فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
Let those who sell the life of this world for the Hereafter fight in the way of Allah; and whoever fights in the way of Allah, and then is slain, or he subdues [the enemy], We shall soon give him a great reward.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:74
[Pooya/Ali Commentary 4:74] "In the way of Allah" implies taking part in the holy war with pure heart and clean motives, not for booty. A believing and devout warrior either wins a victory or gives his life to attain martyrdom, because ignominy of defeat is not for him. There is a mighty reward awaiting for him in the hereafter.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:74
مومنین کو جہاد کے لئے آمادہ کرنا
مومنین کو جہاد کے لئے آمادہ کرنا گذشتہ آیات میں منافقین کو مومنین کی صفوں سے جدا کرکے دکھا یا گیا ہے اس آیت میں اور اس کے بعد آنے والی چند آیات میں صاحب ایمان افراد کو اثر انگیز دلائل کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئیے کہ یہ آیات ایک ایسے زمناے میں نازل ہوئی ہیں جب طرح طرح کے اندرونی او ربیرونی دشمن اہل ِ اسلام کو ڈرا دھمکا رہے تھے ایسے میں ان آیات کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جن میں مسلمانوں کی روحِ جہاد کو ابھارا گیا ہے ۔ آیت کی ابتدامیں خدا فرماتا ہے : راہ خدا میں وہ افراد جنگ کریں جو دنیا کی پست مادی زندگی کا دوسرے جہان کی ابدی اور جاودان زندگی سے تبادلہ کرنے کو تیار ہیں ۔ (فَلْیُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یَشْرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا بِالْآخِرَةِ) یعنی صرف وہ لو گ حقیقی مجاہدین کہلاسکتے ہیں جو اس بات کے لئے آمادہ ہوں اور انھوں نے بجا طور پر یہ جان لیا ہو کہ مادی دنیا کی زندگی جیساکہ لفظ دنیا ( بمعنی پست تر) سے ظاہر ہوتا ہے ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لئے باعزت موت کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن جو لوگ مادی زندگی کو گراں بہا و انسانی مقدس اہداف و مقاصد سے بالاتر سمجھتے ہیں وہ کبھی اچھے مجاہد نہیں ہو سکتے ۔ اس کے بعد آیت کے ذیل میں فرماتا ہے : ” ایسے مجاہدین کا انجام واضح ہے کیونکہ وہ شہید ہو جائیں گے یا دشمن کو تباہ کردیں گے اور ان پر غالب آجائیں گے اور دونوں صورتوں میں ہم انھیں اجر عظیم دیں گے “ ( وَمَنْ یُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیُقْتَلْ اٴَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیہِ اٴَجْرًا عَظِیمًا۔) یہ مسلم ہے کہ ایسے جانبازوں کی لغت میں شکست کا وجود نہیں ہے وہ دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو کامیاب سمجھتے ہیں یہی ایک جذبہ اس امر کے لئے کافی ہے کہ دشمن ان کے لئے کامیابی کے وسائل فراہم کرے ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسے دشمنوں پر تیزی سے غلبہ حاصل ہوا جو تعدا، ساز و سامان او رجنگی تیاریوں کے لحاظ سے ان کے مقابلے میں کئی گنا بالادستی رکھتے تھے ۔ اس کا محرک یہی ناقابلِ شکست جذبہ تھا۔ یہاں تک کہ غیر مسلم علماء جنھوں نے رسول اللہ کے زمانے اور آپ کے بعد اسلام او ر مسلمانوں تیز رفتار کامیابیوں پر بحث کی ہے انھوں نے بھی اس جذبے کو ان کی پیش رفت کا محرک قرار دیا ہے ۔ مغرب کا ایک مشہور موٴرخ رقمطراز ہے ۔ ۱ ” نئے مذہب کی بر کت اور جن انعامات کا آخرت میں وعدہ کیا گیا تھا، ان کی وجہ سے وہ موت سے بالکل نہیں ڈرتے تھے اور دوسرے جہان کو چھوڑ کر اس زندگی کی نظر میں کوئی حقیقت نہ تھی ، لہٰذا وہ اس زندگی سے محبت کرنے سے اجتناب کرتے تھے ۔ “ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح اس جہاد کو مقدس قرار دیا گیا ہے جو” فی سبیل اللہ“ یعنی خدا کی راہ میں ہو، بندگان خدا کی نجات کا ذریعہ ہو، اصول حق و انصاف کی خاطر ہو اور پاکیزگی و تقویٰ کے لئے ہو، نہ کہ وہ جنگیں جو توسیع پسندی م تعصب اور استعمار و سامراجی مقاصد کے لئے لڑی جائیں ۔ ۷۵ وَمَا لَکُمْ لاَتُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اٴَہْلُہَا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِیرًا ۔ ترجمہ ۷۵۔کیوں تم خدا کی راہ میں مردوں عورتوں اور بچوں کے لئے کہ ( جو ستمگروں کے ہاتھوں ) کمزور کردئیے گئے ہیں جنگ نہیں کرتے وہ ( ستم زدہ ) افراد جو کہتے ہیں کہ خدا یا ہمیں اس شہر ( مکہ) سے نکال لے جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے ایک سر پرست بھیج اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مدد گار بھیج ۔ تفسیر ۱تاریخ تمدن اسلام و عرب گوستان و لبون صفحہ ۱۵۵۔