وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنصِتُوا فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوْا إِلَى قَوْمِهِم مُّنذِرِينَ
When We dispatched toward you a team of jinn listening to the Quran, when they were in its presence, they said, ‘Be silent!’ When it was finished, they went back to their people as warners.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 46:29
[Pooya/Ali Commentary 46:29] Refer to An-am: 131 and Baqarah: 30 on page 63 for the jinn, and An-am: 101 for those who worship the jinn. When the Holy Prophet lost Abu Talib, his most ardent protector, the pagans of Makka began to harass and persecute him more often with severe measures. In one of such days he went to Taif where the people of the town mocked at him and threw stones on him. While returning from Taif he sat under a palm tree and saw two men coming with some fruits. They were Christians. They offered him the fruits to eat. He recited bismillah before eating them, which prompted the curiosity of the two Christians. Then the Holy Prophet told them many events pertaining to Isa and his disciples. They became Muslims. After their departure the Holy Prophet offered his midnight prayer. At that time a group of jinn, passing by, heard him reciting the Quran. Verse 30 shows that they knew about the book of Musa, but they were impressed with the message of Islam and went back to their people to announce the good news. The Holy Prophet invited all created beings to the worship of Allah. If any refuses to believe the truth, or opposes it, he will be deprived of His grace, mercy and protection, and will be left to go astray and wander in wilderness, helpless and disgraced. The opposition of the disbelievers has not the least effect on Allah's holy plan which goes on to its completion. It is stated in the Minhaj al Sadiqin that once the Holy Prophet took Ibn Masud with him to a cave where he recited surah al Falaq to the jinn. Ibn Masud saw a large gathering of huge birds and serpents. The Holy Prophet told him that nearly ten thousand jinn were there to listen to his recitation.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:29-32
سوره احقاف/ آیه 29- 32
۲۹۔وَ إِذْ صَرَفْنا إِلَیْکَ نَفَراً مِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوہُ قالُوا اٴَنْصِتُوا فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا إِلی قَوْمِہِمْ مُنْذِرینَ ۔ ۳۰۔قالُوا یا قَوْمَنا إِنَّا سَمِعْنا کِتاباً اٴُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسی مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیْہِ یَہْدی إِلَی الْحَقِّ وَ إِلی طَریقٍ مُسْتَقیمٍ ۔ ۳۱۔ یا قَوْمَنا اٴَجیبُوا داعِیَ اللَّہِ وَ آمِنُوا بِہِ یَغْفِرْ لَکُمْ مِنْ ذُنُوبِکُمْ وَ یُجِرْکُمْ مِنْ عَذابٍ اٴَلیمٍ ۔ ۳۲۔وَ مَنْ لا یُجِبْ داعِیَ اللَّہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاٴَرْضِ وَ لَیْسَ لَہُ مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِیاء ُ اٴُولئِکَ فی ضَلالٍ مُبین۔ ترجمہ ۲۹۔ اوراس وقت کویاد کر جب ہم نے جنوں میں سے ایک گروہ کوتیری طر ف متوجہ کیاکہ قرآن سُنیں ،پھر جب وہ حاضر ہُوئے توایک دوسرے سے کہنے لگے خاموش ہوکرسُنتے رہو، جب تمام ہُوا تواپنی قوم کی طرف واپس گئے اور اُسے جاکرڈ رایا ۔ ۳۰۔ انہوں نے کہا: اے قوم ! ہم ایک کتاب سُن کرآئے ہیں جومُوسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے اوراپنے سے پہلے کی کتابوں کی نشانیوں سے ہم آہنگ حق کی طر ف اورسیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے ۔ ۳۱۔ اے ہماری قوم ! خداکی طرف بلانے والے کی بات مانوں اوراس پر ایمان لے آؤ تاکہ تمہارے گنا ہوں کو بخش دے اورتمہیں درد ناک عذاب سے پنا ہ دے ۔ ۳۲۔ اور جوشخص خداکی طرف بلانے والے کی بات نہیں مانے گا وہ ہرگز خدا کے عذاب سے زمین میں فرار نہیں کرسکتا اور خدا کے علاوہ اس کاکوئی سرپرست اور مددگار نہیں ہوگا، اورایسے لوگ کھُلی گمرا ہی میں ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:29-32
چند اہم نکات
۱۔ موثر تبلیغ : جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ جنّات ، ان کے زندگی کے اند از اوران سے متعلق دوسرے امورکے بارے میں توہم انشاء اللہ سُورہ جن کی تفسیرمین تفصیل سے بحث کریںگے ، لیکن زیرتفسیر آیات سے جوکچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ صاحب ِ عقل وشعور مخلوق ہیں اوران پرخدائی فرائض کی بجا آوری ضروری قراردی گئی ہے،ان کے دوفرقے ہیں ایک مومن اور دوسراکافر ، اوروہ خدا کی دعوت سے کافی آ شنا ہیں ۔ زیرنظرآیات میں جوچیز زیادہ قابلِ تو جہ ہے وہ ان کی قوم میں اسلامی تبلیغ کاطریقہ کار ہے جوانہوں نے اپنایا ۔ انہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدمت میں حاضر ہونے ، قرآنی آیات سننے اوران کے مطالب سمجھنے کے بعدفورً ا ہی اپنی قوم کی اصلاح کی ٹھان لی اورسیدھ اس کے پاس پہنچے کاسلسلہ شروع کردیا۔ انہوں نے سب سے پہلے قرآن کی حقانیّت اورصداقت کی بات کی اوراسے تین دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیاپھراسے شوق دلایا ، اس آسمانی کتاب پرایمان کے زیر سایہ اسے آخرت کے عذاب سے نجات کی خوشخبری سُنائی ، جس سے ایک طرف تومعاد کے مسئلے پرتاکید کرناتھی اور دوسری طرف نا پائیدار دنیاوی اقدار کے مقابلے میں آخرت کے پائیدار اوراصل اقدار کی طرف متوجہ کراناتھا۔ تیسرے مرحلے پرانہوں نے ترکِ ایمان کے خطرات سے بھی قوم کوآگاہ کیا اوراستد لال اور دل سوزی کے مِلے جُلے انداز میں اسے متنبہ بھی کردیا اوراس راستے سے انحراف کے انجام جو ” ضلالِ مبین “ یاکُھلی گمرا ہی ہے سے بھی اِسے خبردار کیا۔ تبلیغ کایہ انداز ہرشخص اورجماعت کے لیے موثر ہے ۔ ۲۔ عظمت ِ قرآن کی بہترین دلیل : مندرجہ بالا آیات ، اسی طرح سُورہ جن کی آیات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ جنّوں کایہ گروہ قرآنی آیات سنتے ہی اس کافریفتہ ہوگیا اوراس بات کی کوئی علامت نہیں مِلتی کہ انہوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کسی اور مُعجزے کاتقاضاکیا ہو ۔ انہوں نے صرف ان امور پراکتفاکی کہ : ۱۔ قرآن مجید سابقہ آسمانی کتابوں کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہے ۔ ۲۔حق کی طرف بلاتا ہے ۔ ۳۔اس کی منصوبہ بندی سیدھی را ہ پر چلنے کے لیے گئی ہے ۔ ان تینوںچیزوں کے پیش ِنظر انہوں نے قرآن کی حقا نیّت کایقین کرلیا ۔ اورحقیقت بھی یہی ہے کہ قرآنی مضامین اور مطالب میں غور وفکر ہمیں دوسرے تما م دلائل سے بے نیاز کردیتا ہے ۔ ایسی کتاب جوایک ایسی شخصیت کی طرف سے پیش کی گئی ہو جس نے دنیا میں کسی سے کوئی درس نہیںپڑھا ، اس میں اس قدرعظیم مطالب ،پاک معارف و عقاید ،خالص توحید ، محکم قوانین ، طاقت وردلائل، پختہ اور تعمیر ی لائحہ عمل ، واضح اوراعلیٰ وعظ ونصیحتیںہوں اوروہ بھی ایسے جاذب اور زیبا انداز میں تو یہ یقینا اس آسمانی کتاب کی حقانیت وصداقت کی بذات خود بہترین دلیل ہے ، کیونکہ آفتاب آمد دلیل آفتاب ( 1) ۔ 1۔اعجاز قرآن کے بارے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی جلداوّل کی سُورہ ٴ بقرہ کی ۲۳ ویں آیت کے تفسیر میں تفصیل سے گفتگو کی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:29-32
