قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ
Say, ‘Do you really disbelieve in Him who created the earth in two days, and ascribe partners to Him? That is the Lord of all the worlds!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 41:9
[Pooya/Ali Commentary 41:9] In Araf: 54; Yunus: 3; Hud: 7 and Sajdah: 4; the creation is stated to have taken place in six days. As explained in the commentary of Hajj: 47, Sajdah: 5, Ibrahim: 5 the term yawm (day) used in various places in the Quran is not the day of the earth, measured according to the movement of the earth in relation to the sun. When there was no sun or suns in the universe yawm (day) may refer to any period of time known to Allah alone. Here it may mean stages or periods. So the two days may mean two stages, physical and spiritual. The four days mentioned in verse 10 refer to the several stages in which the creation of the heavens and the earth took place, and the sequence of the order in which the various components of the universe were brought into existence. Refer to Baqarah: 29; Rad: 3; Nahl: 15 and Saffat: 6. Aqa Mahdi Puya says: Verse 11 may refer to the theory of nebula. According to Hijr: 16 and 17 all illuminating stars are arranged in the lower heaven. Then the other six heavens may be in the nebula.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 41:9-18
A tradition refers to creation of Earth on Sunday and Monday and mountains on Tuesday and vegetation and trees on Wednesday, the heavens on Thursday, the sun and the moon and the stars, angels, and lastly man on Friday. The origin of creation having started with a green element, liquefied under Divine Glory, and boiled and shaken to foam and gas, from which land and clouds were formed. These were commanded to function as per Divine Will and energized. Four periods referred to in Couplet 10 above are four seasons – spring, summer, autumn and winter, winter necessary for flowering, fructifying and growing of crops. The Mighty Creator, by effecting difference in latitude and tilting the earth’s axis to its plane of orbit, with variation of land and sea, and contours on the ground, causing variation of heat, at different places, in different times, to regulate food production for its inhabitants from the Poles to the Equator (is praiseworthy).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:9-12
ثم کی تعبیر : یہ عام طور پر زمانے میں تاخیر کے لیے آتی بھی آجاتی ہے۔
