وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
and married women, excepting your slave-women. This is Allah’s ordinance for you. As to others than these, it is lawful for you to seek [temporary union with them] with your wealth, in wedlock, not in license. For the enjoyment you have had from them thereby, give them their dowries, by way of settlement, and there is no sin upon you in what you may agree upon after the settlement. Indeed Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:24
[Pooya/Ali Commentary 4:24] Muhsanat means well-guarded or protected. They are married women (free and slave), minors and insane females. "Save those whom your right hands own" signifies "such married women as shall come in your possession as prisoners of war". Such women, when not taken back on payment of ransom or through negotiation, are lawful as wives, even though their previous marriage has not been formally dissolved, provided the infidel woman becomes a Muslim. Famastamta-tum bihi provides for a temporary marriage, known as muta. It has been specifically made lawful by the Quran and the Holy Prophet, therefore, this provision subsists as unrescinded. One day, for no reason at all, and having no authority to amend a law given and practised by the Holy Prophet, the second caliph declared from the pulpit: "Two mutas (temporary marriage and combining hajj with umra) were in force during the time of the Holy Prophet, but now I decree both of them as unlawful; and I will punish those who practise them." (Tafsir Kabir, Durr al-Manthur, Kashshaf, Mustadrak and others). According to Tirmidhi even his son, Ibn Umar, refused to agree with his father's action because it was made lawful by Allah and His Prophet, whose pronouncements could never be revoked by any one after him. Therefore the Shia school of thought (Islam-original) holds both the mutas lawful. Ali ibn abi Talib reversed the uncalled-for innovation of the second caliph, and thereafter it was never again prohibited. The Maliki school of thought also holds muta as lawful.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:24-25
How Islam has been gradually mutilated by the very imposters who seized the power immediately on passing away of the Prophet, can be studied by their autocratic decisions, without having any “Divine Awe” on which all revealed religions are based, having no intention of Divine knowledge and under passion, involved their followers with eternal loss.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:24
اسلام میں وقتی شادی
فمااستمطعتمہ بہ منھن فاتوھن اجورھن فریضة آیت کے اس حصے میں وقتی شادی کی طرف اشارہ ہے جسے اصطلاح میں ” متعہ“ کہتے ہیں ۔ ارشادِ رب العزت ہے: تم جن عورتوں کے ساتھ متعہ کرتے ہو ا ن کاحق مہر ایک حق واجب کے طور پر ادا کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ازدواج موقت کی اصل تشریح اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں میں تسلیم شدہ تھی ۔ اس لئے تو خدا وندعالم اس آیت میں حق مہر ادا کرنے کی وصیت فرمارہا ہے اور کیونکہ یہ ایک اہم تفسری، فقہی اور اجتماعی ۔بحث ہے اس لئے ضروری ہے کہ کئی گوشوں اور پہلووٴں سے اس کا مطالعہ کیا جائے ۔ ۱۔ جو قرائن آیت مندرجہ بالا میں موجود ہیں وہ اس آیت کے وقتی شادی پر دلالت کرنے کی تاکید کرتے ہیں ۔ ۲۔ اس قسم کی شادیاں حضرت رسول اکرم کے عہد میں ہوتی تھیں اور رسول اللہ کے دور میں اسے منسوخ نہیں کیا گیا ۔ ۳۔ اس قسم کی ازدواج معاشرتی اور اجتماعی ضرورت بھی ہے ۔ ۴۔ متعہ بہت سے مسائل کا حل بھی ہے ۔ اب پہلی جہت کو لیتے ہیں اس سلسلے میں پہلی تو بات تو یہ ہے کہ لفظ متعہ جس سے استمتعتم لیا گیا ہے ۔ اسلام میں وقتی نکاح کے لئے ہے اور اصطلاح کے مطابق اس بارے میں حقیقت شرعیہ موجود ہے ۔ اس امر کا گواہ یہ ہے کہ متعہ کا لفظ اس معنی میں احادیث پیغمبر اور کلمات صحابہ میں بارہا استعمال ہوا ہے ۲ ۲کنز العرفان ، مجمع البیان ، نور الثقلین ، برہان اور الغدیر کی جلد ۶ ملاحظہ فرمائیے۔ دوسرے یہ کہ اگر اس لفظ کے مذکورہ معنی نہ لئے جائیں تو پھر اس کے لغوی معنی ( نفع اٹھانا)مراد لئے جائیں گے تو اس صورت میں آیت کے معنی کاخلاصہ یہ ہوگا کہ اگر عقد دائمی والی عورتوں سے فائدہ اٹھاوٴ تو ان کاحق مہر انہیں ادا کرو ۔ جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ حق مہر کی ادائیگی کی شرطوں سے تمتع اور نفع حاصل کرنا نہیں ہے ۔ بلکہ تمام مہر بنا بر مشہور۳ مشہوریا زیادہ مشہور یہ ہے کہ دائمی عقد کے بعد پورا مہر مرد پر واجب ہوجاتا ہے ، اگر چہ دخول سے پہلے طلا ق سے حق مہر آدھا واجب رہ جاتاہے ۔ یا کم از نصف حق مہر نکاح ہوتے ہی واجب ہوجاتا ہے ۔ نیز یہ کہ بزرگ اصحاب اور تابعین2 مثلاً عبد اللہ ابن عباس اسلام کے مشہور عالم و مفسر، ابی بن کعب ، جابر بن عبد اللہ ، عمران حصین سعید بن جبیر ،مجاہد قتادہ ، سدی اور دیگر بہت سے مفسرین اہل بیت (ع) مندرجہ بالا آیت سے نکاح موقت کے معنی سمجھے ہیں ۔ یہاں تک امام فخر رازی جن کی شہرت یہ ہے کہ وہ شیعوں کے مسائل میں اشکال تراشی کرتے ہیں ، اس آیت کے بارے میں تفصیلی بحث کے بعد کہتے ہیں کہ حکم مذکور ایک مدت کے بعدمنسوخ ہو گیا تھا ۔چوتھے یہ کہ ائمہ اہل بیت (ع) نے جو اسرار وحی کو تمام لوگوں سے زیادہ جانتے تھے بالا تفاق آیت کے یہی معنی لئے ہیں ان سے اس سلسلے میں بہت سی رویتیں منقول ہیں ۔ ان میں سے ایک روایت حضرت امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے ، آپ(ع) نے فرمایا : المتعة نزل بہ القراٰن وجرت بھا السنة من رسول اللہ متعہ کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے ۔ اور سنت رسول اس کے مطابق جاری ہوئی ہے ۔ ۲ ۲ نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۶۷، تفسیر برہان جلد اول صفحہ، ۳۶۰۔ علاوہ از ایں حضرت امام باقر (ع) سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے ابو بصیر سے متعہ کے بارے میں سوال کے جواب میں فرمایا: نزلت فی القراٰن فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھم اجورھن فریضة ۔ نیز امام محمد باقر (ع) سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے متعہ کے بارے میں عبد اللہ بن عمیریشی کے جواب میں فرمایا : قرآن مجید نے اس سلسلے میں گفتگو کی ہے چنانچہ فرماتا ہے : فما استمتعتم۔ ۳ ۳ نور الثقلین جلد اول صفحہ ۴۶۷، تفسیر برہان جلد اول صفحہ، ۳۶۰۔ احلھا اللہ فی کتابہ و علیٰ لسان نبیہ فھی حلال الیٰ یوم القیٰمة۔ خدا وندعالم نے اسے قرآن میں اپنے پیغمبر کی زبان پر حلال کیا اور وہ قیامت تک حلال ہے ۔ ۴ ۴تفسیر بر ہان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ( توجہ رہے کہ یہ حدیث اور گذشتہ دونوں احادیث کا فی ہیں )۔ کیا یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے تمام علماء ے اسلام کا اتفاق ہے بلکہ ضرورت دین اس پر دلالت کرتی ہے کہ نکاح موقت آغاز اسلام میں جائز تھا ۔ مندرجہ بالا آیت کی متعہ کے جواز پر دلالت اصل حکم کے مسلم ہونے پر کسی قسم کی نفی نہیں کرتی۔ کیونکہ مخالفین کا خیال ہے کہ اس حکم کا شرعی ہونا سنت سے ثابت ہے ۔ یہاں تک کہ مسلمان آغاز اسلام میں اس پر عمل کرتے تھے اور وہ مشہور جملہ جو حضرت عمر سے منقول ہے : متعتان کانتا علی عھد رسول اللہ و انا محومھما و معاقب علیھا متعة النساء و متعة الحج۔ ۵ ۵کنز العرفان جلد۲ صفحہ ۱۵۸ تفسیر قرطبی و طبری، سنن کبریٰ ، بیہقی کتاب نکاح ۔ دو متعہ پیغمبر کے عہد مبارک میں تھے ۔ جنہیں میں ( عمر) حرام کرتا ہوں اور ان پر سزا بھی دونگا عورتوں سے متعہ اور حج تمتع( جو ایک خاص قسم کا حج ہے )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:24
مدنی سورة ہے جس کی ایک سو ستترآیات ہیں
و من لم یستطیع منکم طولا ان ینکح..... گذشتہ آیات میں نکاح کے متعلق مباحث کے بعد آیت کنیزوں سے نکاح کرنے کی شر طیں بیان کرتی ہے ۔ سب سے پہلے کہتی ہے : جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کے لئے مالی قدرت نہیں رکھتے وہ کنیزوں سے نکاح کرسکتے ہیں ۔ جن کا حق مہر اور عام طور رپ باقی مصارف ان کی نسبت زیادہ سہل اور آسان ہوتے ہیں ۔۱ البتہ کنیزوں سے نکاح سے مراد یہ نہیں ہے کہ کنیز کا مالک اپنی کنیز سے نکاح کرے کیونکہ وہ تو ان شرطوں کے مطابق جو فقہ کی کتابوں میں ہیں اپنی کنیز کو ایک بیوی کی طرح رکھ سکتا ہے ۔ بنابریں اس سے مراد مالک کے علاوہ دیگر افراد کا کسی کنیز سے نکاح کرنا ہے ۔ ضمنی طور پر لفظ ” مومنات“ سے معلوم ہوتا ہے کہ کنیز کا یقینی طور پر مسلمان ہونا ضروری ہے تاکہ اس سے نکاح کرسکے ۔ اس بناپر اہل کتاب کنیزوں سے نکاح نہیں کرسکتا ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن ان کنیزوں کے لئے ” فتیات“ کا لفظ استعمال کرتا ہے فتیات جمع ہے اور عام طور پر یہ لفظ قابل احترام عورتوں اور زیادہ تر نوجوانوں لڑکیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ و اللہ اعلم بایمانکم یہ جملہ بتایا جاتا ہے کہ تم ان کے ایمان کی تشخیص کے لئے ان کی ظاہری حالات اور اعتقاد کے پابند ہوباقی رہا ان کا باطن اور ان کے دل بھید تو خدا تمہارے ایمان و عقیدہ سے زیادہ آگاہ ہے ۔ بعضکم من بعض کیونکہ بعض لوگ کنیزوں سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے تھے اس لئے قرآن فرماتا ہے کہ تم سب ایک ہی ماں باپ سے پیداہوئے ہو اور تم ایک دوسرے سے ہو ۔ اس بناپر تمہیں کنیزوں سے نکاح کرنے میں کراہت نہیں کرنا چاہئیے جو انسانی نقطہٴ نظر سے مختلف نہیں ہیں اور معنوی قدر و قیمت کی رو سے بھی دوسروں کی طرح ان کی قدر ق منزلت تقویٰ و پرہیز گاری سے وابستہ ہے اور تم ایک ہی جسم کے مختلف اعضاء ہو۔ فانکحوا ھن باذن اھلھن لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ نکاح مالک کی جازت سے ہو ۔ کیونکہ یہ اس بات کی اجازت کے بغیر باطل ہے اور مالک کو اہل تعبیر سے کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مالکوں کو چاہیئے کہ وہ کنیزوں کے ساتھ جنسی تجارت اور مال و دولت کا ساسلوک نہ کریں بلکہ ایک خاندان کے سر پرست کی طرح ان کے ساتھ اولاد اور اہل عیال جیسا مکمل انسانی بر تاوٴ کریں ۔ و اٰتو ھن اجور ھن بالمعروف اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے مناسب حق مہر مقر ر کیا جائے اور وہ خود ان ہی کو دیا جائے یعنی مہر کی مالک خود لونڈیاں ہوں گی۔ اگر چہ مفسریں کی ایک جماعت کا یہ نظر یہ ہے کہ اس آیت میں ایک لفظ محذوف ہے ۔ ان کے خیال میں اصل میں یوں ہے : اٰتو مالکھن اجور ھن ( ان کا مہر ان کے آقا وٴں کو دو)لیکن یہ تفسیر ظاہر آیت کے مطابق نہیں ہے ۔ اگر چہ بعض روایات اس کی تائید کرتی ہیں ۔ ضمناً آ یت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غلام بھی ان اموال کے مالک ہو سکتے ہیں جو جائز طریقوںان کے ہاتھ آئے ۔ اور ” بالمعروف“ ”یعنی اچھائی کے ساتھ “سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حق مہر مقرر کرنے میں ان پر کوئی ظلم و ستم نہ کیا جائے بلکہ ان کا واقعی حق یا معمول کے مطابق ادا کیا جائے ۔ محصنات غیر مصافحات ولا متخذات اخدان اس نکاح کی ایک اور شرط یہ ہے کہ ایسی کنیزوں کا انتخاب کیا جائے جو منافی ٴ عفت و پاک دامنی کوئی حرکت ظاہر بظاہر یا ڈھکے چھپے یار بناکر نہ کریں ( ولا متخذات اخزان ) 2 ممکن ہے اس موقع پر یہ سوال پید اہو کہ ” غیر مسافحات“ کی تعبیر کے ذریعے زنا سے منع کرنے کے بعد پوشید ہ دوست بنانے (اخدان) سے منع کرنے کی ضرورت نہ تھی ۔ لیکن اس امر کے پیش نظر کہ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ صرف کھلے بندوں زنا برا فعل ہے لیکن ڈھکے چھپے یاری لگاکر یہ کار روائی بری نہیں ہے ۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن نے ہر دو قسم کی وضاحت کیوں فرمائی ہے ۔ فاذا احصن فان اتین بفاحشة فعلیھن نصف ماعلی للمحصنات من العذاب اس جملے میں ان احکام کی منا سبت سے جو کنیزوں کے ساتھ شادی کرنے اور ان کے حقوق کی حمایت کے بارے میں ہیں درمیان میں ان کی سزا کے بارے میں بھی بحث آگئی ہے اور وہ یہ کہ جب وہ پاکدامنی اور عفت کی راہ سے ہٹیں اور بد کاری کریں تو آزاد عورتوںکی نسبت انہیںآدھی سزا دی جائے یعنی انہیں پچاس کوڑے مارے جائیں ۔ دوسرا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ قرآن فرماتا ہے :” اذا حبصن“ یعنی اگر وہ محصنہ ہوں تو ان کے لئے یہ سزا ہوگی ۔ ۱- لفظ طول( بروزننور ) سے ہے اور یہ توانائی ، رسائی ، مالی وسائل وغیرہ کے معنی میں آیا ہے ۔ 2- اخدان خدن کی جمع ہے ۔ یہ اصل میں دوست اور ساتھی کے معنی میں ہے ۔ لیکن عام طور پر ایسے افراد کے لئے بولا جاتا ہے جو مخالف جنس کے ساتھ پوشیدہ اور ناجائز تعلق رکھتے ہوں ۔ یاد رکھیے کہ لفظ خدن قرآن میں مرد اور عورت دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:24
رسل اور نکاح موقت
اس گفتگو کے آخرایک مفید بات کی یاد دہانی ضروری معلوم ہوتی ہے جسے مشہور انگریز دانشور بر ٹرنڈ رسل نے اپنی کتاب ” زنا شوئی اور اخلاق “۱ ۱یہ بر ٹربڈ رسل کی کتاب کے فارسی ترجمے کانام ہے ۔ (مترجم ) میں آزمائشی شادی کے عنوان کے تحت لکھا ہے ۔ وہ نوجوان کا محاکمہ کرنے والے جج ” بن بی لیند سی “ کی تجویز دوستانہ شادی یا آزمائشی شادی کا ذخر کرنے کے بعد لکھتا ہے : جج صاحب موصوف کی تجویز کے مطابق نوجوانوں کو یہ اختیار ملنا چاہیئے کہ وہ ایک نئی قسم کی شادی کر سکیں ۔ جو عام شادی ( نکاح دائمی ) سے تین امور میں مختلف ہو۔ ۱۔ طرفین کا مصد صاحب اولاد ہونا نہ ہو اس سلسلے میں ضروری ہے کہ انہیں حمل روکنے کے طریقے سکھائے جائیں ۔ ۲۔ ان کی علیحدگی بآسانی ہو سکے ۔ ۳۔ طلاق کے بعد عورت کسی قسم کے نان و نفقہ کا حق نہیں رکھتی ہو۔ رسل جج لیند سی کا مقصد بیان کرنے بعد کہتا ہے: میراخیال ہے کہ اگر اس قسم کی شادی کو قانونی طور پر درست مان لیا جائے تو بہت نو جوان خصوصاً کالجوں او ریونیورسٹیوں کے طالب علم وقتی نکاح پرتیار ہو جائیں گے اور ایک وقتی مشترک زندگی میں قدم رکھیں گے۔ ایسی زندگی جو اپنی جلومیں آزادی لئے ہوئے ہے اس طرح بہت سی معاشرے کے خرابیوں ، لڑائی جھگڑوں ، خصوصاً جنسی بے راہ روی سے نجات مل جائے گی ۔۱ ۱کتاب زنا شوئی و اخلاق صفحة ۱۸۹ و ۱۹۰۔ جیسا کہ آپ پڑ چکے ہیں کہ نکاح موقت کے بارے میں مندرجہ بالاتجویز کئی لحاظ سے اسلامی حکم کی طرح ہے لیکن جو شرطیں اورخصوصیتیں اسلام نے نکاح موقت کے لئے تجویز کی ہیں وہ کئی لحاظ سے زیادہ واضح اورمکمل ہیں ۔ اسلامی نکاح موقت میں اولاد نہ ہونے دینا ممنوع نہیں ہے اور فریقین کا ایک دوسرے سے جدا ہونا بھی آسان ہے ۔ جدائی کے بعد نان و نفقہ بھی واجب نہیں ہے ۔ ولاجناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة آیت کے آخر میں یہ ذخر کرنے کے بعد کہ حق مہر کی دائیگی ضروری ہے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اگر طرفین عقد ایک دوسرے کی رضا مندی کے ساتھ حق مہر کی مقدار میں کمی بیشی کریں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مہر ایک ایسا قرض ہے جو طرفین کی مرضی سے تبدیل ہو سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں عقد موقت و دائمی میںکوئی فرق نہیں ہے اگر چہ ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں کہ یہ آیت نکاح موقت کے بارے میں ہے ۔ مندرجہ بالاآیت کی تفسیر میں ایک اور بھی احتمال ہے اور وہ یہ کہ اس میں کوئی مانع نہیں کہ نکاح موقت کے ختم ہونے پرطر فین مدتِ نکاح اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ طے کرلیتے ہیں کہ معین شدہ مدت نکاح اور مقررہ حق مہر دونوں میں بقدر ضرورت اضافہ کر دیا جائے۔ روایات اہل بیت (ع) میں بھی اس تفسیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ انَّ اللّہ کان علیماً حکیماً جن احکام کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے وہ ایسے ہیں جو نوع ِ بشر کے لئے خیرو سعادت کے حامل ہیں کیونکہ پر وردگار عالم بندوں کے مصالح سے آگاہ اور اجرائے قانون میں حکیم ہے ۔ ۱ غلاموں کی آزادی کے سلسلے میں اسلام نے جو زبر دست لائمہ عمل اختیار کیا اس کے بارے میں متعلقہ آیات کے ذیل میں تفصیلی بحث کی جائے گی ۔ ۱وہ لوگ جو پیغمبر کے زمانے کے بعد آئے اور آنحضرت کے زمانے کو نہ پاسکے۔ ۲۵۔وَ مَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اٴَنْ یَنْکِحَ الْمُحْصَناتِ الْمُؤْمِناتِ فَمِنْ ما مَلَکَتْ اٴَیْمانُکُمْ مِنْ فَتَیاتِکُمُ الْمُؤْمِناتِ وَ اللَّہُ اٴَعْلَمُ بِإیمانِکُمْ بَعْضُکُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانْکِحُوہُنَّ بِإِذْنِ اٴَہْلِہِنَّ وَ آتُوہُنَّ اٴُجُورَہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَناتٍ غَیْرَ مُسافِحاتٍ وَ لا مُتَّخِذاتِ اٴَخْدانٍ فَإِذا اٴُحْصِنَّ فَإِنْ اٴَتَیْنَ بِفاحِشَةٍ فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ ما عَلَی الْمُحْصَناتِ مِنَ الْعَذابِ ذلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ وَ اٴَنْ تَصْبِرُوا خَیْرٌ لَکُمْ وَ اللَّہُ غَفُورٌ رَحیمٌ۔ ترجمہ ۲۵ ۔ اور جو لوگ (آزاد ) پاک دامن عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کنیزوں میں سے پاک دامن ایماندار عورتوں سے جو ان کی ملکیت میں ہیں نکاح کریں ۔ خدا تمہارے ایمان سے آگاہ ہے اور تم سب ایک ہی پیکر کے مختلف اگزاء ہو ۔ اور ان (کنیزوں )سے ان کے ملکوں کی اجازت سے نکاح کرو ۔ لیکن ان کا حق مہر ان ہی کو اس شرط کے ساتھ دو کہ وہ پاک دامن رہیں ۔ یہ یہ کہ وہ کھلے بندوں زنا کرتی پھریں اور نہ ڈھکے چھپے یار بنائیں اور جب وہ سہاگن ہوں اور پھر عفت کے منافی کام کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں سے آدھی سزا ہو گی ۔ ( کنیزوں سے نکاح کرنے کی ) یہ اجازت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ( جنسی تقاضوں کے حوالے سے ) سخت تنگ ہوں ۔ اگر صبر و تحمل سے کام لو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ تفسیر