مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ
No one disputes the signs of Allah except the faithless. So do not be misled by their bustle in the towns.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:4
[Pooya/Ali Commentary 40:4]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:4-6
خدا کا اٹل فرمان
خداوند عالم کی طرف سے نزو ل قرآن کے ذکر اورخدا کی ان صفات کے بیان کے بعد جوخوف اورامید کاسبب بنتی ہیں ، ایسے لوگوں کاتذ کرہ فرما یاگیاہے جنھوں نے ان آیات الہٰی کے مقابلے کی ٹھان لی تھی اورمختصر سے جملوں میں ان کاانجام بھی واضح کردیاگیا ہے . چنانچہ فرمایاگیاہے : خدا کی آیات کے بار ے میں صرف وہی لوگ مجادلہ کرتے ہیں جوعناد اوردشمنی کی وجہ سے کافرہو چکے ہیں (ما یُجادِلُ فی آیاتِ اللَّہِ إِلاَّ الَّذینَ کَفَرُوا)۔ یہ ٹھیک ہے کہ ان لوگوں کے پاس بسااوقات طاقت ، اقتدار اور افرادی قوت بھی ہوتی ہے لیکن ” کہیں ایسانہ ہوکہ ان کی شہروں میںآمد ورفت اور قدرت نمائی تمہیں دھوکے میں ڈال دے “ (فَلا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلاد)۔ یہ ان کی چند روزہ کرو فر اور مختصر سی مدت کے لیے ان کی شان وشوکت ہے اور بہت جلدان کے بلبلے سے ہو انکل جائے گی اوروہ نیست ونابود ہوجائیں گے یاتیز ہوا کے جھو نکوں میںراکھ کے مانند پراگندہ ہوجائیں گے ” یجادل “ ” جد ل “ کے مادہ سے ہے جورسی کو بل دینے اوراسے مضبوط بنانے کے معنی میںآتاہے . ا س کا استعما ل عمارتوں اور زر ہوں وغیرہ پربھی ہوتاہے اسی بناء پر ان لوگوں کے طریقہ کار کو ” مجادلہ “ کہتے ہیں جو ایک دوسرے کے مقابلے میںآکر مناظرہ کرتے اوراپنے مضبوط و محکم دلائل کے ذ ریعے ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن توجہ رہے کہ عربی لغت کے لحاظ سے ہرمقام پر” مجادلہ “ مذموم بات نہیں ہے ( ہر چند کہ ہمار روز مرہ کی زبان نے اسے مذ موم بنادیاہے ) کیونکہ اگراسے حق کی راہ میں استعمال کیاجائے اور وہ منطق واستد لال پر مبنی ہو اور بے خبر لوگوں کی ہدایت اور حقیقت کے بیان کی خاطر ہو تو قابل مذ مت ہی نہیں بلکہ لائق تعریف بھی بن جاتاہے . ہاں البتہ اگرپورے دلائل اور تعصب ، جہالت اورغر ور پر مبنی استد لال کے ذریعے لوگوں کوبے وقوف بنایاجا ئے توپھر مذموم اور پسندیدہ ہے . اتفاق سے قرآن مجید میں یہ لفظ دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے . چنانچہ ہم ایک جگہ پرپڑھتے ہیں : و جاد لھم بالتی ھی احسن ان لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں مجادلہ کریں ( نحل . ۱۲۵)۔ لیکن دوسرے مقامات پر مذ موم مفہوم میں استعمال ہوا ہے . جیسے زیر تفسیر آیت یااس کے بعد والی آیت میں ہے ۔ ” جدال “ اور ” مجادلہ “ کے بار ے میں ہم ” چنداہم نکات “ کے زیر عنوان تفصیلی گفتگو کریں گے ۔ ” تقلب “ ” قلب “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی ہے دگر گوں کرنا ،الٹ پلٹ کرن. اور یہاں پر مختلف علاقوں اور شہروں پرحکومت ،تصرف ،تسلط اور غلبہ پانے اور آمد ورفت نکلنے کے معنی میں آیاہے ۔ مذ کورہ بالاآیت کااصل مقصد پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورابتدائے اسلام کے غریب مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ کہیں وہ کافروں کے مادی ومالی وسائل اورسیاسی واجتماعی طاقت کو ان کی حقا نیت اورحقیقی قوت کی دلیل نہ سمجھ لیں ان جیسے بہت سے افراد دنیا میں گزر ے ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب ان پرعذاب الہٰی نازل ہو اتووہ کس قدرعاجز اور بے بس نظر آئے اور موسم خزاں کے پژ مردہ پتوں کی طرح ٹوٹ کرزمین پرگرپڑے ۔ موجودہ دور میں بھی ظالم ومستکبر کفاراپنا و جود منوانے یادنیا کے مستضعف اور غریب لوگوں پراپنا رعب جمانے کے لیے بھا گ دوڑ ، پر و پیگنڈ ے ، کانفرنسیں ،سیاسی دور ے ، جنگی مشقیں ، اپنے حلیفوں کے ساتھ جنگی اور اقتصادی معاہدے وغیرہ کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنے ناپاک عزائم کو پا یہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فضا کو سازگار بنائے رکھیں . لیکن یہ مومنوں کاکام ہے کہ وہ بیدار رہیں اور کفار کی اس پُرانی روش کے فریب میں نہ آئیں اوران سے کبھی مرعوب وپر یشان نہ ہوں۔ لہذا بعد والی آیت میں بعض سابق سرکش اور گمراہ قوموں کے انجام کومختصر لیکن جامع انداز میںبیان فر مایاگیاہے : ان سے پہلے نوح کی قوم نے اوران کے بعد آنے والی قوموں نے اپنے پیغمبروں کوجھٹلا یا (کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ الْاٴَحْزابُ مِنْ بَعْدِہِمْ )۔ ”احزاب “سے مراد قوم عاد ، قوم فرعون ، قوم لوط اور اس طرح کے دوسرے لوگ ہیں جنہیں سورہٴص کی آیت ۱۲ اور ۱۳ میں ” احزاب “ کے نام سے یاد کیاگیا ہے . چنانچہ ارشاد ہوتاہے : کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ عادٌ وَ فِرْعَوْنُ ذُو الْاٴَوْتادِ،وَ ثَمُودُ وَ قَوْمُ لُوطٍ وَ اٴَصْحابُ الْاٴَیْکَةِ اٴُولئِکَ الْاٴَحْزابُ جی ہاں یہ وہ ” احزاب “ تھے جنہوں نے ایک دوسر ے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کراپنے اپنے دورکے انبیاء کوجھٹلا یاکیونکہ ان انبیاء کی دعوت ان لوگوں کے ناجائز مفادات اورخواہشات ِ نفسانی کے خلاف تھی ۔ پھر ارشاد ہوتاہے کہ ان لوگوں نے صرف جھٹلا نے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ” ان سے ہر امت نے سازش تیارکی کہ اپنے نبی کو پکڑ یں ، انہیں تکلیف پہنچائیں ، قیدخانے میںڈال دین یاقتل کرڈالیں “ (وَ ہَمَّتْ کُلُّ اٴُمَّةٍ بِرَسُولِہِمْ لِیَاٴْخُذُوہُ )۔ انھوں نے پھر اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ” حق کو مٹا نے کے لیے باطل باتوں کاسہارا لیا اور لوگوں کو گمراہ کرنے پرڈٹے رہے “ ۔ (وَ جادَلُوا بِالْباطِلِ لِیُدْحِضُوا بِہِ الْحَقَّ ) (۱) ۔ لیکن یہ چیزیں ہمیشہ کے لیے برقرارنہ ہیں اور مناسب موقع پر” میں نے انہیں پکڑ لیااور سخت سزادی ،دیکھئے ! عذابِ الہٰی کیساتھا ؟ “ ( فَاٴَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کانَ عِقابِ) ۔ تمہارے سفر کے دوران میں ان کے شہروں کے کھنڈرات تمہیں نظرآتے ہیں . ان کا بر ااور تاریک انجام تاریخ کے صفحات اورصاحبان دل کے سینوں میں محفوظ ہے دیکھو اورعبرت حاصل کرو ۔ مکہ کے ان سرکش کفار اور عرب کے ظالم مشرکین کابھی ان سے بہترانجام نہیں ہوگا . مگر یہ کہ تو بہ کریں اوراپنی کارستانیوں پر نظر ثانی کریں ۔ مندرجہ بالا آیت سرکش احزاب کے طرز عمل کو تین حصول میںخلاصہ کے طور پر بیان کر رہی ہے : الف : تکذیب اورانکار ۔ ب: مردانِ حق کے خاتمے کی سازش ۔ ج: عوام الناس کوگمراہ کرنے کے لیے جھوٹا پرو پیگنڈہ۔ عرب کے مشرکین نے بھی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سا منے اسی طریقِ کار کودہرا یا، لہذا اگرقرآ ن نے انہیں گذشتہ اقوام جیسے انجام سے دوچار ہو نے کی دھمکی دی ہے تواس پرتعجب نہیں کرنا چاہیئے ۔ اس سلسلے کی آخری آیت میں اس دنیا میں عذاب سے دوچار ہونے کے علاوہ دوسرے جہان میں بھی ان کے عذاب میں مبتلا ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیاہے:تمہارے پر وردگار کااس قسم کافرمان ان لوگوں کے لئے مسلم ہوچُکا ہے جو کافر ہوچکے ہیں کہ وہ اہل جہنم ہیں (وَ کَذلِکَ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ عَلَی الَّذینَ کَفَرُوا اٴَنَّہُمْ اٴَصْحابُ النَّارِ) ۔ آیت کامعنی بڑا ہی وسیع ہے جو ہرقوم کے ضدی مزاج اورہٹ دھرم کافروں کے شاملِ حال ہے اور جیساکہ بعض مفسرین کا خیال ہے یہ صرف کفار ہی سے مخصوص نہیں۔ ظاہرسی بات ہے کہ ا ن لوگوں کے بار ے میں پروردگار عالم کے عذاب کامسلّم ہوناان کے مسلسل گناہ اور با ر بار کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے جووہ اپنی مرضی کے مطابق انجام دیاکرتے تھے . لیکن جناب فخر رازی جیسے بعض مفسرین پرتعجب ہوتاہے کہ جنھو ن نے اس کو مختلف اقوام کے جبری انجام سے دوچار ہونے اوران کے ارادہ واختیار کے سلب ہوجانے کی ایک دلیل سمجھا ہے.حالانکہ اگروہ فرقہ وارانہ تعصب کی عینک اتار کر اس کامطالعہ کرتے اوراس میں تھوڑا سابھی غور وفکر کرتے تو آیات کا صحیح مطلب ان کے لیے واضح ہوجاتا کہ خداوندعالم نے ان کے لیے برا انجام اس وقت مقرر کیا جب انہوں نے ظالم اور جرائم کے تمام راستے خود اپنے ہی پاؤں سے طے کئے۔ ۱۔” لید حضوا “ ” ادحاض “ کے تین مادوں سے مٹانے اور باطل کرنے کے معنی میں ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:4-6
۲۔ مجادلہ ،قرآن کی روسے
اسی سورت میں پانچ مرتبہ ” مجادلہ “ کی بات ہوئی ہے جوسب کی سب ” مجادلہٴ باطل “ کے ذکر پر مبنی ہے ، ( ملاحظہ ہوں آیات ۴ ، ۵ ، ۳۵، ۵۶ اور ۶۹) لہذا مناسب معلوم ہوتاہے کہ قرآنی نکتہ نظر سے ” جدال “ کے بار ے میں کچھ تفصیل سے گفتگو کی جائے ۔ ” جدال“ اور ” مراء “ دوایسے عنوان ہیں جن کے بار ے میں قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں کافی گفتگو ہوئی ہے بہترمعلوم ہوتاہے کہ اس سلسلے میں سب سے پہلے ان کلمات کے مفہوم کوواضح کیاجائے پھرجدال کی قسمیں ( جدالِ حق اور جدالِ باطل ) اور ان کی علامات کو بیان کیاجائے اور آخر میں جدالِ باطل کے نقصانات اور جدالِ حق کے فوائد اور کامیابی کے اسباب کی توضیح اور تشریح کی جائے ۔ الف : ” جدال“ اور ” مراء “ کیاہیں ؟ واضح ہے کہ ” جدال “” مراء“ اور ” مخاصمہ“ تین ایسے الفاظ ہیں جن کامفہوم ایک دوسرے سے ملتا جلتاہے لیکن ان کا آپس میں بہت فرق ہے (1)۔ ” جدال “ دراصل رسّی کوبل دینے اور لپیٹنے کے معنی میں ہے بعد ازاں اس کااستعمال فریق مخالف کوبحث و گفتگوکے ذریعے اس پر غلبہ پانےکے مفہوم میں ہونے لگا ۔ ” مراء“ (بروزن حجاب ) ایسی چیز کے بار ے میں گفتگو کے معنی میں آتا ہے جس میں” مر یہ “ یعنی شک پایا جاتاہو ۔ ”خصو مت“ اور ” مخاصمہ“ دراصل دوآدمیوں کاایک دوسرے کے گلے پڑجانے اورایک کادوسرے کے پہلو کوپکڑنے کے معنی میں ہے . بعد ازاں اس کااطلاق زبانی کلامی لڑائی جگڑے پر ہونے لگا ۔ علامہ مجلسی مرحوم ” بحاراانوار “ فرماتے ہیں کہ ” جدال“ اور ” مراء“ الفاظ اکثر و بیشتر علمی مسائل کے بار ے میں بولے جاتے ہیں جبکہ ” مخاصمہ “ کااطلاق دنیاوی امور کے بار ے میں ہوتاہے ۔ بعض لوگ ” جدال “ اور ” مراء“ میں یہ فرق بتاتے ہیں کہ ” مراء “ میں فضیلت اور کمال کااظہار مقصود ہوتا ہے جبکہ ” جدال“ میں فریق مخالف کوحقیر اور عاجز کرنا موردِ نظر ہوتاہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ” جدال“ علمی مسائل میں ہوتاہے کہ جب کہ ” مراء“ علمی اورغیرعلمی دونوں کے لیے عام ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ ” مراء “ فریق مخالف کے حملوں کادفاع کرنے کا نام ہے جبکہ ” جدال“ کااطلاق مدافعانہ اور جارحانہ دونوں طرح کے حملوں پر ہوتاہے ( 2)۔ جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ اس لفظ کے قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر استعمال سے بخوبی بتہ چلتاہے کہ ” جدال “ کا ایک وسیع مفہوم ہے اور فریقین کے درمیان ہونے والی ہرقسم کی گفتگو اس کے مفہوم میں شامل ہے خواہ وہ حق پر مبنی ہو یاباطل پر ۔ چنانچہ سورہ نحل کی آیت۱۲۵ میں خدا وند عالم اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوحکم دیتے ہوئے فر ماتاہے : و جادلھم بالتی ھی احسن آپ ان لوگوں کے ساتھ اچھے انداز سے گفتگو اور مجادلہ کریں ۔ سورہ ٴ ہود کی آیت۷۴ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بار ے میں ہے : جب وہ ابراہیم سے خوف دور ہو اور انہیں بیٹے کی ولادت کی خوشخبری مل چکی تو قومِ لوط کی سزا کے سلسلے میں ہم سے مجادلہ کرنے لگے ۔ گویا ان کے مجادلات ،مجادلہ ِ حق ہی کی ایک قسم تھے ۔ لیکن قرآن مجید کے اکثر مقامات پریہ لفظ جدالِ باطل کے معنی میں استعمال ہواہے،جیساکہ اس سورہ ٴ (مومن ) میںیہ لفظ پانچ مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔ بہرحال دوسروں کے ساتھ گفتگو میں بحث ،استد لال اور مناقشہ سے اس لیے استفادہ کیاجائے کہ اس سے حق بات کی وضاحت اور جاہل وبے علم لوگوں کوہدایت اور راہ ِ حق کی نشاندہی مقصود ہوتو یہ نہایت ہی پسند یدہ اور لائقِ قدر ہے بلکہ بعض مواقع پر واجب بھی ہو جاتا ہے ۔ قرآن مجید نے حق بات بیا ن کرنے اورحق کوثابت کرنے کے لیے بحث و گفتگو کی ہرگز مخالفت نہیں کی بلکہ بہت سی آیات میں اس امر کی عملاً تائید بھی کی گئی ہے ۔ بہت سے مقامات پرمخالفین سے بر ہان اور دلیل کامطالبہ کرتے ہوئے قرآن کہتاہے : ھاتو ابرھانکم اپنااستد لال پیش کرو ( 3)۔ بہت سی جگہوں پر دلیل کے تقاضوں کے پیشِ نظر قر آن نے خود مختلف دلائل پیش کئے ہیں جیساکہ سور ہ یٰس کے آخرمیں ہم نے پڑھاہے کہ جب وہ عرب پرا نی اور بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا : من یحی العظام و ھی رمیم ان گلی سڑی ہڈیوں کواز سرنوکون زندہ کرے گا ( یٰس . ۷۸)۔ تو اس کے جواب میںمعاد کے مسئلے اور مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے بار ے میں خداکی قدرت پر کئی دلائل پیش کردیئے گئے ہیں ۔ اس طرح سورہ ٴ بقرہ کی آیت ۲۵۸ میں نمرود کے سامنے جناب ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو اوران کے دندان شکن دلائل ،سورہ ٴ طٰہٰ کی آیات ۴۷ تا ۵۴ میں فرعون کے سامنے جناب موسٰی علیہ السلام کااحتجاج بیان فر مایاگیاہے جن سے مجادلہٴ حق کے واضح نمونوں کی نشاندہی ہوتی ہے . اسی طرح بت پرستوں ، مشرکوں اور حیلے بہانے بنانے والوں کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف پُرمغزدلائل سے قرآن مجید چھلک رہاہے ۔ لیکن اس کے مقابلے میں بہت سے ایسے نمونوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ باطل پر ستا راپنی بے بنیاد باتوں کو سچاثابت کرنے کے لیے باطل مجادلات کاسہارا لیتے تھے اورحق کو باطل ثابت کرنے اور سادہ لوح عوام کوفریب دینے کے لیے فریب کاریوں ،حیلوں اور بہانوں سے کام لیتے تھے . انبیائے الہٰی کے مقابلے میں گمراہ اور سرکش اقوام کے لیے مذاق، دھمکی ،افتر ا پر وازی اور بغیر دلیل کے انکار کردینا تومعمولی کام تھا ، جبکہ ابنیائے خدا کاکام مہرو محبت سے بھرپور منطقی دلائل پیش کرناہوتاتھا ۔ اسلامی روایات میں بھی مخالفین کے سامنے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے مباحث اور مناظر ات بڑی تعداد میں ملتے ہیں کہ اگر ان سب کو جمع کرلیاجائے تو ایک بہت ضخیم کتاب بن جائے ( یاد رہے کہ ان حضرات کے سب کے سب اور تمام مناظر ے اور مباحثے حیطِ تحریر میں نہیں لائے گئے )۔ نہ صرف یہ ذوات مقدسہ بلکہ ان کے اصحاب و انصار بھی انہی بزرگواروں کی حمایت و تائید کے ساتھ مخالفین سے مناظر ے اور مباحث کرتے رہے . البتہ اس کام کی اجازت صرف ایسے لوگوں کودی جاتی جو ان باتوں کی کافی صلاحیت رکھتے تھے. کیونکہ اگر یہ چیزمدنظر نہ رکھی جائے تو بجائے اس کے کہ حق تقویت پہنچنے الٹا اس کے کمزور ہونے کاخطرہ ہوتاہے اور مخالفین کی جراٴ ت اور جسارت بڑھانے کا سبب ہوتاہے ۔ اسی لیے تو ایک روایت میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک دوست حمزہ محمد طیّار کہتے ہیں کہ میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی : بلغنی انک کرھت مناظرة الناس مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ مخالفین کے ساتھ مناظرے کوناپسند فرماتے ہیں ؟ تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : اما مثلک فلا یکرہ ،من اذا طار یحسن ان یقع ، وان وقع یحسن ان یطیر،فمن کان ھذا لانکرھہ اگر تمہارے جیسے افراد ہوں تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں ہے یعنی ایسے لوگوں کے لیے اجازت ہے جو پرواز کرکے بلندی تک پہنچ جائیں تو اچھے طریقے سے اتر ناجا نتے ہوں اوراگر بیٹھے ہوئے ہوں تو بخوبی پر واز کر کے بلند ی تک پہنچ جائیں . تو ہم ایسے لوگوں کے مناطرہ کرنے کو ناپسند نہیں کرتے ( 4)۔ یہ خوبصورت تعبیر استد لال میں اوج کمال کو پہنچنے اور پھر بحث کو سمیٹنے اوراسے خاتمہ دینے کی صلاحیت کی طرف اشارہ ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ میدان مناظرہ میں ایسے لوگوں کوقدم رکھنا چا ہیے جن کا استدلال مباحث پر مکمل تسلط اوران پر پوری طرح عبور حاصل ہو . تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان کی کمزوری کوان کے مذہب کی کمزوری پر محمول کیاجائے ۔ ج۔ مجادلہٴ باطل کے غلط نتائج یہ ٹھیک ہے کہ بحث و مباحثہ حل مشکلات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتاہے لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوگا جب بحث کے دونوں فریق طالب حق ہوں اور راہ ِ حقیقت کے متلاشی ہوں یاکم از کم اگرایک فریق ہٹ دھرمی اورضد بازی سے کام لے تو دوسرافریق حق کے ثابت کرنے اورحقیقت تک پہنچنے کی فکر میں ہوں لیکن . اگر ہر دوفریق خود غرضی،بالا دستی اورصرف اپنی ہی بات منوانے کے لیے مجادلہ کریں توحق سے دور ہو جانے ، دل کے تاریک ہونے ،لڑائی جھگڑوں اور کینوں کے بڑھ جانے کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں ہوگا ۔ اسی لیے اسلامی روایات میں ” مراء “ اور ” باطل مجادلہ“ سے رو کاگیاہے اوراس قسم کے مجادلات کے نقصانات کی طرف بھی انہی روایات معنی خیز اورلطیف اشارے ملتے ہیں .چنانچہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں : من ضن بعر ضہ فلیدع المرآء جیسے اپنی عزت پیاری ہے اسے مجادلہ اور زبانی لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرناچاہیئے (5)۔ کیونکہ اس قسم کی بحث مباحثوں سے بات پڑھ کر بے عزتی ،تو ہین حتٰی کہ گالی گلوچ رکیک اور نارواتہمتوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ چنانچہ ایک اور حدیث میں آپ علیہ السلام ہی کا فرمان ہے کہ ایاکم و المرآء والخصومة فانھما یمر ضان القلوب علی الاخوان ، و ینبت علیھما النفاق مجادلہ اور زبانی لڑائی جھگڑوں سے پر ہیز کر و کیونکہ یہ دونوں چیزیں بر ادران دینی کے بار ے میں دلوں کوبیمار کردیتی ہیں اور انفاق کے بیج کوپودے کی صورت میں پروان چڑھاتی ہیں ( 6)۔ کیونکہ اس قسم کے لڑائی جھگڑے جو عموماً بحث و استد لال کے صحیح اصولوں سے عارزی ہوتے ہیں لوگوں کے اندر ہٹ دھرمی ، ضدبازی اورتعصب کی روح کو اس قدر تقویت پہنچاتے ہیں کہ ہرشخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے فریق پر غلبہ پانے کے لیے ہر قسم کے جھوٹ ، فریب ،تہمت اور ہتک عزت سے کام لیاجائے. جس کا نتیجہ کینہ پروری اور دلوں میں نفاق کابیج بونے کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلتا ۔ ” جدال باطل “ کاایک اور بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ دونوں فریق اپنے انحراف ،گمراہی اورغلط فہمی میں پہلے سے زیادہ سخت اور بختہ ہو جاتے ہیں . کیونکہ ہرشخص کو اپنے مقصود کے ثابت کرنے کے لیے ہرباطل دلیل کاسہارا لیناپڑتاہے حتٰی کہ اس کامقابلہ اگر حق بات بھی کہے تو اسے ٹھکرادیتا ہے یااسے قبول ہی نہیں کرتاجو بذات خود غلطی اور گمراہی کی تقویت کاموجب ہے ۔ د۔ مجادلہٴ احسن کاطریقہ ٴ کار : جدال حق میں ہدف اور مقصد یہ نہیں ہوتا کہ فریق مخالف کی توہین کی جائے یااس پر فوقیت اوربرتر ی حاصل کی جائے بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کے افکار اور روح کی گہرائیوں پر تاثیر پیدا کی جائے اسی وجہ سے مجادلہ ٴ احسن کا طریقہ کار جدال باطل سے ہرلحاظ سے مختلف ہوتاہے ۔ اس موقع پر جدال کرنے والے شخص کوفریق مخالف کے اندر معنوی طو ر پرنفوذ اورسوخ پیداکرنے کے لیے مندرجہ ذیل وسائل سے کام لیناچاہیے جن کی طرف قرآن مجید میں بڑے پیارے انداز سے ارشاد کئے گئے ہیں : ۱۔ اس کی یہ کوشش نہیں ہوی چاہیئے کہ فریق مخالف اس کی باتوں کو حق سمجھ کر قبول کرلے بلکہ اگر ممکن ہو تو اسے یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ فریق ثانی اس کی باتوں کو اپنا نتیجہ ٴ فکر سمجھے تو نہایت ہی موٴثر بات ہوگی .دوسرے لفظوں میں فریق مخالف یہ خیال کرے کہ یہ مطلب اورسوچ خود اس کے اند رونِ قلب سے اٹھی ہے اوراس کے اپنے غور و فکر کی پیدا وار ہے تاکہ اسے مزید سوچنے اور سمجھنے کاموقع مل جائے ۔ یہ جوقرآن مجید نے توحید اورشرک کی نفی جیسے اہم حقائق سے لے کردوسرے تمام مسائل استفہام کے اندر میں پیش فرمائے ہیں مثلاً توحید کے دلائل بیان کرنے کے بعد قرآن فرماتاہے : ء الٰہ مع اللہ آیاخدا کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے (نمل . ۶۰)۔ ۲۔ ہر اس چیزسے پر ہیز کرناچاہیئے جس سے فریقِ مخالف کے جذ بات مجروح ہوتے ہوں اوراس سے اس کی ہٹ دھرمی بڑھ جاتی ہو ، قرآن کہتاہے : و لاتسبو االذ ین ید عون من دون اللہ وہ لوگ خداکے بجائے جن معبود ون کو پکارتے ہیں انہیں بُرا بھلانہ کہو ۔ ( انعام . ۱۰۸) مباد اوہ بھی ضد میں آکر خدا وندبزرگ و برتر کو بر ا بھلا کہنا شروع کردیں ۔ ۳۔ ہرفرد یاگروہ کے مقابلے میںبحث و مباحثہ کرتے وقت انصاف کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ ناچاہیئے تاکہ فریق مخالف کواس بات کااحساس ہوکہ بحث کرنے والاصحیح معنوں میں حقائق سے پردہ اٹھاناچا ہتاہے .بطور مثال جب قرآن مجید شراب اور جوٴا کے نقصانات بیان کرتاہے تو اس کے جزو ی مادی اور اقتصادی منافع کو بھی بیان کرتاہے جوکچھ لوگوں کوحاصل ہوتے ہیں فرماتاہے : قُلْ فیہِما إِثْمٌ کَبیرٌ وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُہُما اٴَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِما کہہ دیجئے شراباور جوئے میںبہت بڑا گناہ ہے اورلوگوں کے لیے کچھ فوائد بھی ہیں لیکن ان کاگناہ ان کے فائدے سے زیادہ ہے ( بقرہ . ۲۱۹)۔ اس طرح کی طرزِ گفتگو سننے والے کے دل پر گہرااثر ڈالتی ہے ۔ ۴۔ بُری اور ناخوشگوار باتوں کااسی انداز میں جواب نہ دے . بلکہ محبت ،نرمی اور درگزر سے کام لے اس طرح کے طر زِ عمل سے ہٹ دھرم اورضدی مزاج دشمنوں کے دل نرم کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے ،جیسا کہ قرآن مجید فر ماتاہے : ادْفَعْ بِالَّتی ہِیَ اٴَحْسَنُ فَإِذَا الَّذی بَیْنَکَ وَ بَیْنَہُ عَداوَةٌ کَاٴَنَّہُ وَلِیٌّ حَمیمٌ بہترین طریقے سے برائیوں کو دور کرو کیونکہ اس طرح تمہاری جس شخص سے دشمنی ہے اس قدر نرم ہو جائے گا گو یا وہ تمہاراایک پکادوست ہے ۔ (حٰم السجدہ .۳۴) خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب ہم قرآن مجید میں بیان شدہ انبیاء کی اپنے جابر اور سر کش دشمنوں کے ساتھ اندازِ گفتگو کو ملا حظہ کرتے ہیں یاپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ معصو مین علیہم السلام کی اپنے دشمنوں سے عقیدتی مباحث کامطالعہ کرتے ہیں تو اس سلسلے میں ہمیں نہایت ہی قیمتی سبق ملتے ہیں جو بہت اہم نفسیاتی مسائل کو احسن انداز میں حل کررہے ہوتے ہیں اوران سے دوسروں کے دلوں تک پہنچنے کی راہ صاف اور ہموار ہوتی ہے ۔ خاص کر اس سلسلے میں علاّمہ مجلسی ۺ نے ایک مفصل روایت نقل کی ہے جس میں حضرت پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس طویل مناظرے کا تذ کرہ ہے جو آپ نے عرب کے یہودیوں ،ثنویوں ( دوگانہ پرستوں ) اور مشرکوں کے ساتھ کیاتھا . آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ مناظرہ ایسے احسن اور پیارے انداز میں تھا کہ دشمنوں کے لیے تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہاتھا . یہ ایک ایساسبق آموز مناظرہ ہے جو ہمارے مناظروں کے لیے نمونہ ٴ عمل بن سکتا ہے ( ۷)۔ 1۔یہ تینوں الفاظ ” باب مفاعلہ“ کامصدر ہیں ۔ 2۔ بحارالا نوار جلد ۷۳ ، ص ۳۹۹۔ 3۔بقرہ .۱۱۱ ، انبیاء . ۲۴ ، نمل .۶۴اور قصص. ۷۵ ۔ 4۔ رجال کشی ، ص ۲۹۸۔ 5۔نہج البلاغہ کلمات قصار . کلمہ ۳۶۲۔ 6۔ ”اصول کافی “ جلددوم (باب المراء والخصو مة ) حدیث ۱۔ 7۔بحارالانوار جلد ۹ ،ص ۲۵۷ کے بعد کے صفحات ملاحظہ ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:4-6
۱۔ کافروں کی ظاہری شان و شوکت
