يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
O you who have faith! When you issue forth in the way of Allah, try to ascertain: do not say to someone who offers you peace, ‘You are not a believer,’ seeking the transitory wares of the life of this world. Yet with Allah are plenteous gains. You too were such earlier, but Allah did you a favour. Therefore, do ascertain. Allah is indeed well aware of what you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:94
[Pooya/Ali Commentary 4:94] Aqa Mahdi Puya says: A contingent of the Muslim soldiers, appointed by the Holy Prophet, was passing through a field in which a shepherd was tending his sheep. Being a new convert to Islam, as soon as he saw the soldiers, he said, "Assalamu alaykum" but Usman bin Zayd killed him and took possession of his herd. In this verse Allah warns the Muslims to be discreet and careful when a person greets them in peace (says assalamu alaykum) and not to say: "you are not a believer', in order to usurp the gains of earthly life. Immediately after the departure of the Holy Prophet from this world, Khalid bin Walid, the commander of the Muslim army, mercilessly butchered a whole tribe of devout Muslims when he was sent to negotiate with Malik ibn Nuwayra. After killing Malik, Khalid bin Walid raped his widow and then killed her also. After that it became a routine for the Muslim rulers and commanders to kill, loot and plunder the Muslim communities for worldly gains.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:94
ایک سوال اور اس کا جواب
اس آیت کے مضمون پر توجہ کرتے ہوئے ہو سکتا ہے یہ اعتراض پیدا ہوگیا ہو کہ اسلام لوگوں کو اس دین سے وابستہ ہونے کے ظاہری دعووٴں کو قبول کرکے اسلامی ماحول میں ” منافقین “ کے داخل ہونے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ اس لائحہ عمل سے ممکن ہے بہت سے لوگ غلط فائدہ اٹھائیں اور اسلام کی آڑ میں جاسوسی اور غیر اسلامی اعمال و افعال کے مرتکب ہوں ۔ شاید دنیا میں کوئی ایسا قانون نہ ہو جس میں غلط فائدہ اٹھانے والوں کے لئے گنجائش نہ ہو ۔ اہم بات یہ ہے کہ قانون کو واضح مصلحتوں کا حامل ہو نا چاہئیے اب اگر اس بناپر کہا جائیے کہ قبولِ اسلام کرنے والے کی جب تک دلی کیفیت کا پتہ نہ لگایا جائے اس کے دعوے کو قبول نہ کیا جائے تو اس سے بہت سے مفاسد پیدا ہو جائیں گے جن کا نقصان کہیں زیادہ ہے اور انسانی فطرت و عواطف کے اصول نیست و نابود ہو جائیں گے کیونکہ جو شخص کسی دوسرے سے کوئی گلہ اور شکایت ، کینہ اور حسد رکھتا ہو، وہ اسے تہمت لگا سکتا ہے کہ اس کا اسلام دکھاوے کا ہے اور اس کے دل کی گہرائیوں سے ہم آہنگ نہیں اس طرح بہت سے بے گناہ قتل کردئے جائیں گے اس کے علاوہ ہر دین اور مذہب کی طرف مائل اور راغب ہونے کی ابتدا میں ایسے افراد بھی موجود ہوتے ہیں جو بھول پن میں ، رکھ رکھاوٴ کے لئے اور ظاہرہی طو ر پر مائل ہو تے ہیں لیکن وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ اور اس دین سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان محکم اور مضبوط ہو جاتے ہیں اور ایمان کی جڑیں ان کے دلوں میں راسخ ہو جاتی ہیں اس وجہ سے ایسے لوگوں کو دھتکارا نہیں جاسکتا ۔ ۹۵۔لا یَسْتَوِی الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ غَیْرُ اٴُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجاہِدُونَ فی سَبیلِ اللَّہِ بِاٴَمْوالِہِمْ وَ اٴَنْفُسِہِمْ فَضَّلَ اللَّہُ الْمُجاہِدینَ بِاٴَمْوالِہِمْ وَ اٴَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقاعِدینَ دَرَجَةً وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّہُ الْحُسْنی وَ فَضَّلَ اللَّہُ الْمُجاہِدینَ عَلَی الْقاعِدینَ اٴَجْراً عَظیماً ۔ ۹۶۔دَرَجاتٍ مِنْہُ وَ مَغْفِرَةً وَ رَحْمَةً وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً۔ ترجمہ ۹۵۔ وہ صاحب ایمان جو بغیر بیماری اور تکلیف کے جہاد سے دستبردار ہو گئے اور وہ مجاہد جنھوں نے اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد میں حصہ لیا برابر نہیں ہیں ۔ خدا نے ان مجاہدوں کو جنھوں نے جان اور مال سے جہاد کیا ہے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت او ربر تری دی ہے ان دونوںگروہوں میں سے ہر ایک کو ( ان کے نیک اعمال پر ) خدا نیک جزا کا وعدہ کرتا ہے او ر مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت اور اجر عظیم بخشتا ہے ۔ ۹۶۔ خدا کی طرف سے (اہم ) درجات اور بخشش و ررحمت( انھیں نصیب ہوگی ) اور( اگر ان سے کچھ لغزشیں ہوئی ہیں )تو خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:94
تفسیر
گذشتہ آیات میں جہاد کے متعلق گفتگو ہو تھی یہ دو آیات مجاہدین اور غیر مجاہدین کا تقابل او رموازنہ کرتی ہیں ۔ خدا کہتا ہے : وہ ایمان کہ جو میدان جہاد میں شرکت کرنے سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ انھیں اسی خاص بیماری بھی لاحق نہیں کہ جو انھیں میدان جہاد میں شر کت کرنے سے مانع ہو کبھی ان مجاہدین کے ہم پلہ او ربرابر نہیں ہو سکتے جو راہ خدا میں اور اعلائے کلمہ حق کے لئے اپنی جان و مال سے جہاد کرتے ہیں ( لا یَسْتَوِی الْقاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ غَیْرُ اٴُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجاہِدُونَ فی سَبیلِ اللَّہِ بِاٴَمْوالِہِمْ وَ اٴَنْفُسِہِمْ) واضح ہے کہ ” قاعدون“ سے مراد یہاں وہ افراد ہیں جنھوں نے اصول ِ ایمان پر ایمان رکھنے کے باوجود ہمت اور جوانمردی نہ دکھانے کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہیں کی ۔ اگر چہ ان کے لئے یہ جہاد واجب عینی نہیں تھا کیونکہ اگر ان کے لئے واجب ہوتا تو قرآن ان کے بارے میں ایسے نرم اور ملائم لہجے میں بات نہ کرتا او را ٓیت کے آخر میں ان سے بدلے اور جزا کا وعدہ نہ کرتا اس وجہ سے جب یہ صورتحال ہو کہ جہاد واجب عینی نہ ہو” مجاہدین “ قاعدین “ کے مقابلے میں واضح طور پر برتر ہیں بہر حال اس آیت میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو نفاق یا دشمنی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہیں ہوئے ضمنی طور پر یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ ” غیر اولی الضرر“کی تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے ، جو ان تمام افراد کو ( جہاد سے ) مستثنیٰ قرار دیتی ہے جوکسی عضو کے نقص ، بیماری یا بہت زیادہ کمزوروی اور ضعف وغیرہ کے سبب جہاد میں شرکت کی سکت نہیں رکھتے اس کے بعد پھر مجاہدین کی بر تری اور فضیلت کو صراحت اور فصاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : خدا ان مجاہدین کو جو جان و مال سے اس کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ، ان لوگوں پر عظیم فضیلت بخشتا ہے جو میدان جہاد میں شرکت سے اجتناب او رکنارہ کشی کرتے ہیں ( فَضَّلَ اللَّہُ الْمُجاہِدینَ بِاٴَمْوالِہِمْ وَ اٴَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقاعِدینَ دَرَجَةً)۱ لیکن باوجود اس کے جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ مجاہدین کے گروہ کے مد مقابل وہ افراد ہیں جن پر جہاد ” واجب عینی “ نہیں تھا ۔ یا وہ بیماری، ناتوانی یا د یگر علل کی وجوہ سے میدان جہاد میں شرکت کی سکت نہیں رکھتے تھے ۔ لہٰذا اس وجہ سے کہ ان کی صالح نیت ایمان او رنیک اعمال نظرانداز نہ ہوں انھیں بھی خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے : دونوں گروہوں ( مجاہدین وغیر مجاہدین ) سے اچھائی کا وعدہ کیا گیا ہے ( وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّہُ الْحُسْنی)لیکن واضح ہے کہ وہ اچھائی کا وعدہ دونوں سے کیا گیا ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے حقیقت میں قرآن اس بیان کے ذریعے نشاندہی کرتا ہے کہ ہر نیک کام کا حصہ اپنی جگہ پر محفوظ ہے اور بھولنے والا نہیں ۔ خصوصاًجبکہ بحث جہاد سے کنارہ کش ہونے والے ایسے افراد کے متعلق ہے جو جہاد میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور اسے ایک بہت بڑی سعادت اور مقصد سمجھتے تھے لیکن چونکہ یہ واجب عینی نہ تھا اس بناپر وہ ایک بڑی سعادت سے محروم رہ گئے اس کے باوجود وہ جتنا لگاوٴ اس کام ( جہاد) سے رکھتے ہیں اس قدر جزا پائیں گے اس طرح( اولی الضرر) افراد بھی جو ( بیماری یا کسی عضو کے ناقص ہونے کی وجہ سے میدانِ جہاد میں شریک نہیں ہوئے ) مکمل طور پر اس سے لگاوٴ رکھتے تھے وہ بھی مجاہدین کی جزا او ربدلے میں سے قابلِ ذکر حصہ پائیں گے ۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ آپ نے لشکر اسلام سے فرمایا: لقد خلفتم فی المدینة اقواماً ماسرتم سیراً ولاقطعتم وادیاً الاکانوا معکم و ھم الذین صحت نیانھم و نصحت جیوھم وھوت افئدتھم الیٰ الجہادو قد منعھم عن المسیر ضرر اوغیرہ مدینہ میں تم کچھ لوگوں کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو کہ جو اس راہ میں قدم قدم پر تمہارے ساتھ تھے ( اور خدا ئی اجر اور صلے میں شریک تھے ) وہ ایسے لوگ ہیں جن کی نیت پاک ہے اور وہ بہت زیادہ خیر خواہی کرنے والے ہیں اور ان کے دل جہاد کے مشتاق تھے مگر کچھ مجبور یوں مثلاً بیماری اور نقص وغیرہ نے انھیں اس کام سے روک دیا ہے ۔۲ لیکن چونکہ اسلام میں جہاد کی اہمیت اس سے بھی کہیں زیادہ ہے لہٰذا دوبارہ مجاہدین کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے : خدا نے مجاہدین کو قاعدین پر اجر عظیم بخشا ہے ( وَ فَضَّلَ اللَّہُ الْمُجاہِدینَ عَلَی الْقاعِدینَ اٴَجْراً عَظیماً) ۔ بعد از آں آیت میں ” اجر عظیم “ کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو خدا کی طرف سے اہم درجات اور اس کی بخشش و رحمت ہے (دَرَجاتٍ مِنْہُ وَ مَغْفِرَةً وَ رَحْمَةً ) اور اگر اس دوران میں کچھ افراد فرائض کی انجام دہی کرتے کرتے ہوئے کچھ لغزشوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور اپنے کئے پر پشمان ہیں تو خدانے انسے بھی بخشش ونجات کا وعدہ کیا ہے ۔ لہٰذا آیت کے آخر میں فرماتا ہے (وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً) ۔ ۱-درجہ کا لفظ بطور نکرہ آیا ہے جیساکہ کتب ادب میں ہے کہ ایسے موقع پر نکرہ وظمت و اہمیت ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے گویا اس قدر انکا درجہ بلند ہے جو مکمل طور پر پہچانا نہیں جاتا اور یہ اس طرح ہے کہ جب کسی چیز کی بہت زیادہ قدر و قیمت بیان کرنی ہو تو کہا جا تا ہے کہ ا س کی قیمت کو ئی نہیں جانتا۔ ۲۔ تفسیر صافی، زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:94
شان ِنزول
درج بالاآیت کے بارے میں کئی ایک شان ِ نزول اسلامی روایات اور تفاسیر میں آئی ہیں جو کم و بیش ایک دوسرے سے مما ثلت رکھتی ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پیغمبر اکرم نے جنگِ خیبر سے واپسی کے بعد اسامہ بن زید کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان یہودیوں کی طرف بھیجا جو فدک کی ایک بستی میں رہتے تھے تاکہ انھیں اسلام یاشرائط ذمہ قبول کرنے کی دعوت دی جائے ۔ ایک یہودی مرد جسے لشکراسلام کے آنے کی خبر ہو ئی تو اس نے اپنے مال اور اولاد کے ساتھ ایک پہاڑ کے دامن میں پناہ لی ۔ پھر خود مسلمانوں کے استقبال کے لئے دوڑآیا۔ اسامہ بن زید نے سوچا کہ یہ یہودی جان او رمال کے خوف سے قبول اسلام کررہا ہے اور دلی طور پر مسلمان نہیں اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا او راس کا مال اسباب ( بھیڑ بکریوں ) پر بطور غنیمت قبضہ کرلیا۔ جب یہ خبر پیغمبر کو ملی تو آپ اس واقعہ پر نہایت بر ہم او ررنجیدہ ہوئے اور فرمایا تو نے ایک مسلمان کو قتل کردیا اسامہ پریشان ہو کر کہنے لگا اس شخص نے جان و مال کی حفاظت کے لئے قبول اسلام کیا تھا پیغمبر نے کہا تم اس کے باطن سے آگاہ نہیں تھے تمہیں کیا معلوم شاید وہ حقیقی طور پر مسلمان ہوا ہو تو اس موقع پر اوپر والی آیت نال ہوئی او رمسلمانوں کو تنبیہ کی کہ جنگی غنائم کی وجہ سے کبھی ایسے لوگوں کو مت جھٹلاوٴ جو قبولِ اسلام کرتے ہیں بلکہ جو شخص بھی قبولِ اسلام کرے اس کی بات کو مان لینا چاہئیے۔ تفسیر گذشتہ آیات میں بے گناہ افراد کی جان کی حفاظت کے سلسلہ میں ضروری تاکیدات ہو چکیں اب اس آیت میں ان بے گناہ افراد کی جان کی حفاظت کے لئے ایک احتیاطی حکم جو ممکن ہے تہمت کی زد میں آجائیں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : اے ایمان لانے والو! جس وقت جہاد کی راہ میں قدم اٹھاوٴ تو تحقیق اورجستجوکرلو اور ایسے لوگوں کو جو قبول اسلام کریں نہ کہو کہ تم مسلمان نہیں ہو(یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا ضَرَبْتُمْ فی سَبیلِ اللَّہِ فَتَبَیَّنُوا وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ اٴَلْقی إِلَیْکُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً) ۔ اور حکم دیتا ہے کہ جو لوگ ایمان کا قرار کرتے ہیں انھیں خندہ پیشانی سے قبول کرلو او ران کے قبول اسلام کے بارے میں ہر قسم کیک بد گمانی اور سوءِ ظن سے صرف نظر کر لو اس کے بعد مزید کہتا ہے : کہیں ایسا نہ ہو کہ جہانِ ناپائیدار کی ان نعمتوں کے لئے قبول اسلام کرنے والوں کو تہمت دو اور انھیں ایک دشمن سمجھ کر قتل کردو او ران کا مال و اسباب بطور غنیمت لے لو ( تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیاةِ الدُّنْیا )۱ جبکہ ہمیشہ رہنے والی گراں بہا غنیمتیں تو خداکے پاس ہیں (فَعِنْدَ اللَّہِ مَغانِمُ کَثیرَةٌ) اگر پہلے تم ایسے ہی تھے اور زمانہٴ جاہلیت میں تمہاری جنگیں غارت گری کی بناپر ہوتی تھیں ( کَذلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ) ۔۲ لیکن اب اسلام کے سائے میں اور اس احسان کی وجہ سے جو خدا نے تم پر کیا ہے ، اس کیفیت سے نجات پا چکے ہو اس بناپر اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر تمہارے لئے لازم ہے کہ تمام امور میں تحقیق کرو( فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوا ) اور یہ بات جان لو کہ خدا تمہارے اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے (إِنَّ اللَّہَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً ) ۔ اسلامی جہاد مادی پہلو نہیں رکھتادرج بالاآیت میں بڑے واضح طور پر یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی مسلمان کو نہیں چاہئیے کہ وہ مادی مفاد حاصل کرنے کے لئے میدان ِ جہاد میں قدم رکھے اس لئے اسے کہا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے پہلی مرتبہ ہی اظہار ایمان کو مان لے اور اس کی صلح کی پیش رفت کا جواب دے ، چاہے کتنی ہی مادی نعمتوں سے محروم ہوناپڑے ۔ کیونکہ اسلامی جہاد کا مقصد توسع پسندی او رمالِ غنیمت جمع کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اور ہدف نوعِ انسانی کو انسانوں کی غلامی اور زور وزر کے خداوٴں کی بندگی سے نجات دلانا ہے ۔اور جس وقت امید کی یہ راہ نظر آئے تو فوراً اپنا لینی چاہیئے مندر جہ بالا آیت میں آیا ہے : تم بھی ایک دن اسی طرح پست افکار رکھتے تھے اور مادی فوائد کے لئے لوگوں کا خون بہاتے تھے لیکن آج وہ صورتِ حال بالکل بدل چکی ہے ۔ علاوہ ازیں تم خود دائرہ اسلام میں داخل ہوتے وقت سوائے اظہار ایمان کے کیا کرتے تھے اس قانون سے دوسروں کے بارے میں کیوں اجتناب کرتے ہوجس سے تم خود مستفید ہوتے رہے ہو ۔ ۱”عرض“ ( بر وزن مرض ) کا معنی ہے ایسی چیز جو ثبات اور پائیداری نہ رکھتی ہو ۔ اس بنا پر عوض الحیوة الدنیا کا معنی ہے دنیاوی زندگی کا سرمایہ جو بغیر استثناء کے سب ناپائیدار ہے ۔ ۲ اس جملہ کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی بتا یا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم خود بھی اسلام لانے کی ابتدا میں یہی کیفیت رکھتے تھے یعنی زبان سے اسلام کی حقانیت کی گواہی دیتے تھے اور وہ تم سے قبول کرلی گئی جبکہ تمہارے دل میں چھپی ہوئی بات کسی پر واضح نہیں تھی ۔