وَيَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۚ وَٱلۡكَٰفِرُونَ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞ
He answers [the supplications of] those who have faith and do righteous deeds and enhances them out of His grace. But as for the faithless, there is a severe punishment for them.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 42:20-29
Regarding reaping of Eternal gain, for sowing as per couplet 20 above, in the world resultant rewards for the future state may depend upon human intention. If a faithful man is married, it is necessary to have a virtuous faithful wife, with a faithful heart and tongue to produce rewards in the world, in the form of lawful property and faithful children in the world, and by virtuous sowing in form of prayers, fast and obligations and payment of tithe and pilgrimage and self-sacrificing in religious social service, while struggling against the inner foe, and being attached to the truth and justice, shall he reap from the time of participation of the soul to its ultimate salvation by admission to Paradise. Dignity of labour is this which is spiritually performed yielding eternal results. Regarding Couplet 21 all compilation of commentaries with context of Divine Text disregarding one put forth by Divine Light, after the Prophet’s demise, stands liable under association. The entire contents of the Text are indisputably the same as revealed, though deranged, and irregularly referred to. Regarding Couplet 23 when the faithful at Medina (Ansars) having seen the Prophet entertaining new converts and others offered a part of their property to help him in carrying out the Divine Mission, which was the Divine object of human guidance, this Couplet was revealed. Material help, beyond what God has fixed in the form of tithe, khums, and Divine trust was not necessary, so self-sacrifice of life and sincere attachment in Islam, which could equally be shared alike by the poor and the rich was enjoined on Muslims. Jas as prayers have been enjoined five times a day on all Muslims, rich and poor, healthy and the sick, to prove their supplication to God as Divine Lights are only torch-bearers of Islam, those which have followed them with life and property and have proved their sincerity since the time of the Prophet to this day. This command was also applicable to previous Prophets (see Moral paragraph 9, page 71, of the first set). Regarding 26, those who pray for their faithful brethren in their absence shall be permitted to intercede on behalf of the sinful Shias. Regarding 27, “On the present doctrine of self-sufficiency against Divine design of making creation, it is usually dependent upon one another unlike Himself?” Man has been subjected to trial under resistance of the devil and he does not like servitude and prefers guns to butter after sheer vanity, thus urging sacrifice of social welfare in the name of self-sufficiency, which would be a denial of co-operative action in the sphere of economic relation, as could benefit all the co-operators with present critical conflicting ideologies, maintenance of peace in trembling in the balance. They want a world government, constituents of which shall be all multiple governments, each having its Eternal Dominant Government, which has been existing before their creation, and which promises food, clothing and hutting to His creation, not only in this world, but promises eternal felicity after death, provided they own fealty to Him and to Whom they have to revert finally.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:24-26
