الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
Men are the managers of women, because of the advantage Allah has granted some of them over others, and by virtue of their spending out of their wealth. Righteous women are obedient and watchful in the absence [of their husbands] in guarding what Allah has enjoined [them] to guard. As for those [wives] whose misconduct you fear, [first] advise them, and [if ineffective] keep away from them in the bed, and [as the last resort] beat them. Then if they obey you, do not seek any course [of action] against them. Indeed Allah is all-exalted, all-great.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:34
[Pooya/Ali Commentary 4:34] In verse 228 of al-Baqarah Allah says that women also have rights as men have but men are a degree above women. In this verse it is again stated that men are the guardians of women as He has made the male sex excel over the female sex. This is the will of an all-wise and almighty Lord. The equality before law should not be confused with the equality of the complex of subjective and original qualities. Even the messengers and prophets of Allah are not equal in status due to their innate and endowed essence. "We have made some of these messengers to excel others", says the almighty , Allah in verse 253 of al-Baqarah. Qanitatun means devoted to Allah, therefore, a woman who obeys Allah must accept His command and acknowledge her duties she has to perform to please her husband who spends of his wealth to provide for her. She must also watch over his property and his interests, attend to his needs, and above all guard her chastity. In case a perverse woman (wife) refuses to mend her ways (very common among the low-bred and ignorant women of easy virtue) then the husband can admonish her, and even stop sleeping with her, but if the corrective measures fail to refine her, he can take harsher steps to make her qanitatun (devoted and obedient to Allah). To understand the true purport of this verse, it is essential to keep in mind verse 21 of al-Rum. "Another of His signs is that He created out of you mates of your own kind so that you may find repose in them, and has instilled (ordained) love and kindness between you. Verily there are signs in this for those who reflect." In many verses it has been ordained to, treat women with kindness and to speak to them gently. The Holy Prophet said: "Never beat Allah's handmaidens." "The best of you is he who is kind to his wife." There is not a single event of wife-beating or child-abuse in the lives of the Holy Prophet and his holy Ahl ul Bayt. Fala tabghu alayhinna is a warning to the unscrupulous husbands not to seek an excuse for resorting to the conditional provision allowed to discipline the depraved women only.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:34-42
