وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا
You will not be able to be fair between wives, even if you are eager to do so. Yet do not turn away from one altogether, leaving her as if in a suspense. But if you are conciliatory and Godwary, Allah is indeed all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:129
[Pooya/Ali Commentary 4:129] Refer to the commentary of verse 3 of this surah. Howsoever one may try one will never be able to treat one's wives equally to fulfil the demands of justice, but one can at least avoid inclination to any wife exclusively so that the others may not be left suspended. One may not be able to observe perfect equality among one's wives in respect of love and attachment, yet one is not, on that account, by any means warranted in showing voluntary favours exclusively to any wife to the utter neglect of the others. The lives of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt are a model, in this connection, to all Muslims. They did not even perform ablution in the house of the wife whose "turn" was terminated. In all events ihsan and taqwa are the best means to effect reconciliation and harmony.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:129-130
ایک اہم سوال کا جواب
جیسا کہ اس سورہ کی آیت ۳ کے ذیل میں ہم نے یاد دہانی کروائی ہے کہ بعض ناسمجھ لوگ اس آیت کو زیر بحث آیت سے ملا کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایک سے زیادہ شاد یاں عدالت سے مشروط ہیں اور عدالت ممکن نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ ہوبیویاں کرنا اسلام میں ممنوع ہے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ روایات ِ اسلامی سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا شخص جس نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ امام جعفر صادق (علیه السلام) کا ہم عصر تھا او رمادہ پرستوں میں سے تھا ۔ اس کانام ابن ابی العوجاء تھا ۔ اس نے یہ سوال اسلام کے ایک مجاہد عالم ہشام بن حکم سے کیا ۔ انھیں اس کا جواب معلوم نہ تھا لہٰذا وہ اپنے وطن جو ظاہراًکوفہ تھا مدینہ سے روانہ ہوئے تاکہ اس سوال کا جواب معلوم کر سکیں وہ امام صادق (علیه السلام) کی خدمت میں پہنچے ۔ حضرت (علیه السلام) کو تعجب ہو ا کہ وہ حج و عمرہ کے دنوں کے بغیر مدینہ کیوں چلے آئے تھے ۔ ہشام نے بیان کیا کہ اس قسم کا سوال پیش آیا ہے ۔ امام (علیه السلام) نے جواب میں فرمایا: سورہٴ نساء کی تیسری آیت میں عدالت سے مراد نان نفقہ ( اور حقوقِ زوجیت کا لحاظ رکھنا اور بر تاوٴ ) ہے لیکن آیت ۱۲۹ میں عدالت جسے امر محال شمار کیا گیا ہے ولی لگاوٴ او رمیلان میں عدالت ہے ( اس لئے تعدد ازدواج شرائط اسلامی کے احترام کی صورت میں ممنوع ہے نہ محال) ۔ ہشام سفر سے لوٹ کر آئے او ریہ جواب ابن ابی العوجاء کو پیش کیا تو اس نے قسم کھا کر کہا : یہ جواب خود تمہاری طرف سے نہیں ہے ۔ 1 واضح ہے کہ اگر اہم دو آیات میں ” عدالت“ کا الگ الگ مفہوم بیان کرتے ہیں تو یہ آیات میں موجود واضح قرینہ کی بناء پر ہے ۔ محل بحث آیت میں صریحاً فرمایا گیا ہے کہ تمام قلبی لگاوٴ ایک بیوی کی طر ف نہ رکھو ۔ لہٰذا دو بیویاں ہونا جائز شمار کیا گیا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ اس شرط کے ساتھ عملی طور پر ان میں سے کسی پر ظلم ہو اگر چہ دلی لگاوٴ میں فرق ہو ۔ نیز اسی صورت کی آیت ۳ میں صراحت کے ساتھ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دی گئی ہے ۔ پھر بعدکی آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ازدواجی زندگی کوباقی رکھنا طرفین کے لئے مشکل ہو گیا ہے اور ایسی وجوہ پید اہوگئی ہیں کہ جن سے افقِ حیات ان کے لئے تاریک ہوگیا ہے او رکسی طرح مصالحت نہیں ہوسکتی تو وہ مجبورنہیں ہیں کہ ایسی ازدواجی زندگی کو باقی رکھیں اور آخر دم تک خانگی زندان کے ماحول میں تلخ کامی سے رہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں ۔ ایسے عالم میں انھیں چاہئیے کہ جراٴت سے اقدام کریں اور آنے والے حالات سے خوف زدہ نہ ہوں کیونکہ اگر وہ ان حالات میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو خدا وند بزرگ و برتر دونوں کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کرکر دے گا اور امید ہے کہ وہ ان حالات میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو خدا وند بزرگ و بر تر دونوں کو اپنے فضل و کرم سے مطمئن کردے گا اور امید ہے کہ بہتر جیون ساتھی اور روشن تر زندگی ان کے انتظار میں ہو( وَ إِنْ یَتَفَرَّقا یُغْنِ اللَّہُ کُلاًّ مِنْ سَعَتِہِ ) ۔ کیونکہ خدا کی حکمت آمیز رحمت بہت وسیع ہے (وَ کانَ اللَّہُ واسِعاً حَکیماً) ۔ ۱۳۱۔وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذینَ اٴُوتُوا الْکِتابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ إِیَّاکُمْ اٴَنِ اتَّقُوا اللَّہَ وَ إِنْ تَکْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ غَنِیًّا حَمیداً۔ ۱۳۲۔وَ لِلَّہِ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْاٴَرْضِ وَ کَفی بِاللَّہِ وَکیلاً ۔ ۱۳۳۔إِنْ یَشَاٴْ یُذْہِبْکُمْ اٴَیُّہَا النَّاسُ وَ یَاٴْتِ بِآخَرینَ وَ کانَ اللَّہُ عَلی ذلِکَ قَدیراً۔ ترجمہ ۱۳۱۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، اللہ کا ہے او رجنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں ہم نے وصیت کی کہ خدا کی ( نافرمانی) سے ڈرو اور پرہیز کرواور اگر کا فر ہو جاوٴ تو ( خدا کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ ) جو کچھ آسمانوں او رزمین میں ہے اللہ کا مال ہے اور خدا بے نیاز ہے اور لائق تعریف ہے ۔ ۱۳۲۔ اور جو کچھ آسمانوں او رزمین میں ہے خدا کے لئے ہے اور خدا ان کی حفاظت اور نگہبانی کے کافی ہے ۔ ۱۳۳۔ اے لوگو! اگر وہ چاہے تو تمہیں یہاں سے لے جائے اور ( تمہاری جگہ ) دوسرے لوگوں کو لے آئے اور خدا اس کام کی طاقت و قدرت رکھتا ہے ۔ ۱۳۴۔ جو لوگ دنیا کی جزا اور سزا چاہتے ہیں ( او رمعنوی اور اخروی نتائج کے طلبگار نہیں وہ فہمی میں متلا ہیں کیونکہ )خدا کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں کی جزا و ثواب ہے اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ۔ 1۔تفسیر بر ہان جلد اول صفحہ ۴۲۰۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:129-130
