حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا
Forbidden to you are your mothers, your daughters and your sisters, your paternal aunts and your maternal aunts, your brother’s daughters and your sister’s daughters, your [foster-]mothers who have suckled you and your sisters through fosterage, your wives’ mothers, and your stepdaughters who are under your care [born] of the wives whom you have gone into—but if you have not gone into them there is no sin upon you—and the wives of your sons who are from your own loins, and that you should marry two sisters at one time—excluding what is already past; indeed Allah is all-forgiving, all-merciful—
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:23
[Pooya/Ali Commentary 4:23] This verse contains the list of women whom one cannot marry. For details refer to fiqh. For comparison refer to Leviticus 18: 6 to 18.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:23
سہاگنوں کے ساتھ شادی اور مباشرت حرام ہے ۔
وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ النِّساء ۔۔۔ یہ آیت گذشتہ آیت کی بحث کا ضمیمہ ہے جو ان عورتوں کے متعلق ہے جن سے شادی کرنا حرام ہے ، یہ آیت مزید خبردار کرتی ہے کہ سہاگنوں کے ساتھ شادی اور مباشرت حرام ہے ۔ ” محصنات “ ” محصنہ “ کی جمع ہے اور ” حصن “ کے مادے سے ہے جس کا معنی ہے ” قلعہ “ اسی مناسبت سے یہ لفظ شوہر دار عضیف و پاکدامن عورتوں کے لئے جو غیر مردوں سے جنسی تعلق سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتی ہیں یا کسی مرد کی سر پرستی میں ہوں ، کے لئے بولا جاتا ہے بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ آزاد عورتوں کو کنیزوں کے مقابلے میں (محصنات) کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ ان کی آزادی حقیقت میں ایک چار دیواری کے مانند ہے جو ان کے گرد موجود ہے اور کوئی دوسرا ان کی اجازت کے بغیر اس میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتا ۔ لیکن واضح ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں شوہر دار عورتیں ہی مراد ہیں ۔ یہ حکم صرف مسلمان عورتوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر مذہب و ملت کی عورتوں کے بارے میں ہے یعنی ان سے شادی نہیں کر سکتے ۔ اس حکم میں جو استثنا ہے وہ صرف ان غیر مسلم عورتوں کے بارے میں ہے جو جنگ میں مسلمان کی قیدی ہو جائیں ص..۴۲ موجود نہیں ہے کا مالک ہونے کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرنے کے بعد ۔ ۱ شاید ضمنی طور پر غیر مسافحین کی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہو کہ مسئلہ ازدواج میں تمہارا نصب العین اور مقصد صرف جنسی پیاس کی تسکین نہ ہو بلکہ شادی بیاہ اس بلند ترین مقصد کو زندہ کرنے کے یے ہو جس کے لیے جنسی پیاس انسان میں رکھی گئی ہے اور وہ ہے بقائے نسل انسانی اور برائیوں سے اس کی حفاظت ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:23
محارم سے نکاح کی حرمت
