يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا
O you who have faith! Obey Allah and obey the Apostle and those vested with authority among you. And if you dispute concerning anything, refer it to Allah and the Apostle, if you have faith in Allah and the Last Day. That is better and more favourable in outcome.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:59
[Pooya/Ali Commentary 4:59] "Obey Allah and obey the messenger and the ulil amr (those vested with authority through His messenger)." The command to obey is infinite-total obedience in all material, religious and spiritual matters, therefore, as this verse clearly signifies, the ulil amr must also be as just, wise and merciful as Allah and the Holy Prophet are, and he who - administers the affairs of mankind should be the khalifatullah (vicegerent of Allah) and the waliallah (representative of Allah whom He chooses after equipping him with His wisdom). Please refer to the commentary of al-Baqarah: 30 to 39 and 124; and al-Ma-idah: 55 and 56 and 3 and 67 with reference to the event at Ghadir Khum; and al-Rad: 43; and al-Hud: 17. A careful study of the above references discloses that Ali, and after him, the remaining eleven Imams, in the progeny of the Holy Prophet, Ali and Fatimah, are the true successors of the Holy Prophet who have been referred to as ulil amr in this verse. So the Shias obey and follow the Holy Prophet and the twelve Imams. It is irrational and senseless to accept any ruler as ulil amr, otherwise men like Yazid bin Mu-awiya will have to be included in the category of ulil amr; and no sane person would say that Allah has enjoined to obey men like Yazid (prototypes of whom were and are many and in abundance since the departure of the Holy Prophet till today) just as one obeys Allah and the Holy Prophet. From the event of ashira (feast of the near relatives to carry out the divine command of "warn your tribe of near relatives") to the day at Ghadir Khum, the Holy Prophet repeatedly announced the successorship of Ali, therefore, the first step a true Muslim must take to obey the messenger of Allah is to obey and follow Ali ibn abi Talib. Also refer to the "Right Path" and "Peshawar Nights", published by the Peermohammed Ebrahim Trust or Zahra Publications, because the issue of ulil amr and wali has been discussed in depth in these books with authentic references from the well-known books of tafsir (exegesis) and hadith (traditions) written by the Muslim scholars. Today the Muslim ummah (from Indonesia to Morocco) is in a quandary, because the theoreticians who directly or indirectly served the interests of the despotic rulers, have presented "the obedience to ruler" (even if he is an usurper, a rogue or a ruffian) as a fundamental of religion (known as the theory of ghlu and ghalba-violence and conquest) by misinterpreting this verse. Such theoreticians are their Imams. There is no way leading to emancipation from terror and exploitation if this theory is not rightly rejected once and for all. It is not possible unless the sincere Muslims submit to the teachings of the Ahl ul Bayt.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:59