۱۔ ’ ’ ثم کی تعبیر : یہ عام طور پر زمانے میں تاخیر کے لیے آتی بھی آجاتی ہے۔ اگرپہلے معنی میں ہو تو اس کامفہوم یہ ہوگا کہ آسمانوں کی تخلیق ،زمین ،پہاڑ ، معادن اور غذائی مواد کی تخلیق کے بعد عمل میں آئی . لیکن اگر دوسرے معنی میں ہوتو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا آسمانون کی تخلیق پہلے عمل میں آئی ہو اور زمین کی اس کے بعد . لیکن بوقت بیان پہلے زمین غذائی مواد اوران کے منابع کاذکر کیاکہ جو انسان کی ضرورت اور توجہ کامرکز ہے پھر تخلیقِ آسمان کی تفصیل بیان کی۔ دوسرامعنی جہاں سائنسی انکشافات سے زیادہ ہم آہنگ ہے وہاں قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی زیادہ موافقت رکھتاہے ،کیونکہ سورہٴ ناز عات میں فرمایاگیاہے : اٴَ اٴَنْتُمْ اٴَشَدُّ خَلْقاً اٴَمِ السَّماء ُ بَناہا رَفَعَ سَمْکَہا فَسَوَّاہا وَ اٴَغْطَشَ لَیْلَہا وَ اٴَخْرَجَ ضُحاہا وَ الْاٴَرْضَ بَعْدَ ذلِکَ دَحاہا اٴَخْرَجَ مِنْہا ماء َہا وَ مَرْعاہا وَ الْجِبالَ اٴَرْساہا مَتاعاً لَکُمْ وَ لِاٴَنْعامِکُمْ آیا تمہارامرنے کے بعد زندہ کرنازیادہ اہم ہے یاآسمان کی تخلیق ؟خدا نے اسے بنایا پھیلا یااور منظم کی.ا س کے بعد زمین کوبچھایا اس کے اندرونی پانیوں ، نباتات چراگاہ ہوں کو اس سے نکالا . بعد ازاں پہاڑوں کو محکم بنایا تاکہ تمہارے اپنے لیے اور تمہارے چوپاؤں کے لیے زندگی کے وسائل فراہم ہوں ( نازعات . ۲۷ تا ۳۳)۔ ان آیات سے بخوبی واضح ہوتاہے کہ زمین کابچھانا،چشموں کاابلنا ،درختوں اور دوسرے غذائی مواد کی پیدائش غرض سب کچھ آسمانوں کی تخلیق کے بعد وجود میں وٴی. جب کہ اگر ” ثم “ سے تاخیر زمانی مراد لیں توپھر کہناپڑے گا کہ یہ سب آسمان کی تخلیق سے پہلے موجود تھے اور چونکہ ” بعد ذالک “ کاکلمہ ان سب کو اس کے بعد شمار کرتاہے . لہذا ” ثم “ سے تاخیر بیانی مراد لینا زیادہ واضح اور روشن ہے ( 1)۔ ۲۔ ” استوٰی “ کامفہوم:یہ استواء کے مادہ سے ہے جودراصل اعتدال یا دوچیزوں کے ایک دوسرے کے برابرہونے کے معنی میں آتاہے ، لیکن جیسا کہ بعض ارباب لغت اور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ماہ جب” علیٰ “ کے ساتھ متعدی ہوتو ” کسی چیزپر غلبہ پانے اور مسلط ہونے “ کے معنی میں آتاہے . جیسے : الرحمن علی العرش الستوٰی خدائے رحمن عرش پر مسلّط ہوگی۔ ( طٰہٰ . ۵) اور جب ” الیٰ “ کے ساتھ متعدی ہوتو ” قصد وارادہ “ کے معنی میں آتا ہے . جیسے زیر تفسیر آیت میں ہے : ثم استوٰی الی السماء پھر آسمان کی تخلیق کاارادہ کی. ( رحم سجدہ . اا) ۳۔ ھی دخان سے مراد: اس کا معنی ہے کہ آسمان اوائل میںدھوئیں کی صورت میں تھے . یہ بتاتا ہے کہ آسمانوں کی تخلیق کاآغاز گیسوں کے بڑے بڑے مجموعوں سے ہوا . اور یہ آغاز آفرینش کے بار ے میں سائنس کی تازہ تحقیقا سے پورے طو ر پر ہم آہنگ ہے۔ اب بھی بہت سے آسمانی ستار ے گیس اور اور دھوئیں کے بڑے بڑے مجموعوں کی صورت میں موجود ہیں۔ ۴۔ ” فقال لھا و للا رض ائتیا طوعاً او کرھاً “ خدا نے آسمان اور زمین سے فرمایا وجود میں آؤ اور صورت اختیار کرو خواہ ازروئے اطاعت یااز راہ مجبوری . اس معنی میں نہیں ہے کہ بات کو نفظو ں سے ادا کیاگیا ہوبلکہ خداکے قول تخلیق کے لےے فر مان تکوینی اوراس کا ارادہ ہی ہے اور ” طوعاً ا او کرھاً “ کی تعبیراس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان و زمین کے صورت اختیار کرنے کے بار ے میں خداکا قطعی ارادہ تھا اور انہیں ہرحالت میں ایک مطلوب صورت اختیار کرنا ہی تھی چاہے وہ یہ بات چاہتے یا نہ چاہتے۔ ۵۔ ” اتینا طائعین “ ( ہم نے از روئے اطاعت یہ صورت اختیار کی ہے ) . یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان اور زمین کوتشکیل دینے والامواد تکوینی اور تخلیق لحاظ سے مکمل طو ر پر اس کے ارادے اور فر مان کے تابع تھااس نے فوراً ا پنی لازمی صورتیں اختیار کرلیں اور فرمان الہٰی کی ذرہ بھر بھی نافر مانی نہیں کی۔ بہرحال ظاہر ہے کہ وہ ” امر “ اور یہ ” تعمیل امر ‘ ‘ تشریعی حیثیت کاحاصل نہیں تھا بلکہ ان کی صرف تکوینی صورت تھی۔ ۶۔ ” فقضاھن سبع سماوات فی یومین “ (انہیں سات آسمانوں کی صورت میں دونوں میں پیدا کیا) یہ جملہ آسمانوں کی تخلیق کے سلسلے میں دو دورانیوں کی طرف اشارہ ہے جس کاہر دو رانیہ کروڑوں سال پر مشتمل ہے اور ہردور اپنے لحاظ سے کئی اور ادوار میں تقسیم ہوجاتاہے . ممکن ہے یہ دونوں دورانیے تہ درتہ گیسوں سے مانع اورپگھلی ہوئی صورت میں تبدیل ہونے اور پگھلی ہوئی صورت سے ٹھوس صورت میں تبدیل ہونے کے دورانیے ہوں۔ ہم پہلے بھی بتاچکے ہیں کہ لفظ ” یوم “ ( کہ فارسی میں جسم کاہم لفظ رو ز ہے ) دوسری زبانوں میں ” دوران “ کے معنی میں بہت ہی رائج اور مستعمل ہے . حتٰی کہ ہماری روز مرہ کی گفتگو میں بھی بڑی حد تک استعمال کیاجاتاہے . مثلاً ہم کہتے ہیں کہ ” زندگی میں انسان ایک دن ناکامی کاشکار ہوتاہے تودوسرے دن ساحل کامرانی سے ہمکنار ہوتاہے “ یہ زندگی کے کامیابی اور ناکامی کے مختلف ادوار کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلےمیں مزیدتفصیل تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد ( سورہ اعراف کی ۵۴ ویں آیت کے ذیل ) میں بیان ہوچکی ہے۔ ۷۔ ”سبع“ (سات ) کا عدد ممکن ہے یہاں پر تکثیر کے معنی میں ہو . یعنی ہم نے بہت سے آسمان اور بے شمار کرّات پیدا کئے ہیں . یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تعداد کاعدد ہو . یعنی آسمانوں کی صحیح تعداد صرف سات ہے اور یہ جوکواکب اور ستارے ثوابت اور سیارے ہمیں نظر آتے ہیں آیت کے بعد کے حصے کی گواہی کے مطابق اسی آسمان ِ اول کاجز و ہیں . اس طرح سے عام آفرینش سات عظیم مجمو عوں سے تشکیل پایا ہے جن میں سے صرف ایک مجموعہ انسانی نگاہوں کے سامنے ہے اورانسان کے سائنسی ، علمی اور تحقیق وسائل اور ذ رائع پایا ہے جن میں سے صرف ایک مجموعہ انسانی نگاہوں کے سامنے ہے اور انسان کے سائنسی ، علمی اور تحقیقی وسائل اور ذرائع اسی آسمان اوّل سے آگے نہیں پڑھ سکے ، باقی چھ عالم کیسے ہیں ؟