اس آیت میں محار ( وہ عورتیں جن سے رشتہ زوجیت منع ہے ) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اس آیت کی بنیاد پر تین طریقوں سے محرمیت پیدا ہو۔ ۱۔ ولادت ، جسے نسبی تعلق سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ۲۔ طریق ازدواج سے ، جسے سببی ارطباط کہتے ہیں۔ ۳۔ رضاعت (دودھ پلانے ) سے ، جسے ارتباط رضاعی بولتے ہیں۔ سب سے پہلے نسبی محارم کی طرف جو سات طرح کے ہیں ، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اٴُمَّہاتُکُمْ وَ بَناتُکُمْ وَ اٴَخَواتُکُمْ وَ عَمَّاتُکُمْ وَ خالاتُکُمْ وَ بَناتُ الْاٴَخِ وَ بَناتُ الْاٴُخْتِ ۔۔۔ تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں ، تمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ، تمہاری بھتیجیاںاور تمہاری بھانجیاں تم پر حرام کر دی گئی ہیں ۔ یاد رکھئے کہ ماں سے مراد وہ عورت نہیں ہے جس سے انسان بلا واسطہ پیدا ہوا ہو بلکہ دادی پر دادی اور باپ کی ماں اور اس قسم کی دوسری عورتیں مراد ہیں ۔ جس طرح بیٹی سے مراد صرف بلا واسطہ بیٹی نہیں ہے بلکہ بیٹی ، پوتی ، نواسی، اور ان کی اولاد بھی ہے اسی طرح دوسرے پانچ مواقع پر بھی ایسا ہی ہے ۔ امر واضح ہے کہ تمام لوگ فطری طور پر اس قسم کی شادیوں سے نفرت کرتے ہیں ۔اسی وجہ سے سب قومیں ( چند افراد کو چھوڑ کر ) محارم سے نکاح حرام سمجھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ مجوسی جو اپنے منابع اور کتب کی بنا پر اس قسم کی شادیوں کو جائز سمجھتے تھے آج اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اگر چہ بعض لوگ اس بات کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس امر کو ایک پرانی عادت اور رسم قرار دیں ۔ لیکن یہ مسلمہ امر ہے کہ ایک قانون کی عمومیت تمام لوگوں ، زمانوں ، سالوں اور شہروں میں عملی طور پر اس کے فطری ہونے کی ترجمانی کرتی ہے ۔ کیانکہ ایک عام رسم و عادات میں دائمی اور عالمگیر بننے کی صلاحیت نہیں ہوتی ۔ اس سے قطع نظر بھی آج یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہم خون افرادکی ایک دوسرے سے شادیاں بے شمار خطراط کی حمال ہوتی ہیں یعنی چھپی ہوئی اور وراثتی بیماریاںشدت اختیار کر لیتی ہے اور آشکار ہوجاتی ہیں ( اس سے یہ مراد نہیں کہ اس طرح بیماری پیدا ہوتی ہے ) ۔یہاں تک کہ بعض لوگ تو محارم سے گزر کر قوم و قبیلے میں بھی جو نسبتاً نزدیکی ہیں مثلاً چچا زاد کا ایک دوسرے شادی کرنا بھی اچھا نہیں سمجھتے ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ بھی وراثتی بیماریوں کے خطرات میں شدت پیدا ہوتی ہے لیکن یہ مسئلہ اگر دور کے رشتہ داروں میں کوئی مشکل پیدا نہ بھی کرے ( جیسا کہ عام طور پر نہیں کرتا ) تب بھی نزدیک کے رشتہ داروں میں جو کہ زیادہ ہم خون ہیں یقینا خرابی اور بیماری میں شدت پیدا کردیتا ہے ۔ ۱ علاوہ ازیں عام طور پر محارم میں جنسی جذب و کشش کا سرے سے کوئی وجود نہیں ہوتا ۔ کیونکہ وہ زیادہ تر ایک دوسرے کے ساتھ ( پلتے بڑھتے ، پھلتے پھولتے اور ) پروان چڑھتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کے لئے ایک عام اور دائمی وجود ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ استثنائی اور غیر معمولی قوانین کی عمومی اور کلی حالت کے لئے میزان نہیں بن سکتے ۔ نیز ہمیں معلوم ہے کہ جنسی کشش ہی ازدواجی زندگی کے رشتے کے استحکام کے لئے شرط اول ہے ۔ اس بنا پر اگر محارم کے درمیان ازدواج ہو تو وہ نا پائیدار اور گرم جوشی سے عاری ثابت ہوگا ۔ اس کے بعد رضاعی محارم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ِ وَ اٴُمَّہاتُکُمُ اللاَّتی اٴَرْضَعْنَکُمْ وَ اٴَخَواتُکُمْ مِنَ الرَّضاعَةِ ۔ یعنی اور تمہاری وہ مائیں جو تمہیں دودھ پلاتی ہیں اور تمہاری رضاعی بہنیں تم پر حرام ہیں ۔ اگر چہ قرآ ن نے آیت کے اس میں صرف دو گروہوں یعنی رضاعی بہنوں اور ماوٴں کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن بے شمار موجود روایات کی بنا پر رضاعی محارم انہیں تک محدود نہیں ہیں بلکہ مشہور حدیث کے مطابق جو حضرت پیغمبر سے منقول ہے : یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب ۔ یعنی تمام افراد جو نسبی جو نسبی رشتہ کے لحاظ سے حرام ہیں وہ رضاعت ( دودھ پلائی ) کی رو سے بھی حرام ہیں البتہ دودھ پلانے کی مقدار جو محرمیت پر اثر ڈالتی ہے ، یہ اور اس طرح کی دیگر شرائط کی تفصیل فقہی کتب میں موجود ہے۔ ۱ ۔ البتہ اسلام میں چچا زاد کاایک دوسرے سے شادی کرنا اور اس قسم کے دوسرے رشتہ دار حرام نہیں ہوئے کیونکہ یہ محارم کی طرح نہیں ہیں اور اس قسم کے رشتوں میں کسی حادثہ کا احتمال بہت کم ہے ۔ ہم خود بہت سے مواقع کے عینی شاہد ہیں کہ اس قسم کی شادیاں ہوئیں اور ان کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوئے وہ صحت مند اور ذہنی طور پر لائق ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:23
محارم رضاعی کی حرمت کا فلسفہ
اس کا فلسفہ یہ ہے کہ کسی خاص فرد کے دودھ سے کسی کے گوشت اور ہڈیوں کی پرورش اس کی اولاد سے اس کی شباہت پیدا کر دیتی ہے ۔ مثلا جو عورت کسی بچہ کو ایک مقدار تک دودھ پلاتی ہے تو اس کا جسم اس کے دودھ سے ایک خاص نشو و نما پاتا ہے ۔ اس سے ایک خاص قسم کی شباہت اس بچے اور عورت کے اپنے بچوں میں پیدا ہو جاتی ہے ۔ حقیقت میں ان میں سے ہر ایک اس ماں کے بدن کا ایک جزو شمار ہوتا ہے اور وہ دو نسبی بھائیوں کے مانند ہوتے ہیں۔ آخر میں محارم کے تیسرے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں چند عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے ۔ ۱۔ و انھا نسائکم ۔ اور تماری بیویوں کی مائیں ۔ یعنی صرف اتنی سی بات کہ ایک عورت کسی شخص کے نکاح میں آجائے اور صیغہ نکاح جاری ہو جائے تو اس عورت کی ماں اور اس کی ماں کی ماں اور اس طرح کے سب رشتے اس پر حرام ابدی ہو جائیں گے ۔ ۲۔وَ رَبائِبُکُمُ اللاَّتی فی حُجُورِکُمْ مِنْ نِسائِکُمُ اللاَّتی دَخَلْتُمْ بِہِنَّ ۔ اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں بشرطیکہ اس بیوی کے ساتھ ہم بستری کر چکے ہو یعنی ایک عورت سے صرف عقد شرعی کرنے سے اس کی وہ لڑکیاں جو دوسرے شوہر سے ہیں اس شخص پر حرام نہیں ہوتیں بلکہ ان حرمت کے لئے یہ شرط ہے کہ عقد شرعی کے علاوہ اس عورت سے مباشرت بھی کرے ۔ اس مقام پر یہ قید بتاتی اور تاکید کرتی ہے کہ بیوی کی ماں کا حکم جو کہ ابھی ابھی لکھا گیا ہے وہ اس قسم کی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ہے اور اصطلاح کے مطابق حکم کے اطلاق کو تقویت دیتا ہے اگر چہ ” فی حجورکم “ ( جو تمہاری گود میں ہیں ) کی قید کا ظہور یہ ہے کہ اگر بیوی کی دوسرے شوہر سے بیٹی انسان کی گود میں پرورش نہ پائے تو وہ اس پر حرام نہیں ہے لیکن روایات کے قرینے اور حکم کے مسلم ہونے کی بنا پر یہ قید اصطلاح کے مطابق احترازی نہیں ہے بلکہ واقعی تحریم کے نکتہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ایسی لڑکیاں جن کی مائیں دوسری شادی کر لیتی ہیں عموماً کم عمر ہوتی ہیں اور اکثر نئے شوہر کی گود میں اس کی اپنی بیٹیوں کی طرح پرورش پاتی ہیں ۔ آیت کہتی ہے کہ یہ واقعی تمہاری بٹیوں کی مانند ہیں تو کیا کوئی شخص اپنی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے ۔ ربائب بھی جو کہ ربیبہ کی جمع ہے اسی بنا پر ہے ۔ آیت کے اس حصہ کے بعد مطلب کی تاکید کے طور پر مزید فرماتا ہے کہ اگر ان سے جنسی آمیزش نہیں رکھتے تو پھر ان کی بیٹیاں تم پر حرام نہیں ہیں (فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلا جُناحَ عَلَیْکُمْ )۔ ۳۔ وَ حَلائِلُ1 اٴَبْنائِکُمُ الَّذینَ مِنْ اٴَصْلابِکُمْ ۔ یعنی ۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب و نسل سے ہیں ۔ حقیقت میں ” من اصلابکم “ یعنی وہ بیٹے جو تمہاری نسل سے ہیں ، اس وجہ سے ہے کہ زمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم پر ایک خط بطلان کھینچا جائے کیونکہ اس زمانے میں کہ کچھ افراد کو اپنا بیٹا بنا لیتے تھے اور اسی وجہ سے منہ بولے بیٹے پر حقیقی بیٹے کے تمام احکام و قانون لاگو ہوتے تھے اور اسی وجہ سے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے شادی نہیں کرتے تھے ۔ اسلام میں منہ بولا بیٹا اور اس کے سب احکام کلی طور پر کوئی بنیاد نہیں رکھتے ۔ ۴۔ وان تجمعوا بین الاختین ۔ اور تم پر دو بہنوں کا جمع کرنا منع ہے ۔ یعنی تم ایک ہی وقت میں دو بہنوں کے ساتھ شادی نہیں کر سکتے ۔ ہاں اگر دو بہنوں یا زیادہ کے ساتھ مختلف زمانوں میں یا پہلی بہن سے علیحدگی کے بعد دوسری شادی کی جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ چونکہ زمانہ جاہلیت میں دو بہنوں کو اکٹھا رکھنے کا رواج تھا اور کئی لوگ ایسی شادیاں کر چکے تھے ۔ اس لئے قرآن مندرہ بالا کے لئے کہتا ہے :الا ما قد سلف ‘۔ یعنی اس حکم کا ( دوسرے احکام کی طرح ) گذشتہ شادیوں پر نہیں پڑے گا ۔ یعنی جو لوگ اس قانون سے پہلے اس قسم کی شادیاں کر چکے ہیں ان کے لئے کوئی عذاب اور سزا نہیں ہے ۔ اگر چہ اس وقت ان میں سے صرف ایک کو چننا اور دوسری کو چھوڑنا پڑے گا ۔ اسلام نے اس قسم کی شادی سے کیوں روکا ہے ۔ شاید اس کی رمز یہ ہو کہ دو بہنیں طبعی ، اور فطری رشتے کی وجہ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتی ہیں ۔ لیکن جب وہ ایک دوسرے کی رقیب بن جائیں گی تو وہ پہلی فطری محبت باقی نہ رہے گی بلکہ ایک قسم کا تضاد ان میں جنم لے گا جو ان کی زندگی کے لئے انتہائی مضر ہے کیونکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جذبہ محبت اور جذبہ رقابت ان کے دلوں میں باہم بر سر پیکار رہیں گے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ جملہ ” الا ما قد سلف “ ان تمام محارم کے بارے میں ہے کہ جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی اگر اس آیت کے نزول سے پہلے ذکر کئے ہوئے محارم میں سے اس زمانے کے مروج قوانین کے مطابق کوئی شخص شادی کر چکا ہے تو یہ تحریم کا حکم اس پر لاگو نہیں ہوگا اور ان کی اولاد جائز اولاد ہو گی لیکن اس آیت کے نزول کے بعد ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ۔ آیت کا آخری جملہ یعنی ” ان اللہ کان غفوراً رحیما ً “ بھی اسی مفہوم سے مطابقت اور مناسبت رکھتا ہے ۔ ۲۴۔ وَ الْمُحْصَناتُ مِنَ النِّساء ِ إِلاَّ ما مَلَکَتْ اٴَیْمانُکُمْ کِتابَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ وَ اٴُحِلَّ لَکُمْ ما وَراء َ ذلِکُمْ اٴَنْ تَبْتَغُوا بِاٴَمْوالِکُمْ مُحْصِنینَ غَیْرَ مُسافِحینَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہِ مِنْہُنَّ فَآتُوہُنَّ اٴُجُورَہُنَّ فَریضَةً وَ لا جُناحَ عَلَیْکُمْ فیما تَراضَیْتُمْ بِہِ مِنْ بَعْدِ الْفَریضَةِ إِنَّ اللَّہَ کانَ عَلیماً حَکیماً۔ ترجمہ ۲۴ ۔ اور شوہر دار عورتیں ( تم پر حرام ہیں ) مگر وہ کہ جن کے تم مالک بن گئے ہو ۔ یہ ایسے احکام ہیں جو خدا نے تم پر مقرر کئے ہیں ۔ ان ( مذکورہ ) عورتوں کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں اور جنہیں اپنے مال کے ذریعے اپناوٴ بشرطیکہ تم پاک دامن رہو اور زنا سے بچو اور جن عورتوں سے متعہ کرو تو ان کا حق مہر جو تم پر واجب ہے ادا کرو اور تم پر اس کی نسبت کوئی گناہ نہیں جس پر ایک دوسرے کے ساتھ مہر مقرر کرکے موافقت کرلو، خدا دانا و حکیم ہے ۔ 1 ۔” حلائل “ حلیلہ کی جمع ہے ۔ جو مادہ ” حل “سے اس عورت کے معنی میں ہے جو انسان پر حلال ہو یا مادہ حلول سے ہے جس کے معنی اس عورت کے ہیں جو ایک جگہ کسی مرد کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارے ۔