أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Do they have deities [besides Allah] who have ordained for them a religion not permitted by Allah? Were it not for a [prior] conclusive word, judgement would have been made between them, and indeed a painful punishment awaits the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 42:21
[Pooya/Ali Commentary 42:21] Nothing can be legislated without the permission of Allah. Thus even those whom the disbelievers regard as partners of Allah cannot do so. Allah has given respite to the disbelievers, and does not hasten in inflicting punishment on them. Refer to Yunus: 19 and Rad: 6; and verse 18 of this surah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
۳۔ ” ومن یقترف حسنة ... “ کی تفسیر
” ومن یقترف حسنة نزد لہ فیھاحسناً “ ( جوشخص کوئی نیکی کمائے گاہم اس کی اچھائی میں اضافہ کردیں گے ) اس جملے میں لفظ ” اقتراف“ اصل میں ” قرف“ (بروزن ”حرف“ ) کے مادہ سے ہے جس کامعنی ہے درخت کی اضافی چھال کااتار لینا یازخم کی اضافی کھال کااتار لینا کہ بعض اوقا ت جس سے صحت وتند رستی حاصل ہوجاتی ہے . بعد میں یہ کلمہ اکتساب ( کمانے اورحاصل کرنے ) کے معنی میں استعمال ہونے لگا خواہ یہ اکتساباچھا ہویا بر. لیکن راغب کہتے ہیں کہ یہ کلمہ خوبی کی نسبت برائی کے لیے زیادہ استعمال ہوتاہے ( اگر چہ اس آیت میں خوبی کے لیے استعمال ہواہے ) یہی وجہ ہے کہ عربوں میں ایک ضرب المثل مشہور ہے : الاعتراف یزیل الاقتراف گناہ کااعتراف گناہ کومٹادیتاہے۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ ابن عباس اورایک اور متقدم مفسر ”سدّی “ سے منقول ہے کہ آیت میں ” اقتراف حسنة “ سے مراد ، آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مودت ہے ( 1). ایک اورحدیث میں جوکہ ہم امام حسن علیہ السلام کے حوالے سے بیان کرآئے ہیں ، آیاہے : اقتراف الحسنة مودتنا اھل البیت نیکی کمانے سے مراد ہم اہلبیت کی مودت ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی تفسیروں کی مراد اکتساب حسنہ کے معنی کواہلبیت علیہم السلام کی مودت میں محدودکرنانہیں ہے،بلکہ اس کانہایت وسیع اور عمومی معنی ہے لیکن چونکہ یہاں پر ذ وی القربیٰ کی مودت کے بعد آیاہے لہٰذا اس کاواضح ترین مصداق یہی مودّت ہے۔ 1۔ تفسیر ” مجمع البیان “ اسی آیت کے ذیل میں ، تفسیر صافی اور تفسیر قرطبی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
۲۔ کشتی نجات
جناب فخر الدین رازی نے اسی بحث کے ذیل میں ایک نکتے کوبیان کیاہے اوراسے اپنا پسند یدہ نکتہ قرار دیاہے اور مفسر آلوسی نے بھی اسے ” ایک لطیف نکتہ “ کے عنوان سے اپنی تفسیرروح المعانی میں انہیں سے نقل کیا ہ ، یہ وہ نکتہ ہے جو ان کے خیال کے مطابق بہت سے تضادات کوبر طرف کررہاہے: ایک طرف پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ارشاد فرماتے ہیں ” مثل اھل بیتی کمثل سفینة نوح من رکبھا نجٰی “ (میرے اہل بیت کشتی نوح کے مانند ہیں جواس پر سوار ہو اوہ نجات پاگیا ) اور دوسری طرف اشارہ فر ماتے ہیں ”اصحابی کالنجوم بایھم اقتد یتم اھتد یتم “ (میر ے اصحاب ستاروں کے مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کروگے ہدایت پاجاؤگے ) ۔ اب ہم فرائض کی ادائیگی کے سمندر میں گرفتار ہیں ، شکوکوشبہات اورخواہشات نفسانی کی موجیں ہمیں ہرطرف سے گھیر ے ہوئے ہیں اور جسے سمندر عبور کرناہوتاہے اسے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک کشتی جو ہر طرح کے عیب ونقص سے پاک ہو اور دوسرے چمکد ار اورروشن ستار ے جن کے ذ ریعے کشتی کی راہوں کو متعین کیاجاتاہے ، جب انسان کشتی پر سوار ہوجائے اوراپنی نگاہیں ستارو ں پرلگا ئے رکھے تونجا ت کی امید ہوسکتی ہے . اسی طرف اہل سنت میں جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کی کشتی پرسوار ہوکرستاروں جیسے اصحاب پر اپنی نگاہیں جمائے رکھے تواُمید ہے کہ خدا اسے دنیا و آخر ت کی سلامتی اورسعادت سے بہرہ مندکر دے ( 1). لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ شاعر انہ تشبیہ اگرچہ ظاہر ی طورپر دلکش اورجاذب نظر توہے لیکن صحیح منعوں میں درست نہیں ہے کیونکہ ایک تو : کشتی نوح اس وقت نجات کاذریعہ بنی جبکہ طوفان کے پانی نے ہرجگہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور وہ ہمیشہ چلتی رہی تھی ،دوسری عام کشتیوں کے مانند کسی ایک منزل مقصود کی طرف اس کی حر کت نہیں تھی کہ ستاروں کے ذریعے اس منزل کاتعین کیا جات. بلکہ منزل مقصود خود کشتی ہے تھی اوریہ اس وقت تک اپنے حال پرقائم رہی جب تک کہ طوفان کاپانی ختم نہیں ہو گیا اور کشتی کوہ جود ی پر ٹھہرنہیں گئی اور کشتی کے سوا روں نے نجات نہیں پالی ۔ دوسرے یہ کہ : اہلسنت بھائیوں کی کتابوں میں درج ایک روایت میں جوکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے منقول ہے یوں آیاہے : النجوم امان الاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الا ختلاف فی الدین ستارے اہل زمین کے لیے امان ہیں ان کی غرق ہونے سے اورمیرے اہل بیت میری امت کے لیے دین میں اختلاف سے امان ہیں ( 2). 1۔ تفسیرفخررازی جلد ۲۷ ،ص ۱۶۷ ۔ 2۔ مستد رک حاکم جلد ۳ ،ص ۱۴۹ منقول از عباس ، حاکم پھرکہتے ہیں ” ھٰذاحدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ “ (یہ حدیث معتبر ہے لیکن بخاری اور مسلم نے اسے نقل نہیں کیا ہے ).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
۱۔ مشہور مفسر ” آلوسی “ سے کچھ باتیں
