وَلَوْلَا أَن يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ
Were it not [for the danger] that mankind would be one community, We would have made for those who defy the All-beneficent, silver roofs for their houses and [silver] stairways by which they ascend,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 43:33
[Pooya/Ali Commentary 43:33] So little value is attached in the spiritual world to silver or gold or worldly ranks that they would freely be at the disposal of every one, but in that case they all might scramble to sell their spiritual life for worldly gains. All false glitter and adornments of this world are illusions. They more often hinder than help. Possession of worldly gains is not a proof of an unjust or a just life. Aqa Mahdi Puya says: Allah distributes worldly possessions in order to test and distinguish one from another. They are not the real blessings. The pleasure of Allah is the real reward given to the righteous, the excellence of which is beyond the human imagination.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:33-35
۱۔ اسلام غلط اقدار کی نفی کرتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ جھوٹی اورغلط اقدار کی نفی اوران پر خط تنسیخ کھینچنے کے لیے مندرجہ بالا آ یات میں موجُود تعبیر ے بڑھ کرکوئی اور تعبیر نہیں ہوسکتی .اسے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوایسے معاشر ے کومنقلب کرنے اور اس میں تبدیلی لانے کے لیے بھیجاگیا جس میں افراد کی شخصیت کامعیار اونٹوں کی تعداد ،درہم و دینار کی مقدار ،غلاموں اورکنیزوںکی تعداد اور زینت وآرائش کے وسائل اور گھر تھے . حتی کہ وہ اس بات پر بھی تعجب کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بن عبداللہ جو یتیم اورمادی لحاظ سے غریب انسان ہے ، اسے نبوّت کے لیے منتخب کرلیاگیاہے .سب سے پہلا اور بنیاد ی کام ایسے معاشر ے میں تبدیلی کے لیے یہ ہوتا ہے کہ اس کے ایسے غلط معیاروں کومسمارکرکے اس پرصحیح انسانی اقدار کی بنیاد رکھی جائے جس میں تقویٰ اور پرہیزگا ری علم اور دانش ،ایثار و فدا کاری اور شجاعت و بہادری جیسی صفات پائی جائیں و گرنہ ہراصلاح ظاہری ،سطحی اور ناپائیداری ہوگی ۔ یہ وہی کام ہے جسے اسلام ، قرآن اورخود رسُول اللہ نے اعلیٰ ترین صورت میں انجام دیاہے جس کی وجہ سے خرافات پر مبنی ایک پسماندہ ترین انسانی معاشر ہ مختصر سے عرصے میں اس قدر ترقی کرگیا کہ اس کاشمار دُنیا کے صف اوّل کے معاشر وں میں ہونے لگا . یہ بات لائق توجہ ہے کہ اسی پرو گرام کی تکمیل کے لیے ، پیغمبرخدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی ایک حدیث ہے : ” لو وزنت الدنیا عنداللہ جناح بعو ضة ماسقی الکا فر منھا شر بة ماء “ ۔ اگر خداکے نزیک دُنیا کاوزن مچّھر کے بَرا بر بھی ہوتاتواس سے کافر کو پانی کے ایک کھونٹ تک نہ پلاتا ( 1) ۔ حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اس بارے میں بات کونہایت کمال سے بیان فرمایاہے : ” مُو سٰی (علیہ السلام )اپنے بھائی ہارون ( علیہ السلام )کوساتھ لے کر اس حالت میںفرعون کے پاس آ ئے کہ ان کے جسم پر اُونی کرتے اورہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اوراس سے قول وقرار کیا کہ اگر وہ اسلام قبول کرے تواس کاملک بھی باقی رہے گا اوراس کی عزت بھی بر قرار رہے گی .تواس نے ( اپنے حاشیہ نشینوں سے )کہا کہ تمہیں اس پر تعجب نہیں ہوتا کہ یہ دونوں مُجھ سے یہ معاملہ ٹھہرا رہے ہیں کہ میری عزت بھی برقرار رہے گی اورمیر ا ملک بھی باقی رہے گا اور جس طرح کے خستہ حا ل اورذلیل صُورت میں یہ ہیں تم دیکھ ہی رہے ہو ( اگران میں اتنا دم خم تھا تو پھر )ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن کیوں نہیں پڑے ہوئے ؟یہ اس لیے کہ وہ سُونے کو اوراس کی جمع آوری کو بڑی چیزسمجھتا تھا اوراونی کپڑوں کوحقارت کی نظر سے دیکھتا تھا “ ۔ ” اگرخدا یہ چاہتا کہ جس وقت اس نے نبیوں کومبعوث کیاان کے لیے سُونے کے خزانوں اورخالص طلاٴ کی کانوں کے مُنہ کُھول دیتا اور ان کے لیے مہیّا کردیتا اورفضا کے پرندوں اورزمین کے صحرائی جانوروں کوان کے ہمراہ کردیتا توکر سکتا تھااوراگر ایساکرتا توپھرآزمائش ختم اور جزا ؤ سزا بے کارہوجاتی اسی خُطبے کے دوسر ے حِصّے میں فر ماتے ہیں ۔ ” تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے آدم سے لے کر اس جہاں کے آخر تک کے اگلوں پچھلوںکوایسے پتھروں سے آز مایاہے کہ جونہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ ، نہ سن سکتے ہیں .اس نے ان پتھروں ہی کواپنا محترم گھر قرار دیا کہ جسے لوگوں کے لیے(امن کے ) قیام کاذریعہ ٹھہرایاہے .پھر یہ کہ اس نے اِسے زمین کے رقبوں میں ایک سنگلاخ رقبہ اور دُنیا میں بلندی پرواقع ہونے والی آبادیوں میں سے ایک کم مٹی والے مقام اور گھاٹیوں میں سے تنگ اطراف کی گھاٹی میں قراردیاکُھرے اور کُھردے پہاڑوں ،نرم ریتلے میدانوں ،کم آب چشموں اور بکھرے ہُوئے دیہاتوںکے درمیان کہ جہاں اونٹ ،گھوڑا، گائے بکری نہیں پل سکتے ،پھر بھی اُس نے آدم اوران کی اولاد کوحکم دیا کہ اپنارُخ اس کی طرف موڑیں .چنانچہ وہ ان کے سفر سے فائدہ اُٹھانے کا مرکز اور پالا نوں کے اترنے کی منز ل بن گیا .... “ ۔ اسی خُطبے کے ایک اورحِصّے میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : ” اگر خدوند عالم یہ چاہتا کہ وہ اپنا محترم گھراوربلند پایہ عبادت گا ہیں ایسی جگہ پر بنائے کہ جس کے گرد باغ وچمن کی قطاریں اور بہتی ہوئی نہریں ہوں ،زمین نرم وہموار ہو کہ ( جس میں ) درختوں اور ( ان میں)جُھکے ہُوئے پھلوں کے خوشے ہوں جہاں عمارتوں کاجال بچھا ہوٴا اور آبادیوں کاسلسلہ ملاہو ،جہاں سُرخی مائل گیہوں کے پودے ، سرسبز مرغزار ، چمن درکنار سبزہ زار ، پانی میں شرابوں میدان ، لہلہاتے ہُو ئے کھیت اور آباد گزر گا ہیں ہوں توالبتہ وہ جزاٴ وثواب کواسی اعتبار سے کم کردیتاہے کہ جس قدر اتبلاء وآ زمائش میں کمی واقع ہوئی ہے (اور لوگ دلفریب ظاہری اقدار کے ساتھ مانوس ہوجاتے ہیں اور حقیقی اورخدائی اقدار سے غافل ہوجاتے ہیں ( ۲) ۔ بہرحال اسلامی انقلاب ،اقدار کا انقلاب ہے اور اگرمسلمان آج سخت اورناخوشگو ار حالات سے دو چار ہیں اور بے رحم اور خونخوار دشمن کے پنچوں میں پھنسے ہوئے ہیں تواس کی جہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے اصل اقدار کوچھوڑ کرایک بار پھر زمانہ ٴ جاہلیّت کی قد روں کواپنا لیاہے اور یہ قدریں ان میں خوب پروان چڑھ رہی ہیں .