God defines duties of the rich to prevent them from falling prey to the wicked miser condemned to hell. Only the wealth we have so bestowed do we keep (for Eternity), the other is lost to us; rather, we shall have to render account if misused. The Prophet said, “Every good act is charity, your smiling in your brother’s face is charity, an exhortation of your fellowman to virtuous deeds is equal to alms giving, your putting a wanderer in the right path is charity, your assisting the blind is charity, your removing stones and thorns and other obstacles from the road is charity, your giving water to the thirsty is charity.” A person’s true wealth hereafter, i.e. is the good which is left behind in this world to their fellow humans. When they die, people will say, “What property have they left behind?” But the angels will ask, “What good deeds have they sent before them?” God warns against ostentation, which seldom goes with learning, like the rising and declining sun makes long shadows. It is the signal flag of hypocrisy. Pride is the master sin of the devil.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:34
اشکال اوراس کا جواب
اشکال اوراس کا جواب ممکن ہے اس موقع پر یہ اعتراض کیا جائے کہ اسلام نے مردوں کو کسے اجازت دی کہ وہ عورتوں کو بدنی سزادیں۔ اس اعتراض کا جواب آیت کے معنی اور ان روایات کہ جو اس سلسلے میں ہیں اور وہ وضاحت جو كتب فقہ میں آئی ہے نیز اسی طرح ان توضیحات کہ جو آجکل کے ماہرین نفسیات بیان کرتے ہیں ، مد نظر رکھتے ہوئے کچھ مشکل نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آیت نے بدنی سزا کا مسئلہ ان کے بارے میں جائز قرار دیا ہے جو اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرتے لیکن یہ اس وقت ہے جب کوئی اور ذریعہ کارگرنہ ہو ۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں جو صرف اسلام ہی میں ہو۔ دنیا کے تمام قوانین میں جب صلح کے ذریعے افراد کو ان کی ذمہ داری محسوس نہ کرائی جاسکے تو سختی اور شدت اختیارکرنا پڑتی ہے نہ صرف مار پیٹ کے زریعے بلکہ بعض موقعوں پرتواس سے بھی زیادہ سخت سزا دی جاتی ہے جو قتل کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ بدنی سزا جیسا کتب فقہ میں ہے خفیف ہونا چاہیے۔ جس سے ہڈی ٹوٹنے ، بدن کے زخمی ہونے اور ورم آنے کا اندیشہ نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ آجکل کے ماہرین نفسیات کا نظریہ ہے کہ کچھ عورتیں آزار طلب ہوتی ہیں جب کبھی ان کی یہ حالت شدت اختیار کرے تو انہیں سکون و آرام پہنچانے کا واحد علاج مختصری بدنی سزا ہے۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ ایسے افراد کو پیش نظررکھا گیا ہو جن کے لیے خفیف سی بدنی سزا باعث تسکین ہے ، یہ ایک نفسیاتی علاج ہے۔ یہ مسلم ہے کہ اگرگذشتہ مراحل میں سے کوئی اثر کرے اور عورت اپنی ذمہ داری انجام دینے لگے تو مرد کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ بہانہ بازی کرکے کو عورت کو تکلیف پہنچائے ۔ اس لیے اس جملہ کے بعد فرماتا ہے۔ فان اطمنكم فلاتبغوا عليهن سبيلا یعنی اگروہ اطاعت کرلیں تو پھر ان پر ظلم وستم نہ کرو۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ اس قسم کی سرکشی طغیان اور زیادتی مرد بھی تو کرسکتے ہیں تو یاک مردوں کو بھی اسی قسم کی سزا دی جائے گی تو ہم کہیں گے کہ جی ہاں مرد بھی بالکل عورتوں کی طرح اپنے فرائض ادا نہ کرنے کی صورت میں اسی قسم کی سزا مستحق ہوں گے یہاں تک کہ انہیں بدنی سزا بھی دی جائے گی ۔ البتہ کیونکہ یہ کام عورتوں کی ذمہ خارج ہے اس لیے حاکم شرع پر فرض ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے مردوں کو مختلف طریقوں سے یہاں تک کہ بدنی سزا کے ذریعے انہیں ان کی ذمہ داری بتاۓ۔ اس شخص کی داستان مشہور ہے جس نے اپنی بےقصور بیوی پر زیادتی کی تھی اورکسی طرح اپنی غلطی ماننے کے لیے تیارنہ ہوتا تھا ۔ حضرت علیؑ نے اسے عمالًا تنبیہ کی بلکہ تلوار سے ڈرا دھمکا کر اسے اپنی زیادتی ماننے پر آمادہ کرلیا۔ ان الله كان علیًا کبیرا آیت کے آخر میں مردوں کو دوبارہ خبردار کیاگیا ہے کہ وہ خاندان کے سرپرست ہونے کی حیثیت سے غلط فائده نہ اٹھائیں اور خدا کی قدرت کو جو تمام قدرتوں سے بالاتر ہے اپنے تصور میں رکھیں (کیونکہ خدا بلند مرتبہ اور بہت ہی بڑا ہے)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:34
