وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
Do not covet the advantage, which Allah has given some of you over others. To men belongs a share of what they have earned, and to women a share of what they have earned. And ask Allah for His bounty. Indeed Allah has knowledge of all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:32
[Pooya/Ali Commentary 4:32] Allah has preferred some people over others. There is no place for jealousy and covetousness. Yet each will be recompensed in the hereafter justly. There will be no discrimination in the matter of reward and punishment. In Allah's sight, as responsible moral agents, both men and women are equal. Therefore, instead of coveting for what "the other" has one should invoke Allah for moral perfection and spiritual development.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:32
شان نزول
مشہور مفسر ”طبرسی “ مجمع البیان میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمیٰ ( زوجہ پیغمبر ) نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں عرض کیا : جب مرد جہاد کے لئے جاتے ہیں تو عورتیں کیوں نہیں کرسکتیں اور ہمارے لئے آدھی میراث کیوں ہے ؟ کاش ہم بھی مرد ہوتیں اور ان کی طرح جہاد پر جاتیں اور معاشرے میں ان کی سی حیثیت رکھتیں ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس کے ذریعے اس سوال اور ایسے ہی دوسرے سوالات کا جواب دیا گیا ہے ۔ تفسیر المنار میں ہے کہ جب میراث کی آیت نازل ہو اور اس نے مردوں کا حصہ عورتوں سے دو گناہ بتایا بعض مسلمان مرد کہنے لگے : کاش ہمارا معنوی اجر و ثواب ان کی طرح ہوتا اور بعض عورتوں نے کہا کہ کاش ہماری سزا اورعذاب بھی مردوں کی سزا سے آدھی ہوتی جس طرح ہماری میراث ان کی نسبت آدھی ہے ۔ اس پر آیتِ مندرجہ بالا نازل ہوئی اور انہیں جواب دیا گیا ۔ یہی شانِ نزول تفسیر فی ظلال اور روح المعانی میں معمولی سے ص ۲۶۳ ......الیٰ ... ۲۷۳ باقی رہ گیا ہے ۔