یہاں پر ایک سوال جوبہت سے لوگوں کے پیش نظرہے اور مشہورمفسر آلوسی نے اسے شیعوں پرایک اعتراض کی صورت میں اپنی تفسیر روح المعانی میں پیش کیاہے ،بیان کرکے اس کے تجزیہ وتحلیل کریں گے آلوسی کی گفتگو کاخلاصہ کچھ یوں ہے : ” بعض شیعوں نے اس آیت کو علی علیہ السلام کی امامت پردلیل کے طور پر پیش کیاہے اور کہاہے کہ علی علیہ السلام کی محبت واجب ہے اور جس کی محبت واجب ہوتی ہے اس کی اطاعت بھی واجب ہوتی ہے اورجس کی اطاعت واجب ہوتی ہے وہ امام ہوتاہے . اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ علی علیہ السلا م مقام امامت کے مالک ہیں اوراسی آیت کوانہوں نے دلیل کے طورپرپیش کیاہے۔ لیکن ان کی یہ باتیں کئی لحاظ سے قابل اعتراض ہیں پہلے تویہ کہ اس آیت کو محبت کے وجوب پردلیل ہم اس وقت مانیں گے ... جب ہمیںیہ معلوم ہوجائے کہ یہ آ یت پیغمبر خداکے اقرباء کی محبت کے معنی میں ہے جب کہ بہت سے مفسرین نے اس معنی کوتسلیم نہیں کیاان کی دلیل ہے کہ یہ بات مقام نبوت کے شایان شان نہیں ہے کیونکہ اس سے آپ کی ذات پر تہمت آتی ہے کہ آپ کا یہ مقام دنیا پر ستوں کے کام جیساہوگاکہ پہلے تووہ کسی کام کو شروع کردیتے ہیں پھر اس کے فوائد اورمنافع کااپنی اولاد اوررشتہ داروں کے لیے مطا لبہ کرتے ہیں . علا وہ ازیں یہ بات سورہ ٴ یوسف کی آیت ۱۰۴ کے بھی منافی ہے جس میں ارشاد ہے ” وَ ما تَسْئَلُہُمْ عَلَیْہِ مِنْ اٴَجْرٍ “ یعنی اے پیغمبر ! تم ان لوگوں سے اپنی اجرت طلب نہیں کرتے ۔ دوسرے یہ کہ :ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ محبت کا وجود اطاعت کی دلیل بن سکے کیونکہ ابن بابویہ اپنی کتاب ” اعتقادات “ میں کہتے ہیں کہ :امامیہ کااس پر اتفاق ہے کہ علو یوں کی محبت لازم ہے جبکہ وہ ان سب کو واجب الاطاعت نہیں سمجھتے ۔ تیسرے یہ کہ : ہم یہ بات بھی نہیں مانتے جس شخص کی اطاعت واجب ہوتی ہے وہ امام یعنی زعا مت کبر ی کا مالک بھی ہو و گرنہ پیغمبر اپنے زمانے میں امام ہوتاہے ، جب کہ ہم جناب طالوت کی داستان میں پڑھتے ہیں کہ و ہ ایک گروہ کے امام ہوئے جبکہ اس زمانے میں ایک اور پیغمبر بھی موجود تھے ۔ چوتھے یہ کہ : آ ی کاتقاضا ہے کہ تمام اہلبیت واجب الاطاعت ہوں،اوراسی بناپروہ سب اما م ہوں جبکہ امامیہ کاایسا عقیدہ نہیں ہے ( 1). اعتراض پرا یک تحقیقی نظر آ یہٴموٴدت اوردوسر ی آیات میں بہت سے موجود قرائن میں غور کرنے سے ان میں سے کئی اعراض کاجواب واضح طور پر معلوم ہوجاتاہے۔ کیونکہ ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ یہ محبت کوئی معمولی اور عام چیز نہیں ہے بلکہ یہ تونبوت کی جزااور رسالت کا اجر ہے اور فطرة ً اس محبت کوبھی نبوت ورسالت کے ہم پلّہ ہونا چاہیئے.تاکہ اس کااجر قرار پاسکے ۔ پھر دوسری آیات سے معلوم ہوتاہے اور قرآ مجید گواہی دیتا ہے کہ اس محبت کافائدہ کوئی ایسی چیزنہیں ہے جو خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچنے بلکہ اس کاسوفیصد فائدہ خود موٴ منین کوپہنچتا ہے ، دوسرے لفظوں میں یہ ایک ایسامعنوی امرہے جومسلما نوں کی ہدایت کے ارتقاء میں موٴ ثر ہے۔ اس طرح سے اگرچہ آیت کے ظاہر سے محبت کے وجوب کے علاوہ اورکوئی چیزمعلوم نہیں ہوتی لیکن اس محبت کے وجوب کے لیے جوقرائن مذکور ہوئے ہیں وہ مسئلہ امامت کوواضح کرتے ہیں کہ جومقام نبوت ورسالت کامددگار اور پشت بناہ ہے۔ مندرجہ بالا مختصر سی وضاحت کے بعدہم مذکورہ اعتراض کاجواب پیش کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ کہ : آلوسی کہتے ہیں کہ بعض مفسرین اس آیت سے مودّت اہلبیت مراد نہیں لیتے . یہ بات ماننی پڑے گی کہ پہلے سے کئے ہوئے فیصلے اوررسومات ایساکرنے میں حامل ہوئی ہیں . مثال کے طور پر کچھ لوگ تو” قربیٰ “ کامعنی ” خداکا تقرب کرتے ہیں جب کہ قرآن مجید کی تمام آیات میں جہاں جہاں بھی یہ کلمہ استعمال ہواہے وہاں پر” قر یبی رشتہ دارو“ کے معنی میں ہے۔ یابعض لوگ اس کی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی عرب قبائل کے ساتھ رشتہ داری سے تفسیرکرتے ہیں جب کہ یہ تفسیر آیت کے نظام کومکمل ورپر درہم برہم کردیتی ہے . کیونکہ اس صورت میں اجر رسالت ان لوگوں سے طلب کیاجارہا ہے جنہوں نے رسالت کوقبول کرلیاہے اورجولوگ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی رسالت کو قبول کرچکے ہوں پھر کیا ضرورت ہے کہ ان سے یہ تقاضاکیاجائے کہ وہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی رشتہ داری کاپاس کرتے ہوئے انہیں تکلیف دینے سے باز رہیں۔ پھر کیاوجہ ہے کہ جب بے انتہا روایات آیت کوا ہلبیت علیہم السلام کی ولایت سے تفسیر کرتی ہیں انہیں چھوٴ اتک نہ جائے ؟ اس لیے یہ بات قبول کرناپڑے گی کہ مفسرین کے اس گر وہ نے ہرگز خالی الذ ہن ہوکر آیت کی تفسیر نہیں کی ، ورنہ کوئی پیچیدہ بات آ یت کے مطلب میں موجود نہیں ہے۔ اسی سے واضح ہو جاتاہے کہ مودّت اہلبیت علیہم السلام کاتقاضانہ تومقام نبوت کے منافی ہے اورنہ ہی اسے دنیا پرستوں کے طریقہ کارپرقیاس کیاجاسکتاہے.اوریہ معنی سورہ ٴ یوسف کی آیت ۱۰۴ سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جو ہر قسم کی اجر ت کی نفی کررہی ہے،کیونکہ اہلبیت علیہم السلام کی مودت کااجر حقیقت میں ایسااجر نہیں ہے جس سے خود رسول اللہ کوکوئی فائدہ ہو،بلکہ اس میں خود مسلمانوں کااپنافائدہ ہے۔ دوسرے یہ کہ :یہ صحیح ہے کہ عام اورمعمولی محبت اطاعت کے وجوب کی ہرگز دلیل نہیں بن سکتی لیکن جب ہم اس بات کوپیش نظرلاتے ہیں کہ یہ محبت کوئی عام محبت نہیں بلکہ نبوت ورسالت کے ہم پلہ ہے تو یقین ہوجاتاہے کہ اطاعت کا وجوب بھی اسی میںپوشیدہ ہے اور یہیں پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ابن بابو یہ (شیخ صدوق ) کی گفتگو بھی اس امر کے منافی نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ:یہ ٹھیک ہے کہ ہراطاعت کاوجوب زعامت کبری اورامامت کی دلیل نہیں بن سکتی لیکن یہ بات بھی تو مدنظر ہونی چاہیئے کہ جس اطاعت کا وجوب ، رسالت کااجر قرار پارہاہے وہ امام کے علاوہ کسی اور کے شایا ن شان نہیں ہوسکتی ۔ چوتھے یہ کہ:امام بمعنی رہبر وپیشوا ... ہردور میں صرف ایک ہی شخصیت ہوسکتی ہے اوربس لہٰذا تمام اہلبیت کی امامت کاکوئی معنی نہیں ہے . اس کے علاوہ آیت کامعنی سمجھنے میں روایات کے تعلق کوبھی بہر صورت پیش نظر رکھنا چاہیئے ۔ پھر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ آلوسی نے ذاتی طورپر مودت اہلبیت کوبہت بڑی اہمیت دی ہے اورمندر جہ بالا بحث سے چند سطو ر پہلے وہ لکھتے ہیں : حق با ت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اقر باء کی مودت بوجہ ان کے پیغمبرکارشتہ دار ہونے کے واجب ہے اور قرابت جتنی زیادہ قوی ہوگی محبت کاوجوب اس قدر بیشتر ہوگا ۔ آخرمیں کہتے ہیں : اس مودت کے آثارپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اقرباء کی تعظیم،احترام اوران کے حقوق کی ادائیگی سے ظاہر ہوتے ہیں.جبکہ بعض لوگ اس بار ے میں سستی سے کام لیتے ہیں حتٰی کہ اقرباء پیغمبر ( صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ) سے محبت کو ایک قسم کی رافضیت سمجھتے ہیں لیکن میں ایسا نہیں کہتا بلکہ وہی کہتاہوں جوامام شافعی نے اپنے جاذب اور دل نشین اشعار میں کہا ہے۔ پھر وہ امام شافعی کے مذ کورہ اشعار نقل کرتے ہیں اورکہتے ہیں : اس کے ساتھ میرایہ بھی عقیدہ ہے کہ میں اہلسنت کے بزرگوں کے عقائد سے باہر نہیں ہوں جووہ صحابہ کرام کے بار ے میں رکھتے ہیں اوران کی محبت کوبھی واجب سمجھتا ہوں ( 2). 1۔ تفسیرروح المعانی جلد ۲۵،ص ۲۷(اسی آیت کے ذیل میں ) ۔ 2۔ روح المعانی ، جلد ۲۵ ،ص ۲۸۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
