إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا
Indeed Allah does not forgive that partners should be ascribed to Him, but He forgives anything besides that to whomever He wishes. Whoever ascribes partners to Allah has indeed fabricated [a lie] in great sinfulness.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:48
[Pooya/Ali Commentary 4:48] This verse makes clear the indescribable enormity of the sin of polytheism. The most loathsome heresy is shirk, giving to Allah a partner. The exposition of the existence of Allah should be set forth in such a way as always to emphasise His absolute unity. "Giving currency to an innovation (in the sense of alteration and deviation) and praising those who follow it and condemning those who oppose it" is the starting point of shirk, in the opinion of Imam Jafar bin Muhammad al-Sadiq, according to Umdatul Bayan by Sayyid Ammar Ali.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:48
امید سے معمور آیت
مندرجہ بلاآیت صراحت سے بتاتی ہے کہ سب گناہ بخشے جا سکتے ہیں لیکن شرک کسی صورت میں نہ بخشا جائے گا مگر یہ کہ اسے چھوڑ دیں توبہ کرلیں اور موحد بن جائیں ۔ دوسرے لفظوں میں کوئی گناہ بھی ایمان کو ختم نہیں کر سکتا جس طرح کہ کو ئی نیک عمل بھی شرک کی موجود گی میں انسان کو نجات نہیں دلوا سکتا ) إِنَّ اللَّہَ لا یَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاء ُ ۔ اس آیت کا ربط گذشتہ آیات کے ساتھ اس لحاظ سے ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے ہر ایک ، ایک طرح سے مشرک تھے قرآن اس آیت کے ذریعے خطرے سے خبر دار کرتا ہے کہ وہ اس عقیدے کو ترک کردیں کیونکہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو بخشا نہیں جا سکتا۔ اس کے بعد آیت کے آخر میں اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : جو شخص خدا وند عالم کے لئے شریک قرار دے اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے ( وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَقَدِ افْتَری إِثْماً عَظیماً ) ۱افترا مادہ فری سے ہے ( بر وزن فرد) قطع کرنے کے معنی میں ہے ۔ ان اگر کسی سالم چیز کا کچھ حصہ کاٹ دیں تو وہ خراب ہو جاتی ہے ۔ اس لئے برے کام مثلاً شرک اور جھوٹ کو بھی افتراء کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:48
گناہوں کی بخشش کے اسباب
یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت مسئلہ تو بہ سے ربط نہیں رکھتی۔کیونکہ توبہ اور ترک گناہ تو شرک سمیت تمام گناہوں کو دھو ڈالتا ہے ، بلکہ اس سے مراد ایسے لوگوں کے لئے امکان ِ عفو الٰہی ہے جنہیں توبہ کی توفیق نہیں ہوئی ۔ یعنی اس سے پہلے کہ وہ اپنے کئے ہوئے گناہوں پر پشیمان ہوں یا پشیمانی کے بعد برے اعمال کی تلافی سے پہلے دنیا سے اٹھ جائیں ۔ اس کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ قرآن کی بہت سی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ کی بخشش کے کئی ایک ذریعے ہیں جن کا خلاصہ پانچ موضوعات میں کیا جا سکتا ہے ۔ ۱۔ توبہ: گذشتہ گناہوں پر پشیمانی اور آئندہ گناہوں سے اجتناب کے پختہ ارادے کے ساتھ صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور برے اعما ل کی نیک اعمال کے ذریعے عملی طور پر تلافی کرنا ۔ جو آیات اس معنی پر دلالت کرتی ہیں بہت زیادہ ہیں ۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے : ھوالذی یقبل التوبة عن عبادہ و یعفوا عن السیئات وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔ ( شوریٰ ۔۲۵) ۲۔ بہت زیادہ نیک کام کرنا ۔ یہ بھی برے اعمال کی بخشش کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ جیسا کہ فرماتا ہے : ان الحسنات یذھبن السیئات نیک کام کچھ گناہوں کو ختم کردیتے ہیں ۔ ( ہود۔۱۱۴) ۳۔ شفاعت: اس کی تفصیل تفسیر نمونہ کی جلد اول میں آچکی ہے ۔ ۴۔ گناہان کبیرہ سے پر ہیز کرنا: یہ بھی گناہان صغیرہ کی بخشش کا سبب بن جاتا ہے ۔ اس کی تشریح اسی سورہ کی آیت ۳۱ اور ۳۲ کے ذیل میں گزر چکی ہے ۔ ۵۔ عفو خدا وندی : یہ بھی بعض صاحب استعداد افراد کو میسر آتی ہے جیساکہ ہم اسی آیت کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں ۔ اب ہم دو بارہ یاد دلاتے ہیں کہ عفو الٰہی اس کی مشیت کے ساتھ مشروط ہے ۔ یہ کوئی عمومی اور بلاقید و شرط مسئلہ نہیں ہے ۔ اس کی مشیت اور ارادہ صرف ایسے افراد کے بارے میں ہے جو عملی طو رپر کسی نہ کسی طریقے سے اپنی قابلیت اور اہلیت ظاہر کرتے ہیں ۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ شرک کیونکہ قابل عفوو بخشش نہیں ہے ۔ کیونکہ مشرک اپنا رابطہ خدا وند عالم سے باکل توڑلیتا ہے اور ایسے برے فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو تمام ادیان او ر فطرت کے قوانین کی بنیاد کے خلاف ہے ۔ ۴۹۔اٴَ لَمْ تَرَ إِلَی الَّذینَ یُزَکُّونَ اٴَنْفُسَہُمْ بَلِ اللَّہُ یُزَکِّی مَنْ یَشاء ُ وَ لا یُظْلَمُونَ فَتیلاً ۔ ۵۰۔انْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللَّہِ الْکَذِبَ وَ کَفی بِہِ إِثْماً مُبیناً ۔ ترجمہ ۴۹۔ کیا تونے انہیں دیکھا جو اپنی تعریفیں کرتے ہیں ( ان خودستائیوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ) لیکن خدا جس کی چاہتا ہے تعریف کرتا ہے اور ان پر تھوڑا سا بھی ظلم نہیں ہوگا ۔ ۵۰۔دیکھئے وہ کس طرح خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ یہی واضح گناہ ( ان کی سزا کے لئے ) کافی ہے ۔