أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا
Have you not regarded those who claim that they believe in what has been sent down to you and what was sent down before you? They desire to seek the judgment of fake deities, though they were commanded to reject them, and Satan desires to lead them astray into far error.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:60
[Pooya/Ali Commentary 4:60] "What has been revealed to you" is the Quran, and "what had been revealed before you" are the Tawrat and the Injil. It is reported that Kab bin Ashraff, a Jew, is compared to the taghut. Aqa Mahdi Puya says: Taghut, in this verse, means a devil in human form. According to the Ahl ul Bayt, taghut invariably refers to any unauthorised claimant of power whom men may obey and follow. Refer to the commentary of al-Baqarah: 256.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:60-70
Bodily remarks, if studied faithfully will suffice.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:60
طاغوت کا فیصلہ
شان نزول مدینہ منورہ کے ایک یہودی کو ایک منافق سے کسی چیز میں اختلاف تھا ۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک شخص کو قاضی کے طور پر چن لیں ۔ یہودی چونکہ پیغمبر اسلام کی عدالت اور غیر جانبداری پر مطمئن تھا اس لئے اس نے کہا کہ میں تمہارے پیغمبر کے فیصلہ پر رضا مند ہوں لیکن منافق نے یہودیوں کے ایک بڑے آدمی کعب بن اشرف کو چنا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رشوت دے کر اس کی رائے کو اپنی طرف پھیر لے گا ۔ غرض اس نے اس طرح رسول اکرم (ص) کے فیصلہ کرنے کی مخالفت کی اس پر یہ آیہٴ شریفہ نازل ہوئی جس میں ایسے افراد کی شدید مذمت کی گئی ۔ ۱ بعض مفسرین نے اس آیت کی دوسری شان نزول بھی نقل کی ہے اور وہ یہ کہ بعض نو مسلم زمانہٴ جاہلیت کی عادت کے مطابق اسلام کی ابتداء میں اپنے مقدمے یہودی علماء یا کاہنوں کے پاس لے جاتے تھے ۔ اس بناپر یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں سختی سے منع کیا۔ طاغوت کا فیصلہ زیر نظر آیت در حقیقت گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہے ۔ کیونکہ گذشتہ آیت مومنین کو خدا تعالیٰ ، پیغمبر اور اولوالامر کی اطاعت اور کتاب و سنت سے فیصلہ کرانے کی دعوت دیتی ہے اور یہ طاغوت کی اطاعت ، پیروی اور اس سے فیصلہ کر وانے سے منع کرتی ہے ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ طاغوت” طغیان “ کے مادہ سے ہے اور یہ لفظ اپنے تمام مشتقات کے ساتھ سر کشی حدود وقیود توڑ نے یا ہر اس چیز کے معنی میں جو بغاوت اور سر کشی کا سبب بنے استعمال ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے جو باطل کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں وہ طاغوت ہیں کیونکہ انہوں نے حق و عدالت کی خدائی حدود کو توڑ ڈالا ہے ۔ ایک حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: الطاغوت کل من یتحاکم الیہ ممن یحکم بغیر الحق یعنی جو شخص حق کے خلات فیصلہ کرے اور لوگ اس کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے جائیں وہ طاغوت ہے ۔ مندرجہ بالا آیت ان مسلمانوں کو جو اپنے فیصلے کروانے کے لئے ایسے حکام کے پاس جاتے تھے ملامت کرتے ہوئے کہتی ہے :اے رسول : کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہرکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہ ہم تمام کتابوں پر جو آپ پر اور آپسے پہلے بنیوں پر نازل ہوئی ہیں ایمان لے آئے ہیں لیکن اس کے باجود اپنے جھگڑوںکافیصلہ طاغوت سے کرواتے ہیں جب کہ انہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر گز طاغوت کا حکم نہ مانیں (۔اٴَ لَمْ تَرَ إِلَی الَّذینَ یَزْعُمُونَ اٴَنَّہُمْ آمَنُوا بِما اٴُنْزِلَ إِلَیْکَ وَ ما اٴُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُریدُونَ اٴَنْ یَتَحاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ وَ قَدْ اٴُمِرُوا اٴَنْ یَکْفُرُوا بِہِ ) اس کے بعد قرآن مجید اعلان کرتا ہے کہ طاغوت کی طرف توجہ ایک ایسا شیطانی جال ہے جو چاہتا ہے کہ لوگوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر دور دراز کے گمراہی کے راستوں میں پھینک دے (یرید الشیطان ان یضلھم ضلٰلا بعیداً)واضح ہے کہ مندرجہ بالاآیت دوسری قرآ نی آیتوں کی طرح تمام مسلمانوں کو سب زمانوں کے لئے خبردار کرتی ہے کہ حکام باطل کی طرف نہ جاوٴ اور طاغوت سے فیصلہ کروانا اور کتب آسمانی پر ایمان لانے کے خلاف ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کام سیدھی راہ سے ہٹا کر ٹیڑھے راستوں پر ڈال دیتا ہے جو حق کے راستے سے بہت دور ہیں ۔ ایسے فیصلوں کی برائیاں اور خرابیاں انسانوں کے اجتماعی معاملات کو تباہ و برباد کرنے کے لحاظ سے کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہیں ۔ معاشروں کی پسماندگی کے اسبا ب میں سے ایک یہ بھی ہے ۔۲ ۱- تفسیر مجمع البیان اور اکثر مفسرین نے بھی یہی شانِ نزول نقل کی ہے ۔ ۲- المنار جلد ۵ صفحہ ۲۲۲۔