انسانی شخصیت کامعیار دنیاوی مال ومقام قرار پاچکا ہیں اور جب تک ان کی یہی حالت رہے گی اس عظیم غلطی کاانہیں خمیازہ بھی بھگتناپڑے گا . جب تک اپنے وجُود پرخدائی اقدار کی حکمرانی کاآغاز نہیں کریں گے اس وقت تک خدا کالطف وکرم ان کے شامل ِ حال نہیں ہوگا . کیونکہ ” إِنَّ اللَّہَ لا یُغَیِّرُ ما بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا ما بِاٴَنْفُسِہِمْ “ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتاجواپنے آپ میں تبدیلی نہ لائے ( رعد ۔ ۱۱) ۔ 1۔تفسیر کشاف ، جلد ۴،ص ۳۵۰۔ ۲۔نہج البلاغہ خُطبہ نمبر ۱۹ (خطبہ قاصعہ ) (اردو ترجمہ از مرحوم علامہ مفتی جعفرحسین ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:33-35
۲۔ ایک سوال کاجواب
مندرجہ بالاآیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن نے ظاہر ی ٹھاٹھ باٹھ اور دنیاوی زینب اور شان وشوکت کی نفی کی ہے ، جبکہ سورہٴ اعراف کی آ یت ۳۲ میں فر مایاگیاہے ۔ ” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زینَةَ اللَّہِ الَّتی اٴَخْرَجَ لِعِبادِہِ وَ الطَّیِّباتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذینَ آمَنُوا فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا خالِصَةً یَوْمَ الْقِیامَةِ کَذلِکَ نُفَصِّلُ الْآیاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُون“ ۔ ” کہہ دیجئےے کہ اللہ نے جو زینت اپنے بندوں کے لیے خلق فرمائی ہے نیز طیّبات کوکِس نے حرام کیاہے ؟کہہ دیجئیے کہ یہ دُنیا وی زندگی میں ان لوگوں کے لیے ہے جوایمان لے آ ئے ہیں ( اگرچہ دوسر ے لوگ بھی اس میں شریک ہیں لیکن ) قیامت میں خاص طورپر ان ہی کے لیے ہوگی . ہم اپنی آ یات کوسمجھدار لوگوں کے لیے اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں “ ۔ ایک اور جگہ پرفر مایا گیاہے : ” یا بَنی آدَمَ خُذُوا زینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ “ اے اولاد آدم ! مسجد جاتے وقت اپنے تیئن مزین کرلیا کرو “ ( اعراف ۔ ۳۱) ۔ تو یہاں پریہ سوال پیدا ہوتاہے کہ یہ دوقسم کی آیات آپس میں کس طرح ہم آہنگ ہوسکتی ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زیر تفسیر آیات کاصل مقصد جھوٹی اقدار کی نفی اوران کاخاتمہ کرنا ہے اور یہ مقصد ملحوظِ خاطرہے کہ مال و دولت اورظاہر ی ٹھاٹھ باٹھ کوانسانی شخصیّت کامعیار نہ سمجھ لیا جائے ، نہ یہ کہ مادی وسائل بُری چیز ہیں . سب سے اہم با ت یہ ہے کہ مادی وسائل کوصرف وسائل کی حد تک ہی محدود رکھیں ،اُنھیں منتہائے مقصُود نہ سمجھ لیں ۔ ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ ان وسائل کی اس وقت کو ئی قدرو قیمت ہے ، جب وہ کسی معقُول اور شائستہ حد تک ہوں اوراسراف وفضول خرچی سے پاک ہوں ، نہ کہ سونے چاندی کے محل بنانے اور سیم وزر کواکٹھا کرنے کے لیے ۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ان مادی نعمتوں سے کفّار و ظالمین کی بہرہ مندی نہ توان کی شخصیّت کی دلیل بن سکتی ہے اور نہ ہی مومنین کاان سے محروم ہوناان کی شخصیت کے منافی ہے .اور نہ ہی معقول حد تک ان اُمور سے استفادہ انسان کے ایمان اور تقویٰ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے اوریہی صحیح اسلامی اور قرآنی نظر یہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:33-35
