إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا
If you avoid the major sins that you are forbidden, We will absolve you of your misdeeds and admit you to a noble abode.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:31
[Pooya/Ali Commentary 4:31] One should keep away from the grave and deadly sins that have been forbidden, but any sin, however trivial, becomes deadly if done under the impression that "after all it is pardonable"; and israr (obstinate persistence) makes it deadlier than the deadliest sins. Sin, committed at the spur of a moment, or in a heat of passion without the thought of Allah in the mind, are pardonable; but if at any moment the thought of Allah comes into mind as a punisher or pardoner, while committing the sin, yet carried out, then the sin is grave and deadly, and therefore, unpardonable.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:31
گناہان کبیرہ و صغیرہ
إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبائِرَ ما تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ۔ یہ آیت صراحت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ اگر تم گناہان کبیرہ کو جن کی ممانعت کی جاچکی ہے چھوڑ دو ، تو ہم تمہارے ” سیئات“ کی پردہ پوشی کریں گے اور تمہیں بخش دیں گے اور تمہیں جنت عطا کریں گے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ دو قسم کے ہیں ۔ ان میں سے ایک کانام قرآن نے کبیرہ اور دوسری قسم کا ” سیئة“ اور سورہٴ نجم کی آیت ۳۲ میں سیئة کی بجائے ” لمم“۱ فرمایاہے اور سورہٴ کہف کی آیت ۴۹ میں کبیرہ کے مقابلے میں صغیرہ کا ذکر کیا ہے ۔ جہاں ارشاد ہوتا ہے : لا یغاد صغیرة ولا کبیرة الا احصاھا یہ اعمالنامہ کسی چھوٹے بڑے گناہ کو نہ بھولے گا اور اسے ضرور شمار کرے گا ۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ گناہ کی جانی پہچانی دو قسمیں ہیں کہ جن کو کبھی کبیرہ اور صغیرہ سے اور کبھی کبیرہ اور سیئة سے اور کبھی کبیرہ اور لمم سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ گناہ صغیرہ و کبیرہ کے تعین کے لئے کیا ضابطہ اور میزان ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ دونوں نسبتی امور ہیں یعنی جب دو گناہوں کا ایک دوسرے مقابلہ کیا جائے تو جس کی اہمیت زیادہ ہے وہ کبیرہ ہے اور جس کی کم حیثیت ہے وہ صغیرہ ہے ، اس لئے ہر گناہ اپنے سے زیادہ بڑے گناہ کی نسبت سے گناہ ِ صغیرہ ہوگااور اپنے سے چھوٹےگناہ کی بسنت کبیرہ ہو گا ۔ ۲ لیکن ظاہر ہے کہ یہ معنی کسی طرح بھی زیر نظر آیت کے مطابق نہیں کیونکہ آیت نے دو گروہوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا ہے او رانہیں ایک دوسرے کے مد مقابل قرار دیا ہے اور ایک سے پر ہیز کو دوسرے کی بخشش کا ذریعہ قرار دیا ہے ( غور فرمائیے گا)۔ لیکن اگر کبیرہ کے لغوی معنی کو دیکھیں تو ہر وہ گناہ کبیرہ ہوگا جو اسلام کی نظر میں بڑا اور زیادہ اہم ہے اور ا س کی اہمیت کی نشانی یہ ہوسکتی ہے کہ قرآن مجید نے صرف اس کی ممانعت پر قناعت نہ کی ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عذاب جہنم کی دھمکی بھی ہو سکتی ہو مثلاً قتل زنا، سود خوری وغیرہ ۔ا سی لئے روایات ِ اہل بیت(ع) میں ہے : الکبائر التی اوحب اللہ عزو جل علیھا النار گناہان کبیرہ وہ ہیں جن پر خدا وند عالم نے آگ کی سزا مقرر فرمائی ہے ۔ ( نور الثقلین ، جلد ۱، صفحہ ۴۷۳)۔ اس حدیث کا مضمون حضرت امام باقر (ع) حضرت امام جعفر صادق (ع) اور امام علی بن موسیٰ رضا (ع) سے منقول ہے گناہان کبیرہ کو سمجھنے اور مذکورہ ضابطے کی روشنی میں انہیں پہنچاننے کے بعد کام آسان ہوجاتا ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ روایات میں کبائر کی تعداد سات اور بعض میں بیس او ربعض میں ستر ہے جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں وہ اس کے منافی نہیں ہے ۔ کیونکہ اصل میں ان روایاتمیں سے بعض پہلے درجہ کے گناہان کبیرہ کی طرف بعض دوسرے درجہ کے کبائر کی طرف اور بعض سب گناہانِ کبیرہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ ۱- لمم ( بر وزن قسم ) چھوٹے اورکم اہمیت والے کام کو کہتے ہیں ۔ ۲- طبرسی مرحوم نے مجمع البیان میںاس عقیدے کی نسبت شیعہ علماء کی طرف دی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ہمارے بہت سے علماء دوسرا نظریہ رکھتے ہیں جس کی ہم تشریح کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:31
ایک اشکال اور اس کی وضاحت
یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت تو گناہان صغیرہ کی تشویق دلاتی ہے کیونکہ وہ کہتی ہے : گناہان کبیرہ کو ترک کرنے کے بعد گناہان صغیرہ کونے میں کوئی حرج نہیں ۔ اس آیت میں جس تعبیر کا ذکر کیا گیا ہے اس سے اعتراض کا جواب بخوبی واضح ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے : فکفر عنکم سیئاتکم ( ہم تمہارے چھوٹے گناہوں کو چھپا دیں گے ) یعنی گناہان کبیرہ سے پر ہیز کرنا، خصوصاً بنیادیں مضبوط ہونے کی صورت میں انسان میں تقویٰ ایک ایسی حالت پید اکردیتا ہے جو ممکن ہے چھوٹے گناہوں کے اثرات کو اس کے وجود سے دھوڈالے ۔ اصل میں یہ آیت اس آیت کی طرح ہے : ان الحسنات یذھبن السیئات ( ھود ،۱۴) حسنات سیئات کو ختم کردیتے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں حقیقی نیک اعمال کے حقیقی آثار کی طرف اشارہ ہے اور یہ بالکل اس طرح سے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ اگر انسا ن خطرناک زہریلے مواد سے پر ہیز کرے اور اس کی صحت بھی صحیح و سالم ہو تو صحت کی سلامتی کی وجہ سے بعض غیر مناسب غذاوٴں کے ناپسندیدہ اثرات ختم ہو سکتے ہیں گناہ صغیرہ کس طرح کبیرہ میں تبدیل ہو جاتا ہے اس موقع پر ہمیں ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دینے چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ گناہ صغیرہ اس صورت میں صغیرہ رہتا ہے جب اس میں تکرار نہ ہو علاوہ از ایں اسے معمولی سمجھتے ہوئے ، غرور اور سر کشی کے طور پر نہ کیا جائے کیونکہ قرآن اور اسلامی روایات کے مطابق یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اکثر مواقع پر گناہان صغیرہ ، گناہان کبیرہ میں بدل جاتے ہیں مثلاً ۱۔ جب انہیں بار بار کیا جائے ۔جیسا کہ حضرت امام جعفر صا دق (ع) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : لا صغیراة مع الاصرار ۔ ۲۔ جب کسی گناہ کو چھوٹا معمولی سمجھا جائے ۔ چنانچہ نہج البلاغہ میں ہے : اشد الذنوب ما استھان بہ صاحبہ۔ سخت ترین گناہ وہ ہے جس کا کرنے والا اسے چھوٹا سمجھے۔ 1 جب گناہ طغیان ، تکبر اور حکم پروردگار کے سامنے سر کشی کے ارادے سے کیا جائے ۔ یہ بات مختلف آیتوں سے اجمالی طور پر معلوم ہو جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ سورہٴ النازعات کی آیت ۳۷ میں ہے : رہے وہ لوگ جو سر کشی اور طغیان کریں ، بنیادی زندگی کو آخرت پر مقدم سمجھیں تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ ۴۔ وہ گناہ جو ایسے افرد سے سر زد ہوں جو معاشرے میں ایک خاص مقام رکھتے ہوں اور ان کی لغزش دوسروں کے برابر نہ سمجھی جاتی ہو۔ جیسے قرآن سورہٴ احزاب میں ازدواج پیغمبر کے بارے میں فرماتا ہے : اگر تم کوئی بر اکام کردو گی تو اس کی سزا پاوٴ گی ۔ اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : من سبن سنة سیئة فعلیہ و زرھا و وزر من عمل بھا لا ینقص من اوزارھم شیئاً۔ اگر کوئی شخص بری سنت اور طریقے کی بنیاد رکھے تو اس کا گناہ اس پر ہوگا ۔ اسی طرح تمام لوگوں کا گناہ بھی جو اس پر عمل کریں گے اس کے بغیر کہ ان کے گناہ میں کچھ کمی ہو۔ 2 ۵۔ جب اس گناہ کے کرنے پر خوش ہو اور اس پر فخر کرے ۔ جیسا کہ حضرت پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے : من اذنب ذنبا وھو ضاحک دخل النار وھو باک جو شخص گناہ کرے اور پھر اس پر ہنسے تو وہ روتے ہوئے جہنم کی آگ میں داخل ہوگا ۔ ۶۔ گناہ کے بعد فوراً سزا ملنے کو رضا ئے الہٰی کی دلیل سمجھے اور اپنے آپ کو سزا سے محفوظ اور بار گاہ الہٰی میں محبوب قرار دے جیسا کہ قرآن مجید کی سورہٴ مجادلہ آیت ۸ میں ہے : (مغرور گناہگار ) اپنی طرف سے کہیں گے کہ خدا ہمیں کیوں سزا نہیں دیتا۔ اس کے بعد قرآن مزید فرماتا ہے : ان کے لئے دوزخ کی آگ کافی ہے ۔ ۳۲۔وَ لا تَتَمَنَّوْا ما فَضَّلَ اللَّہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلی بَعْضٍ لِلرِّجالِ نَصیبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوا وَ لِلنِّساء ِ نَصیبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ وَ سْئَلُوا اللَّہَ مِنْ فَضْلِہِ إِنَّ اللَّہَ کانَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیماً ۔ ترجمہ ۳۲۔ جو فضیلت خدا نے تم سے بعض کو ب(ع)ض پر دی ہے اس کی تمنا اور آرزو نہ کرو ۔ (یہ طبعی فرق تمہارے معاشرے کے نظام کی حفاظت کے لئے ، حقوق اور عدالت کے عین مطابق ہے ۔ لیکن اس کے باوجودد ، مرد اس سے جو کسب و کوشش کرتے ہیں حصہ پالیتے ہیں اور عورتیں جو کسب اور کو شش کرتی ہیں اس میں حصہ حاصل کرتی ہیں ۔ ( کسی کے حقوق پامال نہیں ہونے چاہئیں ) اور خدا سے اس کے فضل ( اور رحمت و بر کت ) کا سوال کرتے رہو اور وہ خدا ہر چیز کو جانتا ہے ۔ 1- - نہج البلاغہ کلمات قصار۔ 2- - محجة البیضای جلد ۷ صفحہ ۶۱