” جِنَّات “ ایمان لاتے ہیں
اِن آیات میں، جیساکہ شان ِ نزول میں اشارہ ہوچکا ہے ،پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور آسمانی کتاب پرجنات کے ایمان لانے کاذِکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے تاکہ مشرکین مکہ کواس حقیقت سے آگاہ کیاجائے کہ جنات کا ایک بظا ہر دور افتا دہ ٹولہ اس پیغمبر پرجوانسان ہے اور تمہار ے درمیان رہتا ہے ،کس طرح ایمان لے آیا ہے اور تم ہوکہ اپنے کُفر پرڈٹے ہُوئے ہو اوراس کی مخالفت پرہمیشہ کمربستہ رہتے ہو ۔ ” جنات نامی مخلوق اوران کی خصوصیات کے بارے میں انشاء اللہ سورہٴ جن کی تفسیر میں بحث ہوگی ، یہاں پرصرف زیر تفسیرآیات کے بارے میں گفتگو ہوگی ۔ ” قوم ِ ہُود کی داستان درحقیقت مشرکین مکّہ کے لیے ایک زبردست تنبیہ کی حیثیت رکھتی تھی ، اورقوم جن کے ایمان لانے کی داستان ایک اور تنبیہ تھی ۔ سب سے پہلے فر مایاگیا ہے : اس وقت کویاد کر جب ہم نے جنّوں میں سے ایک گروہ کوتیر ی طر ف متوجہ کیادِل لگا کرقرآن سنیں (وَ إِذْ صَرَفْنا إِلَیْکَ نَفَراً مِنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُونَ الْقُرْآن) ۔ ” صرفنا“ ” صرف “ کے مادہ سے ہے ، جس کامعنی کسی چیز کوایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرنا ہے مُمکن ہے یہ تعبیر اس معنی میں کی طرف اشارہ ہو کہ جنّوں کاٹولہ پہلے ” اسراق سمع “(خبر دیں چرانے ) کے ذ ریعے آسمانوں کی خبروں کوسُنا کرتاتھا ،لیکن جب آنحضرت کاظہور رسالت ہُوئے تووہ اس سے روک دیئے گئے اورقرآن کی جانب متوجہ ہُوئے ’ ’ نفر“ کے بارے میں راغب نے مفردات میںلکھا ہے کہ یہ لوگوں کے ایسے گروہ کوکہتے ہیںجومل کرسفر کرسکتے ہوں۔ اور اربابِ لغت کے درمیان مشہور یہ ہے کہ ” نفر “ تین سے تک مشتمل جماعت کوکہتے ہیں اور بعض لوگوں کے نزدیک تین سے چالیس افراد پرمشتمل جماعت کوکہتے ہیں ( ہرچند کہ فارسی زبان میں ایک فرد کو بھی ” نفر“ کہتے ہیں ) ۔ پھرفر مایاگیا ہے : جب وہ قرآن کے سامنے حاضر ہُوئے اوراس کی روح پردر آیات کوسُنا توایک دوسرے سے کہنے لگے خاموش ہوکرسنتے رہو (فَلَمَّا حَضَرُوہُ قالُوا اٴَنْصِتُوا ) ۔ یہ اس وقت تھا جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نصف شب میں یانماز صبح کے دوران قرآنی آیات کی تلاوت کررہے تھے ۔ ” انصتوا“ ” انصات “کے مادہ سے ہے جس کامعنی ہے خاموش ہوکر اور دل لگا کرپُوری توجہ سے سُننا۔ آخر الامرجب نو رایمانان کے دل میںچمک اُٹھا توانہوں نے آیات قرآنی کی حقانیت کواپنے اندر محسوس کرلیا ،لہذا ” جب قرآن پڑھنا تمام ہوا تووہ مبلغین کے مانند اپنی قوم کی طرف واپس آگئے اوراسے جاکرڈرایا اورجو حقیقت ان پر نمایاںہوگئی تھی اس سے قوم کوآگاہ کیا (فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا إِلی قَوْمِہِمْ مُنْذِرین) ۔ ایمان کے طلب گار افراد کایہی طریقہ ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ ایمان کی تلاش میں رہتے ہیں ، اورجن حقائق سے خود آگاہ ہوتے ہیں ان سے دوسروں کوبھی آگاہ کرتے ہیں اورایمان کے منبع سے انہیں بھی مطلع کرتے ہیں ۔ بعدکی آیت قوم کی طرف پلٹ جانے کے بعد ان جنّوں کی دعوت و تبلیغ کی کیفیّت بیان کررہی ہے ، ایسی دعوت جو جامع ، جچی تلی ، مختصر اور با معنی ہے : انہوں نے کہا اے قوم ! ہم ایک کتاب سُن کرآئے ہیں جومُوسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے(قالُوا یا قَوْمَنا إِنَّا سَمِعْنا کِتاباً اٴُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسی ) ۔ اس کتاب کی کچھ مخصوص صفات ہیں پہلی صفت تویہ ہے کہ اپنے سے پہلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اوراس کے مضامین ان کے مضامین سے ہم آہنگ ہیں اور سابقہ کتابوں میںجو نشانیاں بیان کی گئی ہیں وہ اس میں بخوبی دیکھی جاسکتی ہیں (مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیْہِ)( 1) ۔ اس کی دوسر ی صفت یہ ہے کہ سب کو حق کی طرف ہدایت کرتے ہے (یَہْدی إِلَی الْحَقِّ) ۔ وہ یوں کہ جوشخص بھی اپنی عقل اور فطرت سے کام لے ، اسے اس میں حقانیت کی علا متیں بخوبی نظرآ ئیں گی ۔ اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ ” سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے “ (وَ إِلی طَریقٍ مُسْتَقیم) ۔ حق کی طرف دعوت اور طراطِ مستقیم کی طرف دعوت میں بھی بظا ہر فرق یہ ہے کہ پہلا (حق )اعتقادات کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا(صراط ِ مستقیم ) صحیح اور سیدھے عملی نظام کی طرف ۔ ”اٴُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسی “اور ” مُصَدِّقاً لِما بَیْنَ یَدَیْہ“ کے جملے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جنّاتِ کا یہ گروہ گزشتہ آسمانی کتابوں خصوصاً حضرت مُوسیٰ کی کتاب پرایمان رکھتاتھا اورحق کی تلاش میں تھا اوراگرہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کتاب کاتذکرہ نہیںہے حالانکہ وہ مُوسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے بعد نازل ہوئی ہے تواس کی وجہ یہ نہیں کہ بقول ابن عباس جنّات عیسیٰ علیہ السلام کی کتاب کے نزُول سے مطلقاً بے خبرتھے ، کیونکہ جنّات توآسمانی خبروںسے بھی باخبر تھے وہ زمین کی خبروںسے کس طرح غافل رہ سکتے ہیں ؟ بلکہ اس لیے ہے کیونکہ ” تورات “ بنیادی کتاب تھی ، حتی کہ عیسائی حضرات بھی اپنے شرعی احکام اسی سے حاصل کرتے تھے اور کرتے ہیں ۔ انہوں نے پھر کہا” اے ہمار ی قوم! خداکی طرف بلانے والے کی بات مانواوراس پرایمان لے آؤ (یا قَوْمَنا اٴَجیبُوا داعِیَ اللَّہِ وَ آمِنُوا بِہِ ) ۔ کہ وہ تمہیں عظیم اجرعطا فرمائے گا ،تمہار گنا ہوں کومعاف کردے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے پنا ہ میں رکھے گا (یَغْفِرْ لَکُمْ مِنْ ذُنُوبِکُمْ وَ یُجِرْکُمْ مِنْ عَذابٍ اٴَلیمٍ )(2) ۔ ” داعِیَ اللَّہِ“ (خدا کادعوت کرنے والا )سے مراد پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہیں ، کہ جوانہیں ” اللہ “ کی طرف رہنمائی کرتے تھے اور چونکہ زیادہ ترخوف گنا ہوں اورقیامت کے دردناک عذاب سے ہوتا ہے ،لہذا انہوں نے ان دونوں چیزوں سے بچاؤ کی بات کی ہے تاکہ قوم کی زیادہ توجہ اپنی طرف مبذول کرواسکیں۔ کئی مفسرین نے ” مِنْ ذُنُوبِکُم“ میں ” من “ کے کلمہ کو” زائدہ “ سمجھا ہے ، جواس بات کی کیدہے کہ تمام گنا ہوں کی بخشش کا ایمان پر دار ومدارہے ۔ لیکن بعض اورمفسرین نے اسے من ” تبعیضیہ “ اوران گنا ہوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے کہ وہ معاف کیے جائیں گے جوانہوں نے ایمان لانے سے پہلے انجام دیئے ہیں یا ان گنا ہوں کی طرف جن میں ” حق اللہ “ کاپہلوہے نہ کہ ” حق النّاس “ کا ۔ لیکن زیادہ مناسب معنی وہی من کے زائدہ ہونے والا ہے جوتاکید ہے اور آیت مجیدہ تمام گنا ہوں کے بارے میں میں ہے ۔ اس سلسلے کی آخر ی آیت میںجِنّ مبلغین کی آخر ی گفتگو کوان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:اورجوشخص خداکی طرف بلانے والے کی بات نہیں مانے گا وہ ہر گز خدا کے عذاب سے زمین میں قرار نہیں کرسکتا (وَ مَنْ لا یُجِبْ داعِیَ اللَّہِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاٴَرْضِ) ۔ اورخدا کے علاوہ اس کاکوئی یارو مددگار اورسرپرست نہیں ہوگا (وَ لَیْسَ لَہُ مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِیاء ُ ) ۔ اور لہٰذ” یہ لوگ کُھلی گمرا ہی میں ہیں “(اٴُولئِکَ فی ضَلالٍ مُبین) ۔ اس سے بڑھ کراورکیا بدترین اورواضح ترین گمرا ہی کہ انسان حق اورپیغمبر خدا حتی کہ خود خدا کے مقابلے پر کمربستہ ہوجائے کہ جس کے بغیر پوری کائنات میں نہ تو کوئی پنا ہ گاہ ہے اور نہ ہی اس کے مُلک سے فرار کرکے کہیں اور جاسکتا ہے ۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ لفظ ” معجز“ (اپنی تمام مشتقات سمیّت )ایسے مقاماپرسزا اور تعاقب سے عاجز کرنے کے معنی میں تا ہے ،بالفاظ دیگر سزکے چنگل فر ار کرنے کے معنی میں۔ ” فی الارض “(زمین میں ) کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زمین کے کسی خطّے میں چلے جایئے ،خدا ہی کی حکومت ہوگی اورکچھ بھیاس کے احاطہٴ قدر ت سے با ہر نہیںہے اوراگر آسمان کاذکرنہیں کیاگیا ہے تواس وجہ یہ ہے کہ جنّات ہوں یا انسان سب کاٹھکانا بہرحال زمین ہی ہے ۔ 1۔ اس جُملے کی تفسیرہم نے تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہٴ بقرہ کی آ ۴۱ ویں آیت کی تفسیر میں تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ 2۔” یجرکم“ ” ایجار“ کے مادہ سے ہے ، جس کے کئی معانی ہیں ،فر یاد کوپہنچنا،عذاب سے بچا نا ،پنا ہ دینا اورحفاظت کرنا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:29-32
شان نزُول
ان آیات کی شان نزول میں مختلف روایات ذکرہوئی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے : حضرت رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مکّہ سے طائف کے بازار عکاظ میں تشریف لے گئے ،زیدبن حارثہ بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمرا ہ تھے ، اس سفر کامقصد یہ تھاکہ لوگوں کواسلام کی دعوت دی جائے ،لیکن کسی نے بھی آپ کی دعوت قبول نہ کی ، ناچار مکّہ کی طرف واپس آ ئے ،دورانِ سفرایسی جگہ پہنچے جِسے ” وادی ٴ جن “ کہاجاتاتھا ،رات کے دوران آ پ نے قرآن مجید کی تلاوت فرمائی ، وہاں سے کچھ جنّات کاگزر ہوا ، جب تلاوت کلام اللہ کی آواز ان کے کانوں میںپہنچی تواسے غور سے سننے لگے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے ” خاموش رہو “ جب آپ نے تلاوت مکمل کرلی تووہ مسلمان ہوگئے اور مبلغ کی حیثیت سے اپنی قو م کی طرف لوٹ آئے اوراسلام لانے کی دعوت دی ، ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے اور مبلغین کے ہمرا ہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہُوئے ، آپ نے انہیں اسلام کی تعلیمات یادکروائیں، اسی موقعہ پرمندرجہ بالا آیات اور سُورہ ٴ جن نازل ہوئی (۱) ۔ کچھ اورلوگوں نے ایک اور شان نزُول ابن عباس سے نقل کی ہے جوگزشتہ شان ِ نزُول سے مِلتی جُلتی ہے ، البتہ فرق یہ ہے کہ اس کے مطابق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نماز پڑھ رہے تھے اور نماز کے دوران قرآن مجید کی تلاوت فررہے تھے کہ جنّات کے ایک گروہ کاوہاں سے گزر ہوا ، جوتحقیق اورجستجوکررہے تھے اورآسمان سے خبروں کے منقطع ہوجانے نے انہیں پریشان کررکھاتھا ، جب انہوں نے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی تو کہنے لگے کہ ہم سے آ سمانی خبروں کے انقطاع کا سبب بھی یہی چیز ہے ، یہیں سے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے اور جاکر اسے اسلام کی دعوت دی ۔ مرحوم طبرسی نے تفسیر مجمع البیان میں ایک تیسری شان ِ نزُول بیان کی ہے ( ۲ ) جس کی داستان آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سفر طائف سے مربوط ہے اور اس کاخلاصہ یہ ہے کہ : حضرت ابوطالب کی وفات کے بعد پیغمبر اکرم کے لیے سخت مشکلات کادور شروع ہوگیا اورآپ نے طائف کاسفر اختیار کیا شاید وہاں پر کوئی دوست مددگار مِل جائے لیکن طائف کے سر داروں نے آپ کی زبردست تکذیب کی اورآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کواس قدر پتھر مارے کہ آپ کے پاؤں مبارک سے خون بہنے لگا، آپ تھک کراورزخموں سے چُور ایک باغ کے پاس پہنچے اوروہاں ایک کھجورکے درخت کے سائےے کے نیچے بیٹھ گئے ،خون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں سے جاری تھا ۔ یہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کاباغ تھا جوقریش کے دودولتمندافراد تھے ،پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جب انہیں دیکھا توسخت پریشان ہوگئے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کی دشمنی سے پہلے ہی باخبرتھے ۔ ان دونوں نے انگور وں کا ایک تھال بھرکر اپنے عیسائی غلام ” عداس “ کے ذ ریعے آپ کی خدمت میں بھیج دیا ، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس سے پوچھا :تم کہاں کے را ہنے والے ہو ؟ اس نے کہا:تینوا کا ۔ فرمایا : خدا کے صالح بندے یونس علیہ السلام کے شہر کے ۔ عداس نے پوچھا : آپ یونس علیہ السلام کوکہاں سے پہچانتے ہیں ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا : میں خداکارسول ہوں اور خدا ہی نے مجھے بتایا ہے ۔ یہ سُن کرعداس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حقا نیّت کوتسلیم کرلیا، خدا کے حضور سجدہ کیا اور آپ کے قدموں کے بوسے لیے ۔ جب وہ واپس لوٹ گیا تو عتبہ اور شیبہ نے اسے زبردست سرزنش کی کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ اس نے کہا: تویہ خداکے صالح بندے ہیں ، انہوں نے مجھے اس پردیس اوراجنبی ماحول میں ہمارے پیغمبر یُونس کے بارے میں بتایا ہے ۔ وہ یہ سُن کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے :کہیں ایسانہ ہو کہ تمہیں وہ تمہار ے دین عیسائیت کے بارے میں دھو کا دے ،کیونکہ وہ توایک دھو کا باز انسان ہے (نعوذ باللہ ) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مکّہ کی جانب واپس آگئے ،( اس سفرکاماحصل صرف ایک موٴ من شخص تھا )راستے میں نصف شب کے قریب کھجور کے ایک درخت کے نزدیک پہنچے اورنماڑ پڑھناشرو ع کردی ، وہیں سے ” نصیبین“ یا ” یمن “ کے جنات کے ایک ٹولے کاگزر ہوا ، آپ نمازِ صبح پڑھ رہے تھے ، انہوں نے نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کی آواز پرکان لگائے اورایمان لے آئے ( ۳) ۔ ۱۔تفسیر نورالثقلین، جلد۵، صفحہ ۱۹ ، میں تفسیرعلی بن ابرا ہیم سے نقل کیاگیا ہے ،(کچھ تلخیص کے ساتھ ) ۔ ۲۔ یہ روایت ہم نے خلاصہ کے ساتھ بیان کی ہے اورصحیح بخاری ، صحیح مسلم ، اورمسند امام احمد میں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ے ( ” ظلال القرآن “ جلد۷ ،صفحہ ۴۲۹) ۔ ۳۔مجمع البیان جلد ۹، ص ۹۲ ، اس داستان کوابن ہشام نے اپنی کتاب ” السیرة النبوة النبویہ “ میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ تحریر کیا ہے ( جلد۲،صفحہ ۶۳) ۔