اور کن چیزوں سے تشکیل پائے ہیں ؟خداکے سوا کسی کواس بات کا علم نہیں ہے۔ یہی تفسیر زیادہ صحیح معلو م ہوتی ہے . اس کی مزید تفصیل ، تفسیر نمونہ کی پہلی جلد سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۹ کی تفسیر میں ملا حظہ فرمائیں۔ ۸۔ ” واوحیٰ فی کل سماء امرھا “ ( ہر آسمان میں اپنے امر کی وحی کی اور اسے ضروری نظم وضبط عطاکیا ) یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان کامسئلہ صرف تخلیق پر ہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ ان میں سے ہر ایک میں اللہ نے کچھ مو جودات اور مخلوقات کو بھی پیدا کیاہے اوران میںخاص قسم کانظم و ضبط مقرر فرمایا ہے جن میں سے ہرایک اپنی جگہ پرخداکی عظمت علم اور قدرت کی مستقل نشانی ہے۔ ۹۔ ” و ز یّنّا السماء الدنیا بمصابیح وحفظا ً “ ( اورہم نے نچلے آسمان کوستاروں کے چراغوں سے زینت بخشی اوراس شہاب پیداکئے جوآسمان کوشیاطین سے بچائے ہوئے ہیں ) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام شتارے آسمان اول کی زینب میں اور لوگوں کی نظر میں ایسے قمقموں کے مانند ہیں جو اس نیلگوں آسمان کے شامیانے سے لٹکا ئے گئے ہیں . یہ ستارے نہ صرف آسمان کی زینت ہیں جو اپنی خاص چمک دمک سے عاشقان اسرار آفرینش کے قلوب کواپنی طرف جذب کررہے ہیں اورزبان حال سے توحید کا نغمہ سُنارہے ہیں بلکہ تاریک راتوں میں صحراؤں میں سفر کرنے والوں کے لیے چراغ راہ بھی ہیں جو اپنی روشنی کے ذریعے ان کی راہنمائی بھی کرتے ہیں اور راستے کی جہت اور سمت کابھی تعین کرتے ہیں۔ ” شھب “ جوستارے ہمیں تیز رفتار ی کے ساتھ آسمان میں تیرتےپھر نظر آتے ہیں درحقیقت ایسے تیرہوتے ہیں جو شیطانوں کے سینوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور اس قدچوڑے چکلے آسمان کی ان سے حفاظت کرتے ہیں . ( اس موضوع کی مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد ۱۱ سورہ ٴ حجر کی آیت ۷ ۱ اور اس کی تکمیلی تشریح جلد ۱۹ سورہ ٴ صافات کی آیا ۷ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں )۔ ۱۰۔ ”ذ الک تقدیر العزیز العلیم “ ( یہ خداند قادر اور عالم کی تخلیق ،صحیح تقدیر اور اندازہ ہے ) یہ در حقیقت مذ کورہ نویں نکتے کی تکمیل ہے اور یہ ” عشرہ کاملہ “ تشکیل دے رہاہے اور زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ ” آغاز آفرینش سے لے کرصورت اختیار کرنے اور منظم ہونے تک سب سوچے سمجھے منصوبے اور جچے تلے انداز میں پیدا کیاگیاہے جواس بے حدو حساب علم اور قدرت کے مالک مبداٴ کی جانب سے مرتب کیاگیاہے اوران میں سے ہرایک چیز کے بار ے میں غور وفکر انسان کواسی بزرگ کی طرف راہنمائی کرتاہے۔ 1۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ زمین کی پیدائش آسمان سے پہلے ہوئی ہے لیکن ( دحوالا رض ) بعد میں ہوااس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوت. گویا ابن عباس نے آیت کے آخر کی طرف توجہ نہیں فر مائی جس میں پہاڑوں اورغذائی مواد کی بات ہورہی ہے (غور کیجئے گا )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:9-12
سوره فصلت/ آیه 9- 12
۹۔قُلْ اٴَ إِنَّکُمْ لَتَکْفُرُونَ بِالَّذی خَلَقَ الْاٴَرْضَ فی یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُونَ لَہُ اٴَنْداداً ذلِکَ رَبُّ الْعالَمینَ . ۱۰۔وَ جَعَلَ فیہا رَواسِیَ مِنْ فَوْقِہا وَ بارَکَ فیہا وَ قَدَّرَ فیہا اٴَقْواتَہا فی اٴَرْبَعَةِ اٴَیَّامٍ سَواء ً لِلسَّائِلینَ . ۱۱۔ثُمَّ اسْتَوی إِلَی السَّماء ِ وَ ہِیَ دُخانٌ فَقالَ لَہا وَ لِلْاٴَرْضِ ائْتِیا طَوْعاً اٴَوْ کَرْہاً قالَتا اٴَتَیْنا طائِعینَ. ۱۲۔فَقَضاہُنَّ سَبْعَ سَماواتٍ فی یَوْمَیْنِ وَ اٴَوْحی فی کُلِّ سَماء ٍ اٴَمْرَہا وَ زَیَّنَّا السَّماء َ الدُّنْیا بِمَصابیحَ وَ حِفْظاً ذلِکَ تَقْدیرُ الْعَزیزِ الْعَلیمِ. ترجمہ ۹۔ کہہ دے کہ کیا تم اس ذات کاکفر کرتے ہو جس نے زمین کو دونوں میں خلق فرمایا اوراس کے لیے نظیر اور مثل بناتے ہو؟ وہ تو سب جہانوں کاپر ور دگار ہے۔ ۱۰۔ اس نے زمین میں پہاڑ بنائے اوراس میں برکت عطاکی اوراس میں مختلف غذائی مواد رکھا یہ سب کچھ چار دنوں میں تھا،ضرورت مندوں کی ضرورت کے عین مطابق ۔ ۱۱۔ پھر آسمان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا ، جب کہ وہ دھوئیں کی صورت می ںتھا ، پس اسے اور زمین کوحکم دیاکہ وجود میں آؤ اورصورت اختیار کرو ، خواہ خوشی سے خواہ مجبور ہو کر ، تو انھوںنے کہاہم اطاعت کرتے ہوئے آتے ہیں۔ ۱۲۔ اس وقت انہیں سات آسمانوں کی صورت میں دونوں میں پیدا کیا اوروہ جوکچھ چاہتا تھا ہر آسمان میں بنا یااور ہم نے نچلے آسمان کو.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:9-12
آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش کے دورا ن
( ستاروں کے ) چراغوں سے مزین کیا اور ( شہابوں کے ذ ریعے شیطانوں کوباتیں چرانے سے روک کرانہیں ) محفوظ فرمایا . یہ ہے زبردست صاحب علم خدا کی تقدیر ۔ آسمانوں اور زمین کی پیدا ئش کے دورا نئے مندرجہ بالا آیات میں زمین و آسمان کی تخلیق اور موجودات عالم کی آغاز خلقت کے بار ے میں خداوند عالم کی عظمت ، علم اور قدرت کی آفاقی آیات اور نشانیوں کاذکر ہے خداوند عالم اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم دے رہاہے کہ کفار و مشرکین کو مخاطب کرکے ان سے سوال کریں کہ آیا وہ اس خدا وند بزرگ و بر تر کا کیونکہ انکار کرسکتے ہیں جو اتنے وسیع و عریض جہانوں کامبداء ہستی ہے ؟