وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
We have enjoined man to be kind to his parents. His mother has carried him in travail, and bore him in travail, and his gestation and weaning take thirty months. When he comes of age and reaches forty years, he says, ‘My Lord! Inspire me to give thanks for Your blessing with which You have blessed me and my parents, and that I may do righteous deeds which please You, and invest my descendants with righteousness. Indeed I have turned to you in penitence, and I am one of the Muslims.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 46:15
[Pooya/Ali Commentary 46:15] Refer to the commentary of Ankabut: 8; Luqman: 14;and Baqarah: 233. The maximum period of breast-feeding is 2 years by which time the first dentition is ordinarily completed in a human child. The minimum period of human gestation is 6 months. After deducting 6 months from the 30 months mentioned in this verse 24 months remain as the time of weaning at the age of 2 years. Ihsan is not repayment. It implies initiative in doing good without expecting a return. 40 is the normal age of the maturity of intellectual faculties. At this age man begins to look to his growing children, and, if he is a believer, present them to the Lord with confidence.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:15-16
اے انسان ! اپنے والدین سے نیکی کر
یہ اور بعد کی آیات درحقیقت وہ وضاحت ہے جس کاگزشتہ آیات میں ” ظالموں“ اور ” محسنین “کے بارے میں اجمالی طورپر تذ کرہ ہوچکا ہے ۔ سب سے پہلے نیکو کاروں کی کیفیّت کوبیان کیاگیا ہے اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے ور ان کی زحمات کاشکر یہ ادا کرنے سے بات شروع کی گئی ہے جوشکر پر وردگار کامقدمہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے : ہم نے انسان کوحکم دیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے نیکی کرے (وَ وَصَّیْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَیْہِ إِحْساناً )(۱) ۔ ” وصیت “اور ” لوصیہ “مطلق سفارش کے معنی میںہے اوراس کامفہوم مرنے کے بعد کے امور میں منحصر نہیں ہے لہذا کچھ لوگوں نے یہاںپراس کی ” امر حکم اور فرمان “کے معنی میں تفسیر کی ہے ۔ پھر ماں کے حقوق کی اوّلیّت کومدّنظر رکھتے ہوئے فرمایاگیا ہے :اس کی ماں تکلیف کی حالت میں اسے پیٹ میں رکھتی ہے اور تکلیف ہی سے اسے جنم دیتی ہے اوراس کاپیٹ میں رہنا اوراس کی دودھ بڑھا ئی کی مدت تیس مہینے ہے (حَمَلَتْہُ اٴُمُّہُ کُرْہاً وَ وَضَعَتْہُ کُرْہاً وَ حَمْلُہُ وَ فِصالُہُ ثَلاثُونَ شَہْراً ) ۔ اس تیس مہینے کی مدّت میں ماں اپنے بچے کے بارے میں بہت بڑی فدا کاری اور ایثار کامظا ہرہ کرتی ہے ۔ انعقادنطفہ کے پہلے ہی دن ماں کی حال تبد ہونا شروع ہوجاتی ہے اوراس کے لیے مسلسل تکالیف کا دورشر وع ہوجاتا ہے ، اروئے (۲) کی حالت ( wamting of pregnancy) جوماں کے سخت ترین حالات میں سے ایک ہے ظا ہر ہوناشروع ہوجاتی ہے اس حالت کے بارے میںڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ : یہ حالت ماں کے جسم میں اس غذائی قلت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جو وہ اپنے بچّے کے لیے ایثار کرتی ہے ۔ جنین (پیٹ موجود بچّہ )جس قدر نشو ونماپا تا رہتا ہے اسی قدر زیادہ سے زیادہ ماں کے جسم سے مواد حاصل کرتارہتا ہے حتٰی کی یہ مواد اُس کی ہڈ یوں اور اعصاب پر بھی اثر ڈالتا ہے بسا اوقات یہ بچّہ ماں کی نیند ، خوارک اور آرام وآسائش تک کوسلب کرلیتا ہے اورحمل کے آخری دنوں میں توماں کے لیے قدم اٹھانا ، اور نشست و برخاست بھی مشکل ہوجاتی ہے ،لیکن یہ ماں کاجگر ہوتا ہے کہ وہ ان تمام مصائب ومکلات کوبڑ ے حوصلے اوراس محبت اورامید کے ساتھ ، برداشت کرتی ہے کہ بہت جلد اس کابچہ دنیامیں آنکھ کھولے گا اوراس کے سامنے مسکرائے گا ۔ وضع حمل : جوماں کی زندگی کے سخت ترین لمحات میں ایک ہے ، کازمانہ سرپر آ جاتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ بعض اوقا ت اولاد کے لیے ماں کواپنی جان کی بازی لگا دینا پڑتی ہے ۔ بہرحال ایک سنگین زمانہ توگزرجاتا ہے اورایک دوسراسنگین دورانیہ شروع ہوجاتا ہے : بچہ کی رات دن کی دیکھ بھال کادورانیہ کہ جن میں ایسے بچے کی تمام ضر وریات پوری کرنا ہوتی ہیںجواپنی ضروریات کوبیان کرنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا ۔ اگراسے کوئی در د ہوتا ہے کہ تووہ اس کی جگہ تک نہیں بتاسکتا، اگراسے بُھوک یاپیاس اور سردی یاگرمی کی کوئی تکلیف ہوتی تو وہ اسے بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ، سوائے اس کے کہ وہ روناشروع کردے اور ماں کوصحیح اندازہ کرکے صبر اورحوصلے کے ساتھ اس کی ایک ایک ضر ورت کامدا دا کرنا پڑ تا ہے ۔ بچّے کی صحت وصفائی اس دوران ایک طاقت فرسامشکل ہوتی ہے ، اسے غذ ادینا بھی بہت بڑا ایثار ہے جوماں ہی کے جسم سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس دوران بچّے کو جو مختلف بیمار یان لاحق ہوتی ہیںوہ ایک اور مشکل ہیں جن کامقابلہ ماں بڑ ے صبر اورحوصلہ کے ساتھ کرتی ہے ۔ قرآن مجید نے یہاںصرف ماں کی مشکلات کوبیان کیا ہے اور باپ کاتذ کرہ نہیں کیا ، اس لیے نہیں کہ باپ کوکوئی ا ہمیّت نہیں دی گئی ،کیونکہ ان میںسے بہت سی مشکلات میں باپ بھی ماں کے ساتھ شریک ہوتا ہے ، لیکن چونکہ ماں کاحِصّہ زیادہو تا ہے لہٰذ اماں کے تذ کرے کوبہت ا ہمیّت دی گئی ہے ۔ یہاں پر ا یک سوال پیدا ہو تا ہے کہ سورہ ٴ بقرہ کی ۲۳۳ ویں آیت میں رضاعت (دودھ پلانے ) کی مدّت پُور ے دوسال ذکر کی گئی ہے ، جیساکہ ارشاد ہوتا ہے ۔ ”وَ الْوالِداتُ یُرْضِعْنَ اٴَوْلادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کامِلَیْنِ لِمَنْ اٴَرادَ اٴَنْ یُتِمَّ الرَّضاعَة “ ” ما ئیں اپنے بچوں کودوسال مکمل دودھ پلانے کے عرصے کومکمل کرنا چا ہیں “۔ جب کہ زیر تفسیر آیت میں ” حمل اوروضاعت “ کی مجموعی مدّت صرف تیس ما ہ بیان ہوئی ہے ،توکیا حمل کادو رانیہ چھ ما ہ ہو سکتا ہے ؟ فقہاء اور مفسرین نے اسلامی روایات کی روشنی میں جواب دیا ہے کہ : جی ہاں ! حمل کی کم از کم مدّت ۶ ما ہ اور مفیدرضا عت کا زیادہ سے زیادہ عرصہ ۲۴ ما ہ ہوسکتا ہے ،حتی کہ ” جالینوس “ اور ” ابن ِ سینا“ جیسے قدیم اطباء یہ بات نقل کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ چیز دیکھی ہے کہ بچہ چھ ما ہ کی مدت حمل کے بعد بھی پیدا ہوا ہے ۔ حتمی طورپر قرآنی تعبیر سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ حمل کی مُدّت سے جس قدر عرصہ کم کیاجائے گا بچے کی رضاعت اسی قدر اس کا اضافہ کیاجائے گا تاکہ دونوں عرصہ مل کر تیس ما ہ بن جائیں ، ابن عباس سے بھی یہی بات نقل کی گئی ہے کہ اگر عورت کے حمل کی مدت نوما ہ ہوتواسے اپنے بچے کواکیس ما ہ دودھ پلاناچا ہیئے اور اگرچھ ما ہ ہوتو چوبیس مہینے ۔ قانونِ فطرت بھی اسی بات کامتقاضی ہے کیونکہ دوران حمل کی کمی تلافی رضاعت کی مُدّت کے دوران کی جانا چا ہیئے ۔ پھرارشاد ہوتا ہے : انسانی زندگی اسی طرح جاری اور ساری رہتی ہے ،یہاں تک کہ وہ زمانہ پہنچ جاتا ہے جس میں وہ جسمانی طاقت کے لحاظ سے اپنے کمال کوپہنچ جاتا ہے اور چالیس برس کی حُدود میں داخل ہوجاتا (حَتَّی إِذا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ وَ بَلَغَ اٴَرْبَعینَ سَنَةً)(۳) ۔ بعض مفسرین ” بلوغ اشد “ (انتہائی مرحلے تک پہنچ جانے ) کوچالیس سال کے عرصے تک پہنچ جانے سے ہم آہنگ اوراس کی تاکید سمجھتے ہیں ، لیکن ظا ہر یہ ہے کہ کہ ” بلوغ ِ اشد “ اشارہ ہے جسمانی طورپر بالغ ہونے کی طرف اور ”بلوغ اربعین سنہ “ (چالیس سال تک پہنچ جانا ) فکر ی اور عقلی طور پر بلوغ کی طرف اشارہ ہے ، کیونکہ مشہور ہے کہ انسان عام طورپر چالیس سال کے سن میں عقل کے کامل ہونے کے مرحلے کوپہنچ جاتا ہے اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ اکثر و پیشتر انبیاء چالیس برس کے سن میں نبوّت پرمبعُوث ہُوئے ۔ ضمنی طورپر یہ بھی بتاتے چلیں کہ جسمانی لحاظ سے قدرت وطاقت تک پہنچنے کا سِن بلُوغ کونسا ہے ؟ اس بارے میں بھی مفسرین کی مختلف آرا ء ہیں ، بعض لوگ تو بلو غ کاوہی مشہور سن جانتے ہیں جوسُورہٴ بنی اسرائیل کی ۲۴ ویں آیت میں مذ کور ہوا ہے ․ یتیموں کے بارے میں جس کی طرف اشارہ کیاگیا ہے جب کہ بعض روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ یہ سن اٹھارہ سال کا ہے ۔ البتہ اس بارے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ یہ تعبیر مختلف مقامت پر مختلف معانی دے جوقرینے سے ظا ہر ہوتے ہیں ۔ حدیث میں آیا ہے ک : ” انّ الشیطان یجر ید ہ علی وجہ من زاد علی الاربعین ولم یتب ،و یقول بابی وجہ لایفلح “۔ شیطان اپناپاتھ ان لوگوں کے چہرے پر پھیر تا ہے جوچالیس سال کی عمر کوتو پہنچ جاتے ہیں لیکن گنا ہوں سے توبہ نہیں کرتے اور کہتا ہے میراباپ قربان جائے اس پر چہرے پرجوکبھی کامیاب نہیں ہوگا (اوراس انسان کی پیشانی پر کامیابی کا نور نہیں چمک رہا ہے ( ۴) ۔ ابن عباس سے منقول ہے : ” من اتی علیہ الاربعون سنة فلم یغلب خیرہ شرّہ فلیتجھز الی النّار “۔ ” جس شخص پر چالیس سال گز رجائیں اوراس کی نیکی اس کی بُرائی پرغالب نہ آ ئے اسے جہنم کے لیے آمادہ ہونا چا ہیئے “۔ بہرحال قرآن مجید سلسلہ گفتگو کوآ گے بڑھا تے ہُوئے کہتا ہے کہ جب یہ لائق اور بایمان شخص چالیس سال کے سن کوپہنچتا ہے توخدا سے تین چیزوں کی درخواست کرتا ہے : سب سے پہلے توکہتا ہے ۔ خدا وندا ! مجھے ہدایت عطافرما اورتوفیق دے کہ میں ان نعمتوں کاشکر ادا کروں جوتونے مجھے اورمیرے والدین کوعطا فرمائی ہیں (قالَ رَبِّ اٴَوْزِعْنی اٴَنْ اٴَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتی اٴَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلی والِدَیَّ )(۵) ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ با ایمان شخص ایسے سن وسال میں ایک توخدا کی عطاکردہ نعمتوں کی گہرائی اور گیرائی سے آگاہ ہوجاتا ہے اور دوسر ے اپنے والدین کی ان خدمات سے اچھی طرح باخبر ہوجاتا ہے اور اس عرصے تک بجالائے ہیں اوروہ اس عمر کی پہنچا ہے ،کیونکہ ایسے سن وسال میں انسان عام طورپر خود بھی صاحبِ اولاد ہوجاتا ہے اوراپنے والدین کی طاقت فرساتکا لیف اورایثار پرمبنی خدمات کواپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اوربے اختیار انہیں یاد کرتے ہُوئے خدا کاشکر ادا کرتا ہے ۔ اپنی دوسری درخواست ان الفاظ میں میںپیش کرتا ہے” خدا وندا! مجھے تو فیق عطا فر ماک نیک اعمال بجالاؤں ایسے اعمال جن سے توراضی ہو “ (وَ اٴَنْ اٴَعْمَلَ صالِحاً تَرْضا ہ) ۔ آخری تیسر ی درخواست ان الفاظ میں پیش کرتا ہے : خدا وندا ! میری اولاد اور میرے خاندان کواصلاح کے راستے پردوام عطا فرما (وَ اٴَصْلِحْ لی فی ذُرِّیَّتیِنِّی) ۔ ” لی “ (میرے لیے ) کی تعبیر ضمنی طورپر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میرای اولاد کی نیکی اور بہتری اس اندا ز میں ہو کہ اس کے نتائج مجھے بھی ملیں ۔ ” فی ذریّتی “ ( میر ی اولاد میں ) کی تعبیر مطلق صُورت میں بیان ہوئی ہے جواس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیکی اور بہتری کی ہمیشگی اس کے تمام خاندان میں ہو ۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ کہ پہلی دُعاء میں والدین کو شریک کرتا ہے ، تیسری میں اولاد کو، لیکن دوسری دُعا ء میں اپنے آپ کو اور صالح انسان کو ایسا ہی ہونا چا ہیئے کہ اگر ایک آنکھ کے ساتھ خود کودیکھتا ہے تو دوسری کے ساتھ ان لوگوں کودیکھتا ہے جواس پرحق رکھتے ہیں ۔ او ر آیت کے آخر میں ان دومطالب کو بیان کررہا ہے جو ایک دوسر ے کے لیے موٴ ثر اور عملی امور ہیں ، کہتا ہے : پروردگار ا! میں اس عمر میں تیری طرف رجوع کرتا ہو ں اور تو بہ کرتا ہوں (إِنِّی تُبْتُ إِلَیْکَ) ۔ میں ایسے مرحلہ پرپہنچ چکا ہوں کہ جس میں میر ی زندگی کے خطوط کو متعیّن ہونا چا ہیئے اورآخر العمر تک مجھے اسی طرح برقرار رہناچا ہیئے ، جی ہاں ! میں چالیس سال تک پہنچ چکا ہوں اورمیر ے جیسے بندے کے لئے کتنی بُری بات ہے کہ تیر ی طرف رجوع نہ کروں اورآب تو بہ سے اپنے تیئن گنا ہوں سے پاک نہ کروں ۔ اور یہ بھی کہتا ہے کہ : میں یقینا فرمانبر داروں میں ہوں (وَ إِنِّی مِنَ الْمُسْلِمین) ۔ درحقیقت یہ دونوں جُملے ان تین دعاؤں کی پشت پنا ہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملاکران سب کا مفہوم یوں بنتا ہوں کہ : جب میں نے توبہ کرلی ہے اور تیر ے حکم کے سامنے غیر مشروط طورپر جھک گیا ہوں توتُو بھی بزرگواری فرما اور ان نعمتوں سے مجھے سرفراز فر ما ۔ بعد کی آیت میں اس موٴ من ، شکرگزار صالح العمل اور توبہ کرنے والے گروہ کے اجر اور جزا کاواضح ذکر ہے ، اس میں تین ا ہم جز اؤں کاذکر کیاگیا ہے ۔ سب سے پہلے فر مایاگیا ہے : یہی تووہ لوگ ہیں ، جن کے بہتر ین اعمال ہم قبول فرمائیں گے (اٴُولئِکَ الَّذینَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اٴَحْسَنَ ما عَمِلُو) ۔ اس سے بڑھ کراور کیاخوش خبری ہوسکتی ہے کہ خدا وند بزرگ و قادر ومنان ایک کمزور اور ناچیز بندے کے اعمال قبول فرمائے جو دوسر ے اعزاز ات کے علاوہ بذاتِ خودا یک عظیم اعزاز اور بلند مرتبہ اور روحانی نعمت ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوند ِ عالم تمام نیک اعمال کوقبول فر ماتا ہے ،توپھر کیوں کہتا ہے کہ ” ان کے بہترین اعمال قبول کریں گے “۔ اس سوال کاجواب کچُھ مفسرین نے یوں دیا ہے کہ بہترین اعمال سے مراد واجبات اور مستحبات ہیں جومنا حات کے مقابلے میں اگرچہ وہ نیک اعمال توہیں لیکن ان میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ مقبول بھی قرار پائیں اوران کے ساتھ اجر اور ثواب کا تعلق ہو (۶) ۔ دوسراجواب یہ ہے کہ خداوند عالم ان کے بہترین اعما ل کوقبولیت کامعیار قرار دیتا ہے حتّی کہ دوسرے درجے اورکم ا ہمیت کے اعما ل کو بھی اپنی رحمت اوراپنے فضل وکرم سے پہلے درجے کے اعما ل میں شمار کرتا ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہوگا ، جیسے کوئی خریدار بیچنے والے کی طرف سے مختلف اجناس کواپنے فضل وکرم سے اعلیٰ جنس کے حساب سے خرید ے او ر اورخدا وندِ عالم کے فضل اوراس کے لطف وکرم کے بارے میں جوکچھ کہاجائے عجیب نہیں ہے ۔ خدا کی دوسری مہر بانی ان کے گنا ہوں سے صرف نظر ہے ، ارشاد فر مایاگیا ہے : ہم ان کے گنا ہوں سے د رگز کریں گے ( وَ نَتَجاوَزُ عَنْ سَیِّئاتِہِمْ ) ۔ جبکہ ان کا مقام اہل بہشت میں ہے (فی اٴَصْحابِ الْجَنَّة)(۷) ۔ خدا کی تیسر ی مہر بانی ان کے ساتھ یہ ہوگی کہ باوجود ان کی لغز شوں کے اللہ تعالیٰ انہیں پاک وصاف کرکے نیک اورپاک لوگوں میں انہیںجگہ دے گا ، جومقربان بارگاہ رب العزّت ہوں گے ۔ ضمنی طورپر یہاں اس تعبیر سے یہ استفادہ بھی ہوتا ہے کہ ’ ’ اٴَصْحابِ الْجَنَّة“ سے یہاں مراد وہ مقربان بار گاہ ِ ایزا دی ہیں جن کے پاکیزہ دامن گنا ہ معصیّت کے غبار سے کبھی آلودہ نہیں ہوئے اور تو بہ کرنے والے یہ موٴ من مغفرت الہٰی کے بعد ان کے ساتھ اور ان کے زیر مقام پائیں گے ۔ آیت کے آخر میں مذکورہ نعمتوں کی تاکید کے لیے فر مایاگیا ہے : یہ وہ سچا وعدہ ہے جوان سے کیاجاتا ہے (وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذی کانُوا یُوعَدُون) ( ۸) ۔ سچا وعدہ کیوں نہ ہو ؟ جب کہ وعدہ خلافی یاتوکسِی پشیمانی اورنا دانی کی وجہ سے ہوتی ہے یاپھر کمز وری اور نا توانی کی وجہ سے اورخدا وندِ عالم ان سب سے منزہ و مبرّہ ہے ۔ ۱۔” توصیہ “ عام طورپر دومفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے ، البتہ دوسرا مفعول یاتو ” باٴ “ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے یا ” الی “ کے ساتھ ، بنا ء بریں مندرجہ بالا عبار ت میں” احسانا ً “ کاکلمہ دوسرا کلمہ مفعول واقع نہیں ہوسکتا ، مگر یہ کہ ” وصینا “ کو ” الز منا“کے معنی میں لیاجائے ، جو دومفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے اور حرف جارہ کو بھی نہیںچا ہتا ، یاپھر آیت کے لیے کوئی محذوف مانیں ، اور کہیں کہ اصل میں یوں ہے ، ” وَصَّیْنَا الْإِنْسانبان یحسن بوالدیہ احسانا ً“ توایسی صورت میں ” احساناً “ فعل محذوف کا مفعول مُطلق ہے ۔ ۲۔اس حالت میں حاملہ عورت کوکھٹی اورترش چیزیں کھانے کی خوا ہش پیدا ہوتی ہے ( متر جم ) ۔ ۳۔ ” حتّٰی “ یہاں پرایک محذوف جُملے کے لیے غا یب کے طورپر جس کی تقدیری صورت یوں ہے۔ وعاش الانسان واستموت حیاتہ حتّٰی اذابلغ اشدہ “ ۔ بعض مفسرین اسے ” وصینا“ کی غا یت یا ” ماں ، باپ کی اپنے بچّے کی نگرانی “ کی غایت سمجھتے ہیں اور یہ دونوں احتمالات بعید معلوم ہوتے ہیں ،کیونکہ نہ تو ماں باپ کے ساتھ نیکی کے بارے میں حکم الہٰی چالیس سال تک ختم ہوجاتا ہے اور نہ ہی بچے کے لیے والدین کی دیکھ بھال چالیس سال تک قائم رہتی ہے ۔ ۴۔ تفسیر رُوح المعانی ، جد ۲۶، ص ۱۷۔ ۵۔ ” او زعنی “ ” ایزار “ کے مادہ سے ہے ، جس کے کئی معانی ہیں ، (۱) ہدایت کرنا ( ۲) بے را ہ روی سے روکنا (۳) عشق ومحبت پیداکرنا (۴) توفیق دینا ۔ ۶۔ طبرسی نے مجمع البیان میں، علامہ طباطبائی نے المیزان میں ، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اوردوسر ے مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں اسی طرح لکھا ہے ۔ ۷۔ ”فی اٴَصْحابِ الْجَنَّة “ ایسے محذوف سے متعلق ہے جو” ھم “ ضمیر کا حال واقع ہورہا ہے اوراس کی تقد یر ی صُورت یوں ہے ” حالکو نھم موجودین فی اٴَصْحابِ الْجَنَّة “ ۔ ۸۔ ” “ ایک فعل محذوف کامفعول مطلق ہے جوتقدیر ی طورپر یوں ہے ۔ ” بعدھم وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذی کانُوا یُوعَدُون بلسان الانبیا ء والر سل “۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:15-16
چند اہم نکات
۱۔ بہشتی انسان کی صفات : یہ آیت ایک ایسے بہشتی موٴ من کی تصویر کشی کررہی ہیں جوپہلے تواپنے جسمانی نشو ونما پھرعقلی کمال کے مرحلے کوطے کرنے کے بعد پروردگار ِ عالم کی نعمتوں کے شکرانے اور والدین کی طاقت فرسا تکا لیف کاشکریہ ادا کرنے کے مقام پر تک جا پہنچتا ہے ، اپنی لغزشوں سے برمحل توبہ کرتا ہے ، اولاد کی تربیّت سمیت نیک اعمال کی بجا آ واری کا ا ہتمام کرتا ہے اور آخر کا ر فر ما ن الہٰی کی تعمیل کے لیے اس کے آگے سرتسلیم خم کرکے دُنیا وآخرت کی سربلندی حاصل کرلیتا ہے ۔ یہی چیز اس بات کا باعث بن جاتی ہے کہ وہ خدا وندِ عالم گوناگوں نعمتوں اوراس کی رحمت ومغفرت کے دریا میں ہمیشہ مستغرق رہے ، ایک بہشتی انسان کوانہی صفات سے پہچانا جاسکتا ہے ۔ ۲۔” وصینا الانسان “ : ( ہم نے انسان کوحکم دیا) کی تعبیراس بات کی طرف اشارہ ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اِنسانی اصولوں میں سے ایک ہے یہاں تک کہ جولوگ کسِی دین ومذہب کے بھی پابند نہیں ہیں وہ بھی فطری ہدایت کے ذ ریعے اسی اصُول کی پا بندی کرتے ہیں ․ بنابریں جولوگ اس عظیم فریضے کوٹھو کر مار تے ہیں وہ نہ صرف صحیح معنوں میں مُسلمان نہیں ، بلکہ انہیں انسان کہنا بھی مناسب نہیں ہے ۔ ۳۔ ” احساناً “ کی تعبیر : اس بات کو پیشِ نظر رکھتے ہُوئے کہ اس قسم کے مقامات پر نکرہ کا استعمال کسی چیز کی عظمت کو بیان کر نے کے لیے آیا ہے ، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حکم الہٰی کے تحت ماں باپ کی خدمت کے بدلے میں عظیم اور برجستہ نیکی انجام دینی چا ہیئے ۔ ۴۔ ” اولاد کی پرورش میں ماں کی تکا لیف: “ کا تفصیلی ذکر ایک تواس وجہ سے ہے کہ وہ تکالیف نہایت واضح اورنمایاں ہوتی ہیں اوردوسر ے اس لیے کہ ماں کی تکا لیف ، باپ کی نسبت زیادہ ا ہمیت کی حامل ہیں ، اسی لیے اسلامی روایات میں بھی ماں کے بارے میں زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسُولِ پاک (صلی اللہ علیہ ولہ وسلم ) کی خدمت ِ حاضر ہوکرعرض کی : ” من ابرّ ؟ قال امک ! قال ثم من ؟ قال امک ! قال ثم من ؟ قال امک ! قال ثم من ؟ قال اباک “۔ ” یا رسُول اللہ ! کِس کے ساتھ نیکی گروں ؟ آ پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ارشاد فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ! پھو چھا! بھر کس کے ساتھ ؟ فر مایا : ماں کے ساتھ ! پوچھا ! پھر کس کے ساتھ ؟ آپ نے فر مایا : جب اس نے چوتھی بارسوال کیاتوآپ (صلی اللہ علیہ ولہ وسلم)نے فر مایا : ماں کے ساتھ ! جب اس نے چوتھی بارسوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا : اپنے باپ کے ساتھ ( 1) ۔ ایک اورروایت میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بوڑھی ماں کواپنے کندھوں پرسوار کرکے خانہ کعبہ کاطواف کروایا اوراسی اثنا مین رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ کرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے عرض کی ۔ ” ھل ا دیت حقّھا “ ” حضور ! کیا اس طرح سے میں نے اپنی والدہ کاحق ادا کردیا ہے “؟ آپ (صلی اللہ علیہ ولہ وسلم )نے ارشاد فرمایا : ” لا ، ولا بز فرة واحدة “۔ ” ہرگز نہیں ، تم نے توابھی ایک سانس کاحق بھی ادا نہیں کیا “ ( ۲) ۔ ۵۔ ” قرآنی آیات میں خاندانی رشتے : والدین کے احترام واکرام اوراولادکی تربیّت کوزبر دست ا ہمیّت دی گئی ہے اورمذ کورہ بالا آیات میں ان سب کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ، یہ اس لیے کہ عظیم انسانی معاشرہ خاندان کی مختلف اورچھوٹی چھوٹی اکائیوں سے تشکیل پاتا ہے ، جس طرح ایک عظیم عمار ت کئی چھوٹے چھوٹے بڑے کمروں سے اور کمر ے مختلف پتھروں اوراینٹوںسے وجود میں آ تے ہیں ۔ ظا ہر سی بات ہے کہ ان چھوٹی اکائیوں میں با ہمی وحدت اوراستحکام جتنا زیادہ ہوگا اسی قدر معاشر ے کی بنیادیں مستحکم ترہوں گی ، ہمار ے صنعتی دور کے معاشرے کی بتا ہی کے اسباب میں سے ایک سبب خاندانی نظام کا بگاڑ ہے کیونکہ تو اولاد اپنے والدین کا احترام کرتی ہے، نہ ہی والدین کواپنی اولاد سے شفقت کا احساسِ ہے اور نہ ہی میاں بیوی کے ما بین مہر ومحبت کاحقیقی رابط ہے ۔ آج کے صنعتی معاشرے میں بڑ ے بو ڑھوں کے لیے جداگانہ آرام گاہیں ، جن میں ضعیف اور کمز ور والدین قیام پذیرہوتے ہیں ،نہایت ہی دردناک مناظر پیش کرتی ہیں کیونکہ کہ ان قیام گاہوں میں ایسے لوگ اقامت گزیںہوتے ہیں جوکسی کام کے نہیں رہتے اورخاندان والے انہیں وہیں چھو ڑ آتے ہیں ۔ وہ زن ومرد جوایک طویل مرصہ معاشرے کی خدمت انجام دیتے رہتے ہیں اوراپنی اولاد کومعاشر ے کی خدمت کے لیے وقف کرچکے ہیں ہوتے ہیں جب انہیں اپنی اولاد کی مہر و محبت کی ضرورت ہوتی ہے اوران کی امداد کے محتاج ہوتے ہیں توانہیں بُری طرح دھتکا ر دیاجاتا ہے اوروہ وہیں پرموت کے انتظا ر میں اپنی زندگی کے باقی دن پُور ے کرت رہتے ہیں ، ان کی آنکھیں ہمیشہ دروازے پرلگی رہتی ہیں کہ شاید کوئی واقف کار یہاں پر آجا تے اورایسا اتفاق سال بھر میں شاید ایک یادو مرتبہ ہی ہوتا ہے کہ کوئی دوست یاواقف شخص بھُولے سے وہاں چلاجاتا ہے ۔ سچ مچ جب انسان اس قسم کی زندگی کاتصوّر کرتا ہے تو اسی وقت جینا اس کے لیے دوبھر ہوجاتا ہے اورصرف مادی اورایمان ومذہب سے عاری ” مہذب“ دُنیا کے را ہ ورسم ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ ۶۔ ” ان اعمل صالحاً ترضا ہ “کا مفہوم :” احسن ماعملوا “ کوبیان کر رہا ہے کہ نیک اعمال ایسی چیز ہوتے ہیں جوخدا وندِ عالم کی رضا اورخوشنودی کا موجب ہوتے اور ” احسن ماعملوا “ بہتر ین کام جوانجام دیئے ہیں کی تعبیر قرآن مجیدکی متعدد آیات میں آچکی ہے اور یہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ خداوند عالم کا بے حساب فضل وکرم ، بندوں سے اجرو ثواب کے موقع پر ان کے بہترین اعمال کومعیار قراردیتا ہے اور سب اعمال اسی حساب سے قبول کرتا ہے ۔ 1۔تفسیر روح المعانی، جلد۲۶، صفحہ ۱۶۔ 2۔فی ظلال القرآن ، جلد۷، صفحہ ۴۱۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 46:15-16
سوره احقاف/ آیه 15- 16
۱۵۔ وَ وَصَّیْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَیْہِ إِحْساناً حَمَلَتْہُ اٴُمُّہُ کُرْہاً وَ وَضَعَتْہُ کُرْہاً وَ حَمْلُہُ وَ فِصالُہُ ثَلاثُونَ شَہْراً حَتَّی إِذا بَلَغَ اٴَشُدَّہُ وَ بَلَغَ اٴَرْبَعینَ سَنَةً قالَ رَبِّ اٴَوْزِعْنی اٴَنْ اٴَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتی اٴَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلی والِدَیَّ وَ اٴَنْ اٴَعْمَلَ صالِحاً تَرْضا ہ وَ اٴَصْلِحْ لی فی ذُرِّیَّتی إِنِّی تُبْتُ إِلَیْکَ وَ إِنِّی مِنَ الْمُسْلِمینَ ۔ ۱۶۔اٴُولئِکَ الَّذینَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اٴَحْسَنَ ما عَمِلُوا وَ نَتَجاوَزُ عَنْ سَیِّئاتِہِمْ فی اٴَصْحابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذی کانُوا یُوعَدُونَ۔ ترجمہ ۱۵۔اور ہم نے انسان کونصیحت کی کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرے ، اس کی ماں تکلیف کی حالت میں اسے پیٹ میں رکھتی ہے اور تکلیف ہی سے اسے جنم دیتی ہے ، اس کاپیٹ میں رہنا اوراس کی دوھ بڑھائی کی مدّت تیس مہینے ہُوئے ،یہاں تک کہ ب اپنی پوری جوانی کی اور کمالِ قدرت کوپہنچتا ہے اور چالیس برس کے سن میںداخل ہوتا ہے کہ توکہتا ہے خداوند ا ! تومجھے توفیق عطافر ما کہ تونے جو احسا نات مجھ پر اور میرے والدین پرکیے ہیں ان کاشکر بجالاؤں اور ایسا نیک کام کروں جِسے توپسند کرے اورمیری اولادکوصالح بنا، میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور میں یقینافرمانبر داروں میں سے ہُوں ۔ ۱۶۔یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے بہتر ین اعمال ہم قبول کرتے ہیں اوران کے گنا ہوں سے در گزر تے ہیں اوران کامقام اہل بہشت میں ہے ، ان سے کیا جانے والا یہ وعدہ سچّا ہے ۔