قرآنی آیات میں ہمیں بار بار یہ بات نظرآتی ہے کہ غریب اور مظلوم موٴمن یہ ہرگز تصوّر نہ کریں کہ بعض اوقات وسیع پیمانے پر کچھ مسائل ظالم و جابر اور بے ایما ن افرادیامعاشرے کو مل جاتے ہیں تو یہ ان کی سعادت اور نیک بختی کی دلیل ہوتے ہیں یاان کے کامیاب انجام کی علامت ہوتے ہیں ۔ خاص کر قرآن مجید ان کو تاہ فکراور کوتاہ نظر افراد کی اس سوچ پر خطِ تنسیخ کھینچتا ہے جو بعض اوقات کچھ لوگوں کے مادی وسائل کو ان کی روحانی حقا نیت کی دلیل سمجھ لیتے ہیں .گز شتہ اقوام کی تاریخ کو مومنین کے لیے پیش کرتے ہوئے ان کے واضح نمونوں کی نشاندہی کرتاہے . جیسے مصر میں فرعونی حکمرانوں کے ، با بل میں نمردیوں کے ، عراق، حجاز اور شامات میں قوم نوح ِ ،عاد اور ثمودکے نمونے . تاکہ ایسانہ ہوکہ غریب اور تنگ دست مومن کسی قسم کی کمی اور کمزوری کا احساس کریں اور ظالموں کے ظاہری کر و فر سے مرعوب ہوجائیں یاسست پڑ جائیں ۔ البتہ قانونِ قدرت یہ نہیں ہے کہ جس نے بھی کسی قسم کی خلاف ورزی کی اسے فوراً اس کے کئے کی سزادے دی گئی . جیسا کہ سورہ ٴ کہف کی آیت ۵۹ میں ہے : وَ جَعَلْنا لِمَہْلِکِہِمْ مَوْعِداً ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کردیاہے ۔ سورہ ٴ طارق کی آیت۱۷ میں فر مایا گیاہے : فَمَہِّلِ الْکافِرینَ اٴَمْہِلْہُمْ رُوَیْداً کافروں کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے تاکہ ان کاانجام کار واضح ہوجائے ۔ سورہ ٴ آل عمران کی آیت ۱۷۸ میں فر مایاگیاہے : إِنَّما نُمْلی لَہُمْ لِیَزْدادُوا إِثْماً ہم ان کواس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ ان کے گناہ زیادہ ہو جائیں المختصر اس قسم کی مہلت کامقصد یاتو کفار پر اتمام حجت ہے یا مومنین کی آزمائش اور یاپھر جن لوگوں نے اپنے اوپر توبہ کے دروازے بند کرلیے ہیں ان کے گناہوں میں اضافہ ۔ اس قسم کی صورتِ حال بعض اوقات ان بعض مادی لحاظ سے پسماندہ مومن قوموں کودرپیش آتی ہے کہ جو طاقتور ظالم مادی حکومتوں کی ترقی کودیکھتی ہیں تو ان کے دل میں احساس کمتر ی پیدا ہوتاہے . ایسی اقوام کوچاہیے کہ وہ مندرجہ بالا قرآنی منطق کوپیش نظر رکھ کر ان کاڈٹ کرمقابلہ کریں ۔ اس قسم کے علاوہ انہیں یہ بھی باور کرنا چاہیئے کہ ان کی اس محرومی اور پسماندگی کاسب سے اہم سبب ظالموں کاظلم ہی ہے کہ اگروہ ان کے ظلم کی یہ زنجیر یں توڑ ڈالیں اوران کی غلامی سے نجات پاکر اپنی شبانہ روزی کوششوں اور سعیِ مسلسل میں لگ جائیں تو اس پسماندگی کاازالہ کرسکتی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:4-6
سوره مؤمن/ آیه 4- 6
۴۔ ما یُجادِلُ فی آیاتِ اللَّہِ إِلاَّ الَّذینَ کَفَرُوا فَلا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلادِ. ۵۔کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ الْاٴَحْزابُ مِنْ بَعْدِہِمْ وَ ہَمَّتْ کُلُّ اٴُمَّةٍ بِرَسُولِہِمْ لِیَاٴْخُذُوہُ وَ جادَلُوا بِالْباطِلِ لِیُدْحِضُوا بِہِ الْحَقَّ فَاٴَخَذْتُہُمْ فَکَیْفَ کانَ عِقابِ. ۶۔ وَ کَذلِکَ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ عَلَی الَّذینَ کَفَرُوا اٴَنَّہُمْ اٴَصْحابُ النَّارِ . ترجمہ ۴۔ صرف وہی لوگ ہماری آیا ت کے بار ے میں مجادلہ کرتے ہیں جو ( عناد اوردشمنی کی وجہ سے ) کافر ہوچکے ہیں . تمہیں ان کی شہروں میں آمد ورفت اورظاہر ی شان و شوکت دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ ۵۔ اُن سے پہلے نوح کی قوم نے اور ان کے بعد میں آنے والی اقوام نے ( اپنے پیغمبروں کو ) جھٹلا یا اور ہراُمت نے سا ز ش کی کہ اپنے پیغمبر کوپکڑے ( اور اسے تکلیف دے ) اورانہوں نے حق کومٹا نے کے لئے مجادلہ ٴ باطل کیالیکن میں نے انھیں پکڑلیا ( اورسخت سزادی ) پس دیکھئے کہ خدا کاعذاب کیساتھا ؟ ۶۔ اسی طرح تمہارے پروردگار کا فر مان اُن لوگوں کے لئے کہ جو کافرہوچکے ہیں یقینی ہوچُکا ہے کہ وہ سب کے سب جہنمی ہیں۔