تاکہ اس طرح سے ان کے ضمیر کوجھنجھوڑ کر اور عقل او ر ہوش وحواس کو بیدار کر کے انہیں کرکے انہیں خود ہی فیصلہ کرنے کی دعوت دی جائے۔ ارشاد فرمایاگیاہے : کہہ دے آیاتم اس ذات کاکفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو روز میں پیداکیا (قُلْ اٴَ إِنَّکُمْ لَتَکْفُرُونَ بِالَّذی خَلَقَ الْاٴَرْضَ فی یَوْمَیْنِ )۔ ” اور کیااس کے لیے نظیر اور مثل قرار دیتے ہو (وَ تَجْعَلُونَ لَہُ اٴَنْداداً َ)۔ کتنی بڑی غلطی ہے اور کس قدر بے بنیاد گفتگو ؟ وہ تو تمام جہانوں کاپر ور دگار ہے (ذلِکَ رَبُّ الْعالَمین)۔ آیاجوذات اب ان جہانوں کوچلارہی ہے ، وہ اس زمین و آسمان کی خالق نہیں ہوسکتی ؟اگر وہ خالق کائنات اور مدبرعالم ہے توپھر ان بتوں اور بنا وٹی معبودوں کواس کاہم پلہ کیوں قرار دیتے ہو ؟عبادت کے لائق تووہی ذات ہوسکتی ہے جس کے ہاتھ میں اس کائنات کی تخلیق ، تدبیر ،مالکیت اورحکومت ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں پہاڑوں کی تخلیق ،زمین کے معد نیات اوراس کی برکتوں اورغذائی مواد کاذکر کرتے ہوئے فر مایا گیاہے : اس نے زمین میں پہاڑ بنائے ، اس میں برکتیں ،اورفائد ے رکھے ہیں اور اس کے اندر مختلف غذائی مواد بھی رکھاہے اور یہ سب کچھ چار دنوں میں تھا (وَ جَعَلَ فیہا رَواسِیَ مِنْ فَوْقِہا وَ بارَکَ فیہا وَ قَدَّرَ فیہا اٴَقْواتَہا فی اٴَرْبَعَةِ اٴَیَّامٍ )۔ یہ غذائی مواد ضرورت مندون اور مانگنے والوں کی ضرورت کے عین مطابق ہے (سَواء ً لِلسَّائِلینَ) (۱)۔ تواس طرح سے اللہ تعالیٰ نے تمام ضرورت مندوں کی ضروریات کوپیش نظر رکھ کربغیر کم وکاست ان سب کے لیے وہی کچھ پیدا کر دیاجوان کے لےے لازم تھا ، جیساکہ سورہ طٰہٰ کی پچاسویں آیت میں فرمایاگیاہے ۺ ربّنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدٰی ہمارا پر وردگا ر تووہ ہے کہ جس نے ہرمخلوق کو اس کی تخلیقی ضرورت کے عین مطابق سب کچھ عطا کر دیاپھر اسے اپنے رستے کی ہدایت کی۔ ” سائلین “ سے مراد یہاں پر ممکن ہے کہ انسان ہوں یابطور عام انسان ، حیوان اور نباتات ہوں ، (اور اگر ذوی العقول کی جمع کی صورت میں مذ کور ہوا ہے تو یہ ” تغلیب “ کے لیے ہے )۔ اس تفسیر کے مطابق نہ صرف انسانی ضروریات کوپورا کردیاگیا ہے بلکہ زمین میں موجود تمام حیوانات اور نباتا ت کی ضروریات کو بھی پورا کیاگیا ہے اور زندگی کی بقا و دوام کے لیے جوچیز ضروری تھی اسے پیدا کیاگیاہے۔ ایک اہم سوال اوراس کاجواب مذ کورہ بالاآیات میں بتایاگیا ہے کہ زمین کی آفرینش دودن میں پہاڑوں کی بر کتوں اورغذ اؤں کی آفرینش چار دن میں ہوئی ہے اور انہی آیات کے آخر میں بتا یاگیاہے کہ آسمانوں کی تخلیق دودن میں ہوئی ہے جو مجموعی طو ر پر آٹھ دن بنتے ہیں . جبکہ قرآن مجید کی دوسری بہت سی آیات میں زمین و آسمان کی پیدائش کو چھ دن یا بالفاظ دیگر چھ دو رانیوں میں پیدا کرنابیان ہوا ہے ( ۲) آخر اس کی کیاوجہ ہے ؟ مفسرین نے اس سوال کے دو طرح کے جواب دیئے ہیں : پہلاجواب جو کہ مشہور ہے یہ ہے کہ : جہاں پر” اربعة ایام “ ( چاردن ) کہاگیاہے وہاں پرمرادچار دنوں کاتتمہ ہے اور وہ اس طرح کہ ان چاردنوں میں سے پہلے دودنوں میں زمین کوپیدا کیاگیااور دوسرے دونوں میں زمین کی دوسری خصوصیات کواوراس کے ساتھ ہی دو دنوں میں آسمانوں کوکہ سب مل کرچھ دن (چھ دوراینے) بنتے ہیں۔ اس قسم کی تعبرات عربی اور فارسی زبانوں میں بہت موجود ہیں . مثلاً کہتے ہیں کہ یہاں سے مکہ تک دس دن کاسفر ہے اور مدینہ تک ۵ ۱ دن کایعنی مکہ سے مدینہ کاسفر پانچ دن کاہے اور یہاں سے مکہ کادس دن کا ( ۳)۔ دوسرا جواب جسے بہت کم مفسرین نے انتخاب کیاہے وہ یہ ہے کہ : ” اربعة ایام “ (چار دن ) کاتعلق خلقت کے آغاز سے نہیں ہے بلکہ سال کے چار موسموں ( بہا ر ،خزاں ، سر مااور گر ما) کی طرف اشارہ ہے جو انسانوں اورحیوانوں کے رزق کی پیدائش اور غذ ائی مواد کی پرورش کی طرف اشارہ ہے ( ۴)۔ لیکن اس تفسیر سے ایک توان آیات کے جملوں کے درمیان ہم آہنگی برقرار نہیں رہتی ، کیونکہ زمین و آسمان کی تخلیق کے بار ے میں ” یوم “ آغاز ِ پیدائش کے دورانیہ کے معنی میں ہے . اوراس کے مطابق یوم کااستعمال زمین اورغذائی مواد کی خصوصیات کے بار ے میں سال کے چاروں موسم ہیں ، تو پھر بات مکر ر ( دوبارہ ) ہوجائے گی۔ دوسرے یہ کہ اس کانتیجہ یہ ہے کہ آفرینش کے چھ دنوں میں سے صرف دودن زمین کی تخلیق کے اوردودن آسمانوں کی تخلیق کے ہوئے ہیں گفتگو ہوئی ہے لیکن باقی دونوں کے بار ے میں کوئی بات ہی نہیں ہوئی جو آسمان اور زمین کے درمیان مخلوقات ” وما بینھما کی پیدائش سے متعلق ہیں۔ بہرحال پہلی تفسیر کئی لحاظ سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔ یہ بات بتانے کی شاید ضر ورت نہ ہو کہ آیات ،مذ کورہ میں ” ایام “ سے مراد یہ عام دن ہر گز نہیں ہیں کیونکہ زمین وآسمان کی پیدائش سے پہلے اس معنی میں دن کاتوبالکل وجود ہی نہیں تھا ، بلکہ اس سے مراد آفرینش کے مختلف دورانیے ہیں جن پرلا کھوں بلکہ کروڑوں سال کا عرصہ بیت چکاہے۔ اس بات کی مکمل وضاحت ہم تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد ( سورہ ٴ اعراف کی ۵۴ ویں آیت کے ذیل ) میں کرچکے ہیں۔ اس مقام پر دو اور نکتے باقی رہ جاتے ہیں جن کی طرف توجہ ضروری ہے۔ پہلایہ کہ ” بارک فیھا “ سے کیا مراد ہے ؟ بظا ہر اس سے زمین کے اندرونی معادن اور وسائل اور بیرونی چیزوں ، درختوں ، نہروں اورپانی کے چشموں وغیرہ کی طرف اشارہ ہے . جوزمین کی تمام زندہ مخلوق کے لیے برکت اور استفادے کا ذ ریعہ ہیں۔ دوسرا یہ کہ ” فی اربعة ایام “ (چار دن میں ) کی تعبیرآیت میں مذ کور کس موضوع کی آفرینش اور تخلیق سے متعلق ہے ؟