بہت ہی ناپسندیدہ فعل ہے ۔ چونکہ اُوپر والے جملے میں قرآن نے لفظ ”اکثر“ استعمال کیا ہے اس لئے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس جہالت وتاریکی کے ماحول میں بھی ایک سمجھدار اقلیت اگرچہ وہ کمزور تھی، موجود تھی، جو ایسے اعمال کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ ۱۔تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۴۸۶-