مودت فی القربیٰ روایات کی نظر سے
مندرجہ بالاآیت کی اس تفسیر پرشاہد ناطق وہ بہت سی روایات ہیں جوشیعہ اورسنی کتب میں خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) وسلم کی زبان نقل ہوئی ہیں اورپکار پکار کرکہہ رہی ہیں کہ ” قربیٰ “ سے مراد پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نزدیکی اورمخصوص لوگ ہیں . نمونے کے طورپر: ۱۔ احمدنے ” فضائل الصحابہ “ میں اسناد کے ساتھ سعید بن جیرسے اورانہوں نے عامر سے یوں روایت نقل کی ہے: لمانزلت قل لا اسئلکم علیہ اجراً الاالمودة فی القربیٰ ، قالو ا: یارسول اللہ ! من قر ابتک ؟من ھٰؤ لاء الذ ین وجبت علینا مودّ تھم ؟قال:علی و فاطمة وابنا ( علیھم السلام ) وقا لھا ثلاثاً ۔ جب آیت ” قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی “ نازل ہوئی تواصحاب نے عرض کیایارسول اللہ ! آپ کے وہ نز دیکی کون لوگ ہیں کہ جن کی مودت ہم پرواجب ہوئی ہے ؟ توآپ نے ارشاد فرمایا علی،فاطمہ اوراُن کے دوبیٹے ہیں۔ اوراس بات کو آپ نے تین مرتبہ دہرایا ( 2). ۲۔ ” مستدرک الصحیحیں “ میں امام علی بن الحسین (زین العابدین ) علیہ السلام سے منقول ہے کہ امیر الموٴ منین علی بن ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسین علیہ السلام نے لوگوں سے جو خطاب فرمایا اس کاایک حصّہ یہ بھی ہے : انامن اھل البیت الذ ین افترض اللہ مودّ تھم علی کل مسلم فقال تبارک وتعالیٰ لنبیہ (ص) قل لا اسئلکم علیہ اجراً الاّ المودة فی القربیٰ ومن یقترف حسنة نزدلہ فیھا حسناً فاقتراف الحنة مودتنا اھل البیت میں اس خاندان میں سے ہوں خدانے جس کی مودت ہرمسلمان پرفرض کردی ہے اوراپنے رسول سے فر مایا ہے ”قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی ---... “ اورنیکی کمانے سے خدا کی مراد ہم اہلبیت کی مودت ہے ( 3). ۳۔ ”سیوطی “ نے ”درمنثور “ میں اسی آیت کے ذیل میں مجاہدسے،انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ” قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی “ کی تفسیرمیں رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا : ان تحفظو فی فی اھل بیتی وتود وھم بی میراد یہ ہے کہ تم میرے حق کی میرے اہلبیت علیہم السلام کے بار ے میں حفاظت کرو اور میری وجہ سے ان سے محبت کرو ( 4). یہاں سے یہ بات بھی اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ابن عباس سے جو ایک اور روایت نقل ہوئی ہے وہ مسلم نہیں ہے جس کامفہوم یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی عرب قبائل سے قرابت کی وجہ سے انہیں تکلیف نہ دی جائے کیونکہ جیساکہ ہم نے دیکھا ہے ابن عباس سے اس کے خلاف روایت نقل ہوئی ہے۔ ۴۔ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اپنی اسناد کے ساتھ سعید بن جبیر سے اور دوسری اسناد کے ساتھ عمربن شعیب سے نقل کیاہے کہ اس آیت سے مراد: ھی قربیٰ رسول اللہ رسول خداکے نزدیکی افراد ہی ( 5). ۵۔ مشہور مفسرین مومرحوم طبرسی رحمتہ اللہ علیہ نے حاکم حسکانی کی کتاب ” شواھد التنزیل “ سے ایک روایت نقل کی ہے.حاکم کاشمار اہل سنت کے مشہور مفسرین اور محدثین میں ہوتا ہے.انہوں نے ” ابوامامہ با ہلی “ سے نقل کیاہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) فر ماتے ہیں: ان اللہ خلق الانبیاء من اشجار شتی ،وانا وعلی من شجرة واحدة ،فانا اصلھا ،وعلی فر عھا ،وفا طمة لقاحھا ، والحسن الحسین رھا،واشیا عنا اور اقھا ۔ ... یاں تک کہ فرمایا ... لوان عبداً عبد اللہ بین الصفاوالمروة الف عام ، ثم الف عام ، ثم الف عام،حتی یصیر کالشن البالی ،ثم لم یدرک محبتناکبہ اللہ علی منخریہ فی النار،ثم تلا : قل لا اسئلکم علیہ اجراً خدانے تمام انبیاء کومختلف درختوں سے پیداکیاہے لیکن مجھے اور علی کوایک ہی درخت سے پیدا کیا جس کی جڑ میں ہوں،شاخ علی ،فاطمہ اس کی افزائش کاذریعہ ہیں،حسن اورحسین ا س کے میوے ہیں اورہمارے شیعہ اس کے پتے ہیں ... پھرفرمایا ... اگرکوئی شخص صفا اورمرو ہ کے درمیان ہزارسال تک خدا کی عبادت کرے ،پھرہزارسال اور ، پھر ہزار اوراس کی عبادت کرے اوراتنی عبادت کرے کہ سوکھ کرپرانی مشک کے مانند ہوجائے لیکن ہماری محبت اس کے دل میں نہ ہو تو خدااسے منہ کے بل جہنم میں ڈالے گ. پھرآپ نے یہ آیت تلاوت فر مائی ”قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی “ ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس روایت کو اس قدرشہرت حاصل ہوئی ہے کہ مشہور شاعر کمیت نے بھی اپنے اشعار میں اس کی جانب اشارہ کیاہے اور کہاہے : وجدنالکم فی اٰل حامیم اٰیة ... تاولھا مناتقی ومعرب تمہاری ( ایلبیت علیہم السلام ) شان میں ہمیں حم سورتوں میں ایک ایسی آیت مل گئی ہے جسے تقیہ کرنے والوں نے تاٴویل کرکے اورواضح بیان کرنے والوں نے آشکار طور پر بیان کیاہے (6). ۶۔ ”سیوطی “ نے اپنی تفسیردرمنثور میں ” ابن جریر “ سے انہوں نے ” ابی دیلم “ سے یوں نقل کیاہے : ” جب علی بن الحسین کوقید کرے دمشق کے در وازے پرلایا گیا تواہل شام میں سے ایک شخص نے کہا ” الحمد اللہ الذی قتلکم واستاصلکم “ ( خدا کاشکر جس نے تمہیں قتل کیااور تمہاری بیخ کنی کردی ) تو علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا : کیاتم نے قرآن پڑھا ہے ؟اس نے کہا، ہاں ! پھر فر مایا حٰم سورتوں کوبھی پڑھاہے ؟ کہا نہیں . امام نے کہا : آ یااس آیت کی تلاوت نہیں کی ” قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی“ ؟وہ کہنے لگا تو کیاوہ ” قربیٰ “ آپ لوگ ہیں جن کی طرف آیت میں اشارہ کیاگیا ہے ؟ فر مایا جی ہاں ( 7). ۷۔ زمخشر ی نے اپنی تفسیر کشاف میں ایک حدیث نقل کی ہے جسے فخر رازی اور قرطبی نے تفسیروں میں لکھا ہے . یہ حدیث بڑ ی صراحت کے ساتھ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مقام اوران کی محبت کی اہمیت کوبیان کررہی ہے ، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) خدا فر ماتے ہیں : من مات علیٰ حب اٰل محمد (ص) مات شھیدا ۔ الاومن مات علیٰ حب اٰل محمد (ص) مات مغفر رً الہ ۔ الاومن مات حب اٰل محمد (ص) مات تائبا ۔ الاومن مات علیٰ حب اٰل محمد (ص) موٴ منا ً مستکمل الایمان ۔ الاومن مات علیٰ حب اٰل محمد (ص) بشرہ ملک الموت بالجنة ثم منکر ونکیر ۔ الاومن مات علیٰ حب اٰل محمد(ص) یزف الی الجنة کماتزف العروس الیٰ بیت زوجھا ۔ الاومن مات علیٰ حب اٰل محمد (ص) فتح لہ فی قبرہ بابان الی الجنة ۔ الاومن مات علیٰ حب اٰل محمد (ص) جعل اللہ قبرہ مزار ملا ئکة الرحمة ۔ الاومن مات علیٰ حب اٰل محمد (ص) مات علی السنة والجما عة ۔ الاومن مات علیٰ حب بعض اٰل محمد (ص) جاء یوم القیا مة مکتوب بین عینیہ اٰیس من رحمة اللہ ۔ الاومن مات علیٰ بعض اٰل محمد (ص) مات کافراً ۔ الاومن مات علیٰ بغض اٰل محمد (ص) لم یشم رائحة الجنة ۔ جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت پرمراوہ شہید ہوکر مرا ۔ خبردار ہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مرااس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ خبردار رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مراوہ تائب ہوکرمرا ۔ خبردار رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مرا وہ کامل الایمان موٴ من ہوکرمرے گا ۔ خبردار رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مرا موت کے فرشتے اسے بہشت کی خوشخبری دیں گے ، پھر ( قبر میں سوال کرنے والے فرشتے ) منکر اور نکیر اسے خوشخبری دیں گے ۔ خبردار رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مرااسے یوں آراستہ کرکے احترام کے ساتھ بہشت میں لے جایا جائے گا جس طرح دلہن کو اس کے دولہا کے گھر لے جایا جاتا ہے۔ خبردار رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مرااس کی قبر میں بہشت کے دو دو دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔ خبر دار رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مراخدا اس کی قبر کو ملائکہ رحمت کی زیارت گاہ بنادے گا ۔ خبر دار رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کے ساتھ مراوہ اسلام کی سنت اور مسلمانوں کی جماعت پرمرے گا ۔ آگاہ رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی دشمنی کے ساتھ مرا قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں عرصہ محشر میں داخل ہوگاکہ اس کی پیشانی پرلکھا ہوگا کہ یہ خدا کی رحمت سے مایوس ہے۔ آگاہ رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی دشمنی کے ساتھ مرے گا وہ کافر ہو کرمر ے گا ۔ آگاہ رہو ! جوشخص آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی دشمنی کے ساتھ مرے گ. وہ بہشت کی خوشبو کونہیں سونگھ پائے گا ( 8). دلچسپ بات یہ ہے کہ فخررازی اس حدیث کوجسے صاحب کشاف نے ”حدیث مرسل مسلّم “ کے نام سے یاد کیاہے ، ذکرکرنے کے بعد کہتے ہیں۔ ” آ ل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ لوگ ہیں جن کے امور کی بازگشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی طرف ہوتی ہے،جن لوگوں کارابط زیادہ محکم اورکامل ہوگاانہی کا ” آل “ میں ہو گا اوراس میں شک نہیں کہ فاطمہ ، علی ، حسن اورحسین ( علیہم السلام ) کارسول خدا سے محکم ترین رشتہ ہے اور یہ بات مسلّمات میں سے ہے اورمتو اتر ا حادیث سے ثابت ہے . بنابریں لازم ہے کہ ہم انہیں ” آل رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سمجھیں “ ۔ آگے چل کرکہتے ہیں : ” کچھ لوگوں نے آل کے مفہوم میں اختلاف کیاہے،بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے قر یبی رشتہ داری آل رسول ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی امت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی آل ہے . اگرہم اس لفظ کوپہلے معنی پر محمول کریں تو اس سے مر اد صرف اورصر ف مذ کورہ بزرگ ہستیاں ہیں اوراگر اس سے مراد امت یعنی وہ افرادہیں جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی دعوت کوقبول کیا توپھر بھی رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نزدیکی رشتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی آل سمجھے جائیں گے،بنابریں ہرلحاظ سے یہ ہستیاں توآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی آل ہیں،البتہ ان کے علاوہ لوگ آل میں داخل ہیں یانہیں اس میں اختلاف ہے “ ۔ اس کے بعد فخررازی نے صاحب کشاف سے یوں نقل کیاہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تولوگوں نے عرض کی،یارسول اللہ ! آپ کے قریبی رشتہ دار کون ہیں جن کی محبت ہم پر فرض ہوئی ہے ؟توآنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ارشاد فرمایا :وہ علی و فاطمہ اوران کے دو فر زند ہیں۔ پس معلوم ہوایہ چاربزرگوار ہستیاں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ذوی القربی ہیں اورجب یہ ثابت ہوگیاپھرضر وری ہے کہ اُن کاانتہا ئی احترام کیاجائے۔ فخر الدین رازی مزید کہتے ہیں کہ اس مسئلے پرمختلف دلائل دلالت کرتے ہیں : ۱ ۔ ” إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی“ کاجملہ کہ جس کاطرز استد لال بیان ہوچکا ہے۔ ۲۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ کوحضرت فاطمہ سے محبت تھی اوران کے بار ے میں فرمایا ” فاطمة بضعة منی یوٴ ذینی مایوٴ ذ یھا “ (فاطمہ میرے بدن کاٹکڑا ہے جوچیزاسے تکلیف دے گی وہ مجھے تکلیف دے گی اوررسول خدا کی متواترحدیثیوں سے یہ بات پایہٴ ثبوت کوپہنچ چکی ہے آپ علی ، اورحسن اورحسین سے محبت فرماتے تھے ، اور جب یہ بات ثابت ہوگی توا ن کی محبت تمام امت پرواجب ہے چونکہ خد فرما تاہے ” وَ اتَّبِعُوہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُون“ ( رسول خداکی پیروی کرو تا کہ تم ہدایت پاؤ (9) نیز فرما تا ہے ” فَلْیَحْذَرِ الَّذینَ یُخالِفُونَ عَنْ اٴَمْرِہِ“ (جولوگ فرمان رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں عذاب الہٰی سے ڈر ناچاہیئے ( 10) اور یہ بھی فر ماتاہے ”قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِعُونی یُحْبِبْکُمُ اللَّہُ “ (پیغمبر ! کہہ دیجئے کہ اگرخدا کودوست رکھنا چا ہتے ہو تومیری اتباع کروتاکہ خدا تمہیں دوست رکھے (۱1) ساتھ ہی اس کایہ فرمان بھی ہے کہ ”لَقَدْ کانَ لَکُمْ فی رَسُولِ اللَّہِ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ“ (تمہارے لیے رسول خداکی زندگی بہترین نمونہ ہے (12). ۳۔ ” آل “ کے لیے دعا ایک عظیم اعزاز ہے لہذا یہ دعاتشہد کے اختتام پرموجود ہے ” اللھم صلی علیٰ محمد و علی اٰل محمد،وار حم محمد اً واٰل محمد “ اور اس قسم کی عظمت اور احترام آل کے علاوہ کسی اورکے بار ے میں نظر نہیں آتالہٰذا ان سب دلائل کی روشنی میں یہ بات پایہ ٴ ثبوت کوپہنچ جاتی ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت واجب ہے۔ آخر الا مرفخر الدین رازی اپنی گفتگو کوامام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے ان مشہور اشعار پر ختم کرتے ہیں۔ یاراکبا قف بالمح من منی ... واھتف بساکن خیفھا والناھض سحراً اذا فاض الحجیج الی منی ... فیضا کمانظر الف الفائض ان کان رفضا حب اٰل محمد ... فلیشھد الثت نی رافضی اے حج کے لیے جانے والے سوار ! جہاں پر منی کے نزدیک رمی جمرات کے لیے کنکر یاں اکٹھا کر تے ہیں اورجو خانہ ٴ خداکے زائرین کاعظیم اجتماعی مرکز ہے تووہاں پرٹھہر جااوران لوگوں کو آواز دے جو مسجد خیف میں مصروف عبادت ہیں یاچل رہے ہیں۔ اس وقت پکار جب بوقت سحر حجاج مشعر الحرام سے منیٰ کی جانب چل پڑتے ہیں اور عظیم اورٹھاٹھیں مارتے در یاکے مانند سرزمین منٰی میں داخل ہوتے ہیں۔ یاتوبآ واز بلند کہہ دے کہ اگر آل محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی محبت کانام رفض ( رافضی ہونا ) ہے تو تمام جن وانس گواہ رہیں کہ مین رافضی ہوں (13). جی ہاں یہ ہے آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کامقام اوران کی قدرو منزلت ،ہم جن کے دامان سے متمسک ہیں اورجنہیں ہم نے اپنادین اوردنیا ہم کاراہبر ورہنما تسلیم کیاہے . ہم انہیں اپنے لیے اسوہ حسنہ اور نمونہ کامل سمجھتے ہیں اورہم سمجھتے ہیں کہ اُن کی امامت کے ذ ریعے راہ ِ نبو ت کاتسلسل باقی ہے۔ البتہ مندرجہ بالا احادیث کے علاوہ اسلامی کتابوں میں اور بھی بہت سی احادیث موجود ہیں لیکن ہم اختصاد او ر تفسیر ی پہلوؤں پرقناعت کرتے ہیں اور مندرجہ بالا سا ت احادیث پراکتفا کرتے ہیں ، لیکن اس نکتے کو بیان کرنامناسب سمجھتے ہیں کہ علم کلام کی بعض کتابوں مثلاً ” احقا ق الحق “ اوراس کی مبسوط شرح میں”قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی “ کی تفسیر میں مذ کورہ بالا مشہور حدیث اہل سنّت کی پچاس سے زائد کتابوں سے نقل کی گئی ہے ، جس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ روایت کس قدر مشہورومعروف ہے . البتہ کتب شیعہ میں بھی یہ حدیث اہل بیت کے حوالے سے بہت سی کتب حدیث میں نقل کی گئی ہے۔ 1۔ شورہ شعراء آیت ۱۰۹، آیت ۱۲۷ . آیت ۱۶۴ . آیت ۱۸۰۔ 2۔ ” احقاق الحق “ جلد ۳ ،ص د۲ ،ص نیز قرطبی نے بھی اسی روایت کواسی آیت کے ذ یل میں درج کیا ہے . ملاحظہ ہوتفسیر قرطبی جلد ۸ ،ص ۵۸۴۳۔ 3” متدرک الصحیحین “ جلد ۳ ،ص محب الدین طبرسی نے بھی اسی حدیث کو اپنی کتاب ” ذخائر العقبٰی “ کے ص ۱۳۷ میں اورابن حجر نے اپنی کتاب ”صواعق محرقہ “ میں نقل کیاہے ملاحظ ہو ص ۱۰۱۔ 4۔ تفسیردرمنثور جلد ۶ ۷ اسی آیت کے ذیل میں۔ 5۔تفسیر طبری جلد ۲۵ ، ص ۱۶.۱۷۔ 6۔ تفسیر مجمع الیبیان ، جلد ۹ ،ص ۲۹۔ 7۔ تفسیردرمنثور جلد ۶ ،ص ۷۔ 8۔ تفسیر کشاف ، جلد ۴ ،ص ۲۲۰،ص ۲۲۱ تفسیر فخر رازی ، جلد ۲۷ ،ص ۱۶۵ و ص ۱۶۶ ،تفسیر قرطبی ،جلد ۸ ،ص ۴۳ ۵۸ . تفسیرثعلبی جلیل بن عبداللہ بجلی سے اسی آیت کے ذیل میں ( منقول از المر جعات خط ۱۹). 9۔ سورہ اعراف آیت ۱۵۸ ۔ ۱0۔ سورہ نور آیت ۶۳۔ ۱1 ۔ سور ہ آل عمران ۳۱۔ ۱2۔ سور ہ احزاب آیت ۲۱۔ ۱3۔ تفسیر فخر رازی ،جلد ۲۷ ،ص ۱۶۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
مودّت فی القربیٰ کی وضاحت
اس جملے کے بار ے میں مفسرین نے المبی جوڑی گفتگو اورخوب بحث کی ہے اورجب ہم خالی الذہن ہوکر ان کے پہلے سے طے شدہ فیصلے کے تحت بیان کردہ تفاسیر کی طرف نگاہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ وہ مختلف عوامل اوراسباب کی وجہ سے آیت کے اصلی مفہوم سے ہٹ گئے ہیں اورانہوں نے ایسے احتمالات کو اپنا یاہے جونہ تو آیت کے مفہوم سے مطابقت رکھتے ہیں نہ شان نزول سے اورنہ ہی دوسرے مشہور تفسیر یں بیان ہوئی ہیں : ۱ ۔ جیساکہ اشارہ ہوچکا ہے کہ ذوی القربی سے مراد پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اہل بیت ہیں اوران کی محبت ائمہ معصومین علیہم السلام کی امات اور رہبری کو تسلیم کرنے کاایک ذریعہ اور فریضے کی ادائگی کی ضمانت ہے۔ اس معنی کو بہت سے قدیمی مفسرین اور تمام شیعہ مفسرین نے اپنا یا ہے . شیعہ ، سنی دونوں کی طرف سے اس بار ے میں بہت سی روایات منقول ہوئی ہیں جن کی طرف ہم بعدمیں اشارہ کریں گے ۔ ۲۔ دوسری تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ رسالت کااجریہی ہے کہ تم ا ن چیزوں کودوست رکھو جو تمہیں ” خدا کے قرب “ کی دعوت دیتی ہیں۔ اس تفسیرکو بعض اہلسنت مفسرین نے اپنایا ہے جوکسی بھی لحاظ سے آیت کے ظاہر ی مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگاکہ میں تم سے یہ چاہتا ہوں کہ تم خداکی اطاعت کودوست رکھو اوراس کی محبت کودل میں جگہ دو ،جبکہ کہنایہ چاہیے تھا کہ میں تم سے خدا کی اطاعت کوچاہتاہوں ( نہ کہ اطاعت الہٰی کی محبت ) اس کے علاوہ آیت کے مخاطب افراد میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جوخداکا قرب نہ چاہتا ہو، حتٰی کہ مشرکین بھی اس بات کے خواہش مندتھے کہ خدا نزدیک ہوں اوراصولی طور پر و ہ بتوں کی پرستش کواسی بات کاذ ریعہ سمجھتے تھے ۔ ۳۔ تیسری تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ تم اجر رسالت کے طور پر اپنے قر یبی رشتہ داروں کودوست رکھو اورصلہ رحمی بجالاؤ ۔ اس تفسیر میں رسالت اورجر رسالت کے درمیان کوئی مناسبت نظرنہیں آتی کیونکہ اپنے رشتہ داروں سے دوستی کرنے سے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی کونسی خدمت ہوسکتی ہے ؟ اورپھر یہ دوستی کس طرح اجررسالت قرار پاسکتی ہے ؟ ۴۔ چوتھی تفسیر کے مطابق مراد یہ ہے کہ تم سے جومیری قرابت ہے اس کی حفاظت کرو اوراسے محفوظ رکھو . یہی مری رسالت کااجر ہے . چونکہ میراتمہارے اکثر قبائل سے رشتہ ہے لہٰذا مجھے تکلیف نہ پہنچا یاکرو ( کیونکہ آنحضرت کانسبی لحاظ سے قریش کے قبائل سے رشتہ تھا اور سببی ( از دواجی ) لحاظ سے بہت سے قبائل سے تعلق تھا نیز مادی لحاظ سے مدینہ بنی نجار کے متعددلوگوں سے اوررضاعی ماں کے لحاظ سے قبیلہ بنی سعد سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کارشتہ تھا ۔ یہ تعبیرتمام معنوں میں سے بدترین معنی ہے جو آیت کے لیے کیاجاتا ہے کیونکہ اجررسالت کاتقاضاان لوگوں سے کیا جاتاہے جوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی رسالت کوقبول کرچکے ہیں جب یہ لوگ آپ کی رسالت کو قبول کرچکے ہیں توپھران سے اس قسم کی خواہش کااظہار غیر ضروری معلوم ہوتاہے . یہ لوگ آنحضرت کابحیثیت رسول اللہ احترام کیاکرتے تھے . پھرکیا ضرورت تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کابحیثیت نسبی یاسببی رشتہ دار کے احترام کریں ، کیونکہ رسالت کی وجہ سے کیاجانے والااحترام دوسرے تمام اسباب و وجوہات سے بالا ترہوتاہے . درحقیقت اس تفسیر کاشماربہت بڑی غلطیوں میں سے ہوتاہے جوبعض مفسرین سے سر زد ہوئی ہے اوراس نے آیت کے مفہوم کومکمل طورپرمسخ کرکے رکھ دیاہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہم بڑھتے ہیں کہ :انبیاء کرام فر ماتے تھے وماسئلکم علیہ من اجران اجری الاّ علی رب العالمین (1). دعوت رسالت کے بدلے ہم تم سے کوئی اجر نہیں مانگتے ، ہمارااجر توصرف پروردگار عالم کے پاس ہے۔ اورخود پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ذات کے بار ے میں بھی مختلف تعبیریں دیکھی جاسکتی ہیں . کہیں ارشاد ہوتاہے : قُلْ ما سَاٴَلْتُکُمْ مِنْ اٴَجْرٍ فَہُوَ لَکُمْ إِنْ اٴَجْرِیَ إِلاَّ عَلَی اللَّہ کہہ دے میں جو بھی اجررسالت تم سے طلب کیاہے وہ صرف تمہارے ہی فائدہ کے لیے ہے اورمیرا اجر تو صرف خداکی ذات پر ہے۔( سبا ٴ / ۴۷). ایک اور مقام پرارشاد ہوتاہے : قُلْ ما اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اٴَجْرٍ إِلاَّ مَنْ شاء َ اٴَنْ یَتَّخِذَ إِلی رَبِّہِ سَبیلا کہہ دے میں تبلیغ رسالت کے بدلے تم سے کچھ بھی اجرنہیں مانگتا مگر جو لوگ پرور دگار کے راستے کواختیار کریں۔( فرقان / ۵۷). اورآخر میں ایک اور آیت : قُلْ ما اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اٴَجْرٍ وَ ما اٴَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفین کہہ دے : میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اورنہ ہی تم پر کوئی بوجھ ڈالتا ہوں۔ ( ص/ ۸۶). جب ہم ان تینوں آیات کوزیربحث آیت کے ساتھ ملاکر دیکھتے ہیں تونتیجہ نکالنا آسان ہوجاتاہے ایک مقام پر تواجر اور اجرت کی بالکل نفی کی گئی ہے۔ دوسرے مقام پرفرماتے ہیں میں اجر رسالت صرف ان لوگوں سے مانگتا ہوں جو خدا کی راہ کواپناتے ہیں۔ تیسرے مقام پر ارشاد ہوتاہے میں تم سے جوبھی اجرمانگتا ہوں وہ صرف اورصرف تمہارے فائدہ کے لیے ہے۔ اورزیرنظر آیات میں فرماتے ہیں : میرے قریبیوں سے مودت ہی میری رسالت کااجر ہے.یعنی : میں نے تم سے ایسا اجررسالت طلب کیاہے کہ جس کی یہ خصو صیات ہیں کہ یہ بالکل ایسی چیز نہیں ہے جس کافائدہ مجھے پہنچنے،بلکہ اس کاسو فیصد فائدہ خود تمہیں ہی ملے گا اور یہ ایسی چیز ہے جوخدا تک پہنچنے کے لیے تمہاری راہ ہموارکرتی ہے۔ اس لحاظ سے کیااس کا اس کے علاوہ کوئی مفہوم ہوسکتاہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے مکتب کے راستے کوان ہادیان ِ الہٰی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معصو م جانشینوں کے ذریعے تسلسل جائے کہ جوتمام ترآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے خاندان میں سے ہوں . اور چونکہ مودت کامسئلہ اس تسلسل اوررابطے بنیاد ہے لہٰذا اس آیت میں صراحت اوروضاحت کے ساتھ اس کاذکر ہواہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی آیت ” مود ت فی القربیٰ “ کے علاوہ قرآن مجید میں اور پندرہ مقامات پر ” القربیٰ “ کالفظ استعمال ہوا ہے.جوہرجگہ پر قریبیوں اور نزدیکیوں کے معنی میں ہے.پھر معلوم نہیں کہ بعض لوگ اس بات پر کیوں اصرار کرتے ہیں کہ صرف اسی آیت میں ” قربیٰ “ کو ” مودت الی اللہ ‘ ‘ کے علاوہ قرآن مجید میں اورپند رہ مقامات پر ” القربیٰ “ کالفظ استعما ل ہواہے . جوہرجگہ پرقریبیوں اورنزدیکیوں کے معنی میں ہے .پھرمعلوم نہیں کہ بعض لوگ اس بات پرکیوں اصرار کرتے ہیں کہ صرف اسی آیت میں ” قر بیٰ “ کو” تقرب الی اللہ “ کے معنی میں منحصر کردیاجائے اوراس کے واضح اورظاہر معنی کوجو کہ قرآن میں ہرجگہ استعمال ہواہے ، صرف نظر کردیا جائے۔ پھر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اسی زیر بحث آیت کے آخر میں آیا ہے : جوشخص نیک عمل بجالائے توہم اس کی نیکیوں میں اضافہ کریں گے کیونکہ خدابخشنے والا اور شکر گزار ہے اوربندوں کے اعمال کی مناسب جزاعطافرماتاہے (وَ مَنْ یَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَہُ فیہا حُسْناً إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ شَکُور). اس سے بڑ ھ کراور کیا نیکی ہوسکتی ہے کہ انسان ہمیشہ خدائی رہبروں کے پرچم تلے رہے ، ان کی محبت کودل میں جگہ دے ان کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل پیروہو ، کلام الہٰی کے سمجھنے میں جہاں ابہام پیدا ہووہاں ان سے وضاحت حاصل کرے ، ان کے اعمال کواپنے لیے معیار عمل قر ار دے اورخود ان کی ذات کو اپنے لیے اسوہ اورنمونہ قراردے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
مودّت اہل بیت(ع) اجرِ رسالت ہے
اسی سورت کی ۱۴ ویں آیت میں ذکر تھا دین کاتعین پروردگار عالم کی طرف سے او ر تبلیغ کااور الو لعزم ابنیاء کے ذریعے ہوتاہے . اب مذکور ہ بالا آ یات میں سے پہلی آیت میں اس تعین کی غیر خداسے نفی کی بات ہورہی ہے اور یہ بتا یاجارہاہے کہ قانون ِ الہٰی کے مقابلے میں کسی اورقانون کوکوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے . بلکہ اصولی طور پر قانون گزار ہی کاحق ہی صرف خدا کوحاصل ہے . ارشاد ہوتاہے : آیا ان کے ایسے معبود ہیں جنہوں نے خداکی اجازت کے بغیران کے لیے کوئی دین بنادیاہے (اٴَمْ لَہُمْ شُرَکاء ُ شَرَعُوا لَہُمْ مِنَ الدِّینِ ما لَمْ یَاٴْذَنْ بِہِ اللَّہُ ). جبکہ کا ئنات کاخالق ، مالک اور مدبر صرف خداہے . لہٰذا قانون گزاری کاحق بھی صرف اسے حاصل ہے اوراس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص بھی اس کی اس قلمر و میں مداخلت نہیں کرسکتا .لہٰذا اس کی قانون سازی کے مقابلے میں جوکچھ بھی ہوگا وہ باطل ہوگا ۔ اس کے فوراً بعد باطل قانون سازوں کودھمکی اور تنبیہ کے لہجے میں خبر دار کیاجارہاہے : اگران لوگوں کو مہلت دینے کے بار ے میں خدا کافرمان ِ حق نہ ہوتا اوران کے لیے مہلت مقرر نہ ہوچکی ہو تی توا ن کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوت. ان کے لیے عذاب کاحکم آچکا ہوتا اورانہیں کسی قسم کی مہلت نہ ملتی (وَ لَوْ لا کَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ ). اس کے باوجود انہیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ ”ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے “ (وَ إِنَّ الظَّالِمینَ لَہُمْ عَذابٌ اٴَلیم). ” کَلِمَةُ الْفَصْل“ سے مراد وہ مقر رہ مہلت ہے جو خدا نے انہیں دی ہے تاکہ وہ آزادی سے کام کریں اوران پر اتمام حجت ہوجائے۔ خدائی قوانین کے مقابلے میں اپنے خود سا ختہ قوانین اپنانے والے مشر کین پر ” ظالمین “ کااطلاق اس لیے کیاگیاہے کہ ”ظلم “ کے مفہوم میں اس قدر وسعت ہے کہ اس کااطلاق ہراس پر ہوتاہے جوبے موقع ومحل انجام دیاجائے ” عَذابٌ اٴَلیم“ سے بظاہر مراد روز قیامت کاعذاب ہے کیونکہ قرآن مجید میں عام طور پر ” عَذابٌ اٴَلیم“ اسی معنی میں استعمال ہواہے اور بعد کی آیت سے بھی اسی حقیقت کی گواہ ہے اورقرطبی جیسے بعض مفسرین نے جوا س دنیا اور آخرت کاعذاب مراد لیاہے ،بعد معلوم ہوتاہے۔ پھر” ظالمین کے لیے عذاب “ اوران کی مقابلے میں ” موٴ منین کی جزا “ کی کچھ مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہاگیا ہے : اس دن آپ ظالموں کودیکھیں گے کہ وہ اپنے انجام دیئے گئے سے سخت خائف ہوں گے. لیکن اس کا کیافائدہ ان کے اعمال کی سزا انہیں مل کررہے گی (تَرَی الظَّالِمینَ مُشْفِقینَ مِمَّا کَسَبُوا وَ ہُوَ واقِعٌ بِہِمْ) ۔ لیکن جولوگ ایمان لے آئے اورانہوں نے نیک اعمال انجام دیئے وہ بہشت کے بہترین اور سر سبز و شاداب باغات میں ہوں گے ( وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ فی رَوْضاتِ الْجَنَّات). ”روضات ‘ “ ” روضة“ کی جمع ہے جس کامعنی ہے جس کا معنی ایسی جگہ ہے جہاں پانی اور درخت وافر مقد ار میں ہوں . لہذا سرسبز وشاداب باغات کو” روضة “ کہاجاتاہے اس تعبیرسے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ بہشت کے باغات بھی مختلف ہیں اورصالح موٴ منین کی رہائش بہشت کے بہترین باغات میں ہوگی . جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب گناہگار موٴ منین کوخدا کی طرف سے معافی ملے گی تووہ بہشت میں توضر ورجائیں گے مگرا ن کی جگہ ” روضات “ نہیں ہوگی ۔ جبکہ صالح موٴ منین کے بار ے میں خداوند عالم کافضل وکرم یہیں پرختم ہو جات. ان پرخدا کی اس قدر مہربانی ہوگی کہ جوکچھ بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے سب کچھ فراہم ہوگا (لَہُمْ ما یَشاؤُنَ عِنْدَ رَبِّہِم). گو یا ان کے ” عمل “ اور”جزا“ کاکوئی تقابل نہیں کیاجاسکتا،کیونکہ ” لَہُمْ ما یَشاؤُن“ کاجملہ اس حقیقت کاترجمان ہے۔ اس سے بھی بڑھ کردلچسپ بات ” عندر بھم “ ( ان کے پروردگار کے پاس ) کی تعبیر ہے ، جوموٴ منین کے بار ے میں خداوند عالم کے بے حدو حساب لطف و کرم کو بیان کررہی ہے.اس سے بڑھ کراورکیا مہر بانی ہوسکتی ہے کہ انہیں خداکا قرب حاصل ہوگ. جیساکہ شہداء کے بار ے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔ بل احیاء عندر بھم یرزقون اور صالح موٴ منین کے بار ے میں فرماتاہے : لَہُمْ ما یَشاؤُنَ عِنْدَ رَبِّہِم چنانچہ آیت کے آخر میں فر مایاگیاہے : یہ ہے خدا کابہت بڑافضل (ذلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبیرُ ). ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کی نعمتیں اس قدر وسیع و عظیم ہیں کہ قلم و زبان ان کے بیان سے قاصر ہیں اور ہم مادی دنیا کے اسیروں کے لیے اس کاتصور بھی محال ہے ہم سمجھ سکیں کہ ”لَہُمْ ما یَشاؤُنَ عِنْدَ رَبِّہِم “ کے جملے میں کیا کیامفہوم پوشیدہ ہیں ؟ موٴ منین کیاچاہیں گے اور خداوند عالم کے قرب میں انہیں کیاکچھ ملے گا ؟ اصولی طورپر خدا وندعالم جس چیز کی فضل کبیر کے عنوان سے توصیف کرے صاف ظاہر ہے کہ وہ چیزاس قدرعظمت کی مالک ہوگی کہ ہم جس قدر بھی اس کاتصور کریں پھر بھی ہمارا طائر خیال وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ دوسرے لفظوں میں خدا کے ان خاص بندوں کامرتبہ قدر بلند ہوگاکہ وہ جس چیز کاارادہ کریں گے وہ چیز فوراً مہیا ہوجائے گی . گویاوہ اس خدا وند عالم کی اس لامتناہی قدرت کے آئینہ دار ہوں کے جو فر ماتاہے : إِنَّما اٴَمْرُہُ إِذا اٴَرادَ شَیْئاً اٴَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ اوراس سے بڑھ کراور کیا فضیلت ہو سکتی ہے۔ اس عظیم جزا کی عظمت کو بعد کی آیت میں بیان کرتے ہوئے فرمایاگیاہے : یہ وہی چیزہے جس کی خوشخبر ی خدانے اپنے ان بندوں کودی ہے جو ایمان لے آئے اورعمل صالح بجالائے ہیں (ذلِکَ الَّذی یُبَشِّرُ اللَّہُ عِبادَہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ ). وہ خشخبری دیتاہے تاکہ اطاعت اوربندگی کرتے ہوئے اورخواہشات نفسانی سے مقابلے کے دوران اوردشمنوں سے جہاد کرتے ہوئے وہ جن مشکلات سے گزریں انہیں خوشی سے جھیل لیں اوروہ اس عظیم جزاکی وجہ سے خداوند کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے زندگی کے نشیب و فراز والے راستوں میں زیادہ سے زیادہ ہمت وطاقت کامظاہرہ کریں۔ چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی تبلیغ رسالت کی وجہ سے یہ خیال لوگوں کے د ل میں آسکتا تھاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی رسالت کی تبلیغ کالوگوں سے اجر طل فرمائیں گے.