بعض مفسرین کے نز دیک یہ صرف ” اقوات “ ( غذائی مواد ) سے متعلق ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ آیت کی تینوں اقسام (پہاڑوں ،زمین کے وسائل اور برکات اورغذائی مواد کی تخلیق ) سے متعلق ہے . کیونکہ اگرایسا نہ ہو تو آیات مذ کورہ میں مذکور ” میں ان میں سے بعض امور داخل نہیں ہوں گے اور آیات کے نظام سے بھی مطابقت نہیں ہوگی۔ زمین کی پیدائش اوراس کے ار تقائی مراحل سے متعلق گفتگو کے بعد آسمانوں کی تخلیق سے متعلق گفتگو کی گئی ہے . ار شاد فرمایا گیا ہے : پھر آسمان کی تخلیق کاارادہ فرمایاجبکہ وہ دھواں تھا ، اس وقت زمین اور آسمان سے فرمایا وجود میں آؤ اورصورت اختیار کرو ، خواہ ازروئے اطاعت یاپھر مجبوراً (ثُمَّ اسْتَوی إِلَی السَّماء ِ وَ ہِیَ دُخانٌ فَقالَ لَہا وَ لِلْاٴَرْضِ ائْتِیا طَوْعاً اٴَوْ کَرْہاً )۔ انہوںنے کہاہم از روئے اطاعت وجود میں آئیں گے (قالَتا اٴَتَیْنا طائِعینَ )۔ اس وقت خدانے انہیں سات آسمانوں کی صورت میں دو دنوں میں پیدا کیااور مکمل کردیا(فَقَضاہُنَّ سَبْعَ سَماواتٍ فی یَوْمَیْنِ )۔ ” اور ہر آسمان میں جو کچھ چاہا فرمان دیا“ اوران میں مختلف مخلوقات اور موجودات کوپیداکیااورانہیں نظم وضبط عطاکیا (وَ اٴَوْحی فی کُلِّ سَماء ٍ اٴَمْرَہا )۔ ” اونچلے آسمان کوستاروں کے چراغوں سے زینت بخشی اور شہابوں کے ذریعے ان کی حفاظت کی تاکہ شیطان باتیں نہ چرا سکیں (وَ زَیَّنَّا السَّماء َ الدُّنْیا بِمَصابیحَ وَ حِفْظاً )۔ جی ہاں ! ” یہ ہے خدا وند قاد ر وعلیم کی تقدیر “ (ذلِکَ تَقْدیرُ الْعَزیزِ الْعَلیمِ)۔ ۱۔ ” سوآء “ اوراسی طرح ” للسائلین “ کااعراب کیابنتا ہے اور یہ کس کلمہ سے متعلق ہیں ؟اس بار ے میں متعد داحتمال ہیں . پہلا یہ کہ ” سواء “ لفظ ” اقوات “ کاحال ہے اور ” للسا ئلین “ ” سواء“ کے متعلق ہے . اس صورت میں اس کانتیجہ مندرجہ بالاتفسیر کی صورت میں نکلے گا . دوسرا یہ کہ ” سواء “ ” ایام “ کی صفت واقع ہورہا ہے یعنی یہ چار دورانئے ایک دوسرے کے بر ابر ہیں . لیکن ” للسائلین “ یاتو ” قدر “ سے متعلق ہوگا یا پھر کسی محذوف کلمہ سے ، جوتقدیر اً یوں ہے ” کائنة للسائلین “ یعنی یہ چاروں سوال کرنے والوں کے لیے جواب ہیں ( لیکن پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے )۔ ۲۔ ملاحظہ ہوں سورہ ٴ اعراف کی آیت ۵۴ ، سورہ ٴ یونس کی آیت ۳ ،سورہ ٴ ہود کی آیت ۷، سورہ ٴ فرقان کی آیت ۵۹ ، سورہ ٴ سجدہ کی آیت ۴ ،سورہ ٴ ق کی آیت ۳۸ اور سورہ ٴ حدید کی آیت ۴ ۔ ۳۔ آیت کی اس تفسیر کے مطابق اس کی تقدیر یوں ہوگی : وقد ر فیھا اقوا تھا فی تتمة ار بعة ایام یاجس طرح کہ تفسیر کشاف میں آیاہے : کل ذالک فی ار بعة ایام البتہ اگر متعدد آیات میں آفر ینش کاچھ دن کا ذکر نہ ہوتا توایسی کوئی تفسیر بھی قابل قبول نہ ہوتی لیکن قرآن کی آیات دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں اور ایک دوسرے کاقرینہ بنتی ہیں لہذا مندرجہ بالاتفسیر بخوبی قابل قبول ہے۔ ۴۔ اس مضمون کی ایک حدیث تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی درج ہے۔