آیه 34 سوره نساء
(34) اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّـٰهُ بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِـهِـمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّـٰهُ ۚ وَاللَّاتِىْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِى الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ ۖ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْـهِنَّ سَبِيْلًا ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْـرًا ترجمہ (34) مرد عورتوں کے سرپرست اور خدمت گزار ہیں ان برتریوں کی وجہ سے (جو نظام اجتماعی کے لحاظ سے) خدا تعالٰےنے ایک دوسرے پر دی ہیں اور ان اخراجات کی بنا پر وہ اپنے مال سے (عورتوں کے لیے) کرتے ہیں اور نیک صالح عورتیں وہ ہیں جو متواضع اورمنکسرالمزاج ہیں اور جو (اپنے شوہر کی) عدم موجودگی میں اس کے اسرار اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ ان حقوق کی وجہ سے جو خدا نے ان کو دیئے ہیں اور باقی رہیں وہ عورتیں جن کی مخالفت اور سرکشی کاتمہیں خوف ہے انہیں وعظ و نصیحت کرو اگر یہ اثر نہ کرے تو ان کے بستر سے دور رہو اور اگریہ بھی کارگر نہ ہو اور انہیں کوئی راستہ اور طریقہ سختی کے سوا اپنی ذمہ داریوں پرآمادہ نہ کرے تو پھرانہیں خبردار کرو۔ اب اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان پرسختی اور زیادتی نہ کرو (اور جان لو) کہ خدا بلند مرتبہ اور بزرگ ہے (اور اس کی قدرت بالاترین ہے)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:34
گھریلو نظام میں سرپرستی
تفسیر گھریلو نظام میں سرپرستی الرجال قوامون علٰى النساء۔ "مرد عورتوں کی سرپرستی اور خدمت گزارہیں"۔ اس جملے کی وضاحت کے لیے توجہ رہے کہ گھر ایک چھوٹا سا معاشرہ ہے اور بڑے معاشرے کی طرح اس کا بھی کوئی رہبر اور سرپرست ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر مرد اور عورت دونوں مل کرسرپرستی اور رہبری کریں تو یہ بے معنی ہے ۔ اس لیے مرد یا عورت میں سے کوئی ایک گھر کا رئیس اور سردار ہونا چاہیے اور دوسرا اس کا مددگار اس کی نگرانی میں ہو ۔ قرآن یہاں وضاحت کرتا ہے کہ سرپرستی کا مقام مرد کو دیا جائے۔ اس کا مقصد ظلم وستم نہیں ہے بلکہ ایک نظم رہبری ہے جس میں ذمہ داریوں اور مشوروں کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے آج کی دنیا میں یہ مسئلہ ہر زمانے سے واضح تر ہے اگرایک جماعت چاہے وہ دو افراد کی ہو کسی کام پر لگا دی جائے تو ضروری ہے کہ ان میں سے ایک شخص سربره ہو اور ددسرا مددگار ورنہ وه کام مکمل نہ ہوگا۔ گھر میں مرد کی سرپرستی بھی اسی قسم کی ہے۔ یہ حیثیت ان خصوصیات کی وجہ سے ہے جو مرد میں پائی جاتی ہیں ۔ مثلًا اس قوت فکر کو جذبات واحساسات پر ترجیح دینا (بخلاف عورت کے جو زیادہ تر محبت اور خواہش کی قوت سے سرشار اور بہرہ مند ہوتی ہے)۔ دوسرے مرد جسمانی طور پر زیادہ قوی ، اور مضبوط ہوتا ہے اس لیے وہ قوت فکر سے زیادہ کام لیتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے اور قوت جسمانی کے ذریعے اپنے گھر کا دفاع کرسکتا ہے۔ علاوہ ازیں اپنی بیوی اور اولاد کے لیے اسباب زندگی کی ذمہ داری حق مہر کی ادائیگی ، بیوی اور اولاد کی ناموس کی حفاظت اسے یہ حق دیتی ہیں کی سرپرستی کا مرتبہ بھی اسی کو ملے۔ البتہ یہ ممکن ہے کی عورتیں مندرجہ بالا صفات میں اپنے شوہروں سے بڑھ پڑھ کر ہوں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانون کی نظرایک با چند افراد پر نہیں ہوتی بلکہ وہ نوع اور عمومیت کو دیکھتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کلی طور پر مرد عورتوں کی نسبت ان کاموں کے لیے زیادہ اہل ہیں ۔ اگرعورتیں بھی کچھ زمہ داریاں سنبھال لیں تواس سے مرد کی اہمیت کی نفی نہیں ہوسکتی۔ بما فضل الله بعضهم على بعض وبما انفقوا من أموالهم یہ جملہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ پہلے حصہ میں فرماتا ہے، یہ سرپرستی اس تفاوت اور اختلاف کی وجہ ہے جو خداوند عالم نے مقصد تخلیق اور نوع بشر کی مصلحت کے لحاظ سے ان میں رکھا ہے اور آخری حصہ میں فرماتا ہے : نیز یہ سرپرستی ان فرائض کی وجہ سے ہے جو افراد خانہ کی مالی ضرورت کی انجام دہی کے لیے مرد کے ذمہ ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان زمہ داریوں کا مردوں کے سپرد ہونا نہ ان کی شخصیت کی بلندی کی دلیل ہے اور نہ ہی آخرت کے امتیاز کی کیونکہ وہ تقوی اور پیرہیزگاری پر منحصر ہے۔ جیسےممکن ہے کہ کسی معاون کی شخصیت مختلف پہلوؤں سے اپنے سربراہ کی نسبت زیادہ ہو لیکن سربراہ اس کام کی سرپرستی کے لیے زیادہ موزوں ہو۔ فالصالحات قانتات حافظات للغيب یہاں مزید فرماتا ہے کہ عورتیں ان ذمہ داریوں کے لحاظ سے جو ایک خاندان کی ان کے سپرد ہیں دو قسم کی ہیں پہلی قسم صالح اور نیک عورتوں کی ہے اور وہ ایسی ہیں جو گھریلو نظام میں اپنی ذمم داریوں کو سمجھنے والی ہیں۔ وہ نہ صرف شوہر کے ہوتے ہوئے بلکہ اس کی عدم موجودگی میں ہی عزت وناموس کے حوالے سے اور مالی لحاظ سے خیانت نہیں کرتیں اور شوہر کی غیر حاضری میں بھی اس کی شخصیت اور خاندانی اسرار و رموز کی حفاظت کرتی ہیں اور ان حقوق کے بدلے میں جو خدا نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیتی ہیں۔ خدا وند عالم نے "بماحفظ الله" فرما کر اسی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ واضح ہے کہ مردوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کی عورتوں کے ساتھ انتہائی احترام اور حق شناسی سے پیش آئیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:34
نافرمان عوتیں
نافرمان عوتیں دوسری قسم کی عورتیں وہ ہیں جو اپنے فرائض سے روگردانی کرتی ہیں اور ان میں ناموافقت کا مظاہرہ کرتی ہیں ایسی عورتوں کے بارے میں مردوں کے کچھ فرض اور ذمہ داریاں ہیں کہ جنہیں مرحلہ بمرحلہ یکے بعد دیگرے انجام دینا چاہیے۔ وہ ہر صورت میں یہ توجہ رکھیں کہ وہ کسی صورت میں عدالت کی حدود سے باہر نہ نکلنے پائیں۔ یہ زمہ داریاں مندرجہ ذیل آیت میں ترتیب سے بیان کی گئی ہیں۔ واللاتي تخافون نشوزهن ؎1 فعظوهن پہلا مرحلہ ان عورتوں کے بارے میں ہے کہ جو سرکشی اور دشمنی کا مظاہرہ کریں ، قرآن مندرجہ بالا آیت میں ارشاد فرماتا ہے ، وہ عورتیں جن کی بغاوت اور سرکشی کا تمہیں خوف ہے، انہیں وعظ و نصیحت کرو ۔ جو گھریلو نظام کی چار دیواری سے پاؤں باہر نکالتی ہیں پہلے انہیں مشفقانہ نصیحتیں کی جانا چاہئیں اور ایسے کاموں کے برے نتائج بیان کرکے راہ راست پرلانے کی کوشش کی جانا چاہیے اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جانا چاہیے۔ واهجروهن في المصتأجع اگرتمہاری نصیحتیں اور باتیں ان پر کوئی اثر نہ کریں تو ان کے بستر سے دور رہو۔ اسی بے توجہی اور لاپرواہی سے جسے اصطلاح میں بائیکاٹ کے لیے ان کے برتاؤ کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہرکرو۔ شاید یہی ہلکی سی تنبیہ ان پر اثر کرے۔ واضربوهن اب اگر ان کی سرکشی اور فرائض سے ہے توجہی حد سے بڑھ جائے اوراسی طرح قانون شکنی پر ڈٹی رہیں اورسختی سے قدم آگے بڑھاتی ہیں ، نہ ان پرپندونصائح اثر کریں اور نہ بستر سے دوری اور بے توجھی۔ سوائے عملی سختی کے کوئی راستہ باقی نہ رہے اور انہیں ذمہ داریوں کی ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لیے عملی شدت کے سوا کوئی چارہ نہ رہے ، تو یہاں اجازت دی گئی ہے کہ بدنی سرزنش کے ذریعے انہیں ان کے فرائض انجام دینے پر آمادہ کیا جائے۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "نشوز" "نشز" (بروزن نذر) اونچی زمین کے معنی میں ہے ۔ یہاں سرکشی اور طغیان کی طرف اشارہ ہے۔