وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُم بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنكُمْ وَأَن تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
As for those of you who cannot afford to marry faithful free women, then [let them marry] from what you own, from among your faithful slave-women. Your faith is best known [only] to Allah; you are all [on a] similar [footing]. So marry them with their masters’ permission, and give them their dowries in an honourable manner—[such of them] as are chaste women, not licentious ones or those who take paramours. But should they commit an indecent act on marrying, there shall be for them [only] half the punishment for free women. This is for those of you who fear falling into fornication; but it is better that you be continent, and Allah is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:25
[Pooya/Ali Commentary 4:25] Those who do not afford to marry a free believing woman and fear to fall into sin of adultery can marry a believing bondswoman, with the consent of her guardian and after paying the dowry to her. "Allah knows best your faith" implies that a bondswoman may be more honourable with her Lord than her free husband. If the married bondswoman is guilty of adultery inflict on her half the punishment enjoined for free women.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:25
”محصنہ “سے یہاں کیا مرادہ ہے
مفسرین نے اس بارے میں کئی احتمال لکھے ہیں ۔ بعض نے مشہور فقہی اصطلاح اور سابقہ آیت کے مطابق شوہر دار عورت کے معنی میں اور بعض نے اسے مسلمان کے معنی میں لیا ہے ۔ لیکن اس بات کی طرف سہاگنوں کی سزا سنگساری ہے نہ کہ تازےانے۔غرضااس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پہلی تفسیر جس میں محصنہ کے معنی شوہر والی عورت بیان کیاگیا ہے قابل قبول نہیں ہے ۔اسی طرح دوسری تفسیر یعنی مسلمان ہونا اس پر بھی کوئی شاہد نہیں ہے۔اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ لفظ محصنات چونکہ قرآن مجید میںزیادہ تر پاک دامن عورتوں کے معنی میںآیا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حق یہ ہے کہ زیر نظر آیت اسی طرف اشارہ کررہی ہے۔یعنی وہ لونڈیاں جو مالکوں کی سختی کے ڈر سے جسم فروشی کر تی تھیں انہیں تو سزا معاف ہے لیکن وہ کنیز یں جو اس جان لیوا سختی سے دوچار نہیں ہیں اور پاکدامنی کی زندگی بسر کر سکتی ہیں اگر وہ منافی عفت کام کریں تو انہیں آزاد عورتوں کی طرح سزادی جائے گی ۔لیکن ان کی سزا آزاد عورتو ں کی نسبت آدھی ہوگی ۔ ذالک لمن خشی العنت منکم عنت (بروزن سند )اصل میں ہڈی کے دوبارہ ٹوٹنے کو کہتے ہیں یعنی ہڈی کا درد ہوکر زخم ملنے کے بعد نئے سرے سے کسی حادثے کی وجہ سے ٹوٹ جانا ۔ واضح ہے کہ اس قسم کا ٹوٹنا انتہائی دردناک اور تکلیف دہ ہوتا ہے اسی لئے ”عنت“ کا لفظ روح فرسا، مشکلوں اور دکھ تکلف پہچانے والے کاموں کے لئے استعمال ہوتا ہے قرآن مجید مندرجہ باجملے میں فرماتا ہے : کنیزوں کے ساتھ شادی ان لوگوں کے لئے ہے جو جنسی خواہش کی وجہ سے بہت تنگ ہوں اور آزاد عورتوں سے شادی کرنے کی استطاعت بھی نہ رکھتے ہوں ۔ اس بناپر اس قسم کی شادی دوسرے افراد کے لئے جائز نہیں ہے ممکن ہے کہ اس حکم کا فلسفہ یہ ہوکہ اس زمانے میں خصوصاً لونڈیوں کی تر بیت برے اور گئے گزرے حالات میں ایسی ہوتی تھی کہ وہ طبعا اخلاقی ، روحانی اور معاشرتی نقائص میں مبتلا تھیں اور مسلم ہے کہ جو بچے اس شادی سے پیدا ہوتے ، ان پر ماں کا کچھ نہ کچھ اثر پڑتا۔ اسی بناپر اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لئے ایک زبر دست ، تدریجی ، اور عمدہ پرگرام پیش کیا تاکہ ہمیشہ کے لئے غلام بن کر نہ رہ جائیں نیز ضمنی طور پر غلاموں اور کنیزوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرسکیں ۔ یقینا یہ بات اس امر کے منافی نہیں ہے کہ بعض کنیز یں اخلاقی اور تربیتی لحاظ سے مخلوط سے مخصوص استثنائی کیفیت رکھتی تھیں ۔ جو کچھ اوپر لکھا گیا ہے وہ کنیزوں کی اکثریت کے بارے میں تھا ۔ اب اگر ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ بعض بزرگان ِدین کی مائیں کنیزیں تھیں ۔ البتہ یہ بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جو کچھ کنیزوں کے بارے میں ہے ، ضرورت کے بغیر ممنوع ہے وہ ان سے شادی اور نکاح ہے نہ کہ ملکیت کے اعتبار سے جنسی میل ملاپ۔ و ان تصبروا خیر لکم جہاں تک تمہاری طاقت میں ہو کہ تمہارا دامن گناہ سے آلودہ نہ ہو، اپنے آپ کو کنیزوں کے ساتھ بیاہ سے بچا نا فائدہ مند ہے ۔ و اللہ غفور رحیم ااور خدا ان برے کاموں کو جو تم گزرے ہوئے زمانے میں جہالت اور بے خبری کی وجہ سے کرتے رہے ہو بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔ ۲۶۔یُریدُ اللَّہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ یَتُوبَ عَلَیْکُمْ وَ اللَّہُ عَلیمٌ حَکیمٌ ۔br / ۲۷۔وَ اللَّہُ یُریدُ اٴَنْ یَتُوبَ عَلَیْکُمْ وَ یُریدُ الَّذینَ یَتَّبِعُونَ الشَّہَواتِ اٴَنْ تَمیلُوا مَیْلاً عَظیماً ۔ ۲۸۔یُریدُ اللَّہُ اٴَنْ یُخَفِّفَ عَنْکُمْ وَ خُلِقَ الْإِنْسانُ ضَعیفاً ۔ ترجمہ ۲۶۔خدا چاہتا ہے ( کہ ان احکام کے ذریعے نیکی اور خوش قسمتی کی راہیں ) تمہارے لئے واضح کرے اور گزرے ہوئے لوگوںکے (صحیح) طریقوں اور سنتوں کی طرف تمہاری ہدایت و رہبری کرے اور تمہیں گناہوں سے پاک کرے اور خدا دانا و حکیم ہے ۔ ۲۷۔ اور خدا چاہتا ہے کہ تمہیں بخش دے ( اور گناہوں سے پاک کردے ) لیکن جو لوگ شہوت کے غلام ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم بالکل منحرف ہو جاوٴ۔ ۲۸۔ خدا چاہتا ہے ( کنیزوں سے نکاح اور اسی قسم کے دوسرے احکامات کے ذریعے ) تمہارے لئے کام کو آسان کردے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔ ( اور اپنی فطرت و سرشت کے پیش نظر مثبت جواب دہی کا محتاج ہے ۔