وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
Thus have We imbued you with a Spirit of Our command. You did not know what the Book is, nor what is faith; but We made it a light that We may guide by its means whomever We wish of Our servants. Indeed, you guide to a straight path,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 42:52
[Pooya/Ali Commentary 42:52] Aqa Mahdi Puya says: Whatever the Holy Prophet did or said was as directed by Allah. He never let his own desire or inclination give any other colour to the divine plan. Refer to Saba: 50. All his deeds were in the highest degree of submission to the will of Allah as mentioned in Najm: 2 to 10. Rahman: 1 to 4 confirm that he did not learn anything from any mortal but was taught and educated by Allah Himself. Refer to Baqarah: 78. So there is no doubt that whatever Allah willed His prophet put into practice, as also indicated in Qasas: 56. His likes and dislikes were a true mirror of Allah's likes and dislikes. Refer to Anfal: 17.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:52-53
سوره شوری/ آیه 52- 53
۵۲۔وَ کَذلِکَ اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ رُوحاً مِنْ اٴَمْرِنا ما کُنْتَ تَدْری مَا الْکِتابُ وَ لاَ الْإیمانُ وَ لکِنْ جَعَلْناہُ نُوراً نَہْدی بِہِ مَنْ نَشاء ُ مِنْ عِبادِنا وَ إِنَّکَ لَتَہْدی إِلی صِراطٍ مُسْتَقیمٍ ۔ ۵۳۔ صِراطِ اللَّہِ الَّذی لَہُ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ اٴَلا إِلَی اللَّہِ تَصیرُ الْاٴُمُورُ۔ تر جمہ ۵۲۔ اورجس طرح ہم نے گزشتہ ابنیاء کی طرف وحی بھیجی اسی طرح تیری طرف بھی اپنے فرمان سے روح کووحی کیا، قبل ازیں تجھے معلوم نہ تھ کہ کتاب کیاہے ؟اورایمان کیا ہے ( اور قرآن کے مطالب سے آگاہ نہ تھا ) لیکن ہم نے اسے نور بنایا ہے کہ اس کے ذ ریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور تو یقینا سیدھے راستے کی ہدایت کرتاہے۔ ۵۳۔ اس خدا کاراستہ ، آسمانوں اور زمین میںجوکچھ ہے سب اسی کا ہے ،آگاہ رہو کہ سب چیزوں کابازگشت خدا ہی کی طرف ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:52-53
نکته
۱۔ نبوّت سے پہلے آنحضرت (ص) کس دین پر تھے ؟: اس بات میں توشک کی گنجائش ہی نہیں کہ بعثت سے پہلے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ تو کسی بت کو سجدہ کیااور نہ ہی توحید کی راہ سے سرموانحراف کیا . لیکن سوا ل یہ پیدا ہوتاہے کہ وہ کس دین پر کار بندتھے ؟ تو اس بار ے میں علماء کی آ راء مختلف ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) دین مسیح علیہ السلام پر تھے،کیونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی بعثت سے پہلے مستقل،قانونی اور غیر منسوخ دین تھا وہ حضرت عیسٰی مسیح علیہ السلام کادین ہی تھا ۔ بعض علماء آپ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو دین ابراہیمی پرکاربند سمجھتے ہیں.