اسی بار ے میں فوراً پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوحکم دیاگیا ہے کہ ” کہہ دے ! میں اس بار ے میں تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے قریبیوں کے ساتھ محبت کرو “ (قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی). ذوی القربیٰ کی دوستی جیساکہ آگے چل کر بیان ہوگا ولایت کے مسئلے اور خاندان رسالت میں سے ہونے والے آئمہ معصومین کی پیشوائی اور رہبری کی طرف لوٹ جاتی ہے .جو درحقیقت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی رہبر ی اور ولایت الہٰیہ کے تسلسل کے مترادف ہے اور ظاہر ہے کہ اس ولایت اور ہبری کو تسلیم کرناایساہے،جیساکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت و نبوت کوتسلیم کرنا،جوکہ انسان کی اپنی سعادت کاذریعہ ہوتاہے اوراس کا نتیجہ خودانسان کی طرف ہی لوٹ جاتاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
شان ِ نزول
تفسیر مجمع البیان میں اس سورت کی ۲۳ ویں تا ۲۶ ویں آیت کی شان نزول پیغمبراسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بار ے میں مروی ہے جس کا خلاصہ اس طرح ہے : ” جب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مدینہ تشریف لاچکے اور اسلام کی بنیاد یں مضبوط ہوگئیں توانصار نے کہا کہ ہم رسول اللہ کی خدمت میں جاکر عرض کرتے ہیں کہ اگر آپ کو مالی مشکلات درپیش ہیں توہمارے یہ ما ل غیر مشروط طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی خدمت میں حاضرہیں . جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ان کی باتیں سُن لیں تو یہ آیت نازل ہوئی ”قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی“ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اپنی رسالت کااجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے نزدیکیوں سے محبت کرو توآنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے یہ آیت انہیں سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی فر مایا کہ میرے بعد میرے قریبیوں سے محبت کرنا د۔ یہ سُن کر وہ خوشی خوشی وہاں سے واپس آگئے ،لیکن منافقین نے یہ شوشہ چھوڑ دیاکہ یہ بات ( معاذاللہ ) رسول نے از خود کہی ہے اورخدا پر جھوٹ باندھا ہے اوراس کامقصد یہ ہے کہ وہ اپنے بعد ہمیں اپنے رشتہ داروں کے آگے ذلیل ورسوا کرے ۔ چنانچہ اس کے بعد اگلی آیت نازل ہوئی ” اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَری عَلَی اللَّہِ کَذِباً ...“ جوان لوگوں کاجواب تھا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کوبھیج کریہ آیت انہیں سنائی . کچھ لوگ نادم ہوکر رونے لگے اور سخت پریشان ہوئے آ خر کار اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی جس میں کہاگیا ہے ” وَ ہُوَ الَّذی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبادِہِ وَ یَعْفُوا عَنِ السَّیِّئاتِ وَ یَعْلَمُ ما تَفْعَلُونَ...“ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے پھر کسی کوبھیج کر یہ آیت ان تک پہنچائی اورانہیں خوشخبری دی کہ ان کی خالص توبہ قبول بار گا ہ ہوچکی ہے “ ( ۱). ۱۔ مجمع البیان جلد ۹ ،ص ۲۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
سوره شوری/ آیه 21- 23
۲۱۔اٴَمْ لَہُمْ شُرَکاء ُ شَرَعُوا لَہُمْ مِنَ الدِّینِ ما لَمْ یَاٴْذَنْ بِہِ اللَّہُ وَ لَوْ لا کَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَ إِنَّ الظَّالِمینَ لَہُمْ عَذابٌ اٴَلیمٌ ۔ ۲۲ ۔ تَرَی الظَّالِمینَ مُشْفِقینَ مِمَّا کَسَبُوا وَ ہُوَ واقِعٌ بِہِمْ وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ فی رَوْضاتِ الْجَنَّاتِ لَہُمْ ما یَشاؤُنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ذلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبیرُ ۔ ۲۳۔ذلِکَ الَّذی یُبَشِّرُ اللَّہُ عِبادَہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ قُلْ لا اٴَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبی وَ مَنْ یَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَہُ فیہا حُسْناً إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ شَکُورٌ ۔ ترجمہ ۲۱۔ آ یاان کے ایسے معبود ہیں جنہوں نے خداکی اجازت کے بغیر ان کے لیے کوئی دین بنادیا ہے ؟اگران کے لیے ایک مہلت مقرر نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا ( اور خداکے عذاب کاحکم نازل ہوچکاہوتا ) اورظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ۲۲۔ اس دن توظالموں کودیکھے گاکہ وہ اپنے انجام دیئے ہو ئے اعمال کی وجہ سے سخت خائف ہوں گے لیکن وہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا لیکن جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح بھی انجام دیئے وہ بہشت کے بہترین باغوں میں ہوں گے اورجو کچھ بھی وہ چاہیں گے ان کے پر وردگار کے پاس ان کے لیے فراہم ہے اور یہی فضل عظیم ہے۔ ۲۳۔ یہ وہی چیزہے جس کی خدا اپنے ان بندوں کوخوشخبر ی دیتاہے جوایمان لے آئے اورانہوں نے عمل صالح انجام دیئے ہیں کہہ دے میں تم سے رسالت کاکوئی اجرنہیں مانگتا سوائے اپنے قر یبیوں کی دوستی کے . جو شخص نیک عمل انجام دے گاہم اس کی نیکی میں اضافہ کریں گے ، کیونکہ خدا وند عالم بخشنے والا اور قدر دان ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:21-23
۴۔ یہ چند آیات مدنی ہیں
جیساکہ ہم آغاز میں کہہ چکے ہیں کہ سورہ شورٰی مکی ہے . لیکن بہت سے مفسرین کانظر یہ ہے کہ یہ چار آیات ( آیت ۲۳تا ۲۶ ) مدینہ میں نازل ہوئی ہیں لیکن جیسا کہ ہم آغاز میں بتاچکے ہیں کہ ان آیات کی شان نزول ہمارے اس مدعا کی دلیل ہے اوروہ روایات بھی اسی بات کے لیے اچھی دلیل ہیں جن کے مطابق اہل بیت سے علی علیہ السلام ، فاطمہ اسلام اللہ علیہا ، حسن علیہ السلام ، حسین علیہ السلام ، مرا د ہیں . کیونکہ معلوم ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کاسیدہ طاہر ہ علیہم السلام سے عقد مدینہ منورہ میں انجام پایا اور مشہور روایات کی بناپر جناب حسن علیہ السلام اورجناب حسین علیہ السلام کی ولادت تیسری اور چوتھی ہجری میں ہوئی ۔