إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
When the faithless nourished bigotry in their hearts, the bigotry of pagan ignorance, Allah sent down His composure upon His Apostle and the faithful, and made them abide by the word of Godwariness, for they were the worthiest of it and deserved it, and Allah has knowledge of all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 48:26
[Pooya/Ali Commentary 48:26] While the disbelievers, in the zeal of ignorance, played with words (see commentary of verse one), the Holy Prophet, calm and collected, finalised the treaty which is described as a great victory of Islam by Allah. For tranquillity see commentary of verses 4, 5 and 6 and 18 of this surah. Also see commentary of Bara-at: 40 to know that tranquillity was sent to the Holy Prophet; but his companion was ignored, because only those who remain steadfast to the faith under all circumstances receive tranquillity.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:26
حمیّت جاہلیت کیاہے ؟
ہم بیان کرچکے ہیں کہ حمیت اصل میں حمی کے مادہ سے حرارت کے معنی میں ہے ،اوراس کے بعد غضب کے معنی میں اور بھر نحوت و غضب کی آمیزش رکھنے والے تعصب کے معنی میں استعمال ہواہے ۔ یہ لفظ کبھی تو اسی مذ موم معنی میں ( جاہلیّت کی قید کے ساتھ یا اس کے بغیر )اور بعض اوقات ممدوح اور پسندیدہ معنی میں استعمال ہوتاہے ، اورمنطقی غیرت اور مثبت اوراصلاح امور میں ڈٹ جانے کی طرف اشارہ ہوتاہے ۔ منیت بمن لایطیع اذ اامرت ولا یجیب اذا دعوت ... امادین یجمعکم ولا حمیة تحمشکم۔ میں ایسے لوگوں میں پھنس گیاہوں ، جنہیں اگرحُکم دیتاہوں تووہ اطاعت نہیں کرتے ،اوراگردعوت دیتاہوں توقبول نہیں کرتے ... کیاتم دین نہیں رکھتے ہو ، جوتمہیں اکٹھا ر کھے ؟ یاایسی غیرت جوتمہیں غصّہ میں لے آ ئے (اور تمہیں اپنی ذمہ داری پورا کرنے پر آ مادہ کردے ) ( ١) ۔ لیکن یہ عام طورپر اسی مذموم معنی میں استعمال ہواہے ،جیساکہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے خُطبہ قاصعہ میں بارہا اس معنی میں استعمال کیاہے اور ابلیس کی مذمت میں جومستکبرین کاپیشوا تھا ۔ فرماتے ہیں ۔ صدقہ بہ ابناء الحمیة واخوان العصبیة وفرسان الکبر و الجا ھلیة ۔ اس کی نحوت وحمیّت کے بیٹوں اورعصبیت کے بھائیوں اورکبر وجہالت کے مرکب کے سوا روں نے تصدیق کی ہے ( ٢) ۔ اسی خُطبہ میں ایک دوسری جگہ ،جہاں آ پ لوگوں کوجاہلیّت کے تعصبات سے ڈ رارہے ہیں ، فرماتے ہیں: فاطفئوا ماکمن فی قلو بکم من نیران العصبیة واحقاد الجا ھلیة ، فانما تلک الحمیہ تکون فی المسلم من خطوات الشیطان ونخوواتہ ونز عاتہ ونفثا تہ !۔ تعصّب کے وہ شرار ے اورجاہلیّت کے وہ کینے جوتمہارے دلوں میں ہیں انہیں بجھا دو ، کیونکہ یہ نخوت وحمیّت اورنا رواتعصب مسلمانوں میں شیطان کی نحوت اوروسوسوں میں سے ہے ( ٣) ۔ بہرحال اس میں شک نہیں ہے کہ کسی فر د جماعت میں اس قسم کی حالت کاہونا اُس معاشرے کی پسماند گی اور گراوٹ کاباعث ہے . یہ انسان کی عقلی وفکر پر سنگین پردے ڈال دیتاہے ، اوراُسے صحیح اوراک اورکامل سُوجھ بُوجھ سے باز رکھتاہے اور بعض اوقات قو م کی طرف غلط رسو مات اور طریقوں کامنتقل ہونااس طرفداری ٔ جاہلیّت کے منحوس سائے میں صورت پذیر ہو تاہے ، اورانبیاء اورخدائی رہبروں اورپیشوائوں کے مقابلہ میں منحرف اقوام کی مخالفت بھی عام طورپر راستہ سے ہوتی ہے ۔ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے بیان ہواہے کہ جب آپ سے کسی نے عصبیت کے بار ے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: العصبیة الّتی یأ ثم علیھا صاحبھا ان یری الرّ جل شرار قومہ خیرا عن خیار قوم! خرین ولیس من العصبیة ان یحب الرجل قومہ والکن من العصبیة ان یعین قومہ علی الظلم ۔ وہ تعصب جوگناہ کاموجب ہے یہ ہے کہ اس کی وجہ سے اپنی قوم کے بُرے افراد کودوسری قوم کے نیک اور اچھے افراد سے برتر مجھے ،لیکن اپنی قوم سے محبت کرنا اور انہیں دوست رکھنا تعصب نہیں ہے ، تعصب یہ ہے کہ ظلم وستم میں ان کی مددکرے ( ٤) ۔ اس بُری عادت کے لڑنے ، اوراس عظیم مہلکہ سے نجات حاصل کرنے کا بہترین راستہ ہرقوم اورہرمعاشرے کی فکر وایمان ، اور تہذیب و تمدن کی سطح کواُونچا کرنے کے لیے کوشش کرناہے ۔ درحقیقت قرآن مجید نے اس درد کی دوااسی زیربحث آ یت میں یبان کی ہے ، جہاں وہ اس کے نُقطہ ٔ مقابل میں مؤ منین کے بارے میں بحث کرتاہے ، کہ وہ اطمیان و قا راوررُوح تقویٰ کے حامل ہیں اور اس بناء پر جہان ، اطمینان اور تقویٰ ہے ،وہاں حمیّت جاہلیّت نہیں ہے ، اورجہاں حمیّت جاہلیّت ہے ، وہاں ایمان ، اطمینان اور تقویٰ نہیں ہے ۔ ١۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ٣٩۔ ٢۔ "" نہج البلاغہ "" خطبہ ١٩٢ (خطبہ ٔ قاصعہ ) ۔ ٣۔ نہج البلاغہ خُطبہ . ١٩٢ (خطبہ قاصعہ ) ۔ ٤۔ تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٧٣ حدیث ٧٠۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:26
سوره فتح/ آیه 26
٢٦۔ِذْ جَعَلَ الَّذینَ کَفَرُوا فی قُلُوبِہِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجاہِلِیَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکینَتَہُ عَلی رَسُولِہِ وَ عَلَی الْمُؤْمِنینَ وَ أَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَّقْوی وَ کانُوا أَحَقَّ بِہا وَ أَہْلَہا وَ کانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیماً ۔ ترجمہ ٢٦۔ اس وقت کو یاد کرو جب کافراپنے دلوں میں جاہلیّت کاغصّہ اور نخوت رکھتے تھے ، اور(اس کے مقابل میں ) خدانے اپنے رسُول اورمومنین پرقرار اور وقار نازل کیا ، اوران کے لیے تقویٰ کولازم قرار دیا، کیونکہ و ہ ہرشخص سے زیادہ شائستہ ،لائق اوراس کے حق دار اوراہل تھے اورخداہر چیز کو جانتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:26
تعصب اورحمیت جاہلیت ، کفّار کے لیے بزرگ ترین سدّ راہ
ان آ یات میں پھر حدیبیہ کے ماجرے سے مربوط مسائل بیان کیے جارہے ہیں اوراس عظیم ماجرے کے دوسرے مناظر کومجسم کررہاہے ۔ پہلے کفار کوخداو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرایمان لانے اورحق و عدالت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے روکنے والے ایک اہم ترین عامل کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتاہے : اس وقت کویاد کر و جب کافراپنے دلوں میں جاہلیّت کاغصّہ اور لخوت رکھتے تھے )ْجَعَلَ الَّذینَ کَفَرُوا فی قُلُوبِہِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجاہِلِیَّةِ )(١) ۔ اوراس کی وجہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اورمومنین کے خانہ ٔ خدا میں داخل ہونے ، اور عمرہ و قربانی کے مراسم کے انجام دینے سے مانع ہُوئے ،اور یہ کہا کہ اگر یہ لوگ جنہوںنے میدان جنگ میں ہمارے آ باء و اجداد اوربھائیوں کوقتل کیاہے .ہماری سرزمین اورہمارے گھروں میں وارد ہوں اورصحیح وسالم پلٹ جائیں تو عرب ہمارے بارے میں کیاکہیں گے اور ہماری کیا حیثیت اوراعتبار باقی رہ جائے گا ؟ یہی کبرو غر ور وتعصب اورخشم جاہلی ، اس بات تک سے مانع ہو اکہ حد یبیہ کے صلح نامہ کی ترتیب وتنظیم کے وقت خدا کانام بسم اللہ الرحمن الرحیم کی صورت میں لکھا جاناقبول کریں ،حالانکہ ان کے آداب وسنن کہتے تھے کہ خانہ خداکی زیارت سب کے لیے جائز ہے اور سر زمین مکہ حرم امن ہے ،یہاں تک کہ اگرکوئی شخص اپنے باپ کے قاتل کواس سرزمین میں یاحج وعمرہ کے مراسم میں دیکھتا تھاتواس سے مزاحم نہ ہوتاتھا ۔ انہوںنے اس عمل کے ذ ریعہ خانہ خدااوراس کے حرم امن کے احترام کوبھی توڑا ، اور اپنے سُنن و آداب کو بھی زیر پارند ا ، اوراپنے اورحقیقت کے درمیان ایک ضخیم پردہ بھی کھینچ دیا، اور جاہلیّت کی حمیتوں کے مر گبارا ثر ات ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ حمیّت اصل میں حمی (بروزن حمد ) کے مادہ سے ،اُس حرارت کے معنی میں ہے ،جو آگ یاسُورج یاانسان بدن اور اسی طرح کی دوسری چیزوں سے پیدا ہوتی ہے ، اسی بناء پر بخار کی حالت کو حمی (بروزن کبری )کہاجاتا ہے ، اورغیض وغضب کی حالت کو، اسی طرح نخوت اور خشم آلود تعصبکوبھی حمیّت کہتے ہیں ۔ یہ ایسی حالت ہے جو جہالت ،کوتاہی فکر اور علمی انحطاط کے زیر اثر خصوصیّت کے ساتھ جاہل قوموں میں بہت زیادہ ہوتی ہے ،اوران کی بہت سی جنگوں اورخُون ریزیوں کاسبب بنتی ہے ۔ اس کے بعدمزید کہتاہے : اس کے مقابلہ میں خدانے اپنے رسُول اور مومنین پراپنا اطمینان اورقرار نازل فرمایا ( فَأَنْزَلَ اللَّہُ سَکینَتَہُ عَلی رَسُولِہِ وَ عَلَی الْمُؤْمِنین) ۔ اس آرام وسکون نے ، جو خداپر ایمان اوراعتقاد اوراس کے لُطف سے پیدا ہواتھا ، انہیں ضبط اورنفس پرتسلط کی دعوت دی اور ان کے غصّہ کی آ گ کوٹھنڈاکردیا ، یہاں تک کہ اپنے بزرگ مقاصد کی حفاظت کے لیے تیار ہو گئے ،اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے جُملہ کوہٹا کرجو کاموں کے شروع کرنے کے لیے اسلام کی نشانی تھا.اس کی جگہ بسمک اللّھم جوعربوں کے ماضی دور کی یاد گار تھی، حدیبیہ کے صلح نامہ کے آغاز میں لکھنے پر آمادہ ہوگئے یہاں تک کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے محترم نامہ کے ہمراہ رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کالقب حذف کرنے پر بھی تیار ہوگئے اوراس عشق اور دلی تعلق کے برخلاف . جو دہ خانہ خدا کی زیارت اورمراسم عمرہ سے رکھتے تھے ، اسی حدیبیہ سے مدینہ کی طرف لوٹ جانے پر آمادہ ہوگئے اوراپنے قربانی کے اُونٹ حج وعمرہ کی سُنت کے برخلاف اسی جگہ قربان کرنے اورانجام مناسک کے بغیر ہی احرام سے باہر نکل آ نے پرتیار ہوگئے ۔ ہاں!وہ ضبط ِ نفس کرنے ، اوران تمام خوشگوار اورخلافِ طبیعت امور کے مقابلہ میں صبرو شکیبائی اختیار کرنے ،پرآ مادہ وتیار ہوگئے ، حالانکہ اگر حمیّت جاہلیّت اورجاہلا نہ غیض وغضبکی دعوت دیتاہے ، لیکن اسلام کی تہذیب و تمدّن ، قرار و آرام اور ضبط نفس کی طر ف بلاتاہے ۔ اس کے کے بعد مزید کہتاہے : خدانے ان کے لیے تقویٰ کولازم وواجب قرار دے دیا، او ر وہ ہرشخص سے زیادہ اس کے حقدار ، لائق شائستہ اوراصل تھے (وَ أَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَّقْوی وَ کانُوا أَحَقَّ بِہا وَ أَہْلَہا) ۔ کلمة یہاں روح کے معنی میں ہے ،یعنی خدانے تقویٰ کی رُوح ان کے دلوں میں ڈال دی اوران کے ہمراہ کردی ، جیساکہ سُورہ نساء کی آ یہ ١٧١ میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آ یاہے : ِنَّمَا الْمَسیحُ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُولُ اللَّہِ وَ کَلِمَتُہُ أَلْقاہا ِلی مَرْیَمَ وَ رُوح مِنْہ : مسیح علیہ السلام صرف خداکے بھیجے ہُوئے (رسول ) اور اس کا کلمہ اوراس کی طرف سے ایک روح ہے جسے مریم پرالقاء فرمایاہے ۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیاہے کہ کلمہ تقویٰ سے مراد وہ دستور و فر قان ہے ،جوخدانے اس سلسلہ میں مومنین کو دیاہے ،لیکن مناسب وہی رُوح تقویٰ ہے جو تکوینی پہلو رکھتاہے اورایمان و قرار اور احکام ِ خدا وندی سے تعلق قلبی کی پیدا وار ہے ۔ لہٰذا بعض روایات میں جوپیغمبر گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل ہوتی ہیں ، کلمۂ تقویٰ کی لا الہٰ الّا اللہ کے ساتھ ( ٢) ۔ اورایک روایت میں جوامام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ایمان کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے ( ٣) ۔ پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ایک خُطبہ میں یہ آ یاہے : نحن کلمة التقوٰی وسبیل الھدٰی ! ہم تقوٰی کا کلمہ اور ہدایت کی راہ ہیں ( ٤) ۔ اسی معنی کے مشابہ امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: نحن کلمة التقوٰی والعروة الوثقٰی ۔ ہم کلمہ تقویٰ اورخدا کی مضبوط رسّی ہیں (٥) ۔ یہ بات واضح ہے کہ نبوّت و و لایت پرایمان لانا ، اصل توحید اورمعرفتِ خدا وندی کی تکمیل کرتاہے ، کیونکہ وہ سب ہستیاں اللہ کی طرف دعوت دینے والی ، اور توحید کی منادی کرنے والی ہیں ۔ بہرحال مُسلمان ان حساس لمحات میں ،خشم وعصبانیت اورتعصب ونحوث میںگرفتار نہیں ہُوئے ، اور وہ درخشاں سرنوشت جوخدا نے ماجرا ئے حدیبیہ میں ان کے لیے رقم کی تھی، اُسے اُنہوںنے جہالت اورغصّہ کی آگ سے نہیں جلایا۔ کیونکہ وہ کہتاہے ، مسلمان تقویٰ کے سب سے زیادہ سزاوار اورلائق تھے ، اور اس کے اہل اورحق دار تھے ۔ یہ بات ظاہر وواضح ہے کہ مُٹھی بھربے ہُودہ ، نا دان اور بت پرست جمیعت سے جاہلیّت کی حمیت کے سوا اورکسی چیز کی توقع نہیں تھی ، لیکن ان موحد مسلمانوں سے جوایک عرصہ سے مکتب قرآن میں تربیت پاچکے تھے ، اس قسم کی عادت اورجاہلا نہ خلق کی امید نہ تھی ، ان سے جس چیز کی توقع تھی وہ وہی وقار وتقویٰ اورصبر و قرار تھا ،جس کاانہوںنے حدیبیہ میں اظہار کیا، اگرچہ قریب تھاکہ بعض بے صبر ے تند مزاج ،جوشاید گزشتہ زمانہ کی رسُوم و عادات کے عادی تھے ،اس سد کوتوڑ دیں اور کوئی جھگڑاکھڑا کردیں ،لیکن پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کااطمینان اوروقار پانی کی طرح اُس آگ پر پڑا ،اوراُسے خاموش کردیا ۔ آ یت کے آخر میں فر ماتاہے ۔ اور خداہر چیزسے آگاہ اوراس کاعالم تھا اور ہے (وَ کانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیما) ۔ وہ کفار کی بُری نیتوں کو بھی جانتاہے ، او ر سچے مومنین کے دلوں کی پاکیزگی کوبھی ، یہاں پرتووہ اطمینان وتقویٰ کونازل کرتاہے اوروہاںجاہلیت کی حمیّت کومسلط کردیتاہے ، کیونکہ خداہر قوم وملّت کوان کی لیاقت وقابلیت کے مطابق ہی اپنے لطف ورحمت کامشمول قرار دیتاہے ، یااپنے خشم وغضب کا ۔ ١۔ "" جعل "" کبھی ایک مفعول لیتاہے : اور یہ اس موقع پر ہوتاہے ،جہاں ایجاد کے معنی میں ہو ،جیساکہ زیربحث آ یت میں کہ اس کافاعل "" الّذ ین کفرو ا"" ہے ،اوراس کامفعول "" الحمیة "" ہے، اور یہاں الیجاد سے مراد اس حالت کی حفاظت ، اوراس کی پابند ی اورلازم بنانا ہے ، اور کبھی دومفعول لیتاہے ، اور وہ اس جگہ ہوتا ہے جہاں ہو نے کے معنی میں ہو ۔ ٢۔دُر ِ المنثور ، جلد ٦،صفحہ ٨٠۔ ٣۔""اصول کافی "" مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٧٣۔ ٤۔خصال صدوق نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ٧٣۔ ٥۔خصال صدوق نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ٧٣۔