يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
O you who have faith! If a vicious character brings you some news, verify it, lest you should visit [harm] on some people out of ignorance, and then become regretful for what you have done.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 49:6
[Pooya/Ali Commentary 49:6] The Holy Prophet sent Walid bin Aqbah to Bani Mustalaq to collect zakat. Before becoming Muslims the tribe of Mustalaq did not like Walid, so to show their change of heart, as they were all now brothers in faith, they came out in a large gathering to receive him outside the town, but Walid, a man of easy morals, jumped at the conclusion that they wanted to kill him; so turned at once on his heels and came back to the Holy Prophet with a false conjecture that the tribe of Mustalaq had turned apostate. The truth was found out and this verse was revealed to condemn Walid, a companion of the Holy Prophet, and men like him who are ready to shed innocent blood on mere guesswork. In the reign of Uthman Walid was appointed as the governor of Kufa. Living up to his reputation, one morning, fully drunk, he came into the masjid and prayed four rak-ats in Fajr salat, and wanted to pray more if the people praying behind allowed him to do so. Yes, he was a sahabi, appropriately described as fasiq (wicked) by the Quran.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:6-8
٢۔ رہبری اوراطاعت
یہ آ یات ایک بار پھر اس بات کی تاکید کرتی ہیںکہ خدائی رہبر کاوجود ایک جمعیت کی نشو ونما اور شد وہدایت کے لازمی وضروری ہے ،اس شرط کے ساتھ کہ وہ مطاع ہونہ کہ اپنے پیرو کاروں کا مطیع اس کے فرمان کوسرآنکھوں پر رکھیں،نہ یہ کہ اس پراپنے محدُود مقاصد وافکار کے لیے دباؤ ڈالیں ۔ یہ بات نہ صرف خدائی رہبروں کے بارے میں ثابت ہے، بلکہ مسئلہ مدیریت اور فرماندہی میں ہرجگہ یہی امر کار فرماہونا چاہیئے ۔ یہ حکم رہبروں کے استبداد کے معنی میں نہیں ہے اورنہ ہی ترکِ شوریٰ کے لیے ہے ، جیساکہ اُوپر بھی اشارہ ہوچکاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:6-8
٣۔ ایمان "" عشق"" کی ایک نوع ہے نہ کہ صرف ادراک عقل
یہ آ یات ضمنی طورپر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہیں ، کہ ایمان ایک قسم کاشدید خدائی اورمعنوی علاقہ اورلگاؤ ہے ، اگرچہ اس کی بنیاد یں عقلی استد لالات سے قائم ہوتی ہیں، اسی لیے امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا: کیا حب وبغض بھی ایمان میں سے ہیں؟آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا: وھل الایمان الّا الحب والبغض؟ ! ثمّ تلا ھذہ الٰا یة : حبّب الیکم الایمان وزینہ فی قلو بکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان اولٰیئِک ھم الراشدون۔ کیا ایمان حب وبعض کے علاوہ کوئی اور چیزہے، پھر امام علیہ السلام نے زیر بحث آیت سے استدلال فرمایا جویہ کہتی ہے کہ : خدانے تمہارے لیے ایمان کو محبُوب قرار دے دیاہے اوراُسے تمہارے دلوں میں مزین کردیاہے، اورکفرو فسق وعصیان کوتمہارے لیے قابلِ نفرت بنادیاہے، اورجولوگ ایسے ہوں وہی ہدایت یافتہ ہیں ( ۱) ۔ ایک دوسری حدیث میں امام محمد باقرعلیہ السلام سے اس طرح آ یاہے : وھل الدین الّا الحب؟! کیا دین محبت کے علاوہ کوئی اور چیزہے ؟! اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی آیات سے استدلال فرمایا: جن میں سے ایک زیربحث آیت تھی ،اورآخر میں مزیدفرمایا: الدین ھوالحبّ والحبّ ھوالدین : دین محبت ہے اورمحبت دین ہے ( ۲) ۔ لیکن اس میں شک نہیں ہے . جیساکہ ہم نے بیان کیاہے کہ اسے استدلال اورمنطقی اصولوں سے بھی سیراب و بارور ہوناچاہیئے ۔ ۱۔ اصول کافی جلد٢،باب الحب فی اللہ والبغض فی اللہ حدیث ٥۔ ۲۔ تفسیرنورالثقلین ، جلد ٥،صفحہ ٨٣، ٨٤۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:6-8
سوره حجرات/ آیه 6- 8
٦۔ یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِنْ جاء َکُمْ فاسِق بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصیبُوا قَو ماً بِجَہالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلی ما فَعَلْتُمْ نادِمینَ ۔ ٧۔ وَ اعْلَمُوا أَنَّ فیکُمْ رَسُولَ اللَّہِ لَوْ یُطیعُکُمْ فی کَثیرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ ِلَیْکُمُ الْیمانَ وَ زَیَّنَہُ فی قُلُوبِکُمْ وَ کَرَّہَ ِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْیانَ أُولئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ ۔ ٨۔ فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَ نِعْمَةً وَ اللَّہُ عَلیم حَکیم ۔ ترجمہ ٦۔ اے وہ لوگو!جوایمان لائے ہواگر فاسق شخص تمہارے پاس کوئی خبرلے کرآئے تواس کے بارے میں تحقیق کرلیا کرو ،کہیں ایسانہ ہو کہ تم نادانی کی وجہ سے کسی گروہ کونقصان پہنچادو، اورپھر تم اپنے کیے پریشیمان ہو ۔ ٧۔ اورتم یہ جان لوکہ خدا کارسُول تمہارے درمیان ہی ہے اگروہ بہت سے امور میں تمہاری اطاعت کرے توتم مشقت میں پڑھ جائو گے،لیکن خدا نے تمہارے لیے ایمان ایمان کو محبوب قرار دے دیاہے اوراسے تمہارے دلوں میں زینت بخشی ہے،او ر(اس کے برعکس) کفر و فسق وگناہ کوتمہارے لیے قابلِ نفرت قراردے دیاہے،(جن لوگوں میںیہ صفات ہوں ) ہی توہدایت یافتہ ہیں ۔ ٨۔خدانے اپنی طرف سے تمہیں فضل اورنعمت عطاکی ہے،اورخدا علیم وحکیم ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:6-8
شان نزول :
پہلی زیر بحث آ یت کی تفسیر میں دوشانِ نزول بیان کی گئی ہیں. بعض نے توجیسے طبرسی نے مجمع البیان میں دونوں کاذکرکیاہے، اوربعض نے جیسے قرطبی و نورالثقلین و فی ضلال ! قرآن صرف ایک ہی پرایک اکتفاکیاہے ۔ پہلی شانِ نزول جسے اکثر مفسرین نے بیان کیاہے، یہ ہے کہ :آیہ یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِنْ جاء َکُمْ فاسِق ولیدبن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے،جسے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلئہ بنی المصطلق کی زکات جمع کرنے کے لیے بھیجاتھا، جس وقت اہل قبیلہ کوپتہ چلا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کانمائندہ آرہاہے تووہ بہت خوش ہُوئے اوراس کے استقبال کے لیے دوڑے، لیکن چونکہ ان کے اور ولید کے درمیان زمانۂ جاہلیت میں سخت دشمنی تھی، تواس نے خیال کیاکہ وہ اُسے قتل کرنے کے ارادہ سے آرہے ہیں ۔ وہ (اپنے اس گمان کی تحقیق کیے بغیر ہی) پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پلٹ آیااور عرض کیا،کہ انہوںنے زکات اداکرنے سے انکار کردیاہے،(اور ہم جانتے ہیں کہ زکات اداکرنے سے انکار حکو متِ اسلامی کے خلاف ایک طرح کی بغاوت سمجھی جاتی تھی ،تواس بناء پروہ اس بات کامدعی تھاکہ وہ مرتد ہوگئے ہیں) ۔ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پرسخت غصّہ آیااوراُن سے جنگ کرنے کا ارادہ کیاتواُوپر والی آ یت نازل ہوئی، اور مسلمانوں کوحکم دیاکہ جس وقت کوئی فاسق خبرلے کرآئے تواس کے بارے میں تحقیق کرلیا کرو( ١) ۔ بعض نے اس پرمزید کہاہے کہ ولید کی طرف سے قبیلہ بنی المصطلق کے ارتداد کی خبردینے کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالدبن ولیدبن مغیرہ کوقبیلہ بنی المصطلق کی طرف بھیجا اوریہ حکم دیاکہ جلد بازی میں کوئی کام نہ کربیٹھنا ۔ خالد راتوں رات قبیلہ کے قریب پہنچ گیا، اور اطلاع دینے والے مامورین کوتحقیق کے لیے بھیجا، انہوںنے اکرخبردی کہ بنی المصطلق مکمل طورپر اسلام کے وفادارہیں،اوران کی اذان و نماز کی صدا انہوںنے اپنے کانوں سے سُنی ہے،صبح کے وقت خالد خود ان کی طرف گیااور خبردینے والوں کی گفتار کی صداقت ملاحظہ کی وہ پیغمبرکی خدمت میں پلٹ آیااور ماجرابیان کیاتواس وقت اوپروالی آ یت نازل ہوئی، اوراس کے ساتھ ہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: التانی من اللہ ، والعجلة من الشیطان: تاخیر وتحقیق کرناخداکی طرف سے ہے اور جلد بازی سے کام لینا شیطان کی طرف سے ہوتاہے ( ٢) ۔ دوسری شان نزل جِسے صرف بعض مفسرین نے نقل کیاہے ، یہ ہے کہ یہ آ یت ماریہ زوجہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( والدہ ابراہیم )کے بارے میں نازل ہوئی ہے،کیونکہ کچھ لوگوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں یہ عرض کیاتھاکہ اس کاایک چچازاد بھائی ہے جوکبھی کبھی اس کے پاس آ تاہے (اوران دونوں میں غیرمشروع تعلقات ہیں) پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے علی علیہ السلام کوبلایا ۔ اور فرمایا: اے میرے بھائی ! یہ تلوار لو، اگرتم اس کو ماریہ کے پاس دیکھو تو اُسے قتل کردو ۔ امیر المو منین علیہ السلام نے عرض کیا،اے خدا کے رسول کیامیں گرم کئے ہُوئے سکہ(٣) کی طرف مامور ہوں کہ آپ کے حکم کو عملی جامہ پہناؤ ( یاجوکچھ حاضرشخص دیکھتاہے وہ غائب نہیں دیکھتا) مزید تحقیق کرکے ذمہ داری کوپورا کروں ۔ فرمایا: نہیں ! بلکہ اس بنیاد پرکہ حاضر اس چیز کودیکھتاہے جسے غائب نہیں دیکھتا، عمل کرو۔ علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے تلوارکمر سے باندھی اوراس کی طرف آیا، میں نے دیکھا کہ وہ ماریہ کے باس ہے، اور میں نے تلوار کھینچی تووہ بھاگ کھڑا ہوا، اورایک کھجور کے درخت پرچڑھ گیا، اس کے بعدا س نے ) اپنے آپ کواس سے نیچے گرادیا، اسی دوران اس کاپیراہن (کرتا) اُوپر اُٹھ گیا،تو معلو م ہوا، کہ وہ تواصلاً جنسی عضو رکھتاہی نہیں ،میں پیغمبرکی خدمت میں حاضر ہوااور ماجرے کی تفصیل بیان کی تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: خداکاشُکر ہے کہ اس نے بدی ، آلودگی اوراتہام کوہمارے دامن سے دُور کردیاہے(٤) ۔ ١۔ تفسیر مجمع البیان "" جلد٩""صفحہ ١٣٢۔ ٢۔ تفسیر"" قرطبی"" ،جلد ٩،صفحہ ٦١٣١۔ ٣۔ "" سکہ"" عربی زبان میں اس وسیلہ اورآلہ کے معنی میں ہے جس کے ذریعہ، ہم دینار وغیرہ پرنقش کرتے ہیں،اوراس مقصد کے لیے اُسے آگ میں گرم کرتے ہیں ، تاکہ وہ اپنانقش مکمل طورپر درہم ودینار پرمنتقل کردے، اس تعبیرسے مراد یہ ہے کہ حکم کوبے چون وچرااورکسی تحقیق کے بغیر ! اجرا کیاجائے ۔ ٤۔ "" مجمع البیان "" جلد٩ صفحہ ١٣٣، تفسیرنورالثقلین میں بھی یہ شانِ نزول اس سے زیادہ تفصیلی صورت میں بیان ہوئی ہے( جلد٥،صفحہ٨١) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:6-8