ایک سے زیادہ شادیوں کے لئے عدالت شرط ہے ۔
گذشتہ آیت کے آخر میں جس جملے میں احسان ، تقویٰ او رپر ہیز گاری کا حکم دیا گیا ہے ، وہ شوہروں کے بارے میں ایک طرح کی دھمکی بھی ہے کہ انھیں اپنے بیویوں کے بارے میں راہ ِ عدالت سے تھوڑا سا انحراف بھی نہیں کرنا چاہئیے اس مقام پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدالت تو دلی لگائی کے سلسلے میں بھی ممکن نہیں ہے لہٰذا متعدد بیویاں ہونے کی صورت میں کیا جائے زیر بحث آیت اس سوال کے جواب میں کہتی ہے : محبت کے حوالے سے تو بیویوں کے درمیان عدالت ممکن نہیں چالے اس کے لئے کتنی بھی کوشش کیون کہ جائے۔(وَ لَنْ تَسْتَطیعُوا اٴَنْ تَعْدِلُوا بَیْنَ النِّساء ِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ ) ۔ ” ولو حرصتم “ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جو اس سلسلے میں بہت کو شش کرتے تھے ۔شاید اس کی وجہ اسی سورہ کی آیت تھی جس میں فرمایا گیا ہے : فان خفتم الا تعدلوا فواحدة یعنی ...... اگر تم اس بات سے ڈرو کہ تم عدل قائم نہیں کرسکو گے تو ایک ہی پر اکتفاء کرو یہ واضح ہے کہ ایک آسمانی قانون خلاف فطرت نہیں ہوسکتا اور ممکن نہیں کہ وہ ” تکلیف مالا یطاق“ یعنی . ایسی ذمہ داری جس کی انسان میں طاقت نہ ہو ، کاحامل ہو ۔ دل کی محبت کے مختلف عوامل ہوتے ہیں جس میں سے بعض انسانی اختیار سے ماوراء ہیں لہٰذا ان کے بارے میں عدالت کا حکم نہیں دیا گیا ہے لیکن بیویوں سے بر تاوٴ اور ان کے حقوق کا لحاظ رکھنے کے بارے میں انسان پر عدالت کے لئے زور دیا گیا ہے جوکہ انسان کے بس میں ہے ۔ اس بناء پر کہ مرد اس سے غلط فائدہ اٹھائیں اس جملے کے بعد فرمایا گیا ہے : جب کہ تم محبت کے حوالے سے بیویوں کے درمیان مساوات قائم نہیں کرسکتے تو پھر سارا رجحان او رقلبی لگاوٴ تو ایک طرف نہ رکھو کہ جس سے دوسری بالکل معلق ہو کر ہی رہ جائے اور اس کے حقوق عملی طور پر ضائع ہو جائیں (فَلا تَمیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوہا کَالْمُعَلَّقَةِ) ۔ اس آیت کے آخر میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو اس حکم کے نزول سے قبل اپنی بیویوں کے درمیان عدل میں کوتاہی کرتے تھے: اگر وہ اصلاح او رتقویٰ کی راہ اپنائیں اور گذشتہ رویّے کی تلافی کریں تو خدا اپنی رحمت و بخشش ان کے شامل حال کردے گا ( وَ إِنْ تُصْلِحُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّہَ کانَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔ اسلامی روایات میں بیویوں کے درمیان عدالت ملحوظ رکھنے سے متعلق بہت سے مطالب مذکور ہیں جن سے قانون کی اہمیت اور عظمت ظاہر ہوتی ہے ایک حدیث میں ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) جو دن کسی ایک بیوی سے تعلق رکھتے تھے ، اس دن وضو بھی دوسری کے گھر نہیں کرتے تھے ۔ ۱ پیغمبر اکرم کے بارے میں بھی ہے کہ آپ بیماری کے عالم میں بھی کسی ایک بیوی کے گھر قیام نہیں کرتے تھے ۲ معاذبن جبل کے بارے میں منقول ہے کہ اس کی دو بیوبیاں تھیں وہ دونوں طاعون کی بیماری کے باعث اکٹھی مر گئیں ، تو معاذ نے ایک کو دوسرے پہلے دفن کرنے کے لئے قرعہ نکالا تاکہ اس سے کوئی خلاف عدالت کام نہ ہو جائے ۔ ۳ ۱۔تفسیر تبیان ، ج۳ صفحہ۳۵۰۔ ۲- تفسیر تبیان ج۳ صفحہ ۳۵۰۔ ۳- تفسیر تبیان ، ج۳ صفحہ ۳۵۰۔