لَّـٰكِنِ ٱلرَّـٰسِخُونَ فِي ٱلۡعِلۡمِ مِنۡهُمۡ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ يُؤۡمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَۚ وَٱلۡمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَۚ وَٱلۡمُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أُوْلَـٰٓئِكَ سَنُؤۡتِيهِمۡ أَجۡرًا عَظِيمًا
But as for those who are firmly grounded in knowledge from among them, and the faithful, they believe in what has been sent down to you, and what was sent down before you—those who maintain the prayer, give the zakat, and believe in Allah and the Last Day—them We shall give a great reward.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:153-162
Jesus had predicted his presecution and asked his companions who were read to play his part (1) and accept crucification for which paradise of his was vouche-saved. On enterance of the enemy to seize Jesus, they could not detect who was Jesus, as all were simultaneously transformed into his likness. But the companion who promised acknowledged he was Jesus and was cruicified. (2) When Jesus will come down from Heaven and Kill Dajjal, all Jews and Cristians will believe in him and differences in religion will vanish and nothing but Islam will prevail and Jesus will follow Mehdi (12th Divine Light) and will live for 40 years and will then die. During this period there will be complete safety, so much so, goats and wild animals will live together without encroaching on the rights of one another.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:160-162
یہودیوں میں سے صالح اور غیر صالح افراد کا انجام
گذشتہ آیت میں یہودیوں کی قانون شکنی کے چند نمونوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔مند رجہ بالا آیات میں ان کے کچھ اور ناشائتہ اعمال کا ذکر کرنے کے بعد ان سزاؤں کاتذکرہ ہے جو ان کے اعمال کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں ان کے دامن گیر ہوئیں اور ہوں گی ۔ پہلے ارشاد فرمایا : اس ظلم وستم کی وجہ سے جو یہودیو ں نے کیا اور لوگوں کو راہ ِ خدا سے باز رکھنے کی وجہ سے کچھ پاک وپاکیزہ چیزیں ہم نے ان پر حرام کردیں اور انھیں ان سے استفادہ سے محروم کردیا (فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ ہَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ اٴُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اللهِ کَثِیرًا ) نیز اس بنا پر کہ وہ سودکھاتے تھے حالانکہ انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اوراسی طرح لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے ان کے یہی کام ان کی اس محرومیت کا سبب بنے (واخذھم الربوا و قد نھو ا عنہ واکلھم اموال النا س بالباطل )۔ اس دنیا وی سزا کے علاوہ ہم انھیں اخروی سزاؤ ں میں بتلا کریں گے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے ( وَاٴَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنْہُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا )۔ چند اہم نکا ت ۱۔ یہودیوں کے لیے طیّبا ت کی حرمت : طیبا ت کی حرمت سے مراد وہی ہے جس کی طرف سورہ انعام آیة ۱۴۶ میں اشارہ ہوا ہے ، جہاں فرمایا گیا ہے : ہم نے یہودیو ں کے ظلم وستم کی وجہ سے ہر جانور جس کا سم پھٹا ہوا نہ ہو ان پر حر ام قرار دے دیا ۔ نیز گائے اور بھیڑ بکری کی چربی بھی کہ جس سے انھیں لگاؤتھا ان پر حرام کردی مگر اس کا وہ حصّہ جو جانور کی پشت یا آنتوں کے اطراف میں ہو یا ہڈی کے ساتھ ملا ہوا ہو ۔ لہٰذ ا مذکورہ حرمت تحریم تشر یعی وقانونی تھی ، تحریم تکوینی نہ تھی ۔ یعنی یہ نعمتیں طبعی اور فطری طور پر تو ان کے پاس تھیں ، لیکن شرعاً انھیں ان کے کھانے سے روک دیا گیا تھا ۔ موجو دہ تورات کے سفر لا دیا ن کی گیارہویں فصل میں ان میں سے کچھ چیز وں کی حرمت کا ذکر موجود ہے لیکن یہ بات اس میں نہیں کہ حرمت سزا کے طور پر تھی ۔۱ ۲۔ کیا یہ حرمت عمومی تھی ؟ یہ حرمت ظالم لوگو ں کے لیے ہی تھی سب کے لیے ۔۔۔۔۔اس سلسلے میں مند رجہ بالا آیت اور سورہ انعام کی آیت ۱۴۶ کے ظاہری مفہوم ظالموں کے لیے تو یہ حرمت سزا کے طور پر تھی جبکہ نیک لوگ جو کم تعدا د میں تھے ان کے لیے آزمائش اور انضبا ط کے پہلوسے تھی ۔ بعض مفسیرین کا خیال ہے کہ یہ تحریم فقط ستمگروں کے لیے تھی اور بعض روایات میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا ہے تفسیر برہان میں سورئہ ِ انعا م کی آیت ۱۴۶ کے ذیل میں امام صادق سے منقو ل ہے ، آپ نے فرمایا : بنی اسرائیل کے حکام اور رؤ سا فقیرا ور نادار لوگوں کو پر ندوں کے گوشت اور جانور کی چربی کھانے سے روکتے تھے ۔ خدا نے ان کے اس ظلم وستم کی وجہ سے ان چیز وں کو خود ان پر حرام قرا ر دے دیا ۔ ۳۔ سود کی حرمت قبل از اسلام سے ہے : اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سود کی حرمت اسلام ہی سے امخصو ص نہیں ہے ۔ بلکہ یہ گذشتہ قو موں میں بھی حرام تھا اگر چہ موجودہ تحریف شدہ تورات میں اس کی حرمت برادان دینی میں حرا م شمار کی گئی ہے ۔3 یہودیو ں میں سے اہل ایمان زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے جس کا قرآن نے بارہا اظہا ر کیا ہے اور وہ یہ کہ قرآن اگر یہودیوں کی مذمت کرتا ہے تو نسلی اور گروہی جھگڑے کے حوالے سے نہیں ہے ۔ اسلام کسی قوم وقبیلے کی مذمت قوم اور قبیلے کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مذمت کا ہدف صرف آلودئہ گنا ہ اور منحرف لوگ ہوتے ہیں اسی لیے اس آیت میں یہودیوں میں سے صاحب ِ ایمان اور پاک دامن افراد کو مستثنی قرار دیا گیا ہے اور ان کی تعریف کی گئی ہے اور انھیں اجر عظیم کی بشا رت دی گئی ہے قرآن کہتا ہے لیکن یہودیوں میں سے وہ لگ جو علم ودانش میں راسخ ہیں خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ تم پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ تم سے پہلے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لے ائیں ہیں ہم بہت جلد انھیں اجر عظیم سے نوا زیں گے ( لَکِنْ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ یُؤْمِنُونَ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا اٴُنزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالْمُقِیمِینَ الصَّلاَةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴُوْلَئِکَ سَنُؤْتِیہِمْ اٴَجْرًا عَظِیمًا)۔۳ ۳۔”راسخون فی علم “ کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد دوم ص ۲۵۵ (اردو ترجمہ ) میں تفصیلی وضاحت کی جاچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے بڑے لوگوں میں ایک جماعت اسلام کے ظہور اور اس کی حقا نیت کو دیکھتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی اور دل وجان سے اس کی حمایت کی یہ لوگ پیغمبر اسلام اور باقی مسلمانوں کے لیے قابل احترا م قرار پائے ۱۶۳۔ إِنَّا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کَمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَی نُوحٍ وَالنَّبِیِّینَ مِنْ بَعْدِہِ وَاٴَوْحَیْنَا إِلَی إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطِ وَعِیسَی وَاٴَیُّوبَ وَیُونُسَ وَہَارُونَ وَسُلَیْمَانَ وَآتَیْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ۱۶۴۔ وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ وَکَلَّمَ اللهُ مُوسَی تَکْلِیمًا ۱۶۵۔ رُسُلًا مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ لِاٴَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَی اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَکَانَ اللهُ عَزِیزًا حَکِیمًا ۱۶۶۔ لَکِنْ اللهُ یَشْہَدُ بِمَا اٴَنزَلَ إِلَیْکَ اٴَنزَلَہُ بِعِلْمِہِ وَالْمَلاَئِکَةُ یَشْہَدُونَ وَکَفَی بِاللهِ شَہِیدًا تر جمہ ۱۶۳۔ہم نے تم پر وحی کی جس طرح کہ نوح اور اس کے بعد والے انبیا ء پر وحی کی تھی نیز ابراہیم ، اسما عیل ، اسحاق ،یعقو ب ، (بنی اسرا ئیل میں سے ) اسباط ، عیسیٰ ، ایوب ، یونس ، ہارون اور سلیما ن پر وحی اور (جیسے ) داؤد کو ہم نے زبوردی ۔ ۱۶۴۔اور وہ پیغمبر جن کی سر گذشت ہم تھیں پہلے بیان کر چکے ہیں اور وہ پیغمبر کہ جن کا قصّہ ہم نے بیان نہیں کیا اور خدا نے مو سیٰ سے کلام کیا ۔ ۱۶۵۔وہ پیغمبر کہ جو خو شخبری دینے والے اور ڈارنے والے تھے تاکہ لوگوں کے لیے ان پیغمبر وں کے بعد خدا پر کوئی حجت باقی نہ رہے ( اور سب پر اتمام ِ حجت ہوجائے ) اور خدا توانا و حکیم ہے ۔ ۱۶۶۔ لیکن خدا گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے وہ اس نے اپنے علم کی رو سے نازل کیا ہے اور فرشتے (بھی ) گواہی دیتے ہیں اگر چہ خدا کی گواہی کافی ہے ۔ ۱۔تفسیر نمو نہ جلد سوم کی طرف رجوع کیجیے (دیکھیے ۲۹ اردو ترجمہ ) 2۔تفسیر برہان ج ۱ ص ۵۵۹۔ 3۔تو را ت ، سفر تثنیہ فصل ۲۳ جملہ ۲۰۰۱۹ برادارانِ دینی سے ظاہر اً اولاد حضرت اسماعیل مراد ہے (متر جم )