وہ بندوں کی توبہ قبول کرتاہے
یہ آیات ، رسالت ، اجررسالت ، مودت ذی القربی اور اہلبیت علیہم السلام کے بار ے میں سابقہ آیات کے سلسلے کی کڑ یاں ہیں۔سب سے پہلے فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ اس وحی خداکو قبول نہیں کرتے بلکہ ” کہتے ہیں کہ اس نے خدا پرجھوٹ باندھا ہے یہ سب باتیں اس کے اپنے ذہن کی پیدا وار ہیں جنہیں خدا کی طرف منسو ب کرتاہے “ (اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَری عَلَی اللَّہِ کَذِباً َ) ۔ ” جب کہ اگر خدا چاہے توتیرے دل پر مہر لگادے اوران آیاتکے اظہا ر کی قدرت تجھ سے چھین لے “ (فَإِنْ یَشَإِ اللَّہُ یَخْتِمْ عَلی قَلْبِک) ۔ درحقیقت یہ چیز اس مشہور منطقی استد لال کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبوت کادعوی کرے اورمعجزے اور آیات بیّنات بھی اس کے ہاتھوں اور زبان سے ظاہرہوں اورخدا کی تائید اورنصرت بھی اسے حاصل ہو . لیکن وہ خداپر جھوٹ باند ھناشروع کر دے تو حکمت الہٰی اس بات کی متقاضی ہو گی کہ وہ تمام معجزات اورخدا کی نصرت وحمایت سب اس سے واپس لے لی جا ئے اورخدا اسے ذلیل و رسو اکردے جیساکہ سور ہ ” حاقّہ “ کی آیت ۴۴ تا ۴۶ میں ہے : وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنا بَعْضَ الْاٴَقاویلِ َلاٴَخَذْنا مِنْہُ بِالْیَمینِ ثُمَّ لَقَطَعْنا مِنْہُ الْوَتینَ اگروہ ہم پر جھوٹ باند ھنا شروع کردے تو ہم اس سے پوری طاقت سے موٴ اخذہ کریں گے اور اسے سزادیں گے اوراس کے دل کی رگ کوکاٹ ڈالیں گے۔ البتہ آیت کی اس تفسیر میں مفسرین نے اور بھی بہت سے احتمال ذکرکئے ہیں لیکن جوتفسیر ہم سطو ر بالا میں بیان کرچکے ہیں وہ زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ کفار ومشر کین منجملہ دیگر ناجائز تہمتوں کے جو وہ رسول گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرلگا کرتے تھے ایک تہمت یہ بھی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے خدا پرجھوٹ باندھ کراپنی رسالت کااجر اپنے اہلبیت سے مودت کی صورت میں لیاہے.( جیسا کہ گزشتہ آیات میں اس چیز کاذکر ہو چکا ہے ) اور یہ آیت اس تہمت کی نفی کررہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود آیت کامفہوم اس معنی میں منحصر بھی نہیں . کیونکہ دوسری قرآنی آیات کی رو سے دشمنان دین و اسلام تمام قرآن اوروحی کے بار ے میں بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ذا ت با بر کات کومورد الزام ٹھہر ایاکرتے تھے . چنانچہ سور ہ ٴ یونس کی آیت ۳۸ میں ہے : اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَراہُ قُلْ فَاٴْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِہ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے خدا پرجھوٹ باند ھاہے توکہہ دے کہ تم بھی اس جیسی ایک سورت لے آؤ ۔ اسی سے ملتی جلتی بات لیکن کچھ فرق کے ساتھ سورہ ٴ ہود کی تیرھویں اور پینتیسو یں آیات کے علاوہ قرآن پاک کی بعض دوسری آیات میں بھی موجود ہے اوریہ آ یات ہماری مذکورہ تفسیر کی گواہ ہیں۔ پھر اسی امرپر تاکید کے طور پر ارشاد فرمایاگیاہے : خدا باطل کومٹاتے ہے اورحق کو اپنے حکم سے قائم اورثابت کرتاہے (وَ یَمْحُ اللَّہُ الْباطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِماتِہِِ) (۱). یہ خدا وند عالم کافر یضہ ہوتاہے کہ اپنی حکمت کی بناء پر حق کوظاہر اورباطل کو ذلیل وخوار کرے تو پھر کیونکہ کسی کو اس بات کی کھلی چھٹی دے سکتاہے کہ وہ اس پر افتراء پر داز ی کرے اورپھر وہ اس کی امداد بھی کرے اورپھر معجزات کو اس کے ہاتھوں پر آشکار کرے ؟ اور اگر کوئی شخص یہ تصور کے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) علم خداسے چھپ کرایسا اقدام کرتے ہیں تو یہ اس کی زبردست غلطی ہوگی کیونکہ ” وہ تودلوں میں موجود ہرچیزسے آگاہ ہے ( إِنَّہُ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُور) ۔ جیسا کہ سورہ ٴ طافر کی آیت ۳۸ کی تفسیر میں ہم بتاچکے ہیں کہ عربی زبان میں” ذات “ کالفظ اشیاء کی عین اورحقیقت کے لیے استعمال نہیں ہوابلکہ یہ توفلاسفہ (۲) کی اصطلاح ہے جبکہ عربی میں” ذات “” صاحب “ کے معنی میں آیاہے .لہٰذااس لحاظ سے ”إِنَّہُ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُور “ کے جملے کامعنی اور مفہوم یہ ہوگا کہ خداان افکار اور عقائد سے اچھی طرح واقف ہے جو ان لوگوں کے دلوں پرحاکم ہیں اور گو یاان دلوں کے مالک ہوچکے ہیں اور یہ انسانوں کے قلوب وارواح پر ان کے افکار کی حاکمیت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے (غورکیجئے گا ) . اور چونکہ خداوند عالم نے اپنے بندوں کے لیے باز گشت کاراستہ ہمیشہ کھلارکھاہے اور آیات قرآن مجید میں بار ہامشر کین اور گناہگاروں کے برے اعمال ذ کرکرنے کے بعدگنا ہگاروں کے لیے توبہ کے در وازوں کوکھلا رکھنے کی طرف اشارہ کیاگیاہے . زیرتفسیر آیات میں بھی سابق گفتار کے بعد فرمایا گیا ہے : خدا تووہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور گناہوں کومعاف کرتاہے (وَ ہُوَ الَّذی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِہِ وَ یَعْفُوا عَنِ السَّیِّئاتِ ) ۔ لیکن اگرظاہر میں تو توبہ کرلو اور باطن میں کچھ اور کام کرو تویہ تصور مت کرو کہ تمہارایہ طر یقہ کار خدا وندعالم کے علم کی تیز بین نگا ہوں سے چھپارہے گا، نہ ! نہ !! ” جو کچھ تم بجالاتے ہو وہ اسے جانتاہے (وَ یَعْلَمُ ما تَفْعَلُونَ). گزشتہ آ یات کے آغاز میں شان نزول کے بار ے میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ کہاجاتاہے کہ آ یہٴ مودت نازل ہونے کے بعد بعض منافقین اورضعیف الایمان لوگوں نے کہنا شروع کردیاکہ یہ تو وہ باتیں ہیں جومحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے خدا پرجھوٹ باند ھتے ہوئے اپنی طرف سے گھڑلی ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے بعد ہمیں اپنے رشتہ داروں کے آگے ذلیل کرے ۔ اس پر ” اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَری عَلَی اللَّہِ کَذِباً “ والی آیت نے نازل ہوکر ان کے اعتراض کاجواب دے دیا اور جب وہ نزول آیات سے باخبرہو ئے توکچھ لوگوں نے اظہار ندامت کیااور پشیمان ہوئے ، رونے لگے اور غمگین ہوئے تو آیت ” وَ ہُوَ الَّذی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِہِ وَ یَعْفُوا عَنِ...“ نازلہوئی ، یعنی اگران لوگوں نے خاص توبہ کرلی ہے توخدا نے بھی ان کی توبہ کوقبول فر ما لیاہے اوران کی خطاؤں کو معاف کردیاہے۔ زیرتفسیر آیات کے سلسلے کی آخر ی آیت میں موٴ منین کی عظیم جزااور کافرین کے درد ناک عذاب کومختصر سے جملوں میں بیان کرتے ہوئے فر مایاگیا ہے : خدا ان لوگوں کی دعاؤں کوقبول کرتاہے جوایمان لے آئے ہیں اور اعمال صالح بجالاتے ہیں (وَ یَسْتَجیبُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ ). ” بلکہ ان کے لیے اپنافضل بڑھادیتاہے “ اور جن چیزوں کے لیے وہ دعابھی نہیں کرتے انہیں عطاکر دیتاہے“ (وَ یَزیدُہُمْ مِنْ فَضْلِہِ). ” لیکن کافروں کے لیے سخت عذاب ہے “ (وَ الْکافِرُونَ لَہُمْ عَذابٌ شَدیدٌ) ۔ اوریہ کہ موٴ منین کی کن دعاؤں کوقبول کرتاہے،اس بار ے میں مختلف تفسیریں ہیں بعض مفسرین نے انہیں بعض دعاؤں میںمحدود سمجھا ہے جن میں سے: بعض کہتے ہیں کہ وہ موٴ منین کی ایک دوسرے کے حق میں دعا ؤں کوقبول کر تاہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی عبادتوں اوراطاعتوں کوقبول کرتاہے۔ بعض مفسرین نے یہ دعائیں موٴ منین کے اپنے بھائی بندوں کے بار ے میں شفاعت کے بار ے میں سمجھی ہیں۔ لیکن اس قسم کی محدود یت پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ خداوند عالم صالح موٴ منین کی ہرقسم کی دعاؤں کوقبول فر ماتاہے اوراس سے بڑ ھ کران باتوں کوبھی جوان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہیں کہ وہ خدا سے طلب کریں لیکن وہ اپنے فضل و کرم کی بناء پر انہیں عطا فر ماتاہے اور موٴ منین کے بارے میں یہ خدا کاانہتائی لطف و کرم ہے۔ ”وَ یَزیدُہُمْ مِنْ فَضْلِہ “ کی تفسیر میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث ہے جو آپ علیہ السلام نے حضرت رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے نقل فرمائی ہے : الشفاعة للمن و جبت لہ النار ممن احسن الیھم فی الدنیا خداان پراپنا اضافی فضل یہ فرمائے گاکہ ان موٴ منین کی ان لوگوں کے بار ے میں شفاعت قبول فرمائے گا جنہوں نے دنیامیں ان کے ساتھ نیکی کی ہوگی (لیکن اپنے بُرے اعمال کی بنا پر ) جہنم کے مستحق ہوچکے ہوں گے ( ۳). اس معنی خیز حدیث کامفہوم یہ نہیں ہے کہ خداکااضافی فضل اسی چیز میںمنحصر ہے بلکہ یہ توصرف اس کے روشن مصداقوں میں سے ایک ہے۔ ۱۔ توجہ رہے کہ ” یمح “ دراصل ” یمحو“ تھاجو عام طور پر قرآن کے بہت سے اسم الخط میں” و “ کے ساقط ہونے کے ساتھ آ یاہے ،جیساکہ ” وید ع الانسان بالشر “ (سورہ ٴ بنی اسرائیل . ۱۱) اور” سند ع الزّ بانیة “ ( سورہ ٴ علق . ۱۸) ...ایسے تمام موارد میں موجودہ رسم الخط میں واؤ ذکر ہوتی ہے لیکن عام طورپر قرآن میں محذوف ہے۔ ۲۔ دیکھئے مفردات راغب ۔ 3.تفسیرمجمع البیا ن، اسی آیت کے ذیل میں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:24-26
سوره شوری/ آیه 24- 26
۲۴۔اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَری عَلَی اللَّہِ کَذِباً فَإِنْ یَشَإِ اللَّہُ یَخْتِمْ عَلی قَلْبِکَ وَ یَمْحُ اللَّہُ الْباطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِماتِہِ إِنَّہُ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ ۔ ۲۵۔وَ ہُوَ الَّذی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِہِ وَ یَعْفُوا عَنِ السَّیِّئاتِ وَ یَعْلَمُ ما تَفْعَلُونَ ۔ ۲۶۔ وَ یَسْتَجیبُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ وَ یَزیدُہُمْ مِنْ فَضْلِہِ وَ الْکافِرُونَ لَہُمْ عَذابٌ شَدیدٌ ۔ ترجمہ ۲۴۔ کیاوہ کہتے ہیں کہ اس نے خداپر جھوٹ باندھاہے لیکن اگرخدا چاہے تو تیرے دل پر مہرلگادے (اوران آیات کے اظہار کی قدرت تجھ سے چھین لے ) اور وہ باطل کونابود کردیتاہے اورحق کواپنے فرمان سے قائم کردیتاہے ، کیونکہ وہ دلوں کے اندر سے آگا ہ ہے۔ ۲۵۔ وہ وہی توہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور گناہ معاف کردیتاہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہواسے جانتاہے۔ ۲۶۔ اورجو لوگ ایمان لائے ہیں انہوں نے عمل صالح انجام دیئے ہیں ان کی دعا ؤں کوقبول کرتاہے اوران پر اپنے فضل کااضافہ کردیتاہے لیکن کافروں کے لیے سخت عذاب ہے۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 42:26
[Pooya/Ali Commentary 42:26] Those who believe and do good not only receive the due recompense but also collect special and additional compensation as a gift from their Lord. Goodness generates more goodness.