کیونکہ جب ابراہیم شیخ الا نبیاء اوررابو الانبیاء تھے اورقرآن کی بعض آیا ت میں بھی دین اسلام کادین ابراہیم کے نا م سے تعارف کروایاگیاہے . جیساکہ سورہٴ حج کی ۷۸ ویں آیت میں ہے۔ مِلَّةَ اٴَبیکُمْ إِبْراہیمَ بعض علماء نے اس بار ے میں اپنی لاعلمی کااظہار کیاہے اور دلیل یہ دی ہے کہ آپ یقینا کسی دین پر توکار بند تھے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ کونسا دین تھا ؟ اگر چہ ان احتمالات میں سے ہر ایک کی اپنی جگہ پردلیل تو ہے لیکن مسلّم کوئی بھی نہیں . البتہ ان تینوں اقوال سے ہٹ کر ایک چوتھا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے اور وہ یہ کہ ” آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) خداوند عالم کی طرف سے اپنے لئے ایک خاص پرو گرام رکھتے تھے،اوراسی پرعمل پیراہ تھے اوردرحقیقت یہ ان کی ذا ت کے لیے مخصوص ایک دین تھا،جب تک کہ اسلام نازل نہیں ہو گیا۔ اس قول پروہ حدیث شاہد ہے جونہج البلاغہ میں موجود ہے اور ہم بھی اسے اوپر بیان کرچکے ہیں کہ ” جس وقت سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی دودھ بڑھائی ہوئی اللہ نے اپنے فر شتو ں میں سے ایک عظیم فرشتے کو آپ کے ساتھ ملادیا،جوشب و روز مکارم اخلاق اور نیک راستوں پرآ پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوا پنے ساتھ رکھتا “ ۔ اس فرشتے کی ماموریت رسو ل اللہ کے لیے مخصوص پر و گرام کی دلیل ہے۔ اس قول کاایک اور گواہ یہ ہے کہ کسی بھی تاریخی میں نہیں ملتاکہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود یانصاریٰ یاکسی اور مذہب کے عبادت خانوں میں عبادت کے لیے تشریف لے گئے ہوں ، نہ تو کفار کے ساتھ مل کرکبھی کسی بت کانے میں گئے اور نہ ہی اہل کتاب کے ساتھ کسی عبادت خانے میں ! بلکہ ہمیشہ راہ توحید پر گامزن رہے اور آپ اخلاقی اصولوں اورعبادت الہٰی کے سخت پانبدتھے ۔ بحاالانوار میں علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ کے مطابق،بہت سی اسلامی روایات اسبات کاپتہ دیتی ہیں کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی عمر کے آغاز ہی سے روح القدس کے ساتھ موٴ ید تھے اوراس تائید کے ساتھ یقینا وہ روح اللہ کی راہنمائی کے مطابق عمل کیاکرتے تھے ( 1). علامہ مجلسی ذاتی طورپر اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) رسالت کے مرتبے پرفائز ہونے سے پہلے مقام نبوت پر فائز تھے،کبھی توفرشتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے باتیں کرتے تھے اور کبھی آ پ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ان کی آوازسناکرتے تھے اور کبھی سچے خواب کی صورت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پرخدائی الہام ہوا کرتا تھا.چالیس سال کے بعد اعلان رسالت کاحکم ہوا اوراسلام وقرآن باقاعدہ طورپر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پرنازل ہوئے.علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ نے اپنے اس مد عاپر چھ دلائل ذکرکئے ہیں جن میں سے کچھ ان دلائل کے ساتھ ملتے جلتے اور ہم آہنگ ہیں جو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔ ( مز یدتفصیل کے لیے بحارالانوار جلد ۱۸ ،ص ۲۷۷ ملاحظہ فرمائیں ) اگرچہ اس سوال کاجواب تو کسی حد تک ہم آیت کی تفسیر کے دوران میں ہی دے چکے ہیں لیکن پھر بھی مزید وضاحت کے طورپر اس سوال پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں: اس آیت سے مراد یہ ہے کہ نزول قرآن واسلام سے پہلے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس دین کی تفصیلات اورقرآن مجید کے مضامین سے باخبر نہیں تھے ۔ لیکن جہاں تک ” ایمان “ کاتعلق ہے چونکہ ” کتاب“ کے بعد ذکر ہوا ہے اوران جملوں کوپیش نظررکھتے ہوئے جوآیت میں اس کے بعدآئے ہیں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس سے مراد آسمانی کتاب کے مضامین پرایمان ہے نہ کہ مطلقاً ایمان ، لہذا مذ کورہ گفتگواوراس آیت کے درمیان تضاد پیدا نہیں ہوتا.اور نہ ہی ان دل کے اندھے لوگوں کے لیے کوئی دستاویز ثابت ہوسکتی ہے جوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بار ے میں قبل ازبعثت مطلقاً ایمان کی نفیکرناچاہتے ہیں اور تاریخی حقائق کوپس پشت ڈالناچاہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سوال کے کئے اورجواب بھی دیئے ہیں،جن میں سے کچھ جواب یہ ہیں : الف :ایمان سے مراد صاف تصدیق اورعقائد ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تعبیرات کے مطابق مجموعی طور پر دل سے اعتقاد ،زبان سے اقرار اوراعضاء سے عمل کا نام ہے۔ ب:ایمان سے مراد تو حید ورسالت پراعتقاد ہے اور ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ) قبل ازاعلان رسالت توحید پرست تو تھے لیکن ابھی تک انہیں اپنی رسالت پرایمان نہ تھا ۔ ج: اس سے مراد ارکان ایمان کاوہ حصہ ہے جن تک انسان کی رسائی عقلی دلائل کے ساتھ نہیں ہوتی اور صرف نقلی دلائل سے انہیں تسلیم کیا جاسکتاہے ( جیسے معاد کی بہت سی خصو صیات ) د: اس آیت میں ایک محذوف موجد ہے جو اس طرح ہے ” ماکنت تدری کیف تد عو الخلق الی الایمان “ ( تجھے معلوم نہیں تھا کہ لوگوں کو ایما ن کی دعوت کیسے دے ( 2). لیکن ہمار ے نزیک تمام جوابات سے زیادہ مناسب اورآیت کے مفہوم سے زیادہ ہم آہنگ وہی پہلا جواب ہے۔ 1۔ بحا رالا نوار، جلد ۱۸ ،ص ۲۸۸۔ 2۔ ” آلوسی “ نے تفسیر روح المعانی ، جلد ۲۵ ،ص ۵۵ میں کچھ اوراحتمالات بھی کیا ہے لیکن چونکہ ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے لہٰذا یہاں پر وہ ذکر نہیں کئے گئے۔ ۳۔ ایک ادبی نکتہ : ” لکن جعلنا ہ نوراً...“ (لیکن ہم نے اسے نور بنا یاہے ) کے جملے میں ضمیر کامرجع کیاہے ؟ اس بار ے میں مختلف اقوال ملتے ہیں . بعض مفسرین نے کہا ہے اس سے مراد قرآن مجید ہے لیکن یہ احتمال بھی ہے ک اس نورسے مراد ، نورایمان ہے جوخدا کا نور ہے۔ لیکن اندونوں میں سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس سے مراد ” قرآن “ اور ” ایمان “ دونوں میں ہیں ، اورضمیر ان دونوں کی طرف لوٹ رہی ہے اور چونکہ یہ دونوں ایک حقیقت پر ہی جاکر ختم ہوتے ہیں لہذااس مقام پر مفرد کی ضمیر لائی جا سکتی ہے۔ پروردگارا ! ہمارے دلوں کو ہمیشہ کے لیے نورا یمان کے ساتھ منوّر فرمااور ہمیں اس طرف ہدایت فرما جہاں خیر اور سعادت ہے۔ بارالہٰا ! ہمیں اس قدربلند ظرفی اورصبر فرما کہ نعمتوں کے موقع پر سرکشی نہ کریں اورمصائب و مشکلات میں ہمت نہ ہاردیں۔ خداوند ا ! جس دن ظالم اور مستکبر لوگ حیران وسر گردان اور بغیر کسی جائے پناہ کے ٹھو کریں کھاتے پھریں اورموٴ منین تیری پناہ اورحمایت میں محفوظ مامون ہوںگے ہمیں مخلص موٴ منین کی صف میں قرار دینا۔ امین یارب اللعالمین تفسیر نمونہ کی بیسویں جلد ختم ہوئی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:52-53
قرآن خدا کی طرف سے رُوح ہے
گزشتہ آ یت میں وحی کی کلی اور عمومی گفتگو کے بعد ،زیر تفسیرآیت میں خود پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ذات پروحی کے بار ے میں گفتگو کرتے ہوئے فر مایاگیاہے : جس طرح ہم نے گزشتہ انبیاء پرمختلف طریقوں سے وحی نازل کی تجھ پر بھی اپنے فر مان سے روح کو وحی کیا (وَ کَذلِکَ اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ رُوحاً مِنْ اٴَمْرِنا). ” کذالک “ اسی طرح کی تعبیرسے ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ گزشتہ آیت میں وحی کی جوتین قسمیں بیان ہوئیں ان سب صورتوں میں تجھ پروحی نازل ہوئی ہے . کبھی تو براہ راست تیرا پروردگار کی پاک ذات سے رابط پیداہواہے ، کبھی وحی کے فرشتے کے ذریعے اور کبھی صوتی لہروں سے ملتی جلتی آواز کے ذریعے ،جیساکہ روایات میں بھی ان تینوں قسموں کی طرف اشارہ ہو ا ہے اور گزشتہ آیت کی تفسیر میں ہم تفصیل کے ساتھ ان کاذکر کرچکے ہیں۔ یہاں پریہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آیت مذکور ” روح “ سے کیا چیز مراد ہے ؟ تو اس بار ے میں مفسرین کے دو نظر یئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے جوقلب وروح کی زندگی کاسبب ہے،اسی قول کواکثر مفسرین نے اپنایا ہے ( ۱). راغب بھی مفر دات میں یہی کہتے ہیں کہ : سمی القراٰن روحاً فی قولہ ” وکذالک اوحینا الیک روحاً من امر نا “ وذالک لکون القراٰن سبباً للحیٰوة الاخرویة قرآ نکو” وکذالک اوحین...“ کی آیت میںروح کے نام سے یاد کیاگیاہے،کیونکہ وہ اخروی زندگی کاسبب ہے۔ یہ معنی آیت میں موجودمختلف قرائن کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے.جیسے ” کذالک“ کل کلمہ ہے جومسئلہ وحی کی طرف اشارہ ہے اور” اوحینا “ کاکلمہ ہے،اسی طرح اور بھی کلمات ہیںجو اسی آیت میں ذکر ہوئے ہیں۔ اگرچہ قرآن کی دوسری آیات میں ” روح “ کالفظ زیادہ تر دوسرے معانی کے لیے آ یاہے لیکن مندرجہ بالاقرائن کومدنظررکھتے ہوئے اس آیت میں موجودہ روح کاظاہر ی معنی قرآن مجید ہے۔ سورہٴنحل کی دوسری آ یت ” یُنَزِّلُ الْمَلائِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِہِ عَلی مَنْ یَشاء ُ مِنْ عِبادِہ“ کی تفسیر میں بھی ہم بتاچکے ہیں کہ قرائن کی روسے ” روح “ وہاں بھی ” قرآن،وحی اورنبوت “ کے معنی میں ہے اورحقیقت میں دونوں آیات ایک دوسرے کی تفسیر کررہی ہیں۔ قرآن مانند روح کیوں نہ ہو جب کہ سورہٴانفال کی ۲۴ ویں آیت میں ہے : یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اسْتَجیبُوا لِلَّہِ وَ لِلرَّسُولِ إِذا دَعاکُمْ لِما یُحْییکُمْ اے ایمان دارو ! خدااور اس کے رسول کے بلا وے کا جواب دوجب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہاری زندگی کاسبب ہیں۔ دوسر ی تفسیر یہ ہے کہ یہاں پر ’’ روح “ سے مراد ” القدس “ ہے ( یا وہ فرشتہ جو جبرائیل اور میکا ئیل سے بھی بڑا ہے اور ہمیشہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ہمرا ہ رہا ہے ) ۔ تو اس تفسیر کے مطابق ” اوحینا “ کا معنی ” انز لنا “ بنے گا ” روح القدس“ یاوہ عظیم فرشتہ ہم نے تجھ پرنازل کیا . ( اگر چہ قرآن مجید میں کسی اورمقام پر ” اوحینا“ ” انزلنا “ کے معنی میں نہیں دیکھاگیاہے ) ۔ بعض روایات سے بھی اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے لیکن جیساکہ ہم بتاچکے ہیں کہ پہلی تفسیرآیت میں موجود متعدد قرائن کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے . لہٰذا ممکن ہے کہ ایسی روایات جن میں روح کی تفسیر” روح القدس “ یاخدا کے بلند مقام فرشتے سے کی گئی ہے ان میں آیت کے باطنی معنی کی طرف اشارہ ہو ۔ بہرحال سلسلہ آ یت کو اآگے بڑھاتے ہوئے فر مایا گیا ہے : اس سے پہلے تو کتاب اورایمان سے آگاہ نہیں تھا لیکن ہم نے اسے ایسا نور بنا یاہے کہ جس کے ذ ریعے ہم اپنے بندو ں سے جسے چا ہیں ہدایت کریں (ما کُنْتَ تَدْری مَا الْکِتابُ وَ لاَ الْإیمانُ وَ لکِنْ جَعَلْناہُ نُوراً نَہْدی بِہِ مَنْ نَشاء ُ مِنْ عِبادِنا). یہ خدا کی مہر بانی تھی جوتیرے شامل حال رہی اور یہ آسمانی وحی تھی جوتجھ پر نازل ہوئی اور تونے اس کے تمام مطالب کو مان لیا۔ خدا کاارادہ بھی یہی تھا کہ اس عظیم آسمانی کتاب اوراس کی تعلیمات کے ذریعے وہ تیر ے علاوہ اپنے دوسرے بندوں کو بھی اس آسمانی نور کے پر تو میں ہدایت کرے،کا ئنات کے مشرق ومغرب کو ، ہرزمانے میں تا قیام قیامت اس نور کی تابا نیوں سے منور فرماتا رہے۔ بعض کچھ فہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس جملے سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نبوت سے پہلے ( معاذ اللہ) خدا پر ایمان نہیں رکھتے تھے.جب کہ آیت کا معنی با لکل واضح ہے آیت کہتی ہے کہ قرآن نازل ہو نے سے پہلے آپ قرآن کو نہیں جانتے تھے اوراس کے مندرجات اورمطالب سے آگاہ نہیں تھے اور یہ چیز پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے عقیدہ توحید اورعباد ت وبندگی کے اصو لوں کے بار ے میں انکی معرفت کے قطعاً منافی نہیں. خلاصہٴکلام یہ کہ قرآنی مندرجات سے ناآشنا ئی اور بات ہے اور خدا کی عدم معرفت اوربات ہے۔ دو ر نبوت سے پہلے آ نحضرت کے بار ے میں جوکچھ تاریخ کی کتابوں میں ملتاہے وہ بھی اسی بات کاروشن گواہ ہے اور اس سے بڑھ کرروشن بات امیرالموٴمنین علی علیہ السلام کاوہ کلام ہے جو نہج البلاغہ میں درج ہے: آ پ علیہ السلام فرماتے ہیں : ولقد قرن اللہ بہ( ص) من لدن ان کان فطیما اعظم ملک من ملا ئکتہ یسلک بہ طریق المکارم ،ومحاسن اخلاق العالم لیلہ ونھارہ جب سے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دودھ بڑھائی ہوئی ،خدانے اپنے فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملادیا جوشب وروز مکارم اخلاق اور