لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا
Not equal are those of the faithful who sit back—excepting those who suffer from some disability—and those who wage jihad in the way of Allah with their possession and their persons. Allah has graced those who wage jihad with their possessions and their persons by a degree over those who sit back; yet to each Allah has promised the best reward, and Allah has graced those who wage jihad over those who sit back with a great reward:
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:95
[Pooya/Ali Commentary 4:95] This verse was revealed when Kab bin Malik, Rawah bin Rabi, Hilal bin Umiyah and Abdullah bin Maktum, without reasonable cause, stayed at Madina and did not join the defensive expedition of Tabuk. Allah has exalted those in rank, who fight for the faith with their wealth and selves, over those who sit idle (holding back). For the soldiers of Allah there are higher ranks with Him. Aqa Mahdi Puya says: Darajat is not a second object of faddalallah, but is in an adverbial position specifying the distinction in rank or degree, otherwise it would not be consistent with the objective ajran azima in the end of verse 95.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:95-96
جہاد کی انتہائی تاکید
جہادعالم آب وگل کا ایک عمومی قانون ہے اور دنیا میں جو بھی چیز ہے چاہے وہ نباتات میں سے ہو یا حیوانات میں سے ۔ جہاد کے ذریعہ اپنا راستہ صاف کرتی ہے تاکہ اپنے مطلوبہ کمالات تک پہنچ جائے مثلاً ہم درخت کی جڑیں دیکھیں تووہ قوت اور غذا حاصل کرنے کے لئے ہر قوت فعال اور متحرک رہتی ہیں اگروہ یہ فعالیت اور سعی چھوڑدیں تو ان کے لئے زندہ رہنا ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زمین میں اگر انھیں رکا وٹیں در پیش ہوں تو اگر ان میں اتنی طاقت ہو تو وہ ان میں سوراخ کرکے آگے بڑھ جاتی ہیں تعجب اس بات پر ہے کہ یہ لطیف اور نازک جڑین بعض اوقات فولادی اوزاروں کی طرح اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے ٹکراجاتی ہیں اور اگر یہ جڑیں کمزور ہو ں تو بھی راستہ بدل کر رکاوٹ عبور کرلیتی ہیں ۔ اگر ہم اپنے جسم کو دیکھیں تو اس کے اندر بھی رات دن بلکہ سوتے جاگتے ایک عجیب و غریب قسم کی جنگ جاری رہتی ہے یہ جنگ ہمارے خون کے سفید جرثوموں اور حملہ آور دشمن کے درمیان جاری رہتی ہے اگر ایک لمحے کے لئے بھی یہ جنگ رک جائے اور جسم کی حفاظت کرنے والے یہ محافظ جنگ سے دستبردار ہو جائیں تو طرح طرح کے مو ذی امراض ہمارے جسم کو گھیر لیں او رہماری سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے ۔ بالکل یہی صورت انسانی معاشروں ، قوموں او رملتوں کی ہے وہ لوگ جو ہمیشہ جہاد اور نگہبانی کی حالت میں رہتے ہیں ہمیشہ زندہ او رکامران رہتے ہیں اور وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ عیش و عشرت میں وقت گذارا جائے اور جو انفراد سطح پر زندہ رہنا چاہتے ہیں وہ جلد بدیر مٹ جا تے ہیں او ران کی جگہ زندہ او رمجاہد قوم لے لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ رسول خدا فرماتے ہیں : فمن ترک الجہاد البسہ ذلا و فقرا فی معیشة و محقاً فی دینہ انّ اللہ اعزامتی بسنابک خیلھا و مراکز و ماحھا۔ 1 ” جو شخص جہاد کو ترک کردیتا ہے خدا اسے ذلت کا لباس پہنا دیتا ہے اور فقر و فاقہ اس کی زندگی پر اور تاریکی و سیاہی اس کے دین پر منحوس سائے کی طرف چھا جاتی ہے ۔ خدا وند عالم میری امت کو گھوڑوں کے سموں کے ذریعے جوجہاد میں آگے جاتے ہیں اور نیزوں کی انیوں کے وسیلے سے عزت بخشتا ہے ۔“ رسول خدا ایک اور موقع پر فرما تے ہیں : اغزوا تورثوا ابنآ ء کم مجداً۔ 2 ” جہاد کرو تاکہ عظمت اپنی اولاد کو ورثے میں دے جاوٴ“۔ حضرت علی امیر المومنین (علیه السلام)خطبہ جہاد میں اس طرح فرماتے ہیں : فان الجھاد باب من ابواب الجنة فتحہ اللہ لخاصة اولیائہ وھو لباس التقوی و درع اللّہ المعینة و جنة الوثیقہ فمن ترکہ رغبة عنہ البسہ اللہ ثوب الذل و شمہ البلاء و دیث الصغار و القماء ة3 ” جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے خد انے اپنے مخصوص دوستوں کے لئے کھول رکھا ہے ، جہاد تقویٰ کا پر فضیلت لباس ہے ، جہاد خدا کی ناقابل شکست زرہ ہے ، جہاد پروردگار عالم کی سپر اور ڈھال ہے ، جو شخص جہاد کو تر ک کردیتا ہے خدا اس کے جسم پر ذلت اور مصیبت کا لباس پہنا دیتا ہے اور اسے لوگوں کی نگاہ میں ذلیل و خوار کردیتا ہے “۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جہاد صرف مسلح جنگ وجدال کا نام نہیں بلکہ جہاد میںہر وہ کوشش اور شامل ہے جو خدا ئی مقدس اہداف و مقاصد کے حصول میں مدد گار ثابت ہو ۔ جہاد کا مفہوم دفاعی او رمسلح جنگوں کے علاوہ علمی ، منطقی ، اقتصادی اور سیاسی مقابلوں پربھی محیط ہے ۔ 97۔إِنَّ الَّذینَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلائِکَةُ ظالِمی اٴَنْفُسِہِمْ قالُوا فیمَ کُنْتُمْ قالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفینَ فِی الْاٴَرْضِ قالُوا اٴَ لَمْ تَکُنْ اٴَرْضُ اللَّہِ واسِعَةً فَتُہاجِرُوا فیہا فَاٴُولئِکَ مَاٴْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ ساء َتْ مَصیراً ۔ ۹۸۔إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساء ِ وَ الْوِلْدانِ لا یَسْتَطیعُونَ حیلَةً وَ لا یَہْتَدُونَ سَبیلاً ۔ ۹۹۔فَاٴُولئِکَ عَسَی اللَّہُ اٴَنْ یَعْفُوَ عَنْہُمْ وَ کانَ اللَّہُ عَفُوًّا غَفُوراً ۔ ترجمہ ۹۷۔وہ لوگ کہ جن کی روح ( قابض ارواح) فرشتوں نے قبض کی جب کہ وہ اوپر ظلم کرچکے تھے اور ان سے کہا کہ تم کس حالت میں تھے ( او رمسلمان ہونے کے باوجود کفار کی صف میں کیوں کھڑے ہوئے) تو انھوں نے کہا کہ ہم اپنی سر زمین پر انتشار اور دباوٴ میں تھے تو ان ( فرشتوں) نے کہا تو کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کرجاتے پس ان ( کے پاس کوئی عذر و معذرت نہیں تھی اور ان ) کے رہنے کی جگہ جہنم ہے اور ان کا انجام برا ہے ۔ ۹۸۔ مگر ایسے مرد ، عورتیں اور بچے جو واقعاً دباوٴ او رجبر کا شکار تھے کہ جن کے پاس ( اس آلود ہ ماحول سے نجات پانے کے لئے )نہ کوئی چارہ نہ تھا اور نہ کوئی راہ ۔ ۹۹۔ممکن ہے خدا انھیں عفو کے قابل قرار دے اور خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔ 1 ۔وسائل کتاب جہاد ابواب جہاد العددویناسبہ باب یکم حدیث ( ۱۶۰) 2۔وسائل کتاب جہاد ابواب جہاد العددویناسبہ باب یکم حدیث ( ۱۶۰) 3۔ نہج ا؛لبلاغة خطبہ ۲۷۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:95-96
چند اہم نکات
چند اہم نکات بلاغت کا ایک پہلو ۱۔ اوپر والی آیت میں تین مرتبہ مجاہدین کا نام آیا ہے پہلی دفعہ مجاہدین کا ذکر ہدف و مقصد اور وسیلہ و ذریعہ کے ساتھ ہوا ہے ( المجاہدین فی سبیل اللہ باموالھم ) اور دوسری دفعہ صرف وسیلہ جہاد کا ذکر ہوا ہے لیکن ہدف و مقصد کا تذکرہ نہیں ہے ( المجاہدین ماموالھم و انفسھم ) اور تیسرے مرحلے میں صرف مجاہدین کا نام آیتا ہے ( المجاہدین ) اور یہ بلاغت کلام کا ایک واضح نکتہ ہے کہ جب سننے والا مرحلہ بہ مرحلہ موضوع سے زیادہ آشنا ہوتاچلا جاتا ہے تو اس کی قیود او رمشخصات کو کم کرتے چلے جاتے ہیں اور آشنائی و شنا سائی کا معاملہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ صرف ایک اشارے ہی سے تما م چیزیں معلوم ہوجاتی ہیں ۔ ”درجة“ ” درجات“ ۲۔ آیت میں پہلے تو مجاہدین کی قاعدین پر فضیلت وبر تری کے لئے لفظ” درجة“ اور استعمال کیاگیا ہے جبکہ دوسری آیت میں جمع کی صورت میں لفظ” درجات“ استعمال ہوا ہے ظاہراً ان دوتعبیروں میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ پہلی تعبیر میں مجاہدین کے مقصد کی اپنے غیر پر اصل فضیلت کا تذکرہ ہے لیکن دوسری طرف تعبیر میں اس برتری کی تفصیل بیان کی گئی ہے اس لئے رحمت و مغفرت کا ذکربھی ساتھ ہے ۔ دوسرے الفاظ میں ان دونوں میں اجمال اور تفصیل والافرق ہے ضمنی طور پر ”درجات “ کی تعبیر سے یہ معنی بھی لیا جاسکتا ہے کہ سب مجاہدین ایک درجہ اور پایہ کے نہیں ہیں اور ان کے خلوص، جانثاری اور تکالیف برداشتکرنے کے لحاظ سے ان کے معنوی اور دنیاوی مقامات بھی مختلف ہیں کیونکہ یہ بات تو طے ہے کہ تمام مجاہدین جو ایک ہی صف میں دشمن کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں نہ وہ ایک جتنا جہاد کرتے ہیں اور نہ ہی ایک جیسا خلوص رکھتے ہیں ۔ اسی بناپر ہر ایک اپنے عمل اور نیت کی مناسبت سے جزا اور صلہ پائے گا۔