إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ
Indeed those who say, ‘Our Lord is Allah!’ and then remain steadfast, the angels descend upon them, [saying,] ‘Do not fear, nor be grieved! Receive the good news of the paradise, which you have been promised.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 41:30
[Pooya/Ali Commentary 41:30] Aqa Mahdi Puya says: The angels not only descend on the prophets but also on those who believe and remain steadfast. It is reported on the authority of the Ahl ul Bayt that the angels also descend on the true believers when they die in order to relieve the agony of death. Verse 31 confirms that they descend on the true believers from time to time with glad tidings. Authentic traditions confirm that angels descended on Imam Husayn and his comrades in the battle of Karbala because it was the highest manifestation of possible perseverance. For verse 32 refer to Ali Imran: 198.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
۳۔ ” کنتم توعدون “ ( تم وعدہ دیئے جاتے تھے )
” کنتم توعدون “ ( تم وعدہ دیئے جاتے تھے ) کی تعبیرایک نہایت ہی جامع ہے جو بااستقامت موٴ منین کی نگاہوں میں بہشت کے تمام اوصاف کومجتمع کردیتی ہے . یعنی بہشت اپنے تمام اوصاف کے ساتھ تمہیں ملے گی . حور وقصور ، روحانی اورنہایت ہی قیمتی نعمتوں سمیت تمہارے اوصا ف کے ساتھ تمہیں ملے گی . حور و قصور ،روحانی اورنہایت ہی قیمتی نعمتوں سے تمہارے اختیار میں ہوگی . ایسی نعمتیں کہ بقول قرآن کوئی شخص بھی اس قطعاً آگاہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے ذہن میں آئی ہیں”فلاتعلم نفس مااخفی لھم من قرة اعین “ ۔ (السجدہ . ۱۷)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
سوره فصلت/ آیه 30- 32
۰۔ إِنَّ الَّذینَ قالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلائِکَةُ اٴَلاَّ تَخافُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ اٴَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ ۔ ۳۱۔ نَحْنُ اٴَوْلِیاؤُکُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ فِی الْآخِرَةِ وَ لَکُمْ فیہا ما تَشْتَہی اٴَنْفُسُکُمْ وَ لَکُمْ فیہا ما تَدَّعُونَ ۔ ۳۲ ۔ نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَحیمٍ ۔ ترجمہ ۳۰۔ جن لوگوں نے کہاکہ ہمارارب اللہ ہے پھر اس پر ڈٹ گئے ، توان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ توڈر اورنہ نہ غم کر و اور تمہیں اس بہشت کی خوشخبری ہو جس کاتم سے وعدہ کیاگیا ہے۔ ۳۱۔ ہم تمہاری اس دنیا وی زندگی میں بھی تمہارے یار و مددگار ہیں اور آخرت میں بھی اور تمہارے لیے بہشت میں وہ سب کچھ فراہم ہے جو تم چاہو گے ، اور جو کچھ تم طلب کرکو گے تمہیں دیا جائے گا ۔ ۳۲۔ یہ سب کچھ تمہارے غفور و رحیم اللہ کی طرف سے تمہاری خا طر تواضع کے لیے ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
