وَلَنَبۡلُوَنَّكُمۡ حَتَّىٰ نَعۡلَمَ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ مِنكُمۡ وَٱلصَّـٰبِرِينَ وَنَبۡلُوَاْ أَخۡبَارَكُمۡ
We will surely test you until We ascertain those of you who wage jihad and those who are steadfast, and We shall appraise your record.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:29-31
سوره محمد/ آیه 29- 31
۲۹۔اٴَمْ حَسِبَ الَّذینَ فی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ اٴَنْ لَنْ یُخْرِجَ اللَّہُ اٴَضْغانَہُمْ ۔ ۳۰۔وَ لَوْ نَشاء ُ لَاٴَرَیْناکَہُمْ فَلَعَرَفْتَہُمْ بِسیما ہمْ وَ لَتَعْرِفَنَّہُمْ فی لَحْنِ الْقَوْلِ وَ اللَّہُ یَعْلَمُ اٴَعْمالَکُمْ ۔ ۳۱۔ وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتَّی نَعْلَمَ الْمُجا ہدینَ مِنْکُمْ وَ الصَّابِرینَ وَ نَبْلُوَا اٴَخْبارَکُمْ ۔ ترجمہ ۲۹۔کیاوہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ، ان کایہ خیال ہے کہ خدا ان کے کینوں کوظا ہر نہیں کرے گا ؟ ۳۰۔اگرہم چا ہیں توا نہیں تجھ کودکھا دیں تاکہ توانہیں ان کے چہرے مہرے سے پہچان لے اگرچہ توانہیں ان کے اندازِ گفتگو سے پہچان سکتا ہے اورخداتمہارے اعمال سے واقف ہے ۔ ۳۱۔اور ہم تم لوگوں کوضر ور آ زمائیں گے تاکہ معلُوم ہوجائے کہ تم لوگوں میں صحیح معنوں میں مجا ہداور صابر کون ہیں ؟ اور ہم تمہار ی خبروں کوبھی آزمائیں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:29-31
منافقین اندازِ گفتگو سے پہچانے جاتے ہیں
ہم نے بھی پہلی جلدسُورہٴ بقرہ کی آیت ۵۵ کے ذیل میں خدا کی آز مائش کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے اسی طرح سُورہ عنکبوت کے آغاز میں بھی ( ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد ۱اور جلد ۱۶ متعلقہ حِصّے) ۔ ساتھ ہی یہ بتا تے چلیں کہ ” “ ( تاکہ تم میں سے مجا ہدین کی شناخت ہوجائے ) کاجُملہ اس معنی میں نہیں ہے کہ خدا ان لوگوں سے واقف نہیں ہے ،بلکہ اس سے مراد خداکے علم کاخارج میں ظہور اورایسے افراد کونمایاں کرنا ہے ،یعنی اس طرح سے خارج میں بھی خداکا علم حقیقت کی صُورت اختیار کرلے اور حقیقی مجا ہدین کی صفیں بھی دوسر ے نام نہاد مجا ہدین سے علیٰحدہو جائیں گے ۔ ۱۔بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں ” ام “ کو ” استفہامیہ “ سمجھا ہے اور بعض دوسرے مفسرین نے نے اسے ” منقطعہ “بمعنی ” بل “سمجھا ہے ،لیکن پہلامعنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ۲۔تفسیر مجمع البیان اسی آیت کے ضمن میں ،ساتھ ہی ہم بھی بتاتے چلیں کہ اس روایت کو اہل سُنت کے بہت سے بزرگوں نے بھی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، جن میں سے چند ایک علماء اوران کی کتابوں کے نام یہ ہیں ، احمد نے کتاب ” فضائل “ میں ، ابن عبدالبرنے ” استیعاب “میں ذہبی نے ” تاریخ اوّل الاسلام “ مین ، ابن اثیر نے ” جامع الاصُول “ میں علامہ گنجی نے ” کفایة الطالب “ میں محب الدین طبری نے ” ریاضالنضرہ “میں سیوطی نے ” درمنثور “ میں ، آلوسی نے ” رُو ح المعانی “میں اور دوسر ے بہت سے علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی مسلمہ روایات میں ہے کہ جوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقُول ہے ( مزید تفصیل کے لیے ” احقاق الحق “جلد سوم،صفحہ ۱۱۰ ملاحظہ فر مایئے ) ۔ ۳۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ، جملہ ۲۶۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 47:29-38
God has given sufficient intimation of apostates who, notwithstanding their participation in the crusade, bore hatred (to Ali) and wasted their labours under secret plotting against Ali. Ultimately, God gave a definite decision, i.e. lovers of Divine Lights, will be found outside Arabia, i.e. in Persia and elsewhere. As when the Glorious Qur’an was being read out to them, they admitted His Commands wholly, entertaining Divine love, i.e. love of purity, that is love for the Divine Lights and hatred for lovers of the world. these are places where freely Islam can be observed in the original cult duly approved by Divinity.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 47:31
[Pooya/Ali Commentary 47:31] To know who is the mujahid (he who strives in the way of Allah) see commentary of verses mentioned in verse 20, which also points out the deserters who used to abandon the Holy Prophet at the slightest hint of defeat.