يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ
O you who have faith! Keep your agreements. You are permitted animals of grazing livestock, except what is [now] announced to you, disallowing game while you are in pilgrim sanctity. Indeed Allah decrees whatever He desires.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:1
[Pooya/Ali Commentary 5:1] Aqd literally means tying together. Uqud (plural) here may mean covenants, contracts agreements, promises, treaties-between man and God or (any of) His prophets, or between human beings. For peace and harmony in this world fulfilment of uqud has been enjoined by Islam. Islam means complete surrender and submission to the divine will manifested through the sayings and doings of the Holy Prophet, because "He does not speak of his own will; it is naught but revelation revealed" (Najm: 2, 3); and verse 7 of al Hashr enjoins upon the believers: "whatever the Holy Prophet gives you accept it; and whatever he forbids, abstain from it." There are covenants which constitute the basis of the religion of Allah-belief in Allah, His prophets, His books, His guidance, His justice; and the covenant taken by the Holy Prophet on the day of Ghadir Khum (see commentary of al Ma-idah: 67). The divine guidance made available to mankind (from His mercy and grace), without which the din of Allah would have not been found in its true and original colour, has been clearly made known by the Holy Prophet in his last pronouncement known as hadith al thaqalayn. According to the Ahl ul Bayt the covenants referred to in this verse are those taken by the Holy Prophet from his followers on various occasions to follow and obey the holy Imams of the Ahl ul Bayt after the conclusion of his risalat. Please refer to the commentary of al Baqarah: 196 for "unlawful during hajj is game". Verse 95 of this surah also says not to kill game when one is on pilgrimage.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 5:1-11
This covenant refers to one contracted during the last pilgrimage in the tenth era of Hijri at the Valley of Khum, where fealty to Ali as their religious leader after the Prophet’s departure was exacted. 2. To be perfectly just is an attribute of Divine nature, to be so to the utmost of our ability is the glory of humanity. Justice discards party, friendship and kindred and is therefore known as blind: one man’s word is no man’s word. We should quietly hear both sides. Impartiality is the life of justice, of all good Government.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:1
۲۔ ایفائے عہد کی اہمیت
عہد و پیمان کی وفا کا مسئلہ جو زیر بحث آیت میں بیان ہوا ہے ،اجتماعی زندگی کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے بغیر کوئی اجتماعی ہم کاری اور تعلق ممکن نہیں ہے اور اگر انسان اسے ہاتھ سے دے بیٹھے تو اجتماعی زندگی اور اس کے ثمرات کو عملی طور پر کھو بیٹھتا ہے ۔ اسی بنا پر اسلامی مصادر او رکتب میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ شاید بہت کم کوئی اور چیز ہو جسے اس قدر وسعت سے بیان کیا گیا ہو کیونکہ اس کے بغیر تو معاشرہ ہر ج مرج اور عدم اطمینان کا شکار ہو جائے گا، جو نوع انسانی کے لئے سب سے بڑی اجتماعی مصیبت ہے ۔ نہج البلاغہ میں مالک اشتر کے نام اپنے فرمان میں حضرت امیر المومنین (علیه السلام) فرماتے ہیں : فانہ لیس من فرائض اللہ شیء الناس اشد علیہ اجتماعا مع تفرق اھوائھم و تشتت ارائھم من تعظیم الوفا بالعقود، و قد لزم ذٰلک المشرکوں فیھا بینھم دون المسلمین لما استوبلوا من عواقب الغدر۔ دنیا بھر کے لوگوں میں تمام تر اختلافات کے باوجود ایفائے عہد کی طرح کسی اور امر پر اتفاق نہیں ہے ۔ اسی لئے تو زمانہ جاہلیت کے بت پرست بھی اپنے عہد و پیمان کا احترام کرتے تھے ۔ کیونکہ وہ عہد شکنی کے درد ناک انجام کو جان چکے تھے ۔ 2 امیر المومنین (علیه السلام) ہی سے منقول ہے ، آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ان اللہ لایقبل الا العمل الصالح ولا یقبل اللہ الا الوفاء بالشروط و العھود ۔ خدا اپنے بندوں سے عمل صالح کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا اور ( اسی طرح ) خدا شرائط اور عہد و پیمان کے ( بارے میں بھی) ایفاء کے علاوہ کچھ قبول نہیں کرتا ۔ (سفینة البحار، ج۲ صفحہ ۲۹۴۔ ) پیغمبر اکرم سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا: لادین لمن لا عھد لہ (بحار جلد ۱۶ صفحہ ۱۴۴) ۔ جو شخص اپنے عہد و پیمان کا وفا دار نہیں اس کا کوئی دین نہیں ۔ لہٰذا ایفائے عہد ایک ایسی بات ہے جس میں افرادِ انسانی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے چاہے طرف مقابل مسلمان ہو یا کوئی غیر مسلم۔ اصطالح کے مطابق یہ انسانی حقوق میں سے ہے نہ کہ برادرونِ دینی کے حقوق میں سے ۔ ایک حدیث میں حضرت امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا : ثلاث لم یجعل اللہ عز وجل لا حد فیھن رخصة ، اداء الامانة الیٰ البر و الفاجر، و الوفاء بالعھد للبر والفاجر، و بر الوالدین برین کانا او فاجرین ۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی مخالفت کی خدا نے کسی شخص کو اجازت نہیں دی ۔ ۱۔ امانت کی ادائیگی، ہر شخص کو چاہے وہ نیک ہو یا بد ۔ ۲۔ ایفائے عہد ہر کسی سے چاہے وہ اچھا ہو یا برا اور (اصول کافی جلد ۲ صفحہ ۱۶۲)ماں باپ سے حسن سلوک ، چاہے وہ اچھے ہو ں یا برے۔ یہاں تک کہ ایک رویت میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے : اگر کوئی شخص اشارے سے بھی کوئی عہد اپنے ذمے لے لے تو اسے وفا کرنا چاہئیے۔ اس روایت کا متن یہ ہے : اذا اومی احد من المسلمین اواشار الیٰ احد من المشرکین فنزل علی ٰ ذٰلک فھو فی امان ۔3 عہد و پیمان کے بارے میں حکم پر گفتگو ہو چکی جو کہ تمام احکام اور خدائی پیمانوں پر محیط ہے اس کے بعد احکام ِ اسلام کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے ان میں سے پہلا حکم کچھ جانوروں کے گوشت کے حلال ہونے کے بارے میں ہے ، فرمایا گیا ہے : چو پائے( اور ان کے جنین ) تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں ((اٴُحِلَّتْ لَکُمْ بَہیمَةُ الْاٴَنْعامِ ) ۔ ”انعام “جمع ہے” نعم “کی جس کا معنی ہے اونٹ ، گائے اور گوسفند ۔ 4 ” بھیمة “ کا مادہ ”بھمة“ ( بر وزن” بھمة “ ) ہے ۔ اس کا معنی ہے ” محکم اور سخت پتھر“ اور ہر چیز جس کا ادراک مشکل ہو اسے ” مبہم “ کہتے ہیں اور وہ تمام جانور جو بول چال نہیں سکتے انھیں بھیمة کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی آواز میں ابہام ہوتا ہے ۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ چوپایوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں درندے اور پرندے شامل نہیں ہوتے چونکہ حیوانات کے جنین ( جو مادہ جانور کے پیٹ میں ہوتے ہیں ) بھی ایک قسم کا ابہام رکھتے ہیں اس لئے انھیں بھی ” بھبیمة“ کہا جاتا ہے ۔ اس بنابر” بھیمة الانعام “کا حلال ہونا یا تو تمام چو پایوں کے لئے ہے ( البتہ وہ جانور مستثنیٰ ہیں جن کا ذکر بعد کی آیت میں آئے گا) یا ان بچوں کے حلال ہونے کے معنی میں ہے جو حلال گوشت جانوروں کے شکم میں ہوں ( وہ بچے کہ جن کی خلقت پوری ہوگئی ہے اور کھال او ربال ان پر اگ آئے ہیں ۔ 5 کچھ جانوروں کے حلال ہونے کے بارے میں پہلے سے مشخص تھا مثلاً اونٹ، گائے اور گوسفند ، لہٰذا ممکن ہے کہ اس آیت میں ان کی جنین کی حلیت کی طرف اشارہ ہو لیکن جو بات آیت کے معنی سے زیادہ قریب نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے یعنی ایسے جانوروں کے حلال ہونے کے بارے میں بھی ہے اور ان کی جنین کے حلال ہونے سے متعلق بھی ہے اور اگر ایسے جانوروں کا حکم پہلے سے بھی معلوم تھا تب بھی یہاں مستثنیٰ قرار دیئے جانے والے جانوروں کے حکم سے پہلے مقدمے کے طور پر اس حکم کا تکرار کیا گیا ہے ۔ اس جملے کی تفسیر کے بارے میں جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس حکم کا ربط ایفائے عہد کے لازمی ہونے سے اس بنا پر تھا کہ ایفائے عہد ایک کلی بنیاد ہے ۔ یہ کلی بنیاد احکام الہٰی پراس لحاظ سے ایک تاکید ہے کہ احکام الہٰی بھی خدا کے بندوں سے عہد و پیمان کی ایک قسم ہے اس کے بعد پھر کچھ احکام بیان کیے گئے ہیں جن میں بعض جانوروں کے حلال ہونے کا ذکر ہے اور بعض جانوروں کے گوشت کے حرام ہونے کا ذکر ہے ۔ پھر آیت میں چوپایوں کے گوشت کی حرمت کے بارے میں دو استثنائی حکم ہیں : ان جانوروں کے گوشت کو استثناء کرنا حرام ہے جن کی تحریم عنقریب تمہارے لئے بیان کی جائے گی ( إِلاَّ ما یُتْلی عَلَیْکُم) ( یعنی حج کے مناسک یا عمرہ کے مناسک انجام دینے کے لئے باندھے گئے احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے ) (إِلاَّ ما یُتْلی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اٴَنْتُمْ حُرُمٌ ) ۔ 6 آیت کے آخر میں فرماتا ہے : خدا جو حکم چاہتا ہے ، صادرکرتا ہے یعنی ۔ خدا چونکہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور ہر چیز کا مالک ہے لہٰذا جو حکم بندوں کی مصلحت میں ہو اور حکمت اس کی متقاضی ہو اسے جاری کردیتا ہے ( إِنَّ اللَّہَ یَحْکُمُ ما یُریدُ) ۔ ۲۔یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تُحِلُّوا شَعائِرَ اللَّہِ وَ لاَ الشَّہْرَ الْحَرامَ وَ لاَ الْہَدْیَ وَ لاَ الْقَلائِدَ وَ لاَ آمِّینَ الْبَیْتَ الْحَرامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنْ رَبِّہِمْ وَ رِضْواناً وَ إِذا حَلَلْتُمْ فَاصْطادُوا وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ اٴَنْ صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ اٴَنْ تَعْتَدُوا وَ تَعاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوی وَ لا تَعاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ اتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدیدُ الْعِقابِ ۔ ترجمہ ۲۔ اے ایمان والو! شعائر خدا وندی ( او رمراسم حج کو محترم سمجھو اور ان کی مخالفت) کو حلال قرار نہ دو اور نہ ہی حرام مہینہ کو او رنہ بغیر نشانی والی قربانیوں کو اورنہ نشانیوں والی کو اور نہ وہ جنھیں خانہ ٴ خدا کے قصد سے پر وردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے لاتے ہو اور تم حالت ِ احرام سے نکل جاوٴ تو پھر شکار کرنا تمہارے لئے کوئی منع نہیں ہے او روہ گروہ جو مسجد الحرام کی طرف ( حدیبیہ کے سال ) تمہارے آنے میں حائل ہوا تھا ۔ اس کی دشمنی تمہیں تجاوز پر نہ ابھارے اور( ہمیشہ)نیکی اور پرہیز گاری کی راہ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور( ہر گز) گناہ اور تجاوزکی راہ ساتھ نہ دو اور خدا سے ڈرو جس کی سزا سخت ہے ۔ 1-نہج البلاغہ، حضرت علی (علیه السلام) کے خطوط میں سے خط نمبر ۵۳۔ 2-مستدرک الوسائل ج۲ ص ۲۵۰۔ 3- ” نعم “ اگر مفرد کی صورت میں استعمال ہو تو” اونٹ“ کا معنی دیتا ہے لیکن جمع کی شکل میں ہو تو اونٹ، گائے اور گوسفند بھی اس کے مفہوم میں آجاتے ہیں ( مفردات راغب ، مادہ ” نعم “ “ ) ۔ 4-اگر ”بھیمة“کا معنی آیت میں ” حیوانات“ ہو تو ” انعام “ کے ساتھ اس کی اضافت ، اضافت بیانیہ کہلائے گی اوراگر ” جنین “ کے معنی میں ہو تو اس کی اضافت ، اضافت لامیہ ہو گی ۔ 5۔ البتہ ” الا مایتلی علیکم “ جملہ استثنائیہ ہے اور ” غیر محلی الصید “ کم کی ضمیر سے حال ہے جو معنی کے لحاظ سے استثناء کا نتیجہ دیتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:1
۱۔ ایک فقہی قاعدہ
یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو حقوقِ اسلام سے بحث کرتی ہیں ۔ فقہی مباحث میں اول سے آخر تک اس سے استدلال کیا جاتا ہے اس سے ایک اہم فقہی قاعدہ معلوم ہوتا ہے جسے ” اصالة اللزوم والعقود“کہتے ہیں یعنی ہر قسم کا عہد و پیمان جو کچھ چیزوں کے بارے میں ہو یا دو افراد کے درمیان کچھ کاموں کے متعلق ہو، اس کا اجزاء اور اس پر عمل کرنا ضروری اور لازمی ہے ۔ یہاں تک ک جیسے محققین کہتے ہیں کہ مختلف قسم کے معاملات، شراکتیں ، کارو بار اور قرا دادیں جو ہمارے زمانے میں موجود ہیں اور سابقہ دور میں نہیں تھیں یا آنے والے دور میں عقلاء میں معرض وجوہ میں آئیں گی اور صحیح اصولوں کی بنیاد پر ہوں گی، یہ قاعدہ سب پر محیط ہے اور یہ آیت سب کے بارے میں ہے ( البتہ ان کلی ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے جن کا اسلام معاہدوں کے بارے میں حکم دیتا ہے ) ۔ اس آیت میں ایک فقہی قاعدہ کے طور پر استدلال کرنا اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ پیمان ِ الہٰی جو خدا اور بندوں کے درمیان باندھے گئے ہیں یا وہ مسائل جو رہبری اور امت کی قیادت سے مربوط ہیں کہ جن کا پیمان پیغمبر کے ذریعے لوگوں سے لیا گیا ہے اس میں شامل نہیں بلکہ آیت ایک وسیع مفہوم کی حامل ہے جس میں یہ تمام امور شامل ہیں ۔ اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ دو طرفہ عہد و پیمان کی وفا اور تکمیل اس وقت تک ضروری ہے جب تک کوئی ایک طرف سے توڑ نہ دے لیکن اگر ایک طرف سے اسے توڑ دیاجائے تو پھر دوسری طرف یہ لازم نہیں ہوگا کہ وہ اسے وفا کرے، اور ایسا معاملہ عقد و پیمان کے مفہوم سے ساقط ہو جاتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:1
ایفائے عہدضروری ہے
جیسا کہ اسلامی روایات اور بڑے مفسرین کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے ، سورة پیغمبر اکرم پر نازل ہونے والی آخری سورت ہے ( یا آخری سورتوں میں سے ہے ) تفسری عیاشی میں امام محمد باقر (علیه السلام) سے منقول ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (علیه السلام) نے فرمایا: ” سورہٴ مائدہ رحلت ِ پیغمبر سے دو یا تین ماہ پہلے نازل ہوئی ۔ ۱ توجہ رہے کہ اس سورہ میں وضو ، تیمم وغیرہ کے احکام اس کے آخری ہونے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ایسے بہت سے احکام تکرار و تاکید کا پہلو رکھتے ہیں ۔ لہٰذاایسے بعض احکام سورہٴ نساء میں بھی ہیں ۔ یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ سورہ ناسخ ہے منسوخ نہیں ، یہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ بات اس بات کی منافی نہیں جو اس تفسیر کی دوسری جلد میں سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۸۱ کے ذیل میں کی گئی ہے ۔ وہاں اس آیت کے نارے میں کہاگیا ہے کہ روایات کے مطابق مذکورہ آیت پیغمبر پر نازل ہونے والی آخری آیت ہے ۔ یہاں گفتگو سورہ کے بارے میں ہے اور وہاں بات ایک آیت کے متعلق تھی ۔ اس سورہ میں اس کے خاص موقع کے وجہ سے مفاہیم اسلامی بیان کیے گئے ہیں دین سے متعلق آخری پروگراموں کا تذکرہ ہے ۔ اس میں امت کی رہبری اور پیغمبر اسلام کی جانشینی کا ذکر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس سورہ کا آغاز عہد و پیمان کے لازمی ایفا کے حکم سے ہوتا ہے ۔ پہلے جملے میں فرمایا گیا ہے : اے ایمان والو: اپنے عہد و پیمان کے ساتھ ساتھ وفا کرو (۔یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ ) ۔ یہ اس لئے ہے تاکہ اہل ایمان کے لئے پیمانوں اور وعدوں کا ایفا ضروری قرار دیا جائے جو وہ خدا سے پہلے باند چکے ہیں یا جن کے متعلق اس سورہ میں اشارہ ہوا ہے یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی مسافر اپنے رشتہ داروں اور پیروکاروں سے وداع ہوتے ہوئے آخری لمحوں میں تاکید کرتا ہے کہ میری وصیتوں اور نصیحتوں کو بھول نہ جانا اور جو قول و قرار تم نے میرے ساتھ نابدھے ہیں ان کے وفا دار رہنا ۔ توجہ رہے کہ ” عقود “ ” عقد “ کی جمع ہے ” عقد “ در اصل ایک محکم چیز کے اطراف کو جمع کرنے کے معنی میں ہے اسی مناسبت سے رسی کے دوسروں کو یا دو رسیوں کو ایک دوسرے سے گرہ لگا نے کو ” عقد “ کہتے ہیں بعد ازں اس حسی معنی سے معنوی مفہوم پیدا ہوگیا اور ہر قسم کے عہد و پیمان کو ” عقد“ کہا جانے لگا ۔ البتہ بعض فقہا نے تصریح کی ہے کہ عہد کی نسبت عقد کا مفہوم محدودہے کیونکہ عقدایسے پیمان کو کہتے ہیں جو بہت مستحکم ہو نہ کہ ہ رعہد و پیمان کو ۔لہٰذا اگر بعض روایات میں اور مفسرین کی بعض تحروں میں عقد اور عہد ایک ہی مفہوم میں آئے تو یہ ہماری بیان کردہ بات کے منافی نہیں ہے کیونکہ مقصد ان دو الفاظ کی اجمالی تفسیروں کا بیان کرنا تھا نہ کہ اس کی جزئیات کا تذکرہ منظور تھا ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اصطلاح کے مطابق” العقود“ ” جمع محلی بہ الف لام “ ہے جو عمومیت کے لئے ہوتی ہے اور جملہ بھی بالکل مطلق ہے لہٰذا مندر جہ بالا آیت ہر طرح کے عہد و پیمان کے وفا کرنے کے واجب ہونے کی دلیل ہے ۔ چاہے یہ محکم عہد و پیمان انسان کا انسان کے ساتھ ہو یا انسان کا خدا کے ساتھ ہو۔ اس طرح یہ تمام خدا ئی اور انسانی اور سیاسی ، اقتصادی، اجتماعی ، تجارتی ، ازدواجی وغیرہ عہد و پیمان پر محیط ہے اور اس کا ایک مکمل وسیع مفہوم ہے ، اس کی نظر تمام انسانی پہلووٴں پر ہے ، چاہے ان کا تعلق عقیدے سے ہو یا عمل سے، وہ فطری عہد و پیمان ہو یا توحیدی، اور چاہے ان کا تعلق ان معاہدوں سے ہو جو لوگ زندگی کے مختلف مسائل میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں ۔ تفسیر روح المعانی میں راغب کے حوالے سے منقول ہے کہ وضع و کیفیت کے لحاظ سے طرفین میں ہونے والے عقد کی تین قسمیں ہں ۔ کبھی عقد خدا اور بندے کے درمیان ہوتا ہے کبھی انسان اور اس کے نفس کے مابین ہوتا ہے او رکبھی عقد انسان دوسرے انسانوں سے باندھتا ہے ۔ ( تفسیر روح المعانی، زیر بحث آیت کے ذیل میں ) ۔ ( البتہ عقد کی یہ تینوں قسمیں طرفین کے مابین میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں انسان خود اپنے ساتھ عہد و پیمان باندھتا ہے وہاں وہ اپنے آپ کو دو اشخاص کی طرف فرض کرتا ہے ) ۔ بہر حال آیت کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ اس میں وہ عہد و پیمان بھی آجاتے ہیں جو مسلمان غیر مسلموں سے باندھتے ہیں ۔ ۱ ۔ تفسیر بر ہان جلد اول صفحہ ۴۳۰۔