با استقا مت موٴمنین پر فرشتوں کا نزول
ہم جانتے ہیں کہ مطالب سمجھانے اور واضح کرنے کے لیے قرآن مجید کاطریقہ کار یہ ہے کہ دومتضاد چیزوں کوتقابل کے طورپر ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کرتاہے ، تاکہ ان کاباہمی موازنہ کیاجائے اوران کی اچھی طرح سے شناخت ہوجائے اور چونکہ گزشتہ آیات میںضدی مزاج اور ہٹ دھرم منکرین کاتذ کرہ تھا جو اپنے کفر پرڈٹے ہوئے تھے اورخداوند عالم بھی انہیں درد ناک عذاب اورمختلف سزاؤں کی دعید دے رہا تھا ، لہذا ان آیات میں ان موٴ منین کے بار ے میں گفتگو ہو رہی ہے جو اپنے ایمان میں پکے اور مستقل مزاج ہیں . اورخدا وند عالم بھی انہیں سات قسم کی نعمتوں اورع جزاؤں سے نواز نے کی طرف اشارہ کررہاہے جوغالبا ًگزشتہ سزاؤں کانقطہ مقابلہ ہیں۔ سب سے پہلے فرمایاگیاہے :جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پر وردگار اللہ ہے پھروہ اپنے اس کہے پرڈٹ جاتے ہیں اور ان میں ذرہ بھر لغزش پیدانہیں ہوتی اور جو اس کالازمی نتیجہ ہوتاہے اس کاوہ اپنے گفتار وکردار کے ذریعے اظہار کرتے ہیں تواللہ کے فرشتے ان پرنازل ہوتے ہیں کہ نہ توڈرو اور نہ ہی غم کرو (إِنَّ الَّذینَ قالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلائِکَةُ اٴَلاَّ تَخافُوا وَ لا تَحْزَنُوا )۔ کیاہی جامع اور دلکش تعبیر ہے جس میں درحقیقت تمام نیکیاں اوراہم صفات اکھٹی ہیں . سب سے پہلے خداکے ساتھ د ل لگا نااوراس پر پختہ ایمان رکھنا ، پھر تمام زندگی کوایمان کے رنگ میں رنگ دینا اور اُسے اپنے تمام امور میں قرار دینا ہے (۱)۔ دنیامیں بہت سے لوگ ایسے ہیں جوعشق الہٰی کادم توبھرتے ہیں لیکن میدان عمل میں ثابت قدم دکھائی نہیں دیتے . وہ ایسے سست اور ناتواں ہوتے ہیں جب انہیں خواہشات نفسانی کے طوفانوں کامقابلہ کرناپڑ تا ہے توایمان کوبھی خیر باد کہ دیتے ہیں اور میدان عمل میں بھی مشرک بن جاتے ہیں . اور جب مفادات کوخطرات میں گھر ادیکھتے ہیں تو برائے نام ایمان کوبھی ضائع کر دیتے ہیں۔ حضرت علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں اس آیت کی تلاوت کرنے کے بعد اس کی واضح ترین اور پُرمعنی تفسیرفرماتے ہیں : وقد قلتم ”ربنااللہ“ فا ستقیموا وعلی کتابہ و علی منھاج امر ہ و علی الطر یقة الصا لحة من عبادتہ ، ثم لاتمر قوامنھا ،ولا تبتد عوا فیھا ، ولاتخا لفواعتھا جب تم نے کہہ دیاہے کہ ” ہمارا رب اللہ ہے “ تو اس پرثابت قدم رہو . اس کی کتاب کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل کرو ، جس راستے پرچلنے کااس نے حکم دیاہے اور جس طریقے سے اس نے عبادت کاحکم دیا ہے اس پر استقامت اور پامردی کے ساتھ چلتے رہو . اس کے دائرہ فرمان سے کبھی باہر نہ نکلو ، اس کے دین میں کبھی بدعت نہ کرو اورکسی بھی موقع پراس کی مخالفت نہ ہرو (۲)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور کہا : قد قا لھاالنا ،ثم کفر اکثرھم ،فمن قالھا حتی یموت فھو ممن استقام علیھا کچھ لوگوں نے یہ بات کہی پھر ان میں سے اکثر کافرہوگئے لیکن جو شخص یہ کہے اوراس پر مرتے دم تک ثابت قدم رہے تووہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے استقامت کاثبوت دیاہے ( ۳)۔ حضرت امام رضا علیہ السلام سے ” استقامت “ کی تفسیر کے بار ے میں پوچھاگیا ہے توآپ علیہ السلام نے فرمایا : ھی واللہ ماانتم علیہ واللہ ! استقامت ولایت ہی تو ہے جس پر تم قائم ہو ( ۴)۔ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آیت کامفہوم ولایت ہی پرموقوف ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی امامت اور رہبر ی کوقبول کرلینا خط توحید اورصحیح وحقیقی اسلام کی بقا اور عمل کے تسلسل کاضامن ہوتاہے لہذا مام علیہ السلام نے ” استقامت “ کی اس معنی میں تفسیر کی ہے۔ مختصر یہ کہ کسی انسان کی قدرو قیمت اس کے ایمان اور عمل صالح میں ہی منحصر ہے اور وہ آیت کے اس جملے ” قا لو اربنا اللہ ثم استقا موا “ میں منعکس ہے لہذا ایک روایت میں اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک شخص آپ علیہ السلام کی خدمت بابر کت میں حاضر ہو کرعرض کرنے لگا ۔ اخبر نی با مرا عتضم بہ مجھے کوئی ایساحکم دیجئے جسے میں مضبوطی سے تھا مے رکھو ں اور دنیا و آخرت میں نجات پاجاؤں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قل ربی اللہ ثم استقم تم کہو میراپروردگار اللہ ہے ، اورپھر اس پر مضبوطی سے قائم رہو ۔ سائل نے پھرپوچھا : ارشاد فرما ئیے کہ کونسی چیزسب سے زیادہ خطرناک ہے جس سے مجھے پرہیز کرناچاہیئے ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی زبان پکڑ کرفر مایا کہ یہ ( ۵)۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جولوگ ان دواصو لوں پر قائم رہتے ہیں وہ خدا کے کن انعامات کے مستحق قرار پاتے ہیں ؟ ا س با ر ے میں قرآن مجید میںخدا کی سات عظیم عنایات کی طرف اشارہ ، کیاگیاہے، ایسی عنایات کہ اللہ کے فرشتے ان پرنازل ہو کر انہیں ان کی خوشخبر ی سناتے ہیں۔ پہلی اور دوسری خوشخبری کے بعد جوکہ ” خوف “ اور” حزن“ کو دل میںراہ نہ دینا ہے.تیسرے مرحلے پر ارشاد ہوتاہے : تمہیں اس بہشت کی خوشخبر ی ہو جس کاتم سے وعدہ کیاگیاہے (وَ اٴَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ)۔ چوتھی خوشخبری یہ ہے کہ ”ہم تمہارے دنیاوی زندگی میں بھی یار و مدد گار ہیں اورآخرت میں بھی “ ہم تمہیں کہیں بھی اکیلانہیں چھوڑیں گے ،نیکیوں میں تمہاری امداد کریں گے اور لغزشوں سے تمہیں بچائیں گے حتٰی کہ تم بہشت میں پہنچ جاؤ گے (نَحْنُ اٴَوْلِیاؤُکُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ فِی الْآخِرَة)۔ پانچویں بشار ت کے سلسلے میں کہتے ہیں : تمہارے لیے بہشت میں غیر مشروطور پر وہ سب کچھ مہیا ہے جو کچھ تمہارا جی چاہے گا (وَ لَکُمْ فیہا ما تَشْتَہی اٴَنْفُسُکُمْ)۔ چھٹی کوخوشخبری یہ ہے کہ نہ صرف مادی نعمتیں تمہاری حسب منشاء تمہیں ملیں گی بلکہ ” جوروحانی نعمتیں مانگوگے وہ بھی تمہیں ملیں گے “ ( وَ لَکُمْ فیہا ما تَدَّعُونَ )۔ آخر میں ساتویں اور آخری نعمت کوخوشخبری انہیں یہ ملے گی کہ چونکہ تم جاودانی بہشت میں خدا کے مہمان ہوگے اور یہ سب نعمتیں تمہاری خاطر تواضع کے طورپر تمہیں عطاہوں گی جس طرح کسی معز ز مہمان کی کسی معز ز میز با ن کی طرف سے خاطر تواضع کی جاتی ہے لہذا ” یہ سب غفور ورحیم اللہ کی طرف سے میز بانی کے طورپر ہوگا “ (نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَحیمٍ )۔ ۱۔ ”استقا موا “کا کلمہ ” استقامت “ کے مادہ سے لیاگیاہے جس کامعنی سیدھے راستے پر بر قرار اورصحیح راہ پر ثابت قدم رہنا ہے . بعض صاحبان لغت نے اس کی ” اعتدال“سے بھی تفسیر کی ہے اور بعید نہیں کہ دونوں معانی صحیح ہوں۔ ۲۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶۔ ۳۔ مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں۔ ۴۔ مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں۔ ۵۔روح البیان جلد ۸ ،ص ۲۵۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
۱۔ فرشتوں کانزول کب ؟
ہم جانتے ہیں کہ مطالب سمجھانے اور واضح کرنے کے لیے قرآن مجید کاطریقہ کار یہ ہے کہ دومتضاد چیزوں کوتقابل کے طورپر ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کرتاہے ، تاکہ ان کاباہمی موازنہ کیاجائے اوران کی اچھی طرح سے شناخت ہوجائے اور چونکہ گزشتہ آیات میںضدی مزاج اور ہٹ دھرم منکرین کاتذ کرہ تھا جو اپنے کفر پرڈٹے ہوئے تھے اورخداوند عالم بھی انہیں درد ناک عذاب اورمختلف سزاؤں کی دعید دے رہا تھا ، لہذا ان آیات میں ان موٴ منین کے بار ے میں گفتگو ہو رہی ہے جو اپنے ایمان میں پکے اور مستقل مزاج ہیں . اورخدا وند عالم بھی انہیں سات قسم کی نعمتوں اورع جزاؤں سے نواز نے کی طرف اشارہ کررہاہے جوغالبا ًگزشتہ سزاؤں کانقطہ مقابلہ ہیں۔ سب سے پہلے فرمایاگیاہے :جولوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پر وردگار اللہ ہے پھروہ اپنے اس کہے پرڈٹ جاتے ہیں اور ان میں ذرہ بھر لغزش پیدانہیں ہوتی اور جو اس کالازمی نتیجہ ہوتاہے اس کاوہ اپنے گفتار وکردار کے ذریعے اظہار کرتے ہیں تواللہ کے فرشتے ان پرنازل ہوتے ہیں کہ نہ توڈرو اور نہ ہی غم کرو (إِنَّ الَّذینَ قالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلائِکَةُ اٴَلاَّ تَخافُوا وَ لا تَحْزَنُوا )۔ کیاہی جامع اور دلکش تعبیر ہے جس میں درحقیقت تمام نیکیاں اوراہم صفات اکھٹی ہیں . سب سے پہلے خداکے ساتھ د ل لگا نااوراس پر پختہ ایمان رکھنا ، پھر تمام زندگی کوایمان کے رنگ میں رنگ دینا اور اُسے اپنے تمام امور میں قرار دینا ہے (۱)۔ دنیامیں بہت سے لوگ ایسے ہیں جوعشق الہٰی کادم توبھرتے ہیں لیکن میدان عمل میں ثابت قدم دکھائی نہیں دیتے . وہ ایسے سست اور ناتواں ہوتے ہیں جب انہیں خواہشات نفسانی کے طوفانوں کامقابلہ کرناپڑ تا ہے توایمان کوبھی خیر باد کہ دیتے ہیں اور میدان عمل میں بھی مشرک بن جاتے ہیں . اور جب مفادات کوخطرات میں گھر ادیکھتے ہیں تو برائے نام ایمان کوبھی ضائع کر دیتے ہیں۔ حضرت علیہ السلام نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں اس آیت کی تلاوت کرنے کے بعد اس کی واضح ترین اور پُرمعنی تفسیرفرماتے ہیں : وقد قلتم ”ربنااللہ“ فا ستقیموا وعلی کتابہ و علی منھاج امر ہ و علی الطر یقة الصا لحة من عبادتہ ، ثم لاتمر قوامنھا ،ولا تبتد عوا فیھا ، ولاتخا لفواعتھا جب تم نے کہہ دیاہے کہ ” ہمارا رب اللہ ہے “ تو اس پرثابت قدم رہو . اس کی کتاب کے بتائے ہوئے اصولوں پرعمل کرو ، جس راستے پرچلنے کااس نے حکم دیاہے اور جس طریقے سے اس نے عبادت کاحکم دیا ہے اس پر استقامت اور پامردی کے ساتھ چلتے رہو . اس کے دائرہ فرمان سے کبھی باہر نہ نکلو ، اس کے دین میں کبھی بدعت نہ کرو اورکسی بھی موقع پراس کی مخالفت نہ ہرو (۲)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور کہا : قد قا لھاالنا ،ثم کفر اکثرھم ،فمن قالھا حتی یموت فھو ممن استقام علیھا کچھ لوگوں نے یہ بات کہی پھر ان میں سے اکثر کافرہوگئے لیکن جو شخص یہ کہے اوراس پر مرتے دم تک ثابت قدم رہے تووہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے استقامت کاثبوت دیاہے ( ۳)۔ حضرت امام رضا علیہ السلام سے ” استقامت “ کی تفسیر کے بار ے میں پوچھاگیا ہے توآپ علیہ السلام نے فرمایا : ھی واللہ ماانتم علیہ واللہ ! استقامت ولایت ہی تو ہے جس پر تم قائم ہو ( ۴)۔ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آیت کامفہوم ولایت ہی پرموقوف ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی امامت اور رہبر ی کوقبول کرلینا خط توحید اورصحیح وحقیقی اسلام کی بقا اور عمل کے تسلسل کاضامن ہوتاہے لہذا مام علیہ السلام نے ” استقامت “ کی اس معنی میں تفسیر کی ہے۔ مختصر یہ کہ کسی انسان کی قدرو قیمت اس کے ایمان اور عمل صالح میں ہی منحصر ہے اور وہ آیت کے اس جملے ” قا لو اربنا اللہ ثم استقا موا “ میں منعکس ہے لہذا ایک روایت میں اسلام کے عظیم الشان پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک شخص آپ علیہ السلام کی خدمت بابر کت میں حاضر ہو کرعرض کرنے لگا ۔ اخبر نی با مرا عتضم بہ مجھے کوئی ایساحکم دیجئے جسے میں مضبوطی سے تھا مے رکھو ں اور دنیا و آخرت میں نجات پاجاؤں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قل ربی اللہ ثم استقم تم کہو میراپروردگار اللہ ہے ، اورپھر اس پر مضبوطی سے قائم رہو ۔ سائل نے پھرپوچھا : ارشاد فرما ئیے کہ کونسی چیزسب سے زیادہ خطرناک ہے جس سے مجھے پرہیز کرناچاہیئے ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی زبان پکڑ کرفر مایا کہ یہ ( ۵)۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جولوگ ان دواصو لوں پر قائم رہتے ہیں وہ خدا کے کن انعامات کے مستحق قرار پاتے ہیں ؟ ا س با ر ے میں قرآن مجید میںخدا کی سات عظیم عنایات کی طرف اشارہ ، کیاگیاہے، ایسی عنایات کہ اللہ کے فرشتے ان پرنازل ہو کر انہیں ان کی خوشخبر ی سناتے ہیں۔ پہلی اور دوسری خوشخبری کے بعد جوکہ ” خوف “ اور” حزن“ کو دل میںراہ نہ دینا ہے.تیسرے مرحلے پر ارشاد ہوتاہے : تمہیں اس بہشت کی خوشخبر ی ہو جس کاتم سے وعدہ کیاگیاہے (وَ اٴَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ)۔ چوتھی خوشخبری یہ ہے کہ ”ہم تمہارے دنیاوی زندگی میں بھی یار و مدد گار ہیں اورآخرت میں بھی “ ہم تمہیں کہیں بھی اکیلانہیں چھوڑیں گے ،نیکیوں میں تمہاری امداد کریں گے اور لغزشوں سے تمہیں بچائیں گے حتٰی کہ تم بہشت میں پہنچ جاؤ گے (نَحْنُ اٴَوْلِیاؤُکُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ فِی الْآخِرَة)۔ پانچویں بشار ت کے سلسلے میں کہتے ہیں : تمہارے لیے بہشت میں غیر مشروطور پر وہ سب کچھ مہیا ہے جو کچھ تمہارا جی چاہے گا (وَ لَکُمْ فیہا ما تَشْتَہی اٴَنْفُسُکُمْ)۔ چھٹی کوخوشخبری یہ ہے کہ نہ صرف مادی نعمتیں تمہاری حسب منشاء تمہیں ملیں گی بلکہ ” جوروحانی نعمتیں مانگوگے وہ بھی تمہیں ملیں گے “ ( وَ لَکُمْ فیہا ما تَدَّعُونَ )۔ آخر میں ساتویں اور آخری نعمت کوخوشخبری انہیں یہ ملے گی کہ چونکہ تم جاودانی بہشت میں خدا کے مہمان ہوگے اور یہ سب نعمتیں تمہاری خاطر تواضع کے طورپر تمہیں عطاہوں گی جس طرح کسی معز ز مہمان کی کسی معز ز میز با ن کی طرف سے خاطر تواضع کی جاتی ہے لہذا ” یہ سب غفور ورحیم اللہ کی طرف سے میز بانی کے طورپر ہوگا “ (نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَحیمٍ )۔ ۱۔ ”استقا موا “کا کلمہ ” استقامت “ کے مادہ سے لیاگیاہے جس کامعنی سیدھے راستے پر بر قرار اورصحیح راہ پر ثابت قدم رہنا ہے . بعض صاحبان لغت نے اس کی ” اعتدال“سے بھی تفسیر کی ہے اور بعید نہیں کہ دونوں معانی صحیح ہوں۔ ۲۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶۔ ۳۔ مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں۔ ۴۔ مجمع البیان اسی آیت کے ذیل میں۔ ۵۔روح البیان جلد ۸ ،ص ۲۵۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
۲۔ خوف اورحزن میں فرق
اس موقع پرسوال پیداہوتا ہے کہ ” خوف“ اور”حزن“ کے درمیان کیا فرق ہے ؟ چنانچہ بہت سے مفسرین کہتے ہیں کہ ” خوف“ اورڈ ر آیندہ کے خطرناک امور و حوادس سے متعلق ہے اور ” حزن “ اورغم کاگزشتہ زمانے کے ناگوارحالات سے تعلق ہے . تو گو یااس طرح سے فرشتے انہیں یہ کہتے ہیں کہ نہ تو تم آئندہ کے حوادث سے ڈر و خواہ دنیا میں ہوں یا بوقت وفات اور بروز قیا مت اور نہ ہی اپنے گز شتہ گناہوں کاغم کرو اور نہ ہی اپنی اولاد کاجودنیا میں چھوڑ ے جارہے ہو ۔ اسی لیے ممکن ہے کہ ” خوف“ کو” حزن “پر مقدم کیاگیا ہوکیونکہ موٴ من شخص کوزیادہ آئندہ کے امور سے ہوتا ہے خاص کر محشر کی عدالت سے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”خوف “ اورڈر ”عذاب “ سے ہوتاہے او”حزن “ وغم ”ثواب “ کے ضائع ہوجانے سے . اورخدا کے فرشتے انہیں دونوں کے لیے پروردگار کے لطف وکرم کی اُمید دلاتے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
۶۔بہشت الہٰی مہما ن خانہ
جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ ” نزل “ ایسے کھانوں کے معنی میں ہے جن کے ذریعہ مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی ہے . بعض مفسرین نے کہاہے یہ ا س چیز یاان چزوں کو کہتے جن سے مہمانوں کی پہلی خاطر تواضع کی جاتی ہے . تفسیر خواہ کچھ بھی ہو یہ لطیف اوردلکش تعبیر واضح کرتی ہے صاحبان استقامت موٴ منین سب کے سب اللہ کے مہمان ہوں گے اور بہشت ” اللہ کامہمان خانہ “ ہے اور اس کی نعمتیں دوستان خداکی خاطر تواضع کا ذریعہ ہیں۔ ۷۔ان مفاہیم کی گہرا ئیوں اورفرشتوں کے ذریعے کئے جانے والے خدا کے ان وعدوں کی عظمت میں غور وفکر کرنے سے انسان کاجی چاہتاہے کہ اس کی روح پر واز کرجائے اوراس کاتمام وجودایمان اوراستقامت میں جذب ہو جانے کے لیے بے چین ہوتاہے۔ انہی تعلیمات کا نتیجہ تھاکہ السلام نے مٹھی بھرجاہل عربوں میں سے ایسے ایسے انسان تیار کئے جنہوں نے ہرقسم کی ایثار وقربانی اور فدا کاری کی روش مثالیں قائم کردیں اورآج بھی تمام مشکلات پرقا بوپانے کے لیے ایسے لوگوں کا اسوہ اور مثالیں مد نظر ہوتی ہیں۔ البتہ یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ استقامت عمل صالح کی طرح ایمان کے درخت کاپھل ہے . کیونکہ جب ایمان کافی حدتک کسی میں راسخ ہوجاتاہے توپھراسے استقامت کی دعوت دیتاہے .جس طرح کہ راہ حق میں استقامت اور پائیداری ایمان کی گہرائی میں اضافہ کرتی ہے اسی طرح ایمان بھی استقامت کی تقویت کاباعث ہوتاہے اور دونوں ایک دوسرے پر اثراندا ہوتے ہیں۔ قرآن مجیدکی دوسری آیات سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ ایمان اوراستقامت انسان کی طرف روحانی برکتیں ہی نہیں لاتے ، بلکہ اس دنیامیںمادی بر کتوں کاذریعہ بھی ہوتے ہیں جس طرح کہ سورہٴ جن کی آیت ۱۶ میں ہے۔ وَ اٴَنْ لَوِ اسْتَقامُوا عَلَی الطَّریقَةِ لَاٴَسْقَیْناہُمْ ماء ً غَدَقاً اگر ایمان دارلوگ راہ حق پرثابت قدم رہیں توہم انہیں خوب سیراب کردیں( بارشوں اور برکتوں سے معمورسال انہیں نصیب کریں )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
۵۔ پانچویں اورچھٹی خوشخبری کے درمیان فرق
فرشتے پانچویں خوشخبری میں انہیں کہتے ہیں کہ جو تمہاراجی چاہے گا وہاں پر تمہیں ملے گا . اور تمہاراچا ہنا اور تمہیں مل جانا ایک ہی بات ہے . اور ہم جانتے ہیں کہ ” تشتھی انفسکم “ کی تعبیر عموماً مادی لذتوں کے لیے ہوتی ہے جب کہ ” ماتدعون “ ( جو کچھ مانگوں گے ) کامعنی روحانی لذتوں اورعنایتوں کاحصول ہے .غرض وہاں پرسب کچھ موجود ہوگا، خواہ مادی نعمتیں ہوں یا روحانی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:30-32
۴ ۔ فرشتے مومنین کے دوست
فرشتے اپنی چوتھی خوشخبری میں اپنے آپ کو مومنین کادنیا اورآخرت میں دوست کے عنوان سے تعارف کراتے ہیں اوریہ درحقیقت گزشتہ آیات کانقطہ مقابل ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ بے ایمان کفاراپنے گمراہ کرنے والے اولیاء اور ہبروں سے نالاں ہوں گے اوردوزخ میں ان پلیدوں سے انتقام لینے کے خواہش مندہوں گے۔