١۔ خدا کی ہدایت اور ارادہ کی آ زادی
اوپر والی آ یت ، اسلام کے نکتہ نظرسے جبرو اختیار اور ہدایت واضلال کے بارے میں ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں،کیونکہ یہ اس نکتہ کوبخوبی واضح کرتی ہیں کہ خدا کا کام رشد وہدایت کے اسباب کافراہم کرناہے ۔ ایک طرف تو رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کولوگوں کے درمیان قرار دیتاہے،اورقرآن جوہدایت و نُور کاایک پروگرام ہے نازل فرماتاہے اور دوسری طرف سے ایمان سے عشق اورکفر وعصان سے تنفروبیزاری زمین تیار کرنے کے انداز میں دل وجان کے اندر قراردیتاہے.لیکن انجام کار آزادی ارادہ اختیار خودانہیں کے سپرد کرتے ہُوئے ، ان کی ذمہ دا ریوں کواس سلسلہ میں شریعت کے قانون ان پر نافذ کرتاہے ۔ اوپروالی آ یات کے مطابق ایمان کے ساتھ عشق اورکفر سے نفرت ، بغیر کسی استثناء کے ،تمام انسانوں کے دل میں موجود اوراگر کچھ لوگوں میں یہ سلسلہ موجود نہیں ہے تووہ غلط قسم کی تربیتوں اورخود انہیں کے اعمال کی وجہ سے ہے .خدا نے کسی بھی شخص کے دل میں عصیان کی محبت اور ایمان سے بغض خلق نہیں کیاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:6-8
ساسقوں کی خبروں پر اعتبارنہ کرو
گذشتہ آ یات میں مسلمانوں اوران کے پیشوا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں وظائف اور ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو تھی، اوراس میں دواہم احکام بیان ہُو ئے تھے ، ایک خدااور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرکسی کام میں سبقت نہ کرنااور دوسرا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں گفتگو کرنے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوآواز دینے کے وقت ادب واحترام کی رعایت کرنا ۔ زیربحث آ یات اس عظیم رہبر کے سامنے اُمّت کے وظائف اور ذمہ داریوں کوجاری رکھتے ہُوئے کہتی ہیں، کہ جس وقت تم اس کی خدمت میں خبریں لے کرآؤ توان کی بنیاد تحقیق پرہونی چاہیئے اوراگر کوئی فاسق آدمی کسی چیز کی خبردے ، توبغیر تحقیق کے اُسے قبول نہ کریں، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پراُسے قبول کرنے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں ۔ پہلے فرماتاہے، اے وہ لوگو!جوایمان لائے ہو، اگرکوئی فاسق شخص تمہارے پاس خبر لے کر آئے تواس کے بارے میں تحقیق کرلیاکرو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِنْ جاء َکُمْ فاسِق بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا ) ۔ اس کے بعداس کی علّت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے: کہیں ایسانہ ہو کہ بغیر تحقیق عمل کرنے کی صورت میں کسی گروہ کو نادانی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، اورپھراپنے کیے پر تمہیں پشیمان ہوناپڑے ( أَنْ تُصیبُوا قَو ماً بِجَہالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلی ما فَعَلْتُمْ نادِمین) ۔ جیساکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگرولید بن عقبہ کے کہنے پرعمل کرلیتے اورقبیلہ بنی المصطلق کے ساتھ ایک مرتد قو م کی حیثیت سے جگن کرتے تو پھر دردناک فاجعہ اورمصیبت کاسامنا کرناپڑتا، بعد والی آ یت کے لب ولہجہ سے یہ معلو م ہوتاہے، کہ ایک گروہ اس جنگ کرنے پراصرار کررہاتھا،قرآن کہتاہے: یہ تمہارے لیے شائستہ نہیں ہے یہ عین جہالت اورنادانی ہے اوراس کاانجام ندامت و پشیمانی ہوگا ۔ عُلماء علم اصول کے ایک گروہ نے خبر واحد حجت پراس آ یت سے استدالال کیاہے ، کیونکہ آ یت یہ کہتی ہے کہ فاسق کی خبر میں تحقیق وتلاش لازمی وضروری ہے اوراس کامفہو م یہ ہے کہ شخصِ عادل خبردے تواُسے بغیرتحقیق کے قبول کیاجاسکتاہے ۔ لیکن اس استدالال پربہت سے اعتراضات ہُوئے ،جن میں سے دو زیادہ اہم ہیں: باقی کوئی خاص اہمیّت نہیں رکھتے ۔ پہلایہ کہ : اوپر والااستدالال وصف کے مفہو م کی حجیت کوقبول کرنے پرموقوف ہے جبکہ مشہور یہ ہے کہ وصف کا مفہوم حجت نہیں ہے( ١) ۔ دوسرا یہ کہ : جوعلّت آ یت کے ذیل میں بیان ہو ئی ہے وہ اس قدر وسعت رکھتی ہے کہ عادل اور فاسق دونوں کی خبر کوشامل ہے کیونکہ ظنی خبرپر عمل ، چاہے جوبھی ہو پشیمانی اور ندامت کااحتمال رکھتاہے ۔ لیکن یہ دونوں اعتراض قابل ِ حل ہیں،کیونکہ مفہو م وصف اور ہر دوسری قید ،ایسے موقعوں کے لیے جواصطلاح کے مطابق، کسی مسئلہ کے قیود اور مقام احتراز کوبیان کرنے کے لیے ہوں ، حجّت ہوتی ہے،اور اُپر والی آ یت میں اس قید( قید فاسق)کاذکر ظہور عرفی کے مطابق خبرعادل کی حجت کے بیان کے سوااور کوئی قابلِ ملاحظہ فائدہ نہیں رکھتا ۔ لیکن وہ علّت جو آ یت کے ذیل میں بیان ہوئی ہے . ہر قسم کی ادلہ ظنیہ کو شامل نہیں ہے .بلکہ یہ ایسے مواقع کے لیے ہے کہ جہاں عمل جاہلانہ یاسفیانہ ہو، کیونکہ آیت میں جہالت کے عنوان پرتکیہ ہواہے، اورہم جانتے ہیںکہ زیادہ تر اولہ کہ جہاں عمل جاہلانہ یاسفیانہ اور احمقانہ ہو، کیونکہ آ یت میں جہالت کے عنوان پرتکیہ ہواہے، اور ہم جانتے ہیںکہ زیادہ تراولہ جن پر تمام عقلاء عالم روز مرّہ کی زندگی میں تکیہ کرتے ہیں ظنی دلائل ہی ہیں ( ظواہر الفاظ ، قول شاہد، قول اہل خبر ، قول ذو الید وغیرہ کے قبیل سے ) ۔ معلو م ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بات جاہلانہ اوراسفیانہ شمارنہیں ہوتی ، اوراگروہ کبھی کبھار واقع کے مطابق نہ بھی ہو تو پھر بھی اس میں ندامت کاکوئی مسئلہ پیش نہیں آ تا، کیونکہ یہ ایک عمو می راستہ ہے ۔ بہرحال ہمارے نظر یہ کے مطابق یہ آ یت ان محکم آ یات میں سے ہے ، جو خبرواحد کی حجیت پر یہاں تک کہ موضوعات میں بھی دلالت کرتی ہے، اوراس سلسلہ میں بہت زیادہ مباحث ہیں، جن کی تشریح وتفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا،کہ مثق کہ موثق اخبار پراعتماد کے ذ ریعہ ہی بشر کی زندگی کی تاریخ کی بنیاد قائم ہے، اس طرح سے کہ اگر حجیّت خبرعادل یاموثق کامسئلہ انسانی معاشرے میں سے حذف ہوجائے تو بہت سے گذشتہ علمی مواریث ، اورانسانی معاشروں سے مربوط اطلاعات ، یہاں تک کہ بہت سے ایسے مسائل جن کے ہاتھ ہم آج اپنے معاشروں میں تعلق رکھتے ہیں ، کلی طورپر حذف ہوجائیں گے ،اورنہ صرف انسان پیچھے کی طرف پلٹ جائے گا ، بلکہ اس کی موجودہ زندگی کی ترقی کی رفتار بھی رُک جائے گی ، لہٰذا تمام عقلاء کااس کی حجیّت پراجماع ہے اور شارع مقدس نے بھی قولاً عملاً اس کی تصدیق فرمائی ہے ۔ لیکن جتنا ثقہ خبرواحد کی حجیّت ،زندگی کوسامان بخشتی ہے، اتناہی غیر موثق اخبار برتکیہ کرنا، بہت خطرناک ،اورمعاشروں کے نظام کے بکھر جانے کا موجب ہے جوبہت سے مصائب کے پیدا ہونے کاسبب بنتاہے، لوگوں کے حقوق اور حیثیت کو خطرے میں ڈال دیتاہے،اورانسان کو بے راہ روی اورانحراف کی طرف کھینچ لے جاتاہے، اور زیربحث آ یت میں قرآن کی عمدہ تعبیر کے مطابق ، انجام کار ندامت کاسبب بنتاہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے ، کہ جھوٹی خبریں گھڑنا، اور غیر موثقِ اخبار پرتکیہ قدیمی جبار اوراستعماری نظاموں کے حربوں میں سے ایک ہے ، جس کے ذریعہ وہ ایک جھوٹی فضا پیدا کرکے بے خبر اوراناآگاہ لوگوں کو،فریب اور غفلت میں رکھ کر،انہیں گمراہ کرتے ہیں، اوران کے سرمایہ کولوٹ لے جاتے ہیں ۔ اگرمُسلمان وقت کے ساتھ آ اس خدائی حکم پر حواس آ یت میں وارد ہوا ہے ، عمل کریں، اور فاسقوں کی خبروں کوبغیر تحقیق وتفتیش کے قبول نہ کریں توان عظیم بلاؤ ں سے بچ جائیں گے ۔ یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اہم مسئلہ خود خبر پروثوق واعتماد کاہے، البتہ کبھی تو یہ وثوق خبر دینے والے کی ذات پر اعتماد کی وجہ سے حاصل ہوتاہے، اور کبھی دوسرے خارجی قرائن کے ذ ریعہ، اسی لیے کچھ موقعوں پر باوجود اس کے کہ خبر دینے والا فاسق ہوتاہے، ہم اس کی خبر پراعتماد پیدا کرلیتے ہیں ۔ اس بناء پر یہ وثوق واعتماد جہاں کہیں سے حاصل ہو. چاہے بیان کرنے والے کی عدالت، تقویٰ، اور صداقت سے حاصل ہویاقرائن خارجی سے ، وہ ہمارے لیے معتبرہے، اورعقلاء کی سیرت بھی ، جوشریعت اسلامی کی تصدیق کرتی ہے،اسی بنیاد پرقائم ہے ۔ اسی بناء پر ہم فقہ اسلامی میں دیکھتے ہیں کہ بہت سے اخبار جن کی سند ضعیف ہے ، چونکہ وہ عمل مشہود قرار پاچکے ہیں، اوروہ مختلف قرائن کی بناد پراس اس خبرکی صحت سے واقف ہُوئے ہیں.لہٰذایہی معیار عمل قرار پایاہے اوراسی کے مُطابق فتویٰ دیتے ہیں ۔ اس کے برعکس بعض اوقات ایسے اخبار نقل ہُوئے ہیںجن کابیان کرنے والا معتبرشخص ہے، لیکن خارجی قرائن ہمیں اس خبرکی نسبت بدگمان کردیتے ہیں ، یہ وہ منزل ہے کہ ہمارے لیے اس خبرکو چھوڑنے کے سوا اورکوئی چارہ ئہ نہیں ہے، اگرچہ اس خبرکے بیان کرنے والا شخص عادل و معتبرہے ۔ اس بناء پر ہرجگہ معیار خود( خبر) پراعتماد ہے، اگر چہ عام طورپر راوی کی عدالت و صداقت اس اعتماد کاایک وسیلہ و ذریعہ بنتی ہے،لیکن یہ کوئی قانون کلی نہیں ہے (غور کیجیے ) ۔ بعد والی آ یت میں ایک اہم مطلب کی تاکید کے لیے جوگذشتہ آیت میں بیان ہوا تھا، مزید کہتاہے: تم یہ جان لو کہ رسول تمہارے درمیان میں ہے، اگروہ بہت سے امورمیں تمہاری اطاعت کرنے لگے ، تو تم مشقت میں پڑجاؤ گے (وَ اعْلَمُوا أَنَّ فیکُمْ رَسُولَ اللَّہِ لَوْ یُطیعُکُمْ فی کَثیرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ )(2) ۔ یہ جُملہ . جیساکہ مفسرین کی ایک جماعت نے کہاہے . اس بات کی نشاندہی کرتاہے، کہ قبیلہ بنی المصطلق کے مرتد ہونے کے بارے میں ولید کی خبر دینے کے بعد ،ظاہر بین اور سادہ مُسلمانوں کاایک ایک گروہ ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ دباؤ ڈال رہاتھا، کہ وہ قبیلہ مذکور کے برخلاف جنگ کااقدام کریں ۔ قرآن کہتاہے، یہ تمہاری خوش بختی ہے کہ خداکارسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے درمیان ہے . اور عالم وحی سے اس کارابط برقرار ہے اورجس وقت انحرافی خط اورراستے تمہارے درمیان پیدا ہو جائیں تووہ اس طریق سے تمہیں آگاہ کردتیاہے ۔ لیکن وہ رہبرورہنماہے، تمہیں یہ امید اور توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ وہ تمہاری اطاعت کرے اورتم سے حُکم احکام لے ، وہ تمہارے لیے ہرشخص سے زیادہ مہر بان ہے، اپنے افکار اس پر لادنے کے لیے اس پر دباؤ نہ ڈا لو، کیونکہ یہ بات تمہارے ہی نقصان میںہے ۔ آ یت کے آخر میں مؤ منین پرخدا کی ایک اورعظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے: لیکن خدا نے ایمان کوتمہارے لیے محبوب قرار دے دیاہے اوراُسے تمہارے دلوں میں زینت بخشتی ہے :(وَ لکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ ِلَیْکُمُ الْیمانَ وَ زَیَّنَہُ فی قُلُوبِکُمْ ) ۔ اور اس کے برعکس کفر وفسق وگناہ کوتمہارے لیے قابلِ نفرت قرار دے دیاہے (وَ کَرَّہَ ِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْیانَ) ۔ درحقیقت یہ تعبیرات قانونِ لطف وہ بھی لطف تکوینی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہیں ۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ : جس وقت کوئی حکیم کسی کام کوانجام دیناچاہتاہے تووہ ہرلحاظ سے اس کے اسباب فراہم کرتاہے یہ اصل انسانوں کی ہدایت میں بھی پُورے طورپر صادق آ تی ہے ۔ خداچاہتاہے کہ تمام انسان ۔کسی جبر کے پروگرام کے تحت قرارپائے بغیر۔ اپنے میل اور رغبت اورقصد و ارادہ سے راہ ِ حق کو طے کریں ،اس لیے ایک طرف سے تو رسُو لوں کو بھیجتاہے، اور ابنیاء کو کتبِ آسمانی کے ساتھ مبعوث فرماتاہے اور دوسری طرف سے ایمان کو انسانوں کے لیے محبُوب قرار دیتاہے.حق جوئی اورحق طلبی کے عشق کی آگ ان کے دل وجان کے اندر شعلہ ور کرتاہے اور کفر وظلم و نفاق وگناہ سے نفرت و بیزاری کااحساس ان کے دلوں میںپیدا کردیتاہے ۔ اوراس طرح ہر ایک انسان فطرتاً ایمان و پاکیزگی وتقویٰ کاخواہاں ہے اورکفر وگناہ سے بیزار ہوتاہے ۔ لیکن یہ بات کامل طورسے ممکن ہے کہ بعد کے مرحلوں میں یہ صاف وشفاف پانی جو آسمانِ خلقت سے انسانوں کے وجود میں ڈالا گیاہے،آلودہ ماحول میں رہنے کے باعث اپنی صفات کھو بیٹھے اور گناہ، کُفر اورعصیان کی نفرت انگیز بدبوحاصل کرلے ۔ یہ فطری نعمت آسمانوں کورسُول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی اور آپ پر تقدم اور سبقت نہ کرنے کی دعوت دیتی ہے ۔ اس نکتہ کی یاد آواری بھی لازم وضروری ہے کہ اس آ یت کامضمون مشورت کے مسئلہ کے ساتھ ہر گز منافق نہیں ہے، کیونکہ شوریٰ کامقصد یہ ہوتاہے کہ ہرشخص اپنے نظر یہ کو بیان کرے ،لیکن آخری فیصلہ اور نظر یہ خود پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاہوگا، جیساکہ شوریٰ والی آیت تحمیل فکر کی نفی کرتی ہے نہ کہ مشورت کی ۔ اس بارے میں کہ اُو پروالی آ یت میں فسوق سے کیامراد ہے؟ بعض نے اس کی تفسیر کذب اور جُھوٹ کے ساتھ کی ہے لیکن اس کے مفہو م لغوی کی طرف تو جہ کرتے ہُوئے ، اور آ یت میں کسی قید کے نہ ہونے کی بناء پرہرقسم کے گناہ اور اطاعت سے خارج ہونے کوشامل ہے ، اس بناء پراس کے بعد عصیان کی تعبیرتاکید کے عنوان سے ہے جیساکہ َ زَیَّنَہُ فی قُلُوبِکُمْ (اے تمہارے دلوں میں زینت دی ہے) کاجُملہ حَبَّبَ ِلَیْکُمُ الْیمان (ایمان کوتمہارا محبوب قرار دیاہے ) کہ جُملے پرایک تاکید ہے ۔ بعض فسوق کو گناہانِ کبیرہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں . جبکہ عصیان کواس سے عام سمجھتے ہیں،لیکن اس فرق واختلاف پرکوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ بہرحال آ یت کے آخر میں ایک کلی اور عمو می قاعدہ کے طورپر فرماتاہے: جن لوگوں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں(ایمان ان کی نظرمیں محبُوب و مزین ،اورکفر وفسق وعصیان ان کی نظر میں منفور ہے) وہ ہدایت یافتہ ہیں ( أُولئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُون)یعنی اگر تم اس موہبت الہٰی ( ایمان سے عشق اور کفر وگناہ سے نفرت ) کو محفوظ رکھو، اوراس پاکیز گی اورصفائے فطرت کو آلودہ نہ کرو ، توبلاشک وشبہ رشد وہدایت تمہارے انتظار میں ہے ۔ قابلِ تو جہ بات یہ ہے کہ پہلے کہ تمام جملے تو مو منین سے خطاب کی صورت میں تھے، لیکن یہ جملہ انہیں غائب کی صورت میں یاد کرتاہے، یہ تعبیرکافرق ظاہراً اس بناء پر ہے تاکہ اس بات کی نشاندہی کرے کہ یہ حکم اصحابِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک ہمہ وقتی اور عمو می حکم ہے کہ جوبھی کوئی جس زمانہ میں بھی اپنی فطرت کی صفائی اورپاکیز گی کو محفوظ رکھے گاوہ اہل نجات وہدایت ہے ۔ خداکی عظیم نعمتوں میں سے ہے ،فر ماتاہے: یہ خدا کی طرف سے ایک فضل ہے، اوروہ نعمت ہے جواس نے تمہیں عطا کی ہے اور خدا دانا وحکیم ہے :(فَضْلاً مِنَ اللَّہِ وَ نِعْمَةً وَ اللَّہُ عَلیم حَکیم )(3) ۔ اُس کے علم وحکمت کاتقاضا یہ ہے کہ وہ رشد وسعادت کے عوامل تم میں پیدا کرے ،اوراُسے انبیاء کی دعوت کے ساتھ ہم آہنگ اورمکمل کرے اورانجام کار تمہیں منزل تک پہنچادے ۔ ظاہر یہ ہے کہ فضل اور نعمت دونوں کاایک ہی واقعیت کی طرف اشارہ ہے ، اوروہ ہی نعمتیں ہیں جو خدا کی طرف سے بندوں کو عطا ہوتی ہیں، البتہ فضل کا تواس محاظ سے اس پر اطلاق ہوتاہے،چونکہ خدااس کامحتاج نہیں ہے، اور نعمت اس لحاظ سے ہے کہ بندے اس کے محتاج ہیں،اس بناء پر (فضل اورنعمت) ایک سکّہ کے دورخوں کی طرح ہے ۔ بلاشک وشبہ بندوں کی احتیاج کے بارے میں خدا کاعلم اورمخلوقات کی پرورش اورارتقاء کے سلسلہ میں اس کی حکمت، اس بات کاتقاضا کرتے ہیں، کہ وہ انہیں یہ عظیم معنوی نعمتیں ، یعنی ایمان کو محبُوب رکھنا، اورکفر وعصیان سے نفرت کی رنا مرحمت فرمائے ۔ ١۔بعض نے گمان کیاہے کہ یہاں مفہو م شرط کے قبیل میں سے ہے ، اور مفہو م شرط حجت ہے ،حالانکہ یہ مفہو م شرط کے ساتھ کوئی ارتباط نہیں رکھتا، علاوہ وہ ازیں یہاں جُملہ شرطیہ موضوع کوبیان کرنے کے لیے ہے،اورہم جانتے ہیں کہ اس قسم کے مو قعوں پر"" جُملہ شرطبیہ"" بھی مفہو م نہیں رکھتا( غور کیجئے گا) ۔ 2۔ "" لعنتّم"" "" عنت"" کے مادہ سے ،ایسے کام میں پڑنے کے معنی میں ہے کہ انسان جس کے عواقب سے ڈرتاہے،یاایساکام ہے جس میں مشقت ہو ،اوراسی بناء پرجب ٹوٹی ہڈی پر دباؤ پڑے ، اوراس سے دردوتکلیف پیدا ہو، تواُسے ""عنت"" کہاجاتاہے ۔ 3۔ "" فضلاً ونعمة "" یاتو"" مفعول جلہ"" ہے "" ضب الیکم الایمان ..."" کے لیے ،اور یایہ "" مفعو ل مطلق"" ہے فعل مقدر کے لیے اورتقدیر میں اس طرح تھا،"" افضل فضلاً وانعم نعمة ""َ۔