تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
These are Allah’s bounds, and whoever obeys Allah and His Apostle, He shall admit him to gardens with streams running in them, to remain in them [forever]. That is the great success.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:13
[Pooya/Ali Commentary 4:13] In continuation of the preceding verses it is clearly pointed out here that the Quranic law cannot be subjected to human interference. Complying with the commandments of Allah and His prophet is the duty of the faithfuls, then alone they will enter the land of eternal bliss. Those who either bring in "fabricated sayings" of the Holy Prophet or act on their own judgement to set aside the decrees of Allah (as had been done in the case of Fadak in complete disregard to the final decrees of Allah) shall go to hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:13-14
وَ اللاَّتی یَاٴْتینَ الْفاحِشَةَ ۔۔۔
وَ اللاَّتی یَاٴْتینَ الْفاحِشَةَ ۔۔۔ لفظ فاحشہ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے اصل میں بہت برے کام یا بری گفتگو کے معنی میں ہے اگر یہ لفظ زنا اور عفت و پاک دامنی کے خلاف کاموں کے بارے میں استعمال ہو تو وہ بھی اسی مناسبت سے ہے ۔ یہ لفظ قرآن مجید میں تیرہ مقامت پر آیا ہے ۔بعض مواقع پر زنا ، بعض جگہوں پر ” لواطت “ کے لئے اور بعض جگہوں پر نہایت برے اور سنگین کاموں کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ جیسا کہ اکثر مفسرین نے اس آیہ شریفہ کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ یہ آیت ان شوہر دار عورتوں کی سزا کی طرف اشارہ کرتی ہے جو زنا کار ہوں ۔ آیت مزید بتاتی ہے کہ اگر تمہاری بیویاں زنا کی تہمت سے آلودہ ہوں تو چار مسلمان مرد اس کام کے گواہوں کے طور پر بلاوٴ ۔ اگر وہ اس بات کی گواہی دیدیں تو پھر ان عورتوں کو گھر میں بند کردو یہاں تک کہ ان کو موت آجائے ۔ اس امر کی دلیل کہ مندرجہ بالا آیت زنائے محصنہ ۱ کی طرف اشارہ کرتی ہے ، اس قرینہ کے علاوہ جو آنے والی آیت میں ہے لفظ من نسائکم ( تمہاری بیویاں ) بھی ہے ۔ کیونکہ یہ تعبیر قرآن مجید میں بار بار آئی ہے ۔ اسی وجہ سے شوہر دار عورتوں کے عفت و عصمت کے منافی عمل کی سزا اس آیت میں --” عمر قید “ مقرر ہوئی ہے ۔ لیکن اس کے بعد آیت فورا ً بلا فاصلہ کہتی ہے : ( او یجعل اللہ لھن سبیلا ) یا یہ کہ خدا ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے ۔ یعنی ان کے لئے قید کی سزا جاری ہے یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا یہ کہ کوئی نیا قانوں خدا کی طرف سے ان کے لئے معین ہو ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ ایک وقتی حکم تھا جو شروع شروع میں نازل ہوا تا کہ آئیندہ جب حالات اور افکار سازگار ہو جائیں تو ان کے بارے میں ایک نیا حکم نازل کیا جائے ۔ اس موقع پر جو عورتیں اس قانون کی زد میں آتی ہیں اور ابھی تک زندہ ہیں وہ فطرتا ً قید سے آزاد ہو جائیں گی اور دوسری سزا بھی انہیں نہ دی جائے گی ۔ ان کی قید خانہ سے آزادی پہلا حکم منسوخ ہو جانے کی وجہ سے ہوگی ۔ باقی رہا سزا کا نہ ملنا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سزا کا قانون ان کے کاموں کے لئے ہوتا ہے جو اس کے آنے کے بعد انجام پائیں اس طرح آئندہ کے لئے جو بھی قانون ہو وہ ان قیدیوں کی رہائی کا راستہ ہے ۔ البتہ نیا قانون ان تمام افراد کے لئے ہے جو آئندہ جرم کریں گے ( غور و فرمایئے گا ) باقی رہا وہ احتمال جو بعض نے پیش کیا ہے کہ ” او یجعل اللہ لھن سبیلا “ سے مراد یہ ہے کہ خدا وند عالم نے سنگساری کے متعلق اپنے آئندہ حکم کے ذریعے ایسے افراد کے لئے آزادی کی راہ کھول دی ہے ، تو یہ نظریہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ کبھی بھی ” لھن سبیلا “ ( ان کے لئے نفع کی راہ ) کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ کسی کو قتل کر دینا نجات کا راستہ نہیں ہے ہم جانتے ہیں کہ وہ قانون جو اسلام نے زنائے محصنہ کا ارتکا کرنے والوں کے لئے بعد میں مقرر کیا ہے ، ”رجم “ ( سنگسار کرنا ) ہے جو احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بطور مسلم موجود ہے اگر چہ قرآن میں اس کا کوئی اشارہ نہیں ملتا ۔ جو کچھ ہم رقم کر چکے ہیں اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت ہر گز منسوخ نہیں ہوئی کیونکہ نسخ ان احکامات کے بارے میں صادق آتا ہے جو شروع میں بصورت مطلق ہوں نہ کہ وقتی اور محدود طور پر ، جبکہ مندرجہ بالا آیت نے عمر قید کا حکم محدود اور وقتی حیثیت سے ذکر کیا ہے اور اگر کچھ روایتوں میں ہے کہ آیات مندرجہ بالا ان کے احکام کے ذریعہ جو عفت و عصمت کے منافی اعمال کی سزا کے بارے میں آئے ہیں ، منسوخ ہو گئی ہے تو اس سے مراد اصطلاحی نسخ نہیں ہے کیونکہ نسخ کا لفظ روایات کی زبان میں حکم کے ہر طرح سے خاتمے کے لئے بولا جاتا ہے ( غور کیجئے گا ) ۔ ضمنا ً اس طرف بھی توجہ دینا چاہیے کہ اس قسم کی عورتوں کو گھر میں قید رکھنے کا حکم ایک طرف سے تو ان کے فائدہ میں ہے کیونکہ یہ ان کو عام قید خانوں میں قید کرنے سے کہیں بہتر ہے ۔ دوسری طرف تجربہ بتاتا ہے کہ عا م قید خانے معاشرے کو بگاڑنے اور تباہ و برباد کرنے میں گہرا اثر رکھتے ہیں کیونکہ یہ عام طور پر برائیوں کی بہت بڑی درسگاہ ہوتے ہیں ۔ مجرم لوگ وہاں اپنے تجربے ایک دوسرے کو منتقل کرتے ہیں کیونکہ وہ اکھٹے رہتے ہیں اور ان کے پاس وسیع فارغ وقت بھی ہوتا ہے ۔ وَ الَّذانِ یَاٴْتِیانِہا مِنْکُمْ ۔۔۔ اس کے بعد خدا وند عالم اس آیت میں غیر محصنہ ( غیر شادی شدہ ) سے سرزد ہونے والے زنا اور عفت کے منافی عمل کا ذکر کتے ہوئے فرماتا ہے : اگر کنوارے مرد ، عورت یہ برا کام کریں تو نہیں سزا دو ۔اگر چہ اس آیت میں زنائے غیر محصنہ کی صراحت نہیں ہے ۔ لیکن اس لحاظ سے کہ یہ آیت گذشتہ آیت کے بعد آئی ہے اور زنا کیجس سزا کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ اس سزا سے جدا اور الگ ہے جو گذشتہ آیت میں تھی اور اس سے ہلکی ہے ۔ بنا بریں اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حکم زنا کرنے والوں میں سے ایسے گروہ کے بارے میں ہے جو پہلی آیت میں داخل نہ تھا اور چونکہ گذشتہ آیت اس قرینہ سے جس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں محصنہ کے زنا کے ساتھ مخصوص ہے ، تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ آیت غیر محصنہ کے زنا کے بارے میں حکم بیان کر رہی ہے ۔ یہ نکتہ بھی واضح ہے کہ اس آیت میں ذکر ہوئی سزا ایک کلی سزا ہے اور سورہٴ نور کی آیت ۲ میں جو حد زنا طرفین میں سے ہر ایک کےلئے سو کوڑے بیان کی گئی ہے ، بہت ممکن ہے کہ وہ اس آیت کی تفسیر و توضیح ہو اسی دلیل کی بنا پر یہ حکم منسوخ نہیں ہوا ۔ تفسیر عیاشی میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس آیت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : البکر اذا اتت الفاحشة التی اتتھا ھذہ الثیب فازوھما ۔ یعنی اس آیت سے مراد غیر شادی شدہ مرد عورت ہیں اگر وہ برا کام کریں تو انہیں سزا دی جائے ۔ لفظ ” اللذان “اگر چہ تثنیہ مذکر کا صیغہ ہے ، تا ہم اس سے مراد مرد اورعورت دونوں ہی ہیں اور یہ اصطلاح کے مطابق باب تغلیب سے ہے ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال تحریر کیا ہے کہ یہ آیت لواطت جیسے بد ترین کام کے بارے میں ہے اور گذشتہ آیت کا ربط مساحقہ ( عورت سے عورت کا مباشرت کرنا ) کے ساتھ ہے ۔ لیکن ” یاٴتیانھا “ کی ضمیر ” فاحشہ کی طرف پھیرنے سے جو گذشتہ آیت میں ہے ، یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ منافی عفت عمل جس کا اس آیت میں ذکر ہے ، اسی نوعیت کا ہے جس نوعیت کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے ۔ بنا بریں ایک کو لواطت کے بارے میں اور دوسرے کو مساحقت کے بارے میں سمجھنا ظاہر کے خلاف ہے ۔ اگر چہ یہ دونوں انواع ہم جنس سے ملاپ کرنے میں شریک ہیں ۔ اس بنا پر دونوں آیت کا زنا سے تعلق ہے ۔ ان سب کو چھوڑتے ہوئے بھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں لواطت کی سزا قتل ہے نہ کہ آزار اور تکلیف پہنچانا اور کوڑے مارنا ۔ غرض اس امر کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ زیر بحث آیت منسوخ ہو گئی ہے ۔ فَإِنْ تابا وَ اٴَصْلَحا فَاٴَعْرِضُوا عَنْہُما إِنَّ اللَّہَ کانَ تَوَّاباً رَحیماً۔ خدا وند عالم آیت کے آخر میں اس قسم کے گناہوں کے لئے توبہ اور بخشش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : اگر وہ واقعا ً توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرکے گذشتہ گناہوں کی تلافی کر لیں تو ان کی سزا سے صرف نظر اور چشم پوشی کرلو کیونکہ خدا وند عالم توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے ۔ یہ حکم حقیقت میں اس قسم کی خطا کاروں کے لئے واپس آنے کی راہ کھولتا ہے کہ توبہ اور اصلاح کی صورت میں اسلامی معاشرہ فراخ دلی کے ساتھ دامن پھیلائے ہوئے انہیں قبول کر لیتا ہے اور اب وہ معاشرے کے دھتکارے یوئے افراد بن کر نہیں رہتے ۔ البتہ جیسا کہ فقہی کتب میں ہے توبہ اس صورت میں درست ہے کہ وہ اسلامی عدالت میں ثبوت جرم ، شہادت گواہان اور عدالت اسلامی کا حکم صادر ہونے سے پہلے کی جائے لیکن وہ توبہ جو حکم صادر ہونے کے بعد ہو ، کوئی وزن نہیں رکھتی ہاں اس حکم سے ضمنا ً یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ توبہ کرچکے ہیں انہیں گذشتہ گناہوں کا ذمہ دار ٹھہراکر برا بھلا نہ کہا جائے ۔ تو جہاں سزا کا حکم اور حد شرعی ساقط ہو جائے وہاں پر بدرجہ اولیٰ لوگ اس کے کئے ہوئے گناہ سے چشم پوشی کریں ۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے بارے میں یہ حد جاری ہو گئی ہو اور اس کے بعد وہ توبہ کرلیں وہ بھی مسلمانوں کی طرف سے چشم پوشی کے مستحق ہیں ۔ ۱ ۔ محصنہ سہاگن یا شوہر دار عورت کو کہتے ہیں ۔(مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:13-14
اسلامی قانون میراچ کی خصوصیات
عام طور پر میراث کے قانون میں اور خاص طور پر اسلام کے میراث کے قانون میں کئی ایک خوبیاں ہیں ۔ ذیل میں بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے : ۱۔ اسلامی نظام میراث میں یہ خوبی ہے کہ اس میں متوفی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص بھی سلسلہ مراتب کو پیش نظر رکھتے ہوئے میراث سے محروم نہیں رہتا اور یہ جو رواج زمانہ ٴ جاہلیت کے عربوں اوربعض دوسرے ملکوں میں تھا کہ وہ عورتوں اور بچوں کو ہتھیار نہ اٹھا سکنے اور جنگ کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے میراث سے محروم کر دتے تھے اور متوفی کی دولت دور کے رشتہ داروں کو دے دیتے تھے ، اسلام ی قانون میراث ان سب افرد پر محیط ہے جو مرنے والے کے ساتھ کوئی نسبت یا ربط رکھتے ہیں ۔ ۲۔ یہ قوانین جائز اور فطری ضروریات انسانی کے لئے مثبت پہلو رکھتے ہیں کیونکہ انسان ہمیشہ یہ چاہتاہے کہ اپنے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت ایسے افراد کے ہاتھوں میں دیکھے جو اس کے جگر کا ٹکڑا ہیں اور ان کی زندگی حقیقت میں ان کی زندگی کی بقا و دوام ہے ۔ اس لئے قانون میراث میں اولاد کا حصہ سب سے زیادہ ہے جبکہ ماں باپ اور باقی رشتہ د ار وغیرہ اپنے مقام پر مناسب حصہ کے حامل ہیں ۔ ۳۔ یہ قانون انسان کو زیادہ دولت کمانے اور اقتصادی گاڑی کے پہیوں کو حرکت دینے کے سلسلے میں شوق دلاتا اور ابھارتا ہے ۔ کیونکہ جب انسان اپنی زندگی کی محنت کے نتیجے کو اپنے مرکز محبت و تعلق کے حصہ میں دیکھتا ہے تو پھر وہ چاہے کسی سن اور حالت میں ہو کام کرنے کے لئے اس کا شوق بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کی مصروفیا ت میں ٹھہراوٴ اور وقفہ نہیں آتا ۔ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں کہ جب بعض ممالک میں قانون میراث کو لغو قرار دیا گیا اور مرنے والوں کا مال اور جائداد حکومت کو دے دئے گئے رتو جلد ہی اس ملک کے اقتصادی ماحول میں اس قانون کے منفی اثرات جمود کی شکل میں ظاہر ہوئے ۔ اس لئے انہیں مجبوراً یہ قانون ختم کرنا پڑا ۔ ۴۔ اسلام کا قنون میراث دولت کو ایک جگہ جمع کرنے سے روکتا ہے کیونکہ اس نظام میں ہر انتقال کے بعد دولر و ثروت عادلانہ طور پر بہت سے افراد میں بانٹی جاتی ہے اس لئے یہ نظام دولت کی عادلانہ تقسیم کے لئے معاون مددگار ہے ۔ یہ بات قبل توجہ ہے کہ آج کی دنیا میں تقسیم دولت کی جو مختلف شکلیں ہیں ان سے اکثر معاشرے کو نقصان اور تکلیف پہنچی ہے ۔ اسلام کا قنون میراث اس طرح کا نہیں ہے بلکہ اس میں مال کی تقسیم اس طرح ہوتی ہے کہ اسے سب ہنسی خوشی قبول کرتے ہیں ۔ ۵۔ اسلامی قانون میراث متوفی سے صرف میل جول رکھنے کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ وارثوں کی حقیقی ضروریات کو بھی سامنے رکھا جاتاہے ۔ مثلا ً ہم دیکھتے ہیں کہ بیٹوں کا حصہ بیٹیوں کی نسبت دوگنا ہے ۔ یا بعض حالات میں بعض حالات میں باپ کا حصہ ماں سے زیادہ ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قانون اسلامی کے مطابق مرد کی زیادہ ذمہ داریاں ہیں عورتوں کا زندگی کا خرچ مردوں کے کندھے پر ہے ۔ اسی لئے ان کو عورتوں کی نسبت زیادہ ضرورت ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:13-14
عول اور تعصیب کسے کہتے ہیں
ہم اس مقام پر دو اہم علمی مسئلوں کا جائزہ لیتے ہیں اور وہ ہیں عول اور تعصیب ۔ یہ بحث اس وجہ سے شروع ہوتی ہے کہ میراث کے حصہ جس طرح گذشتہ آیات میں بیان کئے گئے ہیں بعض اوقات مجموعی مال سے کم اور زیادہ ہو جاتے ہیں مثلاً اگر دو پدری مادری بہنیں اور شوہر وارث ہوں تو ان (دو بہنوں )کی میراث دو تہائی ہے اور شوہر کا ورثہ آدھا ترکہ ہے اور ان کا مجموعہ ۷ /۶ ہوگا یعنی کل سے ۱ / ۶ زیادہ وہو جائے گا ۔ یہاں یہ بحث واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ آیا عادلانہ طور پر کل ۱ / ۶ حصوں کی نسبت سے سب وارثوں کو کم دیا جائے یا کہ مقررہ افراد سے کم کیا جائے ۔ علماء اہل سنت کے درمیان تو یہی مشہورہے کہ سب کے حصوں سے کم کیا جائے ۔ فقہی اصطلاح میں اس کو ” عول “ کہا جاتا ہے ( لغت میں عول کے معنی زیادتی اور بلندی کے ہیں )۔ بہر حال وہ کہتے ہیں کہ اضافی ۱ / ۶ دونوں گروہوں سے ان کے حصوں کے مطابق کم دیا جائے ۔1 اسی طرغ دیگر مواقع پر بھی وہ ایسا کرتے ہیں ۔ ہم حقیقت میں اس موقع پر میراث کے حصہ داروں کو طلبگاروں کی طرح فرض کرتے ہیں اور مقروض تمام کے مطالبات پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اصطلاح کے مطابق وہ دیوالیہ ہو گیا ہے اور کون نہیں جانتا کہ ایسے مواقع پر طلبگاروں کے حصوں کی مناسبت سے کمی کی جاتی ہے ۔ لیکن شیعہ فقہا کا نظریہ یہ ہے کہ ہمیشہ نقص خاص افراد کے مال میں ہونا چاہیے ان کے مطابق مندرجہ بالا مثال میں نقص اور کمی دونوں بہنوں کے حصہ میں کی جائے گی وہ کہتے ہیں کہ جس طرح حدیث میں آیا ہے ، ممکن نہیں کہ وہ خدا جو سب چیزوں کے حساب کو یہاں تک کہ بیابان کے ریت کے ذروں کو بھی جانتاہے میراث کے حصوں کو ایسے کیونکر قرار دے سکتا ہے کہ ان میں کمی واقع ہو ۔ یقینا ایسے مواقع پر خدا نے کوئی قانون وضع کیا ہے ۔ اگر اس قانون کی طرف توجہ کر لی جائے تو کمی کا تصور نہیں ہو سکتا اور وہ قانون یہ ہے کہ وارثوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کے لئے قرآن میں ” حد اقل “ اور ” حد اکثر “ مقرر نہیں ہوئی یعنی ان کا حصہ قبک تغیر ہے اور اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے ۔ اس لئے مندرجہ بالا مثال میں نقص شوہر کی طرف نہیں جائے گا ۔ ۱ / ۶ اضافی حصہ دو بہنوں کے حصے سے کم کرنا پڑے گا ( غور فرمایئے گا ) ۔ کبھی کبھی اس کے بر عکس معاملہ ہوتا ہے اور حصوں کا مجموعہ کل مال سے کم ہوتا ہے اور کچھ مال بچ جاتا ہے مثلا ً ایک شخص مر جاتا ہے اور ایک بیٹی اور ماں باقی رہ جاتی ہے ۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ اس صورت میں ماں کا حصہ ۱ /۶ ہے اور بیٹی کا ۳ / ۶ ہے ۔ جن کامجموعہ ۴ /۶ ہوتا ہے یعنی ۲ / ۶ بچ جاتا ہے ۔ علماء اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ بچت عصبہ ( بر وزن کسبہ ) یعنی بعد والے طبقے 2 کو دی جائے گی ( مثلا ً اس مثال میں متوفی کے بھائی کو دی جائے ) ۔ اسی کو اصطلاح میں تعصیب کہتے ہیں ۔ لیکن شیعہ فقہا کا نظریہ یہ ہے کہ وہ سب مال انہی دو کے درمیان ایک اور تین کی نسبت سے بانٹ دیا جائے کیونکہ پہلے طبقہ کے ہوتے ہوئے دوسرے طبقہ کی باری نہیں آتی ۔ اس کے علاوہ بعد کے طبقہ کے مردوں کو اضافی مقدار دینا زمانہ ٴ جاہلیت کے دور سے ملتا جلتا ہے جو عورتوں کو بلا وجہ میراث سے محروم کر دیتے تھے ۔ مندرجہ بالا ایک پیچیدہ علمی بحث ہے جس کا خلاصہ ہم نے تحریر کر دیا ہے ۔ اس کی مزید تفصیل کے لئے کتب فقہ ملاحظہ فرمائیے ۔ ۱۵ ۔ وَ اللاَّتی یَاٴْتینَ الْفاحِشَةَ مِنْ نِسائِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوا عَلَیْہِنَّ اٴَرْبَعَةً مِنْکُمْ فَإِنْ شَہِدُوا فَاٴَمْسِکُوہُنَّ فِی الْبُیُوتِ حَتَّی یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ اٴَوْ یَجْعَلَ اللَّہُ لَہُنَّ سَبیلاً ۔ ۱۶ ۔ وَ الَّذانِ یَاٴْتِیانِہا مِنْکُمْ فَآذُوہُما فَإِنْ تابا وَ اٴَصْلَحا فَاٴَعْرِضُوا عَنْہُما إِنَّ اللَّہَ کانَ تَوَّاباً رَحیماً۔ ترجمہ ۱۵ ۔ اور تمہاری عورتوں میں سے جو زانی ہوں ، ان پر چار مسلمان مردوں کوگوہ کے طور پر طلب کرو اگر وہ گواہی دیں تو ان ( عورتوں ) کو ( اپنے ) گھروں میں بند کردو ۔ یہاں تک کہ وہ مر جائیں یا خدا ان کے لئے کوئی راستہ کھول دے ۔ ۱۶ ۔ اور وہ مرد اور عورتیں ( جو شادی شدہ نہ ہوں ) اور یہ برا کام کر بیٹھیں انہیں تکلیف پہنچاوٴ ( ان پر حد جاری کرو ) اور اگر سچ مچ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں ( اور گذشتہ حرکت کی تلافی کر لیں ) تو انہیں معاف کر دو کیونکہ خدا وند عالم توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے ۔ 1 ۔ حساب کا طریقہ یہ ہے کہ عدد کسری ۴ / ۶ ہے جو کہ دو بہنوں کا حصہ ہے اور ۳ /۶ شوہر کا حصہ ہے ۔ ۱ / ۶ اضافی مقدار اسے ۳ اور ۴ کی نسبت سے ان دونوں گروہوں کے درمیان تقسیم کردیں ۔ ریاضی میں نسبت کی تقسیم کا قاعدہ موجود ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے دونوں بہنوں کے حصہ میں ۴ / ۴ اور شوہر کے حصہ میں سے ۳ / ۴ منہا کریں گے ۔ 2 ۔ جو مرد بلا واسطہ یا بالواسطہ متوفی سے ربط رکھتے ہیں ۔