يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انفِرُوا جَمِيعًا
O you who have faith! Take your precautions, then go forth in companies, or go forth en masse.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:71
[Pooya/Ali Commentary 4:71] Fight against your enemies to defend yourselves and your faith.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:71-76
The Devil can cite scriptures for his purpose and evil soul producing holy witness is like a villain with a smiling cheek a goodly apple rotten at the heart. If a devil ever laughs, it must be at hypocrites, for they are the greatest dupes as he has; they serve him better than any others but receive no wages, nay, what is still more extraordinary, they submit to greater mortification to go to the lowest hell than since4rest faithful to go to Heaven of highest grade. An atheist is but a mad ridiculous derider of piety but a hypocrite makes a sober jest of God and religion, they find it easier to be upon his knees than to rise to a good action, like an impudent debtor who goes every day to talk familiarly to their creditors without ever paying what they owe to Divine Lights, viz. submission. They are saints abroad and devils at home. It is the only evil which walks in visible, except to God alone. One may smile and smile and be a villain still. There are only two religions, Islam and Passion (devil), “The moral virtues, without religion are but cold, lifeless, and insipid. It is only religion which opens the mind to great conception. Fills it with most sublime ideas and warms the soul with more than sense at pleasures which are more worldly and frail, while eternal pleasures are pure and permanent, these cannot be attained without payment of price for them and the maximum price will get maximum pleasures which is “martyrdom” and hence participation in crusade with sole intention of Divine will having nothing of securing worldly gains, is entering paradise of the highest grade. Those who wish to secure the good of others have already secured their own. Every duty brings its peculiar delight, every denial its appropriate compensation, every thought its recompense, every cross its crown, pay goes with performance, as effect with cause, vice vitiates whoever indulges in it, the wicked wrong their souls, generosity greatens, virtue exalts charity transfigures, and holiness is the essence of angelhood. God does not require us to live on credit. He pays us what we earn, good or evil, heaven or hell, according to our choice. Did you notice those who were advised on their demand for crusade, after flight to hold up (as did Divine Light No. 2) their hands and until commands on crusade are issued? Say prayers and pay tithe and when crusade was made obligatory (as in Divine light No. 3) a group of them got frightened with the people as they fear God, rather more than that, and began to say (those who used to fly away from crusade).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:71
بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس
”حذر“ بروزن ” خضر“بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس اور مستعد رہنے کے معنی میں ہے ” بعض اوقات یہ لفظ اس وسیلہ اور ذریعہ کے معنی میں بھی آتا ہے جس کی مدد سے خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ ”ثبات“ ثبہ( بروزن گنہ ) کی جمع ہے ۔ غیر منظم اور منتشر دستوں کے میں لیا گیا ہے ۔ قرآن مجید مندرجہ بالا آیت میں تمام مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے انھیں اجتماع اور وجود کے تحفظ کے لئے دو احکام اور ہدایات دیتا ہے پہلے کہتا ہے اے وہ لوگو! جو ایمان لاچکے ہو، بڑی باریک بینی سے دشمنوں اور ان کے جاسوسوں پر نظر رکھے رہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان کی طرف سے غافل ہو کر کسی خطرے سے دو چار ہو جاوٴ( یا ایھا الذین امنوا خذو اخذرکم ) اس کے بعد حکم دیتا ہے کہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے مختلف طریقوں اور تکنیکوں (TECHNIQUES)سے استفادہ کرو اور متعدد دستوں کی صورت میں یا اکھٹے ہو کر دشمن کو زیر کرکے نکل پڑو (ْ فَانفِرُوا ثُبَاتٍ اٴَوْ انفِرُوا جَمِیعًا)جہاں مختلف دستوں اور بکھری ہوئی ٹولیوں کی صورت میں حرکت کرنا ضروری ہو وہاں اس طریقے سے آگے بڑھو اور جہاں یہ امر لازمی ہو کہ سب ایک متحد لشکر کی صورت میں دشمن کے مقابلے پر نکلیں، وہاں اجتماعیت سے غفلت نہ ہو تو ۔۔۔بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں ” حذر“ کی تفسیر صرف اسلحہ کی معنی میں کی ہے حالانکہ حذر کے وسیع معنی ہیں اور اس کا مفہوم اسلحہ تک محدود نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں خود اسی سورہ کی آیہٴ ۱۰۲ میں واضح دلیل موجود ہے جہاں حذر اسلحہ سے مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے جہاں خدا فرماتا ہے : ان تضعوا اسلحتکم و خذو حذرکم کوئی حرج نہیں کہ ضرورت کے وقت نماز کے موقع پر میدان جنگ میں اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دو ۔ لیکن حذر یعنی نگرانی اور آمادگی پر مستعد رہو ۔ یہ آیت جامع ہے اور اپنے اندر تمام پہلو لئے ہوئے ہے ۔ تمام مسلمانوں کے لئے اس میں ہر عہد اور ہر دور کے مطابق حکم موجود ہے ۔ کہ اپنی امنیت کی حفاظت اور اپنی سر حدوں کے دفاع کے لئے ہمیشہ مستعد رہو ۔ اور ایک قسم کی مادی و معنوی آمادگی ہمیشہ تمہاری جمعیت پر غالب و حاکم رہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ” حذر“کا معنی اس قدر وسیع ہے کہ جو ہر قسم کے مادی روحانی اور معنوی وسیلہ اور ذریعہ کو اپنے اندر سمو ئے ہوئے ہے ۔ ان باتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ وقت اور ہر زمانے میں دشمن کی حیثیت، اس کے ہتھیاروں اور جنگی طو طریقوں سے باخبر ہوں اور اپنی تیار ی کے معیار کے ساتھ دشمن کے اسلحہ کی تعداداورکار کردگی کو جانتے ہوں ۔ کیونکہ یہ تمام مذکورہ باتیں دشمن کی طرف سے خطرہ کی پیش بندی اور ” حذر“ کے مفہوم کو سمجھنے میں موٴثر ہیں ۔ دوسری طرف اپنے دفاع کے لئے ہر طرح کی مادی اور روحانی تیاری ناگزیر ہے ، یہ تیاری تعلیمی ، اقتصادی اور افرادی وقوت کو فراہمی کے حوالے سے بھی مکمل ہونا چاہئیے ۔ اسی طرح جدید اسلحہ کی فراہمی اور اس کے استعمال کے طور طریقوں سے آگاہی بھی ضروری ہے ۔ یہ امر مسلم ہے کہ مسلمانوں نے اگر صرف اسی ایک آیت کو اپنی زندگی پر منطبق کرلیا ہوتا تو اپنی تمام تاریخ میں کبھی شکست اور ناکامی کا منہ نہ دیکھتے ۔ جیسا کہ اوپ والی آیت میں اشارہ ہے کہ جنگ کے مختلف طور طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے کبھی جمود اور دقیانوسیت کا شکار نہ ہونا ، بلکہ وقت اور مقام کے تقاضوں اوردشمن کی حیثیت دیکھتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئیے ۔ جہاں دشمن کی حالت اس قسم کی ہے کہ وہاں مختلف دستوں کی صورت میں اس کی طرف پیش قدمی کرنا چاہئیے تو اس طریقے سے استفادہ کرو اور دشمن کے مقابلہ میں ہر دستہ کی مخصوص حکمت عملہ ہو اور جہاں ضرورت ہو کہ سب منظم ہو کر ایک حکمت عملی کے مطابق حملہ کریں تو وہاں ایک ہی صف میں کھڑے ہوجائیں ۔ یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ بعض افراد جو اصرار کرتے ہیں کہ اپنی اجتماعی جنگوں میں سب مسلمان ایک ہی طریقہ کو اپنا ئیں اور ان کی تکنیکوں میں کسی قسم کا فرق نہیں ہو نا چاہئیے ، ان کا موٴلف درست نہیں ۔ ویسے بھی یہ بات منطبق اور تجربے کے خلاف ہے اور اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی ہے اور شاید او پر والی آیت اس پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہو ۔ حقیقی مقاصد و اہداف کے حصول کے لئے یہ ایک اہم کلیہ ہے ۔ ضمنی طور پر ” جمیعاً“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے تمام مسلمان بغیر کسی استثناء کے شر کت کریں اور یہ حکم کسی معین دستہ سے مخصوص نہیں ہے ۔ ۷۲۔وَإِنَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَیُبَطِّئَنَّ فَإِنْ اٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةٌ قَالَ قَدْ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیَّ إِذْ لَمْ اٴَکُنْ مَعَہُمْ شَہِیدًا۔ ۷۳۔ وَلَئِنْ اٴَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِنَ اللهِ لَیَقُولَنَّ کَاٴَنْ لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ مَوَدَّةٌ یَالَیْتَنِی کُنتُ مَعَہُمْ فَاٴَفُوزَ فَوْزًا عَظِیمًا۔ ترجمہ ۷۲۔ تمہارے درمیان کچھ( منافق)لوگ ہیں کہ وہ خود بھی کاہل ہیں اور دوسروں کو بھی سست بناتے ہیں اگر کوئی مصیبت آپہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہم پر احسان کیا کہ ہم مجاہدین کے ساتھ نہیں تھے کہ ہم (اس مصیبت) کو دیکھتے ۔ ۷۳۔ اگر کوئی مالِ غنیمت تمہیں مل جائے تو ٹھیک ،حالانکہ تم میں اور ان میں کوئی مودت و دوستی نہیں ۔ پھر بھی وہ بالکل اس طرح سے کہتے ہیں : کاش ! ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے اور نجات اور عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوتے ۔