اولوالامر کون ہیں ؟
اس بارے میں مفسرین اسلام میں بہت اختلاف ہے جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے : ۱۔ اہل سنت کے کچھ مفسرین کا نظریہ ہے کہ اولو الامر سے مراد ہر زمانے اور ہر ماحول سے تعلق رکھنے والے بادشاہ اور صاحبان اقتدار ہیں ۔ وہ اس میں کسی استثنا کے قائل نہیں ہیں ۔ اس نظریے کا نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ہر حکومت کی چاہے وہ کسی شکل میں کیوں نہ ہو پیروی کریں ۔ چاہے وہ تاتاریوں کی حکومت کیوں نہ ہو۔ ۲۔ بعض دوسرے مفسرین مثلاً صاحب تفسیر المنار و صاحب تفسیر ظلال القرآن وغیرہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اولو الامر سے مراد عام طبقات کے نمائندے ، سربراہ ، حکام ، علماء اور کوائف زندگی کے تمام عہدہ دار ہیں لیکن مطلق طور پر نہیں اور کسی شرط، قید او رپابندی کے بغیر نہیں بلکہ ان کی طاعت کے لئے یہ پابندی اور شرط ہے کہ ان کے احکام اسلام کے مقر رکردہ احکام کے خلاف نہ ہوں ۔ ۳۔ بعض دوسرے مفسرین کا اعتقاد ہے کہ اولو الامر سے مراد وہ معنوی اور فکری رہنمائی یعنی علماء ہیں جو عادل ہوں او رکتاب و سنت سے مکمل آگاہی رکھتے ہوں ۔ ۴۔ بعض اہل سنت کے مفسرین کا یہ نظریہ ہے کہ اس لفظ سے مراد پہلے چار خلفاء ہیں اور یہ لفظ انہی تک محدود ہے اس وجہ سے دوسرے زمانوں میں اولوالامر نہ ہوگا ۔ ۵۔ بعض مفسرین اولوالامر سے مراد اصحاب پیغمبر لیتے ہیں ۔ ۶۔ اولو الامر کی تفسیر میں ایک اور احتمال یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مراد اسلامی لشکروں کے سپہ سالار ہیں ۔ ۷۔ تمام شیعہ مفسرین اس سلسلے میں ایک متفق نظریہ رکھتے ہیں کہ اولو الامر سے مراد ائمہ معصومین(ع) ہیں ۔ جن کو تمام امورِ زندگی میں اسلامی معاشرے کی مادی اور روحانی رہنمائی خدا اور پیغمبر کی طرف سے سپرد کی گئی ہے ۔ ان کے علاوہ یہ لفظ کسی پر صادق نہیں آتا۔ البتہ ایسے لوگ جو ان کی طرف سے کسی مرتبے یا عہدے کے لئے مقرر کئے جائیں اور اسلامی معاشرے کے کسی عہدہ پر فائز ہوں تو معینہ شرائط کے ساتھ ان کی طاعت بھی ضروری ہے ۔ لیکن یہ اس لحاظ سے نہیں کہ وہ اولوالامر ہیں بلکہ اس کی وجہ سے وہ اولوالامر کے نمائندے ہیں ۔ اب مندرجہ بالاتفاسیر کی تحقیق اور مطالعہ کے لئے پوری تن وہی سے توجہ دیتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ پہلی تفسیر کسی طرح بھی مفہوم آیت اور تعلیمات اسلام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی ممکن نہیں ہے ہر حکومت کی اطاعت و پیروی کسی قید و شرط کے بغیر خدا و رسول کی اطاعت کے ساتھ ملادی جائے۔ اسی بناء پر شیعہ مفسرین کے علاوہ اہل سنت کے بڑے بڑے مفسرین نے بھی اس کی نفی کی ہے ۔ تیسری تفسیر یعنی اولو الامر کی تفسیر کتاب و سنت سے آگاہ علماءِ اہل عادل کے ساتھ کرنا بھی آیت کے مطابق نہیں ہے کیونکہ علماء کی اطاعتبھی کچھ شرائط سے مشروط ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو۔ اس وجہ سے اگر اشتباہ میں پڑجائیں ( چونکہ وہ معصوم نہیں ہیں اس لئے انہیں اشتباہ ہو سکتا ہے )یا اور کسی وجہ سے حق سے منہ موڑ لیں تو اس صورت میں ان کی طاعت ضروری نہیں ہوگی جبکہ آیت اولو الامر کی اطاعتِ مطلق پیغمبر کی طرح لازم قراردے رہی ہے علاوہ ازیں علماء کی طاعت تو ان احکام میں ہے جن کا وہ کتاب و سنت سے استفادہ کرتے ہیں ۔ بنا پر ان کی اطاعت خدا تعالی ٰ اور پیغمبر کی اطاعت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی ۔ چوتھی تفسیر اولو الامر( کو پہلے چار خلفاء تک محدود کردینا) تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ آج دنیائے اسلام میں لفظ اولوالامر کا کوئی مصداق نہیں ہے علاوہ ازیں اس تخصیص کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ پانچویں اور چھٹی تفسیر میں ا س کو صحابہ یا افسرانِ لشکر کے ساتھ مخصوص کرنا، اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ اہل سنت کے بعض مفسرین جیسے مصر کے مشہور عالم محمد عبدہ اور معروف مفسر فخر الدین کی بعض باتوں کے مطابق اولو الامر کے معنی دو ہیں جنہیں دوسرے نمبر پربیان کیا گیا ہے ، ان کی نظر میں اس کے مجموعی مفہوم میں اسلامی معاشرے کے مختلف طبقوں کے نمائندے ول عالم ہوں یا حاکم اور دوسرے طبقوں کے نمائندے وہ عالم ہو یا حاکم اور دوسرے طبقوں کے نمائندے شامل ہیں ۔ وہ انہیں کچھ شرطوں اور پابند یوں کے ساتھ اولو الامر مانتے ہیں اور ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان ہوں ۔ جیسا کہ ” منکم “ سے معلوم ہوتا ہے ، ان کا حکم کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو، وہ اپنے اختیار سے حکم دیں نہ کہ مجبوری سے ، وہ مسلمانوں کے مصالح کے مطابق حکم دیں اور صرف انہی مسائل کا حکم دے سکتے ہیں جن میں دخالت کا انہیں حق نہیں ہے نہ کہ عبادات اور ان چیزوں ک اجو اسلام نے مقرر اور معین کردی ہیں ۔ وہ اس مسئلہ کا حکم دینے کا حق رکھتے ہیں جس کے بارے میں نص شرعی نہ ہو ان سب چیزوں کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سب متفقہ طور پر اپنا نظریہ پیش کریں ۔ ان کا خیال یہ ہے کہ تمام امت یا ان کے سب نمائدے مل کر غلطی نہیں کرسکتے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ام ت اجتماعی طور پر معصوم ہے ۔ ان شرطوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس قسم کے حکم کی طاعت مطلق طور پر ہر قسم کی پابندی کے بغیر رسول اکرم کی اطاعت کی طرح واجب ہوگی ( اس گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ اجماعِ امت حجت ہے ) لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس تفسیر میں بی کئی اشکالات موجود ہیں ۔ کیونکہ اول تو اجتماعی مسائل میں فکر و نظر کا اتفاق بہت ہی کم مواقع پر ہوتا ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کے زیادہ تر حالات واقعات میں ہمیشہ بے چینی اور بے اطمینانی رہے گی ۔ اگر اکثریت کے نظریہ کو قبول بھی کرنا چاہیں تو پھریہ اشکال سامنے آئے گا کہ اکثریت کبھی معصوم نہیں ہوتی ۔ اس لئے ان کی طاعت مطلق ہونے کی حیثیت سے لازمی نہ ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ علم اصول میں یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ امام معصوم کا نکال کر تمام امت کے معصوم ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہاس تفسیر کے طرفداروں نے ایک شرط کا ذکر کیا ہے جو یہ ہے کہ ان کا حکم کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو تو اب دیکھان یہ ہے کہ اس بات کی تشخیص کہ یہ حکم کتاب و سنت کے مطابق ہے کہ مخالف ، کون کرے گا یقینا مجتہدین او رکتاب و سنت سے آگاہ علماء ہی ا س کے ذمہ دار ہیں ۔ تو اس تحریر کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مجتہدین اور علماء کی اجازت کے بغیر اولوالامر کی اطاعت جائز نہیں کیونکہ اہل علم کی طاعت تو اولوالامر کی طاعت سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے اور یہ مفہوم ظاہر بظاہر آیت شریفہ کے مطابق نہیں ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ انہوں نے علماء کو بھی اولو الامر کا جزو قرار دیا ہے لیکن حقیقت میں اس تفسیر کے مطابق اہل علم باقی طبقاتی نمائندوں کی نسبت مرجع عالی تر اور ناظر کی حیثیت رکھتے ہیں نہ کہ دوسرے کیونکہ علماء اور دانشمند دوسرون کی نسبت یہ بہتر جانتے ہیں کہ کوئی چیز کتاب و سنت کی نظر سے درست ہے یا نہیں ۔ اس بناپر وہ مرجع اعلیٰ ہوں گے ۔ اور یہ مندرجہ بالاتفسیر کے ساتھ موافق نہیں ہے ۔ اس بنا پر مذکورہ تفسیر کئی پہلووٴں سے اشکالات کا سامنا ہے واحد تفسیر مذکورہ اعتراضات کی ضد میں نہیں آسکتی وہ ساتویں تفسیر ہی ہے ( یعنی اولو الامر سے مراد معصوم رہبر اور آئمہ ہیں ) کیونکہ یہ تفسیر اس وجوب ِ اطاعت کے اطلاق کے ساتھ ہے جس کا مندرجہ بالاآیت سے پتہ چلتا ہے ۔ اور یہ اس کے ساتھ سوفی صد موافقت رکھتی ہے کیونکہ مقام” عصمت“ ایسے امام کے ہر خطا ، گناہ اور اشتباہ سے محفوظ ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔ اس لئے اس کا ہر حکم فرمانِ پیغمبر کی طرح کسی قید و شرط کے بغیر واجب الاطاعت ہے اور یہ اس امر کی استعداد رکھتا ہے کہ رسول کی اطاعت کا ہم ردیف اور ہم پلہ قرار پائے ۔ یہاں تک کہ ” اطیعوا “ کی تکرار کے بغیر اس کا عطف رسول پر ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:59
ایک قابل توجہ بات
بعض مشہور علمائے اہل سنت نے بھی جن میں سے مشہور و معروف مفسر فخرالدین رازی بھی ہیں اس آیت کے بارے میں اپنی تحریر کے شروع میں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں خدا وند عالم جس شخص کی اطاعت قطعی طور پر بے چون و چرا لازم قرار دے یقینا اسے معصوم ہونا چاہئیے کیونکہ اگروہ معصوم عن الخطا نہ ہوگا تو وہ خطا کرے گا اور خدا تعالیٰ نے اس کی طاعت لازم قرار دی ہے اور ا س کی پیروی خطا کے باوجود ضروری سبھی ہے تو اس سے خود حکم خدا وند عالم میں تضاد پیدا ہو تا ہے کیونکہ ایک طرف تو اس کا عمل کرنا حرام ہے اور دوسری طرف اولوالامر کی اطاعت واجب ہے ۔ اس طرح یہ حکم خدا امر و نہی کے اجتماع کا سبب بن جاتا ہے اس لئے کہ ایک طرف تو خدا وند عالم نے اولو الامر کے حکم کی اطاعت کسی شرط اور پابندی کے بغیر واجب قرار دی ہے ۔ دوسری طرف اگر اولوالامر معصوم نہ ہوتو اس قسم کا حکم ازروئے عقل سلیم صحیح نہیں ہے ۔ اس مقدمہ اور تمہید سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں ہ مندرجہ بالا آیت میں جن اولو الامر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے انہیں یقینا معصوم ہو نا چاہئیے۔ ۱ فخر الدین رازی اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ معصوم یا تو تمام امت ہے یا اس میں سے چند لوگ ۔ یہ دوسرے معنی بھی قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ ضروری ہے کہ ہم ان چند لوگوں کو پہچانیں اوران تک پہنچ سکتے ہوں جب کہ ایسا نہیں ہے ۔ جب یہ احتمال یا شک دور ہو جاتا ہے تو پہلا احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ تمام امت معصوم ہے او ریہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اجماع و اتفاقِ امت حجت اور قابل؛ قبول ہے اور یہ معتبر اور قابل َ اعتماد دلائل میں شمار کیا جاتا ہے ۔ ۲ ۲تفسیر از فخرالدین رازی ، جلد۱۰ صفحہ ۱۴۴، طبع مصر ۱۳۵۷ھ ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ فخر رازی علمی مسائل میں اشکال تراشی کے لئے مشہور ہیں لیکن انہوں نے اس آیت کی اس دلالت کو امام معصوم ہونا چاہئیے ، بسر وچشم قبول کیا ہے ، اسی موقع پر زیادہ سے زیادہ یہی کہاجاسکتا ہے کہ چونکہ وہ مکتب اہل بیت (ع) اور اس کے معصوم اماموں اور رہبروں سے ناواقف تھے اس لئے انہوں نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ اولو الامر خدا کے مقرر کئے ہوئے افراد ہونے چاہئیں بلکہ وہ مجبور ہو گئے کہ اولو الامر تمام امت یا مسلمانوں کے تمام طبقات کے نمائندوں کو قرار دیں حالانکہ یہ معنی کسی طرح بھی قابل ِقبول نہیں ۔ جیسا کہ ہم تحریر کرچکے ہیں کہ اولو الامر تو وہ ہوگا جس اسلامی معاشرے کا رہبر ہو تاکہ اسلامی حکومت اور مسلمانوں کی گوناگوں مشکلات اس کے ناخن تدبیر سے حل ہوتی رہیں ۔ کیونکہ ہم جاتے ہیں کہ تمام آراء کا حکومت یہاں تک کہ اس کے نمائندوں کا بھی عملی طور پر اتفاق نہیں ہوسکتا کیونکہ مختلف اجتماعی ، سیاسی، ثقافتی ، اخلاقی اور اقتصادی مسائل جن سے مسلمانوں کو سابقہ پڑتا ہے ان میں اکثر اوقات تمام امت کا یاان کے نمائندوں کے اتفاق رائے کاحصول ممکن نہیں ہے اور کثریت کی پیروی اولوالامر کی پیروی نہیں سمجھی جاسکتی۔ اس بناپر فخر رازی اور ہمارے معاصر علماء جو اس کے عقیدہ کے پیرو ہیں ان کی گفتگو کا عملی مقصد یہ ہے کہ اولوالامر کی اطاعت عملاًرہے یا ایک استثنائی حیثیت سے باقی رہے ۔ہم مندرجہ بالاتمام بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ آیت شریفہ صرف اور صرف معصوم پیشواوٴں کی رہبری ثابت کرتی ہے جو امت کی چند خاص ہستیوں پر مشتمل ہیں ( غور فرمائیے گا )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:59
چند سوالات کا جواب
اس موقع پر مندرجہ بالا تفسیر پر کچھ اعتراض ہوئے ہیں ۔ بحث میں غیر جانبداری کا خیال رکھتے ہوئے انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ۔ ۱۔ اگر اولوالامر سے مراد معصوم امام ہیں تو ہ مفہوم لفظ” اولیٰ “ کے ساتھ جو جمع ہے ، کوئی مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ اس مفہوم کی صورت میں ہر زمانے میں ایک سے زیادہ معصوم امام نہ ہوگا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ ہر زمانے میں ایک سے زیادہ معصوم امام نہیں ہوتا لیکن وہ تمام زمانوں میں بہت سے افراد کی تشکیل سیرت اور تعمیر کردار کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ یہ آیت ایک زمانے کی ذمہ داری کی تعین نہیں کررہی ہے ۔ ۲۔ اولوالامر اس معنی کے مطابق تو پیغمبر کے زمانے میں موجود نہیں تھا تو اس صورت میں اس کی اطاعت کا حکم کس طرح دیا گیا ہے ۔ اس کا جواب بھی گذشتہ جواب سے واضح ہو جاتا ہے کیونکہ آیت کسی معین زمانے کے لئے محدود نہیں ہے بلکہ وہ تمام مسلمانوں کے لئے فرائض کو ہر زمانے کے لئے واضح کررہی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ عہد رسالت میں حضورٴ خود اولوالامر تھے کیونکہ حضرت رسولِ اکرم دو منصب رکھتے تھے ایک منصب رسالت اور تبلیغِ احکام جو آیت میں اطیعوا الرسول کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے اور دوسرا منصب امت اسلامی کی رہبری اور سر براہی جس کا ذکر قرآن نے اولوالامر کے نام سے کیا ہے ۔ اس لئے پیغمبر کے زمانے میں خود پیغمبر معصوم رہبر و پیشوا تھے اور شاید لفظ” اطیعوا“کا عدم تکرار رسول اور اولامر کے درمیان اسی معنی کی طرف اشارے خالی نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں منصب رسالت اور منصب اولوالامر مختلف منصب ہیں ۔ جو رسول اکرم کے وجود میں ایک جگہ جمع ہیں لیکن یہ امام میں جاکر الگ الگ ہو جاتے ہیں ۔ اور صرف دوسرا( اولوالامر کا ) منصب رکھتے ہیں ۔ کہتا ہے : فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فی شَیْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللَّہِ وَ الرَّسُولِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ذلِکَ خَیْرٌ وَ اٴَحْسَنُ تَاٴْویلاً۔ اگر کسی چیز میں اختلاف پڑ جائے تو اسے خدا اور رسول کی طرف پلٹادو۔ اگر تم خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اس کا انجام بھی بہت ہی اچھا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہاں اولو الامرکا ذکر نہیں ہے اور اختلاف کو دور کرنے کا جو طریقہ بتایا گیا ہے وہ خدا کی کتاب اور حضرت رسول اکرم کی سنت ہے ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض صرف شیعہ علماء کی تفسیر پر نہیں ہے بلکہ ادنےٰ تامل کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دوسری تفاسیر پر بھی اس کی زد پڑتی ہے یعنی یہ اعتراض اہلِ سنت کی تفاسیرپر بھی ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس میں شک نہیں کہ مندرجہ بالا جملے میں اختلاف و تنازع سے مراد احکام میں اختلاف ہے نہ کہ ان مسائل سے جن کا تعلق حکومت و رہبری کی جزئیات سے ہے کیونکہ ان مسائل میں تولازماً اولوالامر کی اطاعت کرنا ہو گی جیسا کہ آیت کے پہلے جملے میں وضاحت ہوچکی ہے ۔ اس بنا پر اس اختلاف سے مراد اسلام کے احکام اور قوانین کلی کا اختلاف ہے جن کی تشریع خدا اور پیغمبر سے متعلق ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امام تو احکام جاری کرنے والے ہیں نہ کہ قانون وضع کرنے اور منسوخ کرنے والے ۔ امام تو ہمیشہ خدا کے احکام اور سنتِ رسول کے اجرا کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں ۔ اسی لئے احادیثِ اہل بیت (ع) میں ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص کوئی بات کتاب خدا اور حدیث پیغمبر کے خلاف نقل کرے تو اسے ہر گز قبول نہ کرو کیونکہ ناممکن اور محال ہے کہ ہم کتابِ خدا اور سنتِ پیغمبر کے خلاف کچھ کہیں ۔ اسی لئے احکام و قوانین ِ اسلامی میں لوگوں کے اختلاف دور کرنے کا پہلا مرجع خدا اور حضرت رسولِ اکرم (ص) ہیں جن پر وحی خدا نازل ہوتی ہے ۔ اب اگر ائمہ معصومین احکام بیان کرتے ہیں تو وہ خود ان کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ وہ کتاب خدا یا اس علم سے ہیں جو حضرت رسالت مآب کی طرف سے ان تک پہنچا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اولو الامر کا لفظ اختلافی احکام و مسائل کے حل کرنے والوں میں شامل نہیں ہے ۔ ۱ ۱اگر اس سورہ کی آیت ۸۳ میں بعض مشکلات کو حل کرنے کے لئے اولوالامر کو مرجع قرار دیا گیا ہے تو اس سے مراد شریعت کے کلی احکام و قوانین کا اختلاف نہیں ہے بلکہ جیسا کہ آیت مذکورہ کی تفسیر میں آئے گا یہ ان مسائل کے بارے میں ہے جو احکام جاری کرنے کے طریقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۱- تفسیر از فخرالدین رازی ، جلد۱۰ صفحہ ۱۴۴، طبع مصر ۱۳۵۷ھ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:59
احادیث کی گواہی
اسلامی کتب اور مصادر میں کچھ احادیث موجود ہیں جو اس تفسیر کی تائید کرتی ہے کہ لفظ اولو الامر سے مراد ائمہ اہل ِ بیت ہی ہیں ۔ ان میں سے چند یہ ہیں : ۱۔مشہور اسلامی مفسر ابو حیان اندلسی مغربی ( متوفی ۷۵۶ ھ) تفسیر بحر المحیط میں لکھتا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (ع) اور ائمہ اہلبیت(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔ 1 ۲۔ عالم اہل سنت ابو بکر بن مومن شیرازی رسالہٴ اعتقاد میں ( مناسب کاشی کے مطابق) ابن عباس سے نقل کرتا ہے کہ آیت مندرجہ بالاحضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی جب پیغمبر اسلام نے انہیں جنگ موتہ جنگِ تبوک کے موقع پر اپنی جگہ مدینہ منورہ میں چھوڑا تھا اور حضرت علی(ع) نے عرض کیا تھا کہ آپ مجھے عورتوں بچوں کی طرح شہرمیں چھوڑ جاتے ہیں تو پیغمبر اکرم نے فرمایا تھا: ”اما ترضی ان تکون منی بمنزلہ ھارون من موسیٰ حین قال اخلفنی فی قومی و اصلح فقال عزوجل و اولی الامر منکم “ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون(ع) ( برادر موسیٰ (ع)) کو موسیٰ (ع) سے تھی جبکہ موسی (علیہ السلام) نے ان سے کہا تھا کہ تم بنی اسرائیل میں میرے جانشین بن جاوٴ اور ان کی اصلاح کرو۔ اس کے بعد خدا وند عالم نے فرمایا : و اولوا الامر منکم ۔ 2 شیخ سلمان حنفی قندوزی جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں ینابیع المودة میں کتاب مناقب میں سلیم بن قیس ہلالی سے نقل کرتے ہیں : ایک دن ایک شخص حضرت علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے پوچھا : کم از کم وہ کونسی چیز ہے جس کے ذریعے انسان مومنین کی صف میں شامل ہو سکتا ہے اور کم از کم کونسی چیز ہے جس سے انسان کا فروں یا گمراہ لوگوں میں شمار ہو جاتا ہے ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا : کم از کم وہ چیز جس کی وجہ سے انسان گمراہ ہوں میں شامل ہو جاتا ہے یہ ہے کہ وہ خدا کی حجت اور نمائندے اور اس کے شاہد و گواہ کو جس کی اطاعت و ولایت ضروری ہے نہ پہنچانے ۔ اس شخص نے کہا : اے امیر المومنین (ع) ً مجھے ان کا تعارف کرائیے ۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا : وہ وہی ہیں جنہیں خد انے اپنے پیغمبر نے برابر قرار دیا ہے ۔ او رفرمایا ہے : (یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا اٴَطیعُوا اللَّہَ وَ اٴَطیعُوا الرَّسُولَ وَ اٴُولِی الْاٴَمْرِ مِنْکُمْ) اس شخص نے عرض کیا: میں آپ کے قربان جاوٴں مزید وضاحت فرمائیے۔ امیر المومنین (ع)نے ارشاد فرمایا : جن کا رسول اللہ نے مختلف موقعوں پر اور اپنی زندگی کے آخری دن کے خطبہ میں تذکرہ کیا اور فرمایا : انی ترکت فیکم امرین لن تضلوا بعدی ان تمسکتم بھما کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی میں تمہارے درمیان دو چیزیں بطور یاد گار چھوڑ رہا ہوں اگر تم ان سے تمسک کرو گے تومیرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے خدا کی کتاب اور میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں ۔ 3 ۴۔ نیز یہی عالم کتاب ”ینابیع المودة “ میں لکھتے ہیں کہ صاحب کتاب مناقب نے تفسیر مجاہد سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ۔ 4 ۵۔ شیعہ کتب کی متعدد روایات جو کافی ، تفسیر عیاشی کتب صدوق وغیرہ میں منقول ہیں ، سب کی سب یہ گواہی دیتی ہیں کہ اولو الامر سے مراد معصومین (ع) ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض میں تو ہر ایک امام کا نام صراحت کے ساتھ مذکورہ ہے ۔5 ۶۰۔اٴَ لَمْ تَرَ إِلَی الَّذینَ یَزْعُمُونَ اٴَنَّہُمْ آمَنُوا بِما اٴُنْزِلَ إِلَیْکَ وَ ما اٴُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُریدُونَ اٴَنْ یَتَحاکَمُوا إِلَی الطَّاغُوتِ وَ قَدْ اٴُمِرُوا اٴَنْ یَکْفُرُوا بِہِ وَ یُریدُ الشَّیْطانُ اٴَنْ یُضِلَّہُمْ ضَلالاً بَعیداً ۔ ترجمہ ۶۰۔ کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ان ( کتبِ آسمانی) پر جو تم پر اور تم سے پہلے نازل ہوئی ہیں ایمان لے آئیں ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت اور حکام باطل سے فیصلہ کرائیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بری طرح گمراہ کردے اور ( انہیں گمراہی کے دور دراز راستوں میں پھینک دے )۔ 1- بحر المحیط جلد سوم مصر صفحہ ۲۷۸۔ 2- حقائق الحق جلد سوم صفحہ ۴۷۸۔ 3- ینابیع المودت طبع استنبول صفحة ۱۱۶۔ 4-ینابیع المودت طبع استنبول صفحة ۱۱۴۔ 5- تفسیر بر ہان جلد اول آیہ مذکورہ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