وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
There is none among the People of the Book but will surely believe in him before his death; and on the Day of Resurrection, he will be a witness against them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:159
[Pooya/Ali Commentary 4:159] The Jews will ultimately believe in Isa and the Christians will recognise his true position when he will come down from heaven to assist and support Imam Muhammad bin Hasan al-Mahdi as a Muslim, and pray salat behind him. Islam will be the religion of the whole world. Then Isa will die and the Muslims will offer his funeral prayer. (Minhajus Sadiqin and Umdatul Bayan). Aqa Mahdi Puya says: The Imams of the Ahl ul Bayt have said that Isa would come in this world again. The whole world will embrace Islam and believe in Isa and Al Mahdi, the representative of the Holy Prophet. All disputes will disappear before the death of Isa. Imam Ali ibn abi Talib has said: Whoever dies sees me; be he a believer or a hypocrite. To see Ali means to witness the truth. The personal pronoun (whoever) refers to Isa, or to one who dies, or both, because an authentic tradition of the Ahl ul Bayt says that Isa, a witness over all the people of the book, since the beginning to the end, will at last die. Therefore the pronoun refers to both.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:159
تفسیر
مند رجہ بالاآیت کی تفسیر کے بارے میں دواحتمال ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک قابل ِ ملا حظہ ہے :۔ ۱۔آیت کہتی :کوئی اہل کتاب نہیں مگر یہ کہ وہ مسیح پر ” اپنی موت “ سے ایمان لے آئے گا ( وَإِنْ مِنْ اٴَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ )۔ اور یہ وقت وہ ہوگا جب انسان موت کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اس وقت اس کا رابطہ اس جہان سے کمزور پڑجاتا ہے اور بعد والے جہان سے قوی ہوجاتا ہے ، پردے اس کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جاتے ہیں ، بہت سے حقائق اسے نظر آنے لگتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں آگاہی حاصل کرلیتا ہے ۔ اس موقع پر اس کی حقیقت میں آنکھیں مقام ِ مسیح کو دیکھتی ہیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتی ہیں۔ جو اس کے منکر تھے اب مومن ہوجاتے ہیں اور اسے خدا سمجھتے تھے اب اپنے اشتباہ کوجان لیتے ہیں ۔یہ ایما ن فرعو ن اور دیگر ایسے لوگوں کا سا ایمان ہے جو عذاب میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اپنی بربادی کاسامان اپنی آنکھوں سے د یکھ لیتے ہیں ۔ پھر اظہار ایمان کرتے ہیں ایسا ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا لہذا کس قدر اچھا ہے ک بجائے اس کے کہ وہ ایسے حساس لمحے پر ایمان انھیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا ابھی ایمان لے آئیں اور مومن بن جائیں جب ایمان ان کے لیے فائدہ مند بھی ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق ” قبل موتہ “ کی ضمیر اہل ِ کتاب کے بارے میں ہے ۔ ۲۔ دوسر ی تفسیر کے مطابق تمام اہل کتاب حضرت مسیح پر ”ان کی موت “ سے پہلے ایمان لے آئیں گے ۔ یہودی ان کی نبوت قبول کر لیں گے اور عیسائی ان کی الو ہیت کے عقیدے سے دور کش ہوجائیں گے یہ اس وقت ہو گا جب اسلامی روایات کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر حضرت عیسی آسمان سے اتریں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے یہودو نصاریٰ بھی انھیں دیکھیں گے اور ان پر اور حضرت مہدی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے ۔ واضح رہے کہ حضرت مسیح کا دین گذشتہ زمانے سے تعلق رکھتا ہے اور اب ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ دین ِاسلام کی پیروی کریں جس کے جاری اور نافذ کرنے والے حضرت مہدی علیہ اسلا م ہوں گے ۔ اس تفسیر کے مطابق ” قبل موتہ “ کی ضمیر کا تعلق حضرت مسیح سے ہے نہ کہ اہل کتاب سے بہت سی اسلامی کتب میں یہ حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ سلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم واما مکم منکم۔ اس وقت تمہا را کیا حال ہوگا جب فرزند ِ مریم تم میں نازل ہوگا اور تمہارا امام وپیشواخود تم میں سے ہوگا ۔۱ علی بن ابرا ہیم کی تفسیر میں شہربن حوشب سے منقول ہے :۔ ایک دن حجاج نے کہا : قرآن میں ایک اایت ہے جس نے مجھے تھکا دیا ہے اور میں اس کے معنی میں ڈوبا رہتا ہوں ۔ شہر نے کہا : کون سی آیت ہے ، اے امیر !؟ حجاج نے کہا : وان من اھل الکتاب --کیونکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کو قتل کرتا ہوں لیکن ایسے ایمان کی کوئی نشانی ان میں نہیں دیکھتا ۔ شہر نے کہا :” تم آیت کی یہ تفسیر صحیح نہیں کرتے ہو “ حجاج بولا : کیسے ؟ آیت کی صحیح تفسیر کیا ہے ؟ شہر نے جواب دیا : مراد یہ ہے کہ حضرت عیسی اس دنیا کے ختم ہونے سے پہلے اتریں گے اور کو ئی یہودی یا غیر یہودی ایسا باقی نہیں رہے گا جوحضرت عیسی کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے عیسی ٰ ، حضرت مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ حجاج نے یہ بات سنی تو کہنے لگا : ”وائے ہو تم پر ، یہ تفسیر کہاں سے لائے ہو ؟“ شہر نے کہا : محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام سے میں نے یہ تفسیر سنی ہے ۔ حجاج کہنے لگا :۔ واللہ جئت بھا من عین صافیہ (یعنی ۔۔۔بخدا صا ف وشفاف سر چشمہ سے لایا ہے )۔2 آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : قیامت کے دن حضرت مسیح ان پر گواہ ہوں گے ( وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا )۔حضرت مسیح کی ان کے خلاف گواہی سے مراد یہ ہے کہ وہ گواہی دیں گے کہ میں نے تبلیغ رسالت کی اور انھیں کبھی اپنی الوہیت کی دعوت نہیں دی بلکہ پروردگار کی ربوبیت کی دعوت دی ۔ ایک سوال اور اس کا جواب یہاں پر سوال سامنے آتا ہے کہ سورة ِ مائدہ کی آیت ۱۱۷ کے مطابق حضرت مسیح قیامت کے دن اپنی گواہی اپنی اس زندگی کے دوران کے بارے میں دیں گے جب وہ اپنی امت میں موجود تھے لیکن اس کے بعد کی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے ۱تفسیر برہا ن جلد ۱ صفحہ ۴۲۶ ،جیسا کہ ارشاد الہی ہے :۔ وکنت علیھم شھید اما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت الرقیب علیھم وانت علی کل شئی شھید۔ یعنی ۔۔۔۔۔۔(حضرت عیسی کہیں گے ) جب تک میں ان کے درمیان تھا تو ان پر شا ہد اور ناظر تھا لیکن جب تونے ان میں سے مجھے اٹھا لیا تو تو ان پر نگران ہے اور تو ہر چیز پر شاہد گواہ ہے ۔ لیکن زیر بحث آیت میں ہے کہ حضرت مسیح قیامت کے دن ان سب کے بارے میں گواہی دیں گے چاہے وہ ان کے زمانے میں تھے یا نہیں تھے ۔ دونو ں آیات پر غور و خوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت حضرت مسیح کی طرف سے تبلیغ رسالت اور الو ہیت کی نفی کے بارے میں گوا ہی سے متعلق ہے جبکہ سورہ ِ مائدہ کی آیت ۱۱۷ن کے عمل کے بارے میں گواہی سے مربوط ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ حضرت عیسی ان تمام لوگوں کے خلاف گواہی دیں گے جنھوں نے ان کی الوہیت کا عیقدہ رکھا ، چاہے وہ آپ کے زمانے میں تھے یا اس کے بعد اور کہیں گے کہ میں نے ہرگز ایسی کسی چیز کی دعوت نہیں دی تھی ۔لیکن سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۷ کہتی ہے کہ وہ کہیں گے کہ میں نے انھیں صحیح اور کافی ووافی تبلیغ ِ رسالت کی جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا تو عملاًان کے انحراف کو روکتا رہا لیکن میرے بعد یہ ہوا کہ وہ میری الوہیت کے قائل ہوگئے اور انھوں نے انحراف کا راستہ اختیا ر کیا ان دونوں میں ان کے درمیان نہ تھا کہ ان کے اعمال کا گواہ بنوں اور یہ کہ انھیں اس روکتا - ۱۶۰۔فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ ہَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ اٴُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اللهِ کَثِیرًا ۱۶۱۔ وَاٴَخْذِھِمْ الرِّبَا وَقَدْ نُھُوا عَنْہُ وَاٴَکْلِھِمْ اٴَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَاٴَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنھُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا ۔ ۱۶۲ لَکِنْ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ مِنْھُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ یُؤْمِنُونَ بِمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا اٴُنزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالْمُقِیمِینَ الصَّلاَةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴُوْلَئِکَ سَنُؤْتِیھِمْ اٴَجْرًا عَظِیمً ترجمہ ۱۶۰۔اس ظلم کی وجہ سے جو یہودیوں نے کیا نیز راہ سے خدا سے بہت زیادہ روکنے کی بناپر کچھ پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال تھیں ہم نے حرام قرار دے دیں ۔ ۱۶۱۔ اور( اسی طرح ) ان کی سودخوری (بھی ) ، جبکہ ابھیں اس سے منع کردیاگیا اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے اور ان میں سے کافروں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے ۱۶۲۔لیکن ان میں وہ لوگ جو علم میں راسخ ہیں اور وہ جو ایمان لائے ہیں ، ان تمام چیزوں پر جو تم پر نازل ہوئی ہیں ان پر جو تم سے پہلے نازل ہوچکی ہیں ایمان لاچکے ہیں اور وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوة ادا کرتے ہیں اور وہ جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے ہیں ہم جلد ہی ان سب کو اجر عظیم دیں گے ۔ ۱۔تفسیر المیزان کے مطابق یہ حدیث مسند احمد ، صیح بخاری ، صیح مسلم اور سنن بہقی میں موجو د ہے ۔ 2۔تفسیر برہان جلد ۱ صفحہ ۴۲۶۔