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:162
[Pooya/Ali Commentary 4:162] For rasikhuna fil ilm refer to the commentary of Ali Imran: 7. Verse 49 of al-Ankabut says that the Quran is in the hearts or chests of those who have been endowed with divine knowledge. It is a gift of Allah. No mortal had taught or tutored such men described as rasikhuna fil ilm in this verse. The Holy Prophet, Ali, Fatimah and the Imams in their progeny, historically, had never been taught and tutored by any individual or group, yet the Holy Prophet is the city of knowledge and Ali is its gate. They are the fountainhead of wisdom and indisputable authority on any branch of knowledge, physical as well as spiritual. Although the other human beings have also attained distinction in knowledge and learning but the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt are the ultimate in awareness of all the divine laws governing the whole universe. Please refer to the commentary of al-Baqarah: 136, 177 and 285; Ali Imran: 84, and Nisa: 136 and 152 for belief in all the messengers of Allah and the books given to them. The Quran clearly states that all the infallible prophets and the messengers of Allah were the bearers of glad tidings and warners in order that there be no plea for mankind against Allah after these messengers had come to them with His commandments and guidance. Although the essence and origin of all revelations were similar, yet, as some of the prophets have been exalted over others (Baqarah: 253), the final message, the Quran, revealed to the last and the most superior messenger of Allah, the Holy Prophet, is complete and perfect in all dimensions and in its scope and application. Several of the prophets are mentioned by name in the Quran while others are not. "For every people there was a messenger", says verse 36 of al-Nahl and also verse 24 of al-Fatir. All the messengers of Allah gave the glad tidings of the advent of the Holy Prophet. See commentary of al-Baqarah: 40. For kallamallah see commentary of al-Baqarah: 253. Aqa Mahdi Puya says: Grammatically wal muqimin, like wal rasikhun, is in possessive and objective case, whereas wal mutunuz zakat and wal muminun are in nominative case. All commentators agree that in certain circumstances by giving the form of the possessive and objective case to the verb and the nominative case vice versa, it will receive a distinction for the sake of emphasis. According to a tradition A-isha observed that this is one of the mistakes committed by the scribes who wrote the Quran under the supervision of a committee appointed by Uthman but she and other companions, who used to criticise the government for less important issues did not object to it. For awhina see commentary of al-Fatihah: 7. The word Kama implies that in essence the revelation revealed to the Holy Prophet was similar to that which was revealed to other prophets and that he had the experience of all the specific forms and the manners of the revelations used separately for the earlier prophets (see commentary of al-Baqarah: 253). Qaba qawsayni aw adna (two bows or nearer) in verse 9 of al-Najm puts the Holy Prophet on the highest pedestal of the nearest nearness to Allah. The well-known Persian poet Rumi says: The holy name of Ahmed bears all the names of the prophets. Since the hundred-per-cent (out-and-out) has come, the lesser than that is certainly with us.