چاندی کے محل ۔ جُھو ٹی قدریں
یہ آ یات بھی اسلامی نظام کی اقدار کاذکر کررہی ہیں او ر بتار ہی ہیں کہ مال ودولت اورمادی جاہ ومنصب کو ئی معیار نہیں ہے . چنانچہ اس سلسلے کی سب سے پہلی آ یت میں ارشا دفر مایاگیا ہے : اگر کفار کامادی وسائل سے استفادہ اس بات کا سبب نہ ہوتاکہ تمام لوگ کفر کی طرف مائل ہوکر گمراہی میں ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے ، توہم ان لوگوں کے جو خداوند رحمان کاانکار کرتے ہیں ، گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے (وَ لَوْ لا اٴَنْ یَکُونَ النَّاسُ اٴُمَّةً واحِدَةً لَجَعَلْنا لِمَنْ یَکْفُرُ بِالرَّحْمنِ لِبُیُوتِہِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ ) (۱) ۔ اور جن گھروں کی کئی منزلیں ہوتی ہیں ان کی ” سیڑ ھیاں بھی کہ جن پروہ چڑ ھتے ہیں (وَ مَعارِجَ عَلَیْہا یَظْہَرُون)(۲) ۔ بہت سے مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں پرمر اد چاندی کی سیڑ ھیاں ہیں اور لفظ ” فضہ “ (چاند ی )کودوبارہ اس لیے نہیںلایاگیا کیونکہ وہ واضح طورپر موجود ہے .اس طرح سے گویا انہوں نے صرف سیڑھیوں کے وجُود کوگھروں کی اہمیّت کی دلیل نہیں سمجھا ،حالانکہ ایسی بات نہیں ہے ،کیونکہ بہت سی سیڑھیوں کاوجود ہی مکانات کی عظمت اور کئی منزلہ ہونے کی دلیل ہے ۔ ” سُقف“ ( بروزن ” شتُر “ )” سَقف“ کی جمع ہے .البتہ کچھ مفسرین اسے ” سقیفہ “ (چھپی ہوئی جگہ ) کی جمع سمجھتے ہیں .لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے ۔ پھر فرمایاگیاہے کہ اس کے علاوہ ہم ” ان کے گھروں کے در واز ے اور وہ تخت قرار دیتے جن پروہ تکیہ لگاتے ہیں“ (وَ لِبُیُوتِہِمْ اٴَبْواباً وَ سُرُراً عَلَیْہا یَتَّکِؤُنَ) ۔ ممکن ہے کہ یہ جُملہ نقرئی در وازوں اور تختوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ سابقہ آ یت میں چھتوں کے نقرئی ہونے کاذکرہے اور یہاں پرنقرئی ہونے کودوبارہ ذکرنہ کیاگیاہو یہ بھی ممکن ہے کہ کئی در وازوں اور کئی تختوں کی طرف اشارہ ہو ( ابوابًا)اور” سرراً“چونکہ نکرہ ہیں اور یہاں پراہمیّت بیان کرنے کے لیے آئے ہیں جوبذات خودان محلّات کی عظمت کی ایک دلیل ہے . کیونکہ کسِی معمولی اورحقیر سے گھر میں متعدد دروازے نہیں ہوا کرتے . بلکہ بات بڑ ے بڑے محلات اوراونچی عمار توں ہی سے محفوظ ہو اکرتی ہے .اسی طرح تخت بھی ایسی ہی عما رتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ پھر بھی اسی پر اکتفانہیںکیاگیا ، بلکہ آگے چل کرفرمایاگیاہے کہ اس کے علاوہ زیب وزینت کے دوسر ے وسائل بھی (وَ زُخْرُفاً )(۳) ۔ تاکہ ان کی پرتعیش زندگی ہرلحاظ سے مکمل ہوجائے . یعنی نقرئی چھتوں کی باشکوہ اورکئی منزلہ محلات اور عمارتیں، متعدددر وازے اور تخت ،زیب وزینت کے مختلف وسائل اورہر قسم کے نقش ونگارجو عام طورپر دُنیا پرستوں کے مطلُوب ، مقصُود اورمعدُود ہواکرتے ہیں ۔ پھر فرمایاگیاہے : لیکن یہ سب کُچھ دنیاوی مادی زندگی کے وسائل ہیں اور تیرے پروردگار کے نزدیک آخرت توصرف پرہیز گاروں کے لیے ہے ( وَ إِنْ کُلُّ ذلِکَ لَمَّا مَتاعُ الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقینَ ) ۔ ” زخرف “ دراصل ہراس زینت اور آ رائش کوکہتے ہیں جس میں طرح طرح کے نقش و نگار ہوں اور چونکہ زینت کاایک اہم ترین ذریعہ ” سونا “ ہے لہٰذا اسے بھی ” زخرف “ کہتے ہیں اور فضُول باتوں کواس لیے ” زخرف“ کہاجاتاہے کیونکہ ان پر ملمع سازی کرکے پیش کیاجاتاہے ۔ المختصر مادی سر مایہ اور دنیاوی زینت کے یہ وسائل اللہ کی بار گاہ میں اس قدر بے قدر وقیمت ہیں کہ صرف کفّار ومنکرین حق جیسے بے قدر و قیمت افراد ہی کے شانِ شایان ہواسکتے ہیں .اگرکم ظرف اور دُنیا کے دل دادہ بے ایمانی اورکُفر کی جانب جھکاؤپیدا نہ کرلیتے تو خدا وند ِ عالم اس سر مائے کوصرف اپنی درگاہ سے دھتکار ے ہُو ئے لوگوں کے ہی نصیب کرتا تاکہ سب لوگوں کومعلوم ہوجاتا کہ ایسے امورانسانی قدر وقیمت اور شخصیت کا معیار نہیں ہوٴا کرتے ۔ ۱۔ ”لِبُیُوتِہِمْ “ ” لِمَنْ یَکْفُرُ بِالرَّحْمن“ کابدل الاشتمال ہے اورلام کو بھی دوبارہ اسی لیے لایاگیاہے یاپھر” ِ لِبُیُوتِہِمْ “ کی ” لام“ ” علیٰ “ کے معنٰی میں ہے جس کامفہوم یہ ہوگا ” علی بیوتھم “ لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے ۔ ۲” معارج “ کا معراج کی جمع ہے . ایسا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان بالائی منزلوں پر جاتاہے ۔ ۳۔بعض مفسرین ”زُخْرُفاً“ کو ” سقفاً “ پر عطف اور زینت کے مستقل وسائل کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جواس قسم کے لوگوں کے پاس ہوتے ہیں اور بعض ” من فضة “ پرعطف جانتے ہیں جو اصل میں ” من زخرف “ ہے پھر اسے ” نزع خافض “ کی وجہ سے منصُوب کیاگیا ہے تو. ایسی صورت میں جُملے کامفہوم بس ہوگا ” ان کے گھروں کی چھتوں ، دروازوں اورتختوں میں سے کچھ کوتو ہم نے سونے کے اور کچھ کوچاندی کے بنایا ہے ( غور کیجئے گا ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:33-35
سوره زخرف/ آیه 33- 35
۳۳۔ وَ لَوْ لا اٴَنْ یَکُونَ النَّاسُ اٴُمَّةً واحِدَةً لَجَعَلْنا لِمَنْ یَکْفُرُ بِالرَّحْمنِ لِبُیُوتِہِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ وَ مَعارِجَ عَلَیْہا یَظْہَرُونَ ۔ ۳۴۔ وَ لِبُیُوتِہِمْ اٴَبْواباً وَ سُرُراً عَلَیْہا یَتَّکِؤُنَ ۔ ۳۵۔ وَ زُخْرُفاً وَ إِنْ کُلُّ ذلِکَ لَمَّا مَتاعُ الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ الْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقینَ ۔ ترجمہ ۳۳۔ اگر کفار کامادی وسائل سے استفادہ اس بات کاسبب نہ ہوتا کہ گمراہی میں سب لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے توہم ان کے لیے جوخدا کاانکار کرتے ہیں گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے اور وہ سیڑ ھیاں بھی جن پر وہ چڑ ھتے ہیں ۔ ۳۴۔ اوران کے گھروں کے در وازے او ر وہ ( خوبصورت نقرئی ) تخت جن پر وہ تکیہ لگا تے ہیں ۔ ۳۵۔ اور زیب وزینت کے دوسر ے وسائل بھی ، لیکن یہ سب کُچھ توصرف دنیاوی زندگی کے سازو سامان ہیں اور آخر ت تو تیرے پروردگار کے نز د یک صرف پرہیز گاروں کے لیے ہے ۔