نیک راستوں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوا پنے ساتھ رکھتا تھا ( ۲). آ یت کے آ خر میں فر مایا گیا ہے:یقینا تو لوگوں کو،صراط مستقیم کی ہدایت کرتاہے (وَ إِنَّکَ لَتَہْدی إِلی صِراطٍ مُسْتَقیم). یہ قرآن صرف تیرے لیے نور نہیں بلکہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے بھی نور ہے اورصراط مستقیم کی طرف لوگوں کی ہدایت کرتاہے . اور راہ حق پرچلنے والوں کے لیے یہ خدا کاایک عظیم احسان ہے اور تمام تشنہ کاموں کے لیے آ ب حیات ہے . یہی مفہوم سورہٴحم سجدہ کی چوالیسویں آیت میں آ یاہے البتہ دوسر ے لفظوں کے ساتھ ۔ قُلْ ہُوَ لِلَّذینَ آمَنُوا ہُدیً وَ شِفاء ٌ وَ الَّذینَ لا یُؤْمِنُونَ فی آذانِہِم کہہ دے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہدایت اور شفا کاسبب ہے جوا یمان لائے ہیں اور جواس پر ایمان نہیں لاتے ان کے کان بہر ے ہیں۔ لہذا تفسیر کے طورپر ’ ’صراط مستقیم “ سے مراد ہے کہ:” اللہ تعالیٰ کی راہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب کی سب اسی کی ہیں “ (صِراطِ اللَّہِ الَّذی لَہُ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْض). اس راہ سے بڑھ کر اورکون سی راہ سیدھی ہوگی جو مبداٴ عالم ہستی تک جاپہنچائے ؟ اس سے بڑھ کراور کون سی راہ زیادہ صاف ہوگی جوکائنات کے خالق تک جا پہنچے ؟ حقیقی سعادت وہ ہوتی ہے جس کی طر ف خدا بلا ئے اور تک پہنچنے کی تنہا وہی راہ ہے جسے اس نے خود منتخب کیاہے۔ اس آیت کاآخری جملہ جوسورہٴشوری کاآخر ی جملہ بھی ہے درحقیقت اس معنی کی دلیل ہے کہ را ہ مستقیم صرف وہ راہ ہے جو خدا کی طرف جاتی ہے.چنانچہ فرمایاگیاہے:آگاہ ہو ! سب چیزو ں کواسی کی طرف لوٹ جاناہے ( اٴَلا إِلَی اللَّہِ تَصیرُ الْاٴُمُورُ). چونکہ وہ کائنات کامالک اورحاکم و مدبرہے اور چونکہ انسان کے ارتقائی مراحل اسی عظیم مدبر کے زیر عنایت انجام پانے چاہئیں لہٰذا سیدھی راہ وہی ہے جو اسی کی طرف جاتی ہے اوراس کے علاوہ دوسرے تمام راستے گمراہی کے ہیں کیونکہ وہ باطل کی طرف جاتے ہیں . آیا اس کی ذات پاکے علاوہ کچھ اور عالم وجودمیں حق ہوسکتا ہے ؟ یہ جملہ جہاں پر ہیز گاروں کے لیے خوشخبری ہے وہاں ظالموں اور گناہگاروں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ یاد رکھو تم سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔ یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ وحی کوصرف خدا ہی کی جانب سے نازل ہوناچاہئے کیونکہ ہرایک چیزکی بازگشت اسی کی طرف اوران کی تد بیر خدا کی طرفسے ہے.اسی لیے اسے انبیاء پرنازل ہونے والی وحی کامبداٴ بھی ہونا چاہیے .تاکہ صحیح معنوں میں ہدایت انجام پاسکے.اس طرح سے ان آیات کاسیاق وسبا ق دوسرے سے ہم آہنگ اور مربوط ہے اور سورت کااختتام بھی اسی کے آغاز کے ساتھ مربوط اورہم آہنگ ہے اور سب پر ایک ہی طر یقہٴ کار حکم فرماہے۔ ۱۔ تفسیرمجمع البیان میں طبرسی نے تبیان میںشیخ طوسی نے ،تفسیر کبیر میں فخر رازی نے،تفسیر مراغی میں مراغی نے اوردوسر ے بہت سے مفسرین نے ۔ ۲